بسم اللہ الرحمن الرحیم
الْقَسْوَةُ — دل کا سخت ہو جانا
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )کبھی انسان گناہ کرتا ہے اور اسے فوراً احساس ہو جاتا ہے کہ اس سے غلطی ہوئی ہے۔ وہ شرمندہ ہوتا ہے، دل میں خلش پیدا ہوتی ہے، آنکھ نم ہو سکتی ہے اور وہ اللہ کی طرف پلٹنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب انسان وہی غلطی دوبارہ کرتا ہے اور اس کے اندر کچھ نہیں ہلتا۔ نہ دل ملامت کرتا ہے، نہ ضمیر زیادہ دیر بے چین رہتا ہے، نہ نصیحت اثر کرتی ہے۔ بات وہی ہوتی ہے، قرآن وہی ہوتا ہے، نصیحت وہی ہوتی ہے، مگر دل جیسے کسی موٹی تہہ کے پیچھے چلا گیا ہو۔ قرآن اس کیفیت کے لیے ایک نہایت گہرا لفظ استعمال کرتا ہے: *الْقَسْوَةُ* یعنی دل کا سخت ہو جانا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ دل سخت ہوتا کیسے ہے؟ اور اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ کیا انسان عبادت، علم اور مذہبی شناخت کے باوجود دل کی قسوت میں مبتلا ہو سکتا ہے؟ قرآن کا جواب ہمیں اپنے اندر دیکھنے پر مجبور کرتا ہے۔
قسوت صرف بے حسی کا نام نہیں
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: *ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُم مِّن بَعْدِ ذَٰلِكَ فَهِيَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً* پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے، پس وہ پتھروں جیسے ہیں بلکہ سختی میں ان سے بھی زیادہ۔ *سورۃ البقرۃ، ۲:۷۴*
یہ آیت ایک انتہائی اہم حقیقت سامنے لاتی ہے۔ دل کی سختی اچانک پیدا ہونے والی کیفیت نہیں۔ اس آیت سے پہلے بنی اسرائیل کے سامنے اللہ کی قدرت کی نشانیاں ظاہر ہو چکی تھیں، لیکن ان نشانیوں کے بعد بھی دلوں میں مطلوبہ تبدیلی پیدا نہ ہوئی۔ یعنی مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ انہوں نے حقیقت دیکھی یا نہیں دیکھی۔ اصل مسئلہ یہ تھا کہ *حقیقت سامنے آنے کے بعد دل نے اس کے سامنے جھکنے سے انکار کردیا۔* یہی قسوت کی خطرناک شکل ہے۔
پتھر اور دل میں فرق
اسی آیت میں اللہ تعالیٰ پتھروں کا ذکر فرماتا ہے: *فَهِيَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً* لیکن قرآن فوراً ایک حیرت انگیز بات بتاتا ہے: *وَإِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْأَنْهَارُ* اور بعض پتھروں سے تو نہریں پھوٹ پڑتی ہیں۔ *وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ الْمَاءُ* اور بعض پھٹ جاتے ہیں اور ان سے پانی نکل آتا ہے۔ پھر فرمایا: *وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ* اور بعض اللہ کے خوف سے گر پڑتے ہیں۔ یہاں قرآن انسان کو ایک عجیب آئینہ دکھاتا ہے۔ پتھر بھی اللہ کے حکم کے سامنے اپنا ایک اثر ظاہر کرتے ہیں، مگر انسان کا دل ایسا ہو سکتا ہے کہ آیات سن کر بھی نہ بدلے۔ یہی قسوت کی شدت ہے۔
دل سخت ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کچھ محسوس ہی نہیں کرتا
یہ نکتہ بہت اہم ہے۔ قسوت کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ انسان ہر معاملے میں بے احساس ہو جائے۔ ایک سخت دل انسان اپنے کاروبار کے نقصان پر پریشان ہو سکتا ہے، اولاد کے مسئلے پر رو سکتا ہے، اپنی عزت کے لیے لڑ سکتا ہے اور دنیاوی دکھ سے ٹوٹ بھی سکتا ہے۔ لیکن جب معاملہ اللہ کے حق، آخرت، گناہ، توبہ اور حق قبول کرنے کا آئے تو اس کا دل غیر معمولی طور پر بے اثر ہو جاتا ہے۔ یعنی دل میں جذبات موجود ہوتے ہیں، مگر *حق کے سامنے ان کا رخ بدل جاتا ہے۔* یہی وجہ ہے کہ قسوت کو صرف جذباتی بے حسی سمجھنا درست نہیں۔
دل نرم ہونے کی ایک بڑی علامت: حق سن کر اندر کچھ بدلنا
قرآن ایمان والوں کے دل کی ایک کیفیت بیان کرتا ہے: *أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ* کیا ایمان والوں کے لیے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر کے لیے جھک جائیں؟ *سورۃ الحدید، ۵۷:۱۶*
یہ آیت انسان کو ایک بہت ذاتی سوال دیتی ہے: *کیا قرآن سن کر میرے اندر کچھ بدلتا ہے؟* کیا کوئی آیت میرے رویے کو چیلنج کرتی ہے؟ کیا کسی نصیحت پر مجھے اپنے آپ سے سوال کرنا پڑتا ہے؟ کیا کبھی کوئی گناہ یاد کرکے دل میں شرمندگی پیدا ہوتی ہے؟ کیا میں حق بات اپنے خلاف ہو تو بھی قبول کر لیتا ہوں؟ اگر جواب مسلسل نفی میں ہو تو انسان کو دوسروں کے دلوں کا فیصلہ کرنے سے پہلے اپنے دل کا معائنہ کرنا چاہیے۔
قسوت اور علم
دل کی سختی کا ایک خطرناک پہلو یہ ہے کہ انسان کے پاس معلومات بہت ہو سکتی ہیں، مگر اثر کم۔ وہ قرآن کی آیات جانتا ہے۔ احادیث جانتا ہے۔ حلال و حرام کے مسائل جانتا ہے۔ دوسروں کو نصیحت بھی کرتا ہے۔ لیکن اپنے معاملے میں وہی علم اس کے اندر حرکت پیدا نہیں کرتا۔ یہاں ایک بنیادی فرق سامنے آتا ہے: *معلومات کا بڑھنا اور دل کا زندہ ہونا ایک چیز نہیں۔* علم انسان کو حق دکھا سکتا ہے، لیکن دل کا جھکنا ایک الگ مرحلہ ہے۔ اسی لیے قرآن بار بار علم کے ساتھ تقویٰ، خشوع، تدبر اور عمل کو جوڑتا ہے۔
قسوت کیسے بڑھتی ہے؟
دل کی سختی اکثر ایک بڑے واقعے سے نہیں آتی۔ یہ چھوٹی چھوٹی بے اعتنائیوں سے بڑھ سکتی ہے۔ گناہ ہوا۔ توبہ مؤخر کردی۔ پھر وہی گناہ دوبارہ ہوا۔ پھر انسان نے اپنے لیے عذر پیدا کرلیا۔ پھر نصیحت ناگوار محسوس ہوئی۔ پھر نصیحت کرنے والے کو ہی برا سمجھ لیا۔ پھر غلطی معمول بن گئی۔ اور آخرکار انسان کو غلطی غلط محسوس ہونا کم ہوگیا۔ یہ ایک خطرناک سفر ہے۔ گناہ سے بھی زیادہ خطرناک وہ مرحلہ ہو سکتا ہے جب انسان کو گناہ پر دل کی تکلیف محسوس ہونا بند ہو جائے۔
ہر بار نصیحت سننا فائدہ کیوں نہیں دیتا؟
قرآن میں ایسے لوگوں کا بھی ذکر ہے جو آیات سنتے ہیں، مگر ان کے دل قبول نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: *فَوَيْلٌ لِّلْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُم مِّن ذِكْرِ اللَّهِ* پس ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جن کے دل اللہ کے ذکر سے سخت ہوگئے۔ *سورۃ الزمر، ۳۹:۲۲*
یہاں غور کریں: بات صرف یہ نہیں کہ وہ ذکر سے دور ہیں۔ بلکہ ایک مرحلہ ایسا بھی ہے کہ *ذکر موجود ہے، مگر دل سخت ہو چکا ہے۔* قرآن پڑھا جا رہا ہے۔ نصیحت سنائی جا رہی ہے۔ اذان دی جا رہی ہے۔ موت کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ لوگ جنازے پڑھ رہے ہیں۔ پھر بھی انسان اپنی زندگی کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہوتا۔ یہ کیفیت انسان کو اپنے اندر تلاش کرنی چاہیے۔
قسوت کا تعلق حق قبول کرنے سے بھی ہے
کبھی دل کی سختی کا امتحان عبادت میں نہیں بلکہ اختلاف میں ہوتا ہے۔ آپ کے خلاف کوئی درست بات کہی جائے۔ آپ کی غلطی دکھائی جائے۔ آپ کے پسندیدہ شخص سے غلطی ثابت ہو جائے۔ آپ کے اپنے گروہ، خاندان، جماعت یا رائے کے خلاف کوئی دلیل سامنے آجائے۔ تب آپ کیا کرتے ہیں؟ دلیل دیکھتے ہیں یا آدمی؟ حق دیکھتے ہیں یا اپنی وابستگی؟ غلطی مان لیتے ہیں یا بحث شروع کردیتے ہیں؟ یہاں دل کی کیفیت سامنے آتی ہے۔ نرم دل انسان حق کو اپنی ملکیت نہیں سمجھتا۔ وہ حق جہاں سے ملے، قبول کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ سخت دل انسان کبھی کبھی اپنے موقف کو اتنا عزیز بنا لیتا ہے کہ حقیقت بھی اس کے لیے دشمن بن جاتی ہے۔
قسوت صرف مذہبی زندگی کا مسئلہ نہیں
ایک سخت دل انسان معاشرے میں بھی مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے۔ وہ کسی غریب کی ضرورت دیکھ کر بے نیاز رہتا ہے۔ کسی مظلوم کی آواز سن کر فوراً اسے قصوروار قرار دے دیتا ہے۔ کسی ماتحت کی عزت کو معمولی سمجھتا ہے۔ اپنی غلطی پر دلیلیں دیتا ہے اور دوسرے کی غلطی پر سخت فیصلے سناتا ہے۔ اپنی تکلیف کو بہت بڑا اور دوسروں کی تکلیف کو معمولی سمجھتا ہے۔ یہ سب دل کے رویوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اسی لیے اسلام میں دل کی اصلاح صرف مسجد کے اندر کا موضوع نہیں۔ دل کا حال بازار، گھر، دفتر، کاروبار، رشتوں اور اختلافات میں بھی ظاہر ہوتا ہے۔
کبھی عبادت بھی انسان کو اپنے دل کی سختی دکھا سکتی ہے
یہ بات بہت حساس ہے، مگر ضروری ہے۔ اگر انسان نماز پڑھتا ہے لیکن ظلم نہیں چھوڑتا، قرآن پڑھتا ہے لیکن تکبر نہیں چھوڑتا، ذکر کرتا ہے لیکن لوگوں کی تحقیر کرتا ہے، دینی علم حاصل کرتا ہے لیکن اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتا، تو اسے اپنی عبادت چھوڑنے کی نہیں بلکہ *اپنے دل کو مزید جانچنے کی ضرورت ہے۔* عبادت کا مقصد انسان کو اللہ سے قریب کرنا اور اس کے کردار کو درست کرنا بھی ہے۔ اگر علم اور عبادت کے باوجود انسان حق کے سامنے مزید متکبر، دوسروں کے لیے مزید سخت اور اپنی غلطیوں کے لیے مزید معذرت خواہ ہو جائے تو اسے اپنے باطن پر رک کر غور کرنا چاہیے۔
دل نرم کیسے ہوتا ہے؟
دل کی اصلاح محض جذباتی کیفیت پیدا کرنے سے نہیں ہوتی۔ قرآن کا راستہ واضح ہے: اللہ کا ذکر *اللہ کے ذکر سے دلوں کو اطمینان ملتا ہے۔* *سورۃ الرعد، ۱۳:۲۸*
قرآن میں تدبر
قرآن صرف پڑھنے کی کتاب نہیں؛ اپنے آپ کو دیکھنے کا آئینہ بھی ہے۔
گناہ پر اصرار چھوڑنا
گناہ کے بعد فوری واپسی دل کو زندہ رکھنے کا ذریعہ بنتی ہے۔
حق قبول کرنا
اپنی غلطی تسلیم کرنا دل کی طاقت ہے، کمزوری نہیں۔
آخرت کو یاد رکھنا
جب انسان کو یقین رہتا ہے کہ اسے اپنے اعمال کے ساتھ اللہ کے سامنے کھڑا ہونا ہے تو دنیا کی ضدیں چھوٹی ہونے لگتی ہیں۔
مخلوق پر رحم
جو دل اللہ کی مخلوق کے لیے نرم ہوتا ہے، اس میں تکبر اور خود پسندی کے لیے جگہ کم ہوتی ہے۔
اپنے دل کا ایک خاموش امتحان
آج کسی ایک آیت کو پڑھ کر فوراً آگے نہ بڑھیں۔ اسے اپنے اوپر رکھ کر دیکھیں۔ اپنے آپ سے پوچھیں: *کیا یہ آیت میرے بارے میں بھی کچھ کہہ رہی ہے؟* اگر جواب ہاں میں آئے تو دل ابھی زندہ ہے۔ اگر انسان اپنی اصلاح کی ضرورت محسوس کر سکتا ہے تو یہ بھی اللہ کی بڑی نعمت ہے۔ اصل خطرہ یہ نہیں کہ انسان سے غلطی ہو گئی۔ اصل خطرہ یہ ہے کہ غلطی بار بار ہوتی رہے اور انسان کے اندر اسے غلط محسوس کرنے والی جگہ باقی نہ رہے۔
سب سے خوفناک سختی
دل کی سختی کی سب سے خطرناک شکل شاید یہ ہے کہ انسان اپنے دل کی سختی کو بھی نیکی سمجھنے لگے۔ اسے اپنی بے رحمی اصول نظر آئے۔ اپنی ضد استقامت نظر آئے۔ اپنی سخت زبان حق گوئی نظر آئے۔ اپنی تنقید دینی غیرت نظر آئے۔ اپنا تکبر خود داری نظر آئے۔ اور اپنی اصلاح سے انکار آزادی نظر آئے۔ یہاں انسان کو سب سے زیادہ اپنے آپ سے ڈرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ جب انسان اپنے مرض کو مرض ہی نہ سمجھے تو علاج کی طلب بھی ختم ہو جاتی ہے۔
دل پتھر سے بھی زیادہ سخت کب ہوتا ہے؟
قرآن نے یہ سوال ہمارے سامنے پہلے ہی رکھ دیا ہے۔ *فَهِيَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً* پتھروں جیسے بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت۔ مگر اسی آیت میں ایک امید بھی پوشیدہ ہے۔ اگر قرآن دل کی سختی کو بیان کر رہا ہے تو اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ انسان کو اپنے دل کی کیفیت پہچاننے کا موقع دیا جا رہا ہے۔ جس شخص کو اپنی قسوت کا احساس ہو جائے، وہ ابھی واپس آ سکتا ہے۔ جس دل کو یہ خوف پیدا ہو جائے کہ کہیں میں اللہ کی بات سن کر بھی نہ بدل جاؤں، اس دل میں زندگی کی ایک علامت موجود ہے۔ اس لیے اپنے دل کے بارے میں سب سے خوبصورت دعا شاید یہ ہے: *اے اللہ! ہمارے دلوں کو حق پہچاننے، اسے قبول کرنے اور اس کے سامنے جھکنے والا بنا دے۔* *اے اللہ! ہمارے دلوں کو غفلت، تکبر، ضد اور گناہ کی ایسی سختی سے محفوظ فرما جو ہمیں تیری یاد سے دور کر دے۔* *اے اللہ! قرآن کو ہمارے لیے صرف پڑھنے کی کتاب نہیں بلکہ ہمارے دلوں کی اصلاح کا ذریعہ بنا دے۔* آمین۔
![]()

