الہامی نگرانی کا فولادی نظام، اخلاقی تقسیم کا کائناتی قانون اور انسانی اختیارات کا خاتمہ: سورہ الانفطار کا فکری اور تہذیبی مطالعہ (حصہ دوم) تحریر۔۔۔بلال شوکت آزاد

الہامی نگرانی کا فولادی نظام، اخلاقی تقسیم کا کائناتی قانون اور انسانی اختیارات کا خاتمہ: سورہ الانفطار کا فکری اور تہذیبی مطالعہ (حصہ دوم) – بلال شوکت آزاد

سورہ الانفطار کے اس روح فرسا اور بصیرت افروز سفر کا اگلا مرحلہ انہی نگہبانوں کے تعارف اور اس حتمی عدالت کے فیصلے سے عبارت ہے جہاں دنیا کے تمام اختیارات سلب ہو جاتے ہیں اور حکم صرف ایک رب کا چلتا ہے۔

پچھلے حصے کے اختتام پر جہاں کلامِ الٰہی نے انسان کے اس نفسیاتی واہمے کو چکنا چور کیا تھا کہ وہ اس کائنات کے کسی تاریک کونے میں چھپ کر اپنے رب کی نظر سے اوجھل ہو سکتا ہے، وہیں آیت دس کے الفاظ ’وَإِنَّ عَلَيْكُمْ لَحَافِظِينَ‘ نے انسان کے سر پر ایک ایسی ہمہ گیر الہامی نگرانی کا اعلان کیا تھا جس سے فرار ممکن نہیں۔

لیکن انسانی ذہن، جو دنیا کے کرپٹ نظاموں، بک جانے والے گواہوں، جھوٹی فردِ جرم لکھنے والے محرروں اور ذاتی عناد رکھنے والے جاسوسوں کا عادی ہے، فطری طور پر یہ سوچ سکتا تھا کہ آخر ان کائناتی نگہبانوں کی اخلاقی حیثیت کیا ہے؟

کیا اس الہامی ریکارڈنگ سسٹم میں بھی کسی غلطی، کسی تعصب یا کسی ناانصافی کا امکان موجود ہے؟

انسانی تاریخ کا سب سے بڑا سیاسی اور قانونی المیہ ہی یہ رہا ہے جسے قدیم رومی مفکر جووینل (Juvenal) نے اپنے شہرہ آفاق جملے ’کوئس کسٹوڈیٹ اپسوس کسٹوڈس‘ (Quis custodiet ipsos custodes، خود نگہبانوں کی نگہبانی کون کرے گا؟) میں بیان کیا تھا۔

دنیا کی بڑی سے بڑی تہذیبیں اور مضبوط سے مضبوط عدالتی و انتظامی ڈھانچے اس لیے زمین بوس ہو گئے کہ وہاں نگرانی کرنے والے ادارے، محتسب اور منصف خود انسانی کمزوریوں، لالچ، خوف اور تعصب کا شکار ہو گئے۔

لیکن کائنات کے خالق نے جس مانیٹرنگ سسٹم کو انسان پر مامور کیا ہے، گیارہویں آیت محض دو الفاظ میں اس کی ایسی اخلاقی اور پیشہ ورانہ سند پیش کرتی ہے جو انسانی تاریخ کے ہر شبہے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتی ہے:

"كِرَامًا كَاتِبِينَ”
(آیت 11۔ ترجمہ: ایسے نگہبان جو معزز ہیں، لکھنے والے ہیں۔)

یہاں دو صفات ایک ساتھ لائی گئی ہیں:

پہلی صفت ’كِرَامًا‘ ہے جو ’کریم‘ کی جمع ہے، اور دوسری صفت ’كَاتِبِينَ‘ ہے جو ’کاتب‘ کی جمع ہے۔

عربی لغت کے امام راغب اصفہانی اپنی کتاب ’المفردات فی غریب القرآن‘ میں واضح کرتے ہیں کہ لفظ ’کرم‘ جب اللہ تعالیٰ کے لیے بولا جائے تو اس سے اس کا فضل و احسان مراد ہوتا ہے، اور جب مخلوق کے لیے بولا جائے تو اس سے مراد اخلاق کی بلندی، کردار کی پاکیزگی، نفس کی نجابت اور ہر قسم کی کمینگی اور دنائت سے پاک ہونا ہے (الراغب الاصفہانی، المفردات فی غریب القرآن، صفحہ 707)۔

اور لفظ ’کتابت‘ کا بنیادی مادہ ’ک-ت-ب‘ ہے جس کے لغوی معنی مختلف اجزاء کو یکجا کرنے اور مضبوطی سے باندھ کر محفوظ کرنے کے ہیں، اور اسی سے تحریر کو ’کتابت‘ کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں حروف اور الفاظ کو ایک نظم میں پرو کر ہمیشہ کے لیے قید کر لیا جاتا ہے (ابن منظور، لسان العرب، جلد 1، صفحہ 698)۔

ذرا غور کیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کو ’كَاتِبِينَ‘ (لکھنے والے) کہنے سے پہلے ’كِرَامًا‘ (بے حد معزز اور عالی ظرف) کیوں فرمایا؟

امام فخر الدین رازی اپنی عظیم تفسیر ’مفاتیح الغیب‘ میں اور علامہ طاہر ابن عاشور ’التحریر والتنویر‘ میں اس ترتیب کے پیچھے چھپی ہوئی نفسیاتی اور اخلاقی حکمتوں پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں کہ کسی بھی ریکارڈ تیار کرنے والے یا گواہی لکھنے والے کی صداقت کا دارومدار دو چیزوں پر ہوتا ہے:

اول اس کی اخلاقی دیانت (Moral Integrity)، اور دوم اس کی پیشہ ورانہ مہارت (Technical Competence)۔

لفظ ’كِرَامًا‘ ان فرشتوں کی بے داغ اخلاقی عظمت کا اعلان ہے، اور ’كَاتِبِينَ‘ ان کی پیشہ ورانہ ضبط و تحریر کی صلاحیت کا بیان ہے (الرازی، التفسیر الکبیر، جلد 31، صفحہ 81؛ ابن عاشور، التحریر والتنویر، جلد 30، صفحہ 179)۔

وہ فرشتے ’کرام‘ ہیں، یعنی وہ دنیا کے خفیہ ایجنٹوں یا بدعنوان اہلکاروں کی طرح ہرگز نہیں ہیں؛ نہ انہیں تمہاری دولت سے خریدا جا سکتا ہے، نہ تمہاری ریاستی طاقت سے ڈرایا جا سکتا ہے، نہ ان کی تم سے کوئی ذاتی دشمنی ہے کہ وہ تمہارے کھاتے میں کوئی جھوٹا جرم لکھ دیں، اور نہ تم سے کوئی ایسی رشتہ داری ہے کہ تمہارے کسی ظلم کو ریکارڈ سے غائب کر دیں۔

وہ اللہ کے دربار کے انتہائی معزز، پاکباز اور بے غرض سفیر ہیں جو خالص عدل کے ساتھ تمہاری زندگی کی دستاویز مرتب کر رہے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ مفسرین نے لکھا ہے کہ ان کے ’کرام‘ ہونے کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ انسان ان باوقار ہستیوں کی موجودگی کا لحاظ رکھے اور تنہائی میں بھی کوئی ایسی بے حیائی یا معصیت کا کام نہ کرے جس سے ان معزز مہمانوں کو اذیت ہو (القرطبی، الجامع لاحکام القرآن، جلد 19، صفحہ 249)۔

جدید تجرباتی نفسیات (Experimental Psychology) میں 2006ء میں نیو کیسل یونیورسٹی کے محققین میلیسا بیٹسن (Melissa Bateson) اور ان کے ساتھیوں نے ایک مشہور تحقیق شائع کی جس نے علمی دنیا کو چونکا دیا۔

(Bateson, M., Nettle, D., & Roberts, G., "Cues of being watched enhance cooperation in a real-world setting”, Biology Letters, 2006, DOI: 10.1098/rsbl.2006.0509)

اس تحقیق سے ثابت ہوا کہ جب کسی کمرے میں محض کاغذ پر بنی ہوئی دو آنکھوں کی تصویر بھی لگا دی جائے، تو وہاں موجود انسانوں کی دیانت داری اور اخلاقی ذمہ داری میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے کیونکہ انسانی دماغ کا تحت الشعور ’دیکھے جانے کے احساس‘ پر فوری ردِ عمل دیتا ہے۔

قرآنِ حکیم انسان کے سامنے دیوار پر لگی کسی بے جان تصویر کا تصور نہیں رکھتا، بلکہ اس کے شعور میں یہ زندہ عقیدہ راسخ کرتا ہے کہ تیرے دائیں اور بائیں آسمان کے معزز ترین کاتب بیٹھے ہیں جو تیری زندگی کی فلم کا ایک ایک فریم محفوظ کر رہے ہیں۔

اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ ’کراماً کاتبین‘ انسان کے دشمن نہیں ہیں بلکہ اس کے خیر خواہ ہیں۔

صحیح البخاری اور صحیح مسلم کی متفق علیہ احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس الہامی ریکارڈنگ سسٹم کے جس کرم اور فیاضی کا نقشہ کھینچا ہے، وہ سابقہ آیت کے لفظ ’بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ‘ کی عملی تفسیر ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب بندہ کسی نیکی کا محض پختہ ارادہ کرتا ہے اور ابھی عمل نہیں کر پاتا، تب بھی یہ فرشتے اس کے کھاتے میں ایک پوری نیکی لکھ لیتے ہیں؛ اور اگر وہ اس پر عمل کر لے تو دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک لکھتے ہیں۔

اس کے برعکس اگر وہ کسی برائی کا ارادہ کرے اور پھر اللہ کے خوف سے رک جائے تو اس کے بدلے میں بھی ایک پوری نیکی لکھی جاتی ہے، اور اگر وہ برائی کر گزرے تو صرف ایک ہی برائی لکھی جاتی ہے (صحیح البخاری، کتاب الرقاق، باب من ہم بحسنۃ او بسیئۃ، حدیث نمبر 6491؛ صحیح مسلم، کتاب الایمان، حدیث نمبر 128)۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ فرشتے محض کسی مشینی کیمرے یا ٹیپ ریکارڈر کی طرح آوازوں اور حرکات کو بغیر سمجھے نقل کر رہے ہیں؟

بارہویں آیت اس شبہے کو دور کر کے ان کاتبوں کے ادراک اور علم کی گہرائی کو واضح کرتی ہے:

"يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ”
(آیت 12۔ ترجمہ: جو کچھ تم کرتے ہو وہ اسے جانتے ہیں۔)

یہاں کلامِ الٰہی کی لفظی دقت اور بلاغت پر غور کیجیے۔

یہ نہیں فرمایا کہ ’یرون ما تفعلون‘ (وہ دیکھتے ہیں جو تم کرتے ہو) یا ’یسمعون ما تقولون‘ (وہ سنتے ہیں جو تم کہتے ہو)، بلکہ فرمایا:

’يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ‘، وہ ’جانتے‘ ہیں جو کچھ تم کرتے ہو!

عربی زبان میں ’علم‘ محض حسی مشاہدے (Sensory Perception) کا نام نہیں ہے، بلکہ کسی شے کی حقیقت، اس کے سیاق و سباق اور اس کی ماہیت کا کامل ادراک کرنے کا نام ہے۔

جدید ٹیکنالوجی کے دور میں ہمارے پاس مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) سے لیس کیمرے اور الگورتھمز موجود ہیں، لیکن ایک کیمرہ صرف ظاہری حرکت (External Movement) کو ریکارڈ کر سکتا ہے، وہ اس عمل کی روح اور اس کے پیچھے کارفرما مقصد کو نہیں جان سکتا۔

ایک شخص کسی یتیم کے سر پر ہاتھ پھیر رہا ہے؛ کیمرہ صرف ہاتھ کی حرکت ریکارڈ کرے گا، لیکن یہ نہیں جان سکے گا کہ وہ ہاتھ شفقت سے پھیرا جا رہا ہے یا ریاکاری اور فوٹو سیشن کے لیے۔

ایک جج عدالت میں فیصلہ لکھ رہا ہے؛ دنیا کی تاریخ صرف اس کے الفاظ ریکارڈ کرے گی، لیکن کراماً کاتبین ’يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ‘ کی صفت سے متصف ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسی روحانی بصیرت اور ادراک کی ایسی صلاحیت عطا فرمائی ہے کہ وہ تمہارے ظاہری اعمال کے ساتھ ساتھ تمہارے ان اعمال کی نوعیت اور ان کے اخلاقی وزن کو بھی جانتے ہیں (الطبری، جامع البیان، جلد 24، صفحہ 268؛ ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، جلد 8، صفحہ 344)۔

مفسرینِ کرام، بالخصوص امام قرطبی اور علامہ آلوسی نے اس مقام پر یہ علمی بحث اٹھائی ہے کہ کیا فرشتے انسان کے دل کے ارادوں اور نیتوں کو بھی جان لیتے ہیں؟

جمہور اہلِ علم کی رائے، جس کی تائید صحیح احادیث سے ہوتی ہے، یہ ہے کہ اگرچہ غیبِ مطلق کا علم صرف اللہ وحدہ لا شریک کے پاس ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان نگہبان فرشتوں کو ایسے ذرائع اور علامات عطا کر رکھی ہیں، خواہ دل کے عزم سے پیدا ہونے والی روحانی خوشبو اور بدبو کی صورت میں ہو، یا اللہ کی طرف سے براہِ راست القاء کے ذریعے، جن کی بدولت وہ انسان کے پختہ ارادوں اور قلبی افعال کو بھی جان لیتے ہیں اور انہیں تحریر میں لے آتے ہیں (القرطبی، الجامع لاحکام القرآن، جلد 19، صفحہ 249)۔

جدید نیورو سائنس (Neuroscience) کے تناظر میں اگر ہم اس حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کریں تو بیسویں صدی کے معروف نیورو سائنٹسٹ بینجمن لیبٹ (Benjamin Libet) کے تجربات نے یہ ثابت کیا تھا کہ انسان کا ہاتھ ہلنے یا زبان سے لفظ نکلنے سے کئی سو ملی سیکنڈ پہلے ہی اس کے دماغ کے موٹر کارٹیکس میں برقی لہریں بیدار ہو جاتی ہیں جنہیں ’ریڈینس پوٹینشل‘ (Readiness Potential) کہا جاتا ہے۔

(Libet, B. et al., "Time of conscious intention to act in relation to onset of cerebral activity”, Brain, 1983, DOI: 10.1093/brain/106.3.623)۔

یعنی انسان کا ہر عمل ظاہر میں آنے سے پہلے اس کے وجود کے اندر ایک حیاتیاتی اور شعوری ارتعاش پیدا کرتا ہے۔

جب آج کا مادی انسان ایم آر آئی (fMRI) اور ای ای جی (EEG) کی مشینوں کے ذریعے دماغ کے اندر پیداہونے والے ارادے کی برقی ترنگوں کو پڑھنے کے قریب پہنچ چکا ہے، تو اس خالق کی بنائی ہوئی نورانی مخلوق کی ادراکی صلاحیت پر تعجب کیسا، جو انسان کی رگِ جاں سے اٹھنے والے ہر عمل کو اس کی اصل حقیقت کے ساتھ جانتی اور لکھتی ہے!

علاوہ ازیں یہاں فعلِ مضارع ’تَفْعَلُونَ‘ لایا گیا ہے جو استمرار اور تسلسل (Continuity) کو ظاہر کرتا ہے۔

یعنی یہ نگرانی کسی خاص وقت، مثلاً صرف مسجد کے اندر یا رمضان کے مہینے تک محدود نہیں ہے؛ تم بازار میں تجارت کر رہے ہو، پارلیمنٹ میں قانون سازی کر رہے ہو، عدالت میں وکیل بن کر کھڑے ہو، یا رات کی تاریکی میں اپنے موبائل کی سکرین پر تنہا بیٹھے ہو، تم جو کچھ بھی مسلسل کر رہے ہو، وہ لمحہ بہ لمحہ ان کے علم اور ان کے قلم کی زد میں ہے۔

جب دسویں، گیارہویں اور بارہویں آیت میں اس ناقابلِ شکست الہامی ریکارڈنگ سسٹم کو قائم کر دیا گیا، تو اب سوال یہ ہے کہ اس ساری کائناتی مشقت، اس آسمانی ٹوٹ پھوٹ اور اس ہمہ وقت ریکارڈنگ کا حتمی نتیجہ کیا نکلے گا؟

تیرہویں اور چودہویں آیت انسانیت کے تمام مصنوعی طبقات، رنگ، نسل، زبان، قومیت، امارت اور غربت، کو مٹا کر پوری نوعِ انسانی کو صرف دو اخلاقی کیمپوں میں تقسیم کر دیتی ہے۔

پہلا کیمپ ان لوگوں کا ہے جنہوں نے اپنے ربِ کریم کی قدر پہچانی:

"إِنَّ الْأَبْرَارَ لَفِي نَعِيمٍ”
(آیت 13۔ ترجمہ: بے شک نیک لوگ مزے میں ہوں گے۔)

لفظ ’الْأَبْرَارَ‘ عربی زبان میں ’بَرّ‘ یا ’بارّ‘ کی جمع ہے، جس کا مادہ ’ب-ر-ر‘ ہے۔ عربی لغت کے اس ایک لفظ کے اندر اخلاقی فلسفے کا پورا سمندر موجزن ہے۔

علامہ ابن منظور اور امام راغب اصفہانی لکھتے ہیں کہ ’بِرّ‘ کا اصل لغوی معنی ’وسعت اور کشادگی‘ (Vastness and Expansiveness) ہے۔

اسی مناسبت سے سمندر کے مقابلے میں خشکی کے وسیع و عریض میدان کو عربی میں ’بَرّ‘ کہا جاتا ہے، اور سچائی کو بھی ’بِرّ‘ کہتے ہیں کیونکہ جھوٹ تنگ ہوتا ہے اور سچائی کشادہ ہوتی ہے (الراغب الاصفہانی، المفردات، صفحہ 114؛ ابن منظور، لسان العرب، جلد 4، صفحہ 51)۔

چنانچہ اسلامی اصطلاح میں ’بَرّ‘ اس انسان کو کہتے ہیں جس کی نیکی، جس کی وفاداری اور جس کا خیر محض چند رسمی عبادات تک محدود نہ ہو، بلکہ اس کا وجود خشکی کے وسیع میدان کی طرح مخلوقِ خدا کے لیے سراپا خیر، کشادگی اور امان بن چکا ہو؛ جو خالق کے حقوق بھی سچائی کے ساتھ ادا کرتا ہو اور والدین، کمزوروں اور انسانیت کے حقوق میں بھی کوتاہی نہ کرتا ہو۔

صحیح مسلم کی ایک جامع حدیث میں حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’بِرّ‘ کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا: ’الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ، وَالإِثْمُ مَا حَاكَ فِي صَدْرِكَ وَكَرِهْتَ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِ النَّاسُ‘، نیکی (بِرّ) حسنِ اخلاق کا نام ہے، اور گناہ وہ ہے جو تیرے سینے میں کھٹکے اور تجھے ناپسند ہو کہ لوگوں کو اس کی خبر ہو جائے (صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، حدیث نمبر 2553)۔

اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ اللہ نے ان لوگوں کو ’ابرار‘ اس لیے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے والدین اور اپنی اولاد کے ساتھ حسنِ سلوک کیا؛ جس طرح تمہارے والدین کا تم پر حق ہے اسی طرح تمہاری اولاد کا بھی تم پر حق ہے کہ تم ان کے ساتھ انصاف اور بھلائی کرو (القرطبی، الجامع لاحکام القرآن، جلد 19، صفحہ 250)۔

اب ذرا اس آیت کی نحوی ساخت اور اس کے اعجازی اسلوب پر غور کیجیے۔

یہ جملہ فعلیہ نہیں ہے بلکہ جملہ اسمیہ ہے جو عربی بلاغت میں ثبوت، دوام اور ہمیشگی کے لیے آتا ہے۔

پھر اس کے شروع میں حرفِ تاکید ’إِنَّ‘ اور خبر پر لامِ تاکید ’لَفِي نَعِيمٍ‘ لا کر اس حقیقت کو لوہے کی لکیر بنا دیا گیا۔

اور سب سے لطیف نکتہ حرفِ ظرف ’فِي‘ (میں/اندر) کا استعمال ہے!

یہ نہیں کہا کہ ’لہُم نعیم‘ (ان کے لیے نعمت ہوگی)، بلکہ فرمایا: ’لَفِي نَعِيمٍ‘، وہ نعمت اور راحت کے ’اندر‘ ہوں گے! یعنی جس طرح مچھلی پانی کے سمندر میں ہر طرف سے گھری ہوئی ہوتی ہے، اسی طرح یہ نیکوکار انسان راحت، سکون اور مسرت کے ایک ایسے سمندر میں ڈوبے ہوئے ہوں گے جس نے انہیں ظاہر و باطن سے ڈھانپ رکھا ہوگا (ابن عاشور، التحریر والتنویر، جلد 30، صفحہ 180)۔

امام ابن القیم رحمہ اللہ اور دیگر محقق مفسرین نے اس آیت کے تحت ایک انتہائی بصیرت افروز حقیقت بیان کی ہے کہ چونکہ جملہ اسمیہ مطلق ہے اور اسے صرف قیامت کے دن کے ساتھ مقید نہیں کیا گیا (جبکہ فجار کے لیے آگے یوم الدین کی قید بھی آئی ہے)، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ’ابرار‘ کی یہ ’نعیم‘ (سکون اور راحت) دراصل تینوں جہانوں کو محیط ہے: دنیا کی زندگی میں قلبی اطمینان اور ضمیر کی سلامتی کی نعیم، عالمِ برزخ (قبر) میں کشادگی کی نعیم، اور آخرت میں ابدی جنت کی نعیم!

آج کی جدید مثبت نفسیات (Positive Psychology) میں انسانی خوشی اور راحت کے دو تصورات میں فرق کیا جاتا ہے: ایک ’ہیڈونک پلیژر‘ (Hedonic Pleasure، وقتی اور جسمانی لذت) ہے جو شراب، جوئے، ناجائز دولت یا حسیاتی عیاشی سے حاصل ہوتی ہے اور جس کے ختم ہوتے ہی انسان پہلے سے زیادہ شدید ذہنی خلا، ڈپریشن اور بے چینی (Anxiety) کا شکار ہو جاتا ہے۔

اور دوسرا تصور ’یوڈیمونک ویل بیئنگ‘ (Eudaimonic Well-being، بامقصد اور اخلاقی زندگی کا گہرا سکون) ہے، جس پر ماہرِ نفسیات کیرول رِف (Carol Ryff) نے اپنی شہرہ آفاق تحقیق پیش کی ہے۔

(Ryff, C. D., "Happiness is everything, or is it? Explorations on the meaning of psychological well-being”, Journal of Personality and Social Psychology, 1989, DOI: 10.1037/0022-3514.57.6.1069)

یہ تحقیق بتاتی ہے کہ جو انسان ایک اعلیٰ اخلاقی مقصد، دیانت اور دوسروں کی بھلائی کے ساتھ جیتا ہے، اس کا اعصابی اور نفسیاتی نظام ایک ایسے گہرے اندرونی توازن اور سکون میں آ جاتا ہے جسے دنیا کی کوئی مادی محرومی چھین نہیں سکتی۔

قرآن نے جسے ’لَفِي نَعِيمٍ‘ کہا ہے، اس کی پہلی کرن اسی دنیا میں مومن کے دل کے اس سکون سے پھوٹتی ہے جس کے بارے میں سلف صالحین کہا کرتے تھے کہ اگر بادشاہوں کو معلوم ہو جائے کہ ہمارے دلوں میں کیا سرور اور سکون ہے تو وہ تلواروں کے ساتھ ہم سے یہ سکون چھیننے کے لیے چڑھ دوڑیں۔

اس روشن اور پرسکون منظر کے عین مقابل، چودہویں آیت انسانی تاریخ کے دوسرے گروہ کا انجام بیان کرتی ہے، اور یہاں قرآن کے لفظی انتخاب کا توازن دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے:

"وَإِنَّ الْفُجَّارَ لَفِي جَحِيمٍ”
(آیت 14۔ ترجمہ: اور بے شک بدکار لوگ دوزخ میں جائیں گے۔)

یہاں ’الْأَبْرَارَ‘ کے مقابلے میں ’الْفُجَّارَ‘ کا لفظ لایا گیا ہے، اور ’نَعِيمٍ‘ کے مقابلے میں ’جَحِيمٍ‘ کا۔

ذرا سورہ الانفطار کے داخلی نظم اور لفظی ہم آہنگی (Lexical Symmetry) کے اس معجزے کو دیکھیے!

اسی سورت کی تیسری آیت میں فرمایا گیا تھا:

’وَإِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْ‘
(اور جب سمندر پھاڑ دیے جائیں گے)۔

وہاں کائناتی تباہی کے لیے مادہ ’ف-ج-ر‘ استعمال ہوا تھا، اور یہاں انسانی اخلاق کی تباہی کے لیے اسی مادے سے لفظ ’الْفُجَّارَ‘ لایا گیا ہے!

کیوں؟

اس لیے کہ عربی زبان میں ’فجور‘ کا اصل معنی ہی کسی مضبوط باڑ، پردے یا حد کو پھاڑ کر باہر نکل جانا ہے (الراغب الاصفہانی، المفردات، صفحہ 626)۔

جس طرح سمندر جب اپنی مقررہ حدود کو توڑ کر اور اپنے کناروں کو پھاڑ کر باہر نکلتا ہے تو پوری زمین پر فساد اور تباہی پھیلا دیتا ہے، بالکل اسی طرح ’فاجر‘ وہ انسان ہے جو اللہ کی مقرر کردہ حلال و حرام کی حدود، اخلاق کی فصیلوں اور شرم و حیا کے پردوں کو پھاڑ کر بغاوت کے میدان میں نکل آتا ہے۔

’بَرّ‘ وہ تھا جس نے حدود کے اندر رہ کر خیر کو پھیلایا، اور ’فاجر‘ وہ ہے جس نے حدود کو پھاڑ کر شر اور فساد کو پھیلایا۔

اور ان حدود کو پھاڑنے والوں کا ٹھکانہ کیا ہے؟ ’لَفِي جَحِيمٍ‘!

عربی لغت میں ہر عام آگ کو ’جحیم‘ نہیں کہتے، بلکہ ’جحیم‘ اس ہولناک آگ کو کہتے ہیں جو گہرے گڑھے میں تہہ در تہہ بھڑک رہی ہو اور جس کے شعلے اور انگارے ایک دوسرے کے اوپر چڑھے ہوئے ہوں؛ اسی سے درندے یا شیر کی غصے سے سرخ اور کھلی ہوئی آنکھ کو بھی عرب ’عین جاحمۃ‘ کہتے ہیں (ابن منظور، لسان العرب، جلد 12، صفحہ 84؛ القرطبی، الجامع لاحکام القرآن، جلد 19، صفحہ 250)۔

فلسفۂ اخلاق اور انسانی نفسیات کے تناظر میں اگر اس آیت پر تدبر کیا جائے تو یہ حقیقت بے نقاب ہوتی ہے کہ ’جحیم‘ دراصل ’فجور‘ ہی کی تجسیم (Manifestation) ہے۔

جو انسان دنیا میں اپنی نفسانی خواہشات، اپنے لالچ، اپنی ہوسِ اقتدار اور اپنے غصے کی آگ کو بے لگام چھوڑ دیتا ہے اور ہر اخلاقی حد کو پھاڑ دیتا ہے، وہ دراصل اپنے ہی باطن میں ایک ’جحیم‘ جلا رہا ہوتا ہے۔

حرص اور ظلم کی آگ کی فطرت ہی یہ ہے کہ وہ کبھی سیر نہیں ہوتی؛ وہ انسان کے اپنے ضمیر، اس کے خاندان اور اس کے معاشرے کو جلاتی رہتی ہے، یہاں تک کہ مرنے کے بعد وہی باطنی آگ ایک مادی اور کائناتی ’جحیم‘ کی صورت اختیار کر کے اس کے پورے وجود کو اپنے گھیرے میں لے لیتی ہے۔

لیکن دنیا میں تو یہ فاجر اور متکبر انسان اپنے ایئر کنڈیشنڈ محلات، اپنے باڈی گارڈز اور اپنی دولت کے حصار میں بیٹھا ہوا یہ سمجھ رہا ہے کہ وہ ہر آگ سے محفوظ ہے۔

چنانچہ پندرہویں آیت اس کے اس عارضی تحفظ کی مدتِ ختم ہونے کا اعلان کرتی ہے اور سورت کے تمام بکھرے ہوئے دھاگوں کو ایک ہی نکتے پر سمیٹ لیتی ہے:

"يَصْلَوْنَهَا يَوْمَ الدِّينِ”
(آیت 15۔ ترجمہ: جزا کے دن وہ اس میں داخل ہوں گے۔)

لفظ ’يَصْلَوْنَهَا‘ کا مادہ ’ص-ل-ي‘ ہے، اور عربی زبان میں ’صَلْيٌ‘ محض کسی جگہ میں داخل ہونے کو نہیں کہتے، بلکہ کسی چیز کو آگ کے عین بیچ میں رکھ کر اس طرح بھوننے اور تپانے کو کہتے ہیں کہ آگ کی تپش اس کے ریشے ریشے اور مسام مسام تک پہنچ جائے (الراغب الاصفہانی، المفردات، صفحہ 491؛ ابن عاشور، التحریر والتنویر، جلد 30، صفحہ 181)۔

گویا وہ اس آگ کو دور سے نہیں دیکھیں گے، بلکہ وہ خود اس آگ کا ایندھن بن کر اس کی تپش کو اپنے وجود کے ہر خلیے میں محسوس کریں گے۔

اور یہ کب ہوگا؟ ’يَوْمَ الدِّينِ‘، بدلے اور انصاف کے دن! یہاں رک کر قرآن کے نظم و نسق کی اس حیرت انگیز کاریگری کو دیکھیے۔ پیچھے نویں آیت میں ان مجرموں کا اصل جرم کیا بیان کیا گیا تھا؟

’كَلَّا بَلْ تُكَذِّبُونَ بِالدِّينِ‘ (تم لوگ جزا و سزا یعنی دین کو جھٹلاتے ہو)۔

اور اب پندرہویں آیت میں عین اسی لفظ ’الدِّينِ‘ کو دہرا کر فرمایا گیا کہ جس ’دین‘ (قانونِ مکافات اور روزِ جزا) کا تم دنیا میں ٹھٹھہ اڑاتے تھے، جسے تم ملاؤں کا افسانہ یا کمزوروں کی تسلی سمجھ کر مسترد کرتے تھے، عین اسی ’یوم الدین‘ کو تم اس بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونک دیے جاؤ گے (ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، جلد 8، صفحہ 345)۔

سچائی کی فطرت یہی ہے کہ انسان کے آنکھیں بند کر لینے سے سورج غائب نہیں ہو جاتا۔

کوئی شخص اگر کششِ ثقل کے قانون (Law of Gravity) کو ماننے سے انکار کر دے اور کسی سو منزلہ عمارت کی چھت سے چھلانگ لگا دے، تو اس کا انکار اسے زمین پر گر کر پاش پاش ہونے سے نہیں بچا سکتا۔

بالکل اسی طرح ’یوم الدین‘ اس کائنات کا سب سے بڑا اخلاقی اور تکوینی قانون ہے؛ انسان کا اس کو جھٹلانا اس دن کی آمد کو روک نہیں سکتا، البتہ خود انسان کو اس دن کی تباہی کے لیے نہتا اور بے یار و مددگار ضرور بنا دیتا ہے۔

جب کوئی مجرم کسی سزا سے دوچار ہوتا ہے، تو انسانی نفسیات کا آخری سہارا یہ امید ہوتی ہے کہ شاید کچھ عرصے بعد سزا ختم ہو جائے گی، شاید کوئی پیرول (Parole) مل جائے، شاید جیل کی دیوار توڑ کر فرار کا کوئی راستہ نکل آئے، یا کم از کم موت آ جائے جو اس عذاب سے نجات دلا دے۔

سولہویں آیت ان مجرموں کے فرار کی اس آخری نفسیاتی کھڑکی کو بھی ہمیشہ کے لیے بند کر دیتی ہے:

"وَمَا هُمْ عَنْهَا بِغَائِبِينَ”
(آیت 16۔ ترجمہ: اور اس سے غائب نہ ہو سکیں گے۔)

یہ آیت عربی اسلوبِ بیان کا ایک شاہکار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ ’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے‘، بلکہ نفی کا اسلوب اختیار کرتے ہوئے فرمایا:

’وَمَا هُمْ عَنْهَا بِغَائِبِينَ‘، اور وہ اس آگ سے کبھی غائب ہونے والے نہیں ہیں!

جملہ اسمیہ منفیہ، اور اس کی خبر پر حرفِ باء زائدہ برائے تاکید (بِغَائِبِينَ)؛ یہ ترکیب اس بات پر مہر لگا دیتی ہے کہ ان کا اس آگ سے ایک لمحے کے لیے بھی الگ ہونا، چھپنا، یا راحت کا کوئی وقفہ پانا قطعاً ناممکن ہے (الطبری، جامع البیان، جلد 24، صفحہ 269؛ ابن عاشور، التحریر والتنویر، جلد 30، صفحہ 182)۔

امام رازی نے اس آیت کی تفسیر میں انسانی تجربے کا ایک انتہائی باریک نفسیاتی تجزیہ پیش کیا ہے۔

وہ لکھتے ہیں کہ دنیا کی زندگی میں انسان پر جب کوئی شدید مصیبت یا جسمانی اذیت آتی ہے، تو فطرت نے اس میں ’غیبت‘ یعنی عارضی فرار کے کئی راستے رکھے ہیں:

کبھی انسان پر بے ہوشی طاری ہو جاتی ہے اور وہ درد کے احساس سے غائب ہو جاتا ہے؛
کبھی نیند آ جاتی ہے؛
کبھی انسان سفر کر کے اس تکلیف دہ مقام سے دور چلا جاتا ہے؛
اور جب تکلیف حد سے بڑھ جائے تو موت آ کر روح کو جسم سے غائب کر دیتی ہے اور قصہ تمام ہو جاتا ہے۔

لیکن قیامت کی اس سزا کی ہولناکی یہ ہے کہ وہاں ان میں سے کوئی بھی صورت ممکن نہیں ہے،

’وَمَا هُمْ عَنْهَا بِغَائِبِينَ‘!
نہ وہاں نیند ہے، نہ بے ہوشی ہے، نہ مقام کی تبدیلی ہے اور نہ موت ہے جیسا کہ سورہ الاعلیٰ میں فرمایا:

’لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَىٰ‘ (الرازی، التفسیر الکبیر، جلد 31، صفحہ 83)۔

اس آیت کی ایک اور گہری معنوی تہہ کی طرف بعض اہلِ تدبر نے اشارہ کیا ہے کہ جو لوگ دنیا میں اللہ کی یاد، اس کے غریب بندوں کے دکھ درد اور حق کی گواہی کے مواقع سے ہمیشہ ’غائب‘ رہے، یا جو یہ سمجھتے تھے کہ وہ اپنے جرائم کر کے قانون اور احتساب کی نظر سے ’غائب‘ ہو جائیں گے، قیامت کے دن مکافاتِ عمل کا تقاضا یہ ہوگا کہ اب وہ جحیم کے عذاب سے کبھی ’غائب‘ نہیں ہو سکیں گے۔

وجودی فلسفے (Existential Philosophy) کے مشہور مفکر جان پال سارتر (Jean-Paul Sartre) نے اپنے ڈرامے ’نو ایگزٹ‘ (No Exit) میں عذاب کا سب سے خوفناک تصور یہی پیش کیا تھا کہ ایک ایسا کمرہ جہاں نہ پلکیں جھپکتی ہیں، نہ بتی بجھتی ہے، نہ نیند آتی ہے اور نہ باہر نکلنے کا کوئی دروازہ ہے، انسان کو اپنے ہی کیے ہوئے اعمال کے نتائج کے ساتھ ابد تک جاگتے ہوئے سامنا کرنا پڑتا ہے۔

قرآنِ حکیم نے صدیوں پہلے صرف چار الفاظ ’وَمَا هُمْ عَنْهَا بِغَائِبِينَ‘ میں اس ابدی بے چارگی اور لا مفر کیفیت کی مکمل تصویر کھینچ دی تھی۔

یہاں تک پہنچ کر جب قیامت کے دن کے دونوں انجام، ابرار کی ابدی راحت اور فجار کی ابدی سزا، سامنے آ گئے، تو اب سورت اپنے نقطۂ عروج (Climax) کی طرف بڑھتی ہے۔

سترہویں اور اٹھارہویں آیت میں کلامِ الٰہی ایک ایسے جلالی اور ہیبت ناک استفہام (Rhetorical Question) کی تکرار کرتا ہے جو سننے والے کے رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے اور انسانی عقل کو اس کی اوقات یاد دلاتا ہے:

"وَمَا أَدْرَاكَ مَا يَوْمُ الدِّينِ”
(آیت 17۔ ترجمہ: اور تم کیا جانو کہ وہ جزا کا دن کیا ہے!)

"ثُمَّ مَا أَدْرَاكَ مَا يَوْمُ الدِّينِ”
(آیت 18۔ ترجمہ: ہاں، تمہیں کیا خبر کہ وہ جزا کا دن کیا ہے!)

قرآنِ مجید کے مخصوص اسالیب میں سے ایک انتہائی پرشکوہ اسلوب ’وَمَا أَدْرَاكَ‘ (اور تجھے کس چیز نے ادراک کرایا / تجھے کیا معلوم؟) کا اسلوب ہے۔

عربی زبان میں لفظ ’ادراک‘ کا مادہ ’د-ر-ک‘ ہے، جس کے معنی کسی چلتی ہوئی چیز کے پیچھے جا کر اسے پکڑ لینے اور اس کی تہہ تک پہنچ جانے کے ہیں (الراغب الاصفہانی، المفردات، صفحہ 312)۔

جب کسی شے کی عظمت، اس کی ہیبت اور اس کی ہولناکی انسانی حواس، انسانی تجربے اور انسانی تخیل کی سرحدوں سے اتنی بلند ہو کہ انسانی عقل دوڑ لگا کر بھی اس کی حقیقت کو نہ پا سکے، تو وہاں عرب کہتے ہیں:

’ما ادراک ما ہذا؟‘، تیرے حیطۂ ادراک میں یہ بات کیسے آ سکتی ہے کہ وہ چیز کیا ہے!

امام سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ایک سنہری تفسیری قاعدہ کتبِ حدیث و تفسیر میں درج ہے کہ قرآن مجید میں جہاں کہیں اللہ تعالیٰ نے ’وَمَا أَدْرَاكَ‘ (فعلِ ماضی کے ساتھ) فرمایا ہے، وہاں اس کی ہیبت بیان کرنے کے بعد اگلی آیت میں اس کی کچھ نہ کچھ وضاحت خود فرما دی ہے؛ اور جہاں کہیں ’وَمَا يُدْرِيكَ‘ (فعلِ مضارع کے ساتھ) فرمایا ہے (جیسے: وما یدریک لعل الساعۃ تکون قریبا)، وہاں اس کا علم اپنے پاس مخفی رکھا ہے اور مخلوق کو نہیں بتایا (صحیح البخاری، کتاب التفسیر، باب قولہ فاقتحم العقبۃ، ترجمۃ الباب؛ القرطبی، الجامع لاحکام القرآن، جلد 19، صفحہ 251)۔

لیکن یہاں سورہ الانفطار میں صرف ایک بار ’وَمَا أَدْرَاكَ مَا يَوْمُ الدِّينِ‘ پر اکتفا نہیں کیا گیا، بلکہ اٹھارہویں آیت میں حرف ’ثُمَّ‘ کے ساتھ پورے جملے کو ہو بہو دہرایا گیا: ’ثُمَّ مَا أَدْرَاكَ مَا يَوْمُ الدِّينِ‘! عربی علمِ معانی اور بلاغت کے اصولوں کے مطابق جب دو جملوں کے درمیان حرف ’ثُمَّ‘ آتا ہے تو اسے ’تراخیِ رتبی‘ (Escalation of Magnitude) کہتے ہیں (ابن عاشور، التحریر والتنویر، جلد 30، صفحہ 183)۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلی بار جب تجھ سے پوچھا گیا کہ

’تجھے کیا معلوم کہ یوم الدین کیا ہے؟‘

تو تیرے ذہن نے اپنی پوری طاقت لگا کر خوف، عدالت اور ہیبت کا ایک بڑا تصور قائم کیا؛ لیکن اب دوسری بار ’ثُمَّ‘ کہہ کر تجھے بتایا جا رہا ہے کہ تیرے تخیل نے جتنی بھی اونچی اڑان بھری ہے، یوم الدین کی اصل حقیقت تیری اس سوچ سے بھی لاکھوں درجے بلند اور ہولناک ہے!

جدید کوگنیٹو سائنس (Cognitive Science) اور علمیات (Epistemology) کی رو سے انسانی ذہن اپنے مادی ماحول اور اپنے حواسِ خمسہ کا قیدی ہے۔

فلسفی ایمانوئل کانٹ (Immanuel Kant) نے اپنی کتاب ’کریٹیک آف پیور ریزن‘ (Critique of Pure Reason) میں واضح کیا تھا کہ انسانی عقل صرف ان چیزوں کا احاطہ کر سکتی ہے جو ہمارے موجودہ زمان و مکاں (Time and Space) کے سانچے میں فٹ ہوتی ہوں۔

ہم نے اس دنیا میں جو بڑی سے بڑی عدالت دیکھی ہے، وہ چند کمرے، چند جج، چند گواہ اور چند سال کی قید یا سزائے موت ہے؛ ہم نے جو سب سے بڑا حادثہ دیکھا ہے وہ کوئی زلزلہ یا ایٹمی دھماکہ ہے۔

لیکن ایک ایسا دن جب پوری کائنات کا فیبرک پھٹ چکا ہو، جب اربوں انسان قبر سے نکل کر ایک ہی میدان میں کھڑے ہوں، جب وقت کی رفتار بدل چکی ہو اور جب خالقِ کائنات خود مسندِ قضا پر جلوہ افروز ہو، اس دن کی ہیبت کا پیمانہ انسانی دماغ کے نیورونز میں موجود ہی نہیں ہے!

مزید برآں، ان دو آیات میں اسمِ ضمیر (وہ کیا ہے) لانے کے بجائے تینوں جگہ اسمِ ظاہر ’يَوْمُ الدِّينِ‘ کی تکرار کی گئی ہے (آیت 15 میں یوم الدین، آیت 17 میں یوم الدین، آیت 18 میں یوم الدین)۔

بلاغت کی زبان میں اسے ’اظہار فی مقام الاضمار‘ کہتے ہیں، جس کا مقصد اس نام کی ہیبت کو انسانی لاشعور پر اس طرح نقش کر دینا ہے کہ انسان جب بھی کوئی ظلم یا خیانت کرنے لگے تو اس کے کانوں میں ’یوم الدین، یوم الدین‘ کی گھنٹی بج اٹھے۔

اور پھر، اس دوہری ہیبت اور کائناتی تجسس کو جگانے کے بعد، سورہ الانفطار کی انیسویں اور آخری آیت نازل ہوتی ہے جو اس یوم الدین کی اصل ماہیت کو کھول کر رکھ دیتی ہے، اور جس پر پہنچ کر انسان کے تمام دنیاوی سہارے، اس کے قبیلے، اس کی سیاست اور اس کی جھوٹی خدائی ریت کی دیوار کی طرح ڈھے جاتی ہے:

"يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَيْئًا ۖ وَالْأَمْرُ يَوْمَئِذٍ لِّلَّهِ”
(آیت 19۔ ترجمہ: یہ وہ دن ہے جب کسی شخص کے لیے کچھ کرنا کسی کے بس میں نہ ہوگا، اور فیصلہ اس روز بالکل اللہ کے اختیار میں ہوگا۔)

سبحان اللہ العظیم! اس ایک آیت کے اندر جتنی معنوی وسعت، جتنا قانونی جلال اور جتنی تہذیبی و نفسیاتی گہرائی سمو دی گئی ہے، اس پر صدیاں غور کرتی رہیں تو بھی اس کے عجائب ختم نہ ہوں۔

سب سے پہلے اس آیت کے پہلے حصے کے نحوی اور لغوی معجزے کو دیکھیے:

’يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَيْئًا‘۔

قراءِ سبعہ میں سے ابن کثیر، ابو عمرو اور عاصم رحمہم اللہ نے اسے ’يَوْمَ‘ (میم پر زبر یعنی نصب کے ساتھ) پڑھا ہے جس کی تقدیر ہے کہ یہ سزا اس دن ہوگی جس دن کوئی نفس کسی کے کام نہ آئے گا؛ جبکہ نافع، ابن عامر، حمزہ اور کسائی رحمہم اللہ نے اسے ’يَوْمُ‘ (میم پر پیش یعنی رفع کے ساتھ) پڑھا ہے جس کا مطلب ہے کہ یوم الدین کی تعریف ہی یہ ہے کہ ’وہ ایسا دن ہے جس دن کوئی نفس کسی دوسرے نفس کے لیے کچھ بھی اختیار نہ رکھے گا‘ (القرطبی، الجامع لاحکام القرآن، جلد 19، صفحہ 251؛ ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، جلد 8، صفحہ 345)۔

اور پھر دیکھیے کہ نفی کے سیاق (’لَا تَمْلِكُ‘) میں یکے بعد دیگرے تین نکرہ الفاظ لائے گئے ہیں: پہلا نکرہ ’نَفْسٌ‘ (کوئی بھی جان)، دوسرا نکرہ ’لِّنَفْسٍ‘ (کسی بھی دوسری جان کے لیے)، اور تیسرا نکرہ ’شَيْئًا‘ (ذرہ برابر کوئی بھی چیز)!

عربی قواعد کا مسلمہ اصول ہے کہ نفی کے سیاق میں نکرہ کامل عموم اور استغراق کا فائدہ دیتا ہے (ابن عاشور، التحریر والتنویر، جلد 30، صفحہ 184)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کائنات کی کوئی بھی ہستی، خواہ وہ کتنا ہی بڑا بادشاہ ہو، کتنا ہی بڑا سردار ہو، کتنا ہی بڑا پیر، مرشد، باپ، بیٹا یا حتیٰ کہ اللہ کے اذن کے بغیر کوئی مقرب ترین فرشتہ یا پیغمبر ہی کیوں نہ ہو، کسی دوسرے انسان کے حق میں رائی کے دانے کے برابر بھی کسی نفع و نقصان یا سفارش و خلاصی کی مالک نہیں ہوگی!

انسانی تاریخ اور عمرانیات (Sociology) کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں انسان کو اخلاقی احتساب سے بے خوف کرنے والی سب سے بڑی سماجی بیماری ’تعلق اور سفارش کا زعم‘ (Culture of Nepotism & Patronage) اور ’موروثی و گروہی نجات کا عقیدہ‘ ہے۔

مکہ کے مشرکین ہوں، قدیم بنی اسرائیل ہوں یا آج کے دور کے کرپٹ اشرافیہ اور مذہبی اجارہ دار؛ ہر دور کے مجرم انسان نے اپنے دل کو یہ تسلی دے رکھی ہے کہ دنیا کی عدالت میں تو میرے تعلقات، میری سیاسی پارٹی، میرا قبیلہ اور میرے وکیل مجھے بچا ہی لیتے ہیں، اور اگر آخرت میں بھی کوئی عدالت لگی تو وہاں ہمارے بڑے بزرگ، ہمارے بت یا ہمارے پیشوا اڑ کر بیٹھ جائیں گے اور ہمیں چھڑا لیں گے۔

سماجی نفسیات میں ارنسٹ بیکر (Ernest Becker) نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ’دی ڈینائل آف ڈیتھ‘ (The Denial of Death, 1973) میں اور بعد ازاں گرین برگ اور ان کے ساتھیوں نے ’ٹیرر مینجمنٹ تھیوری‘ (Terror Management Theory) میں یہ واضح کیا ہے کہ انسان اپنی انفرادی بے بسی اور موت و احتساب کے خوف سے بچنے کے لیے بڑے قبائل، طاقتور لیڈروں یا گروہی شناختوں کے سائے میں پناہ لیتا ہے تاکہ اسے تحفظ کا احساس مل سکے۔

(Greenberg, J., Pyszczynski, T., & Solomon, S., "The Causes and Consequences of a Need for Self-Esteem: A Terror Management Theory”, Springer, 1986, DOI: 10.1007/978-1-4613-9564-5_10)

قرآنِ حکیم کی یہ آیت انسان کے ان تمام نفسیاتی اور سماجی سہاروں کو ایک ہی ضرب سے پاش پاش کر دیتی ہے۔

ہر انسان اس دن اپنی قبر سے اکیلا اٹھے گا اور اکیلا ہی کٹہرے میں کھڑا ہوگا۔

وہاں نہ کوئی خاندانی نسب چلے گا، نہ کسی باپ کی وجاہت بیٹے کے کام آئے گی اور نہ کوئی لیڈر اپنے کارکن کا بوجھ اٹھائے گا۔

سیرتِ نبوی کا وہ لرزہ خیز اور تاریخ ساز منظر یاد کیجیے جسے امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ نے اپنی صحیحین میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

جب قرآن کی آیت ’وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ‘ (اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ) نازل ہوئی، تو کائنات کے سب سے افضل انسان اور شفیع المذنبین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا کی پہاڑی پر کھڑے ہو کر قریش کے ایک ایک قبیلے کا نام لے کر پکارا، پھر اپنے سگے چچا عباس بن عبدالمطلب کو پکارا، پھر اپنی پھوپھی صفیہ کو پکارا، اور آخر میں اپنی جگر گوشہ اور جنت کی عورتوں کی سردار سیدہ فاطمہ بنتِ محمد رضی اللہ عنہا کو مخاطب کر کے وہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا جو قیامت تک ہر قسم کی روحانی اور خاندانی وی آئی پی کلچر کے تابوت میں آخری کیل ہے:

’يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ، سَلِينِي مَا شِئْتِ مِنْ مَالِي، لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا‘،

اے فاطمہ بنتِ محمد! دنیا میں میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے مانگ لو، لیکن اللہ کے حضور (قیامت کے دن) میں تمہارے کچھ کام نہیں آ سکوں گا! (صحیح البخاری، کتاب التفسیر، حدیث نمبر 4771؛ صحیح مسلم، کتاب الایمان، حدیث نمبر 206)۔

جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی لختِ جگر سے یہ فرما رہے ہیں کہ وہاں میرا اور تمہارا خونی رشتہ تمہیں عمل کے بغیر نہیں بچا سکے گا، تو آج کا وہ انسان کس دھوکے میں جی رہا ہے جو خلقِ خدا کا حق مار کر، یتیموں کی جائیداد ہڑپ کر کے اور ظلم کا بازار گرم کر کے یہ سمجھتا ہے کہ کسی دربار پر چادر چڑھا دینے یا کسی مذہبی و سیاسی گروہ سے وابستہ ہو جانے سے وہ ’یوم الدین‘ کے شکنجے سے نکل جائے گا؟

اور پھر سورت کا اختتام اس کائناتی اعلان پر ہوتا ہے جس سے زمین و آسمان لرز اٹھتے ہیں:

’وَالْأَمْرُ يَوْمَئِذٍ لِّلَّهِ‘، اور اس دن سارا اختیار اور سارا حکم صرف اللہ کا ہوگا!

یہاں مفسرینِ کرام، بالخصوص امام رازی، علامہ قرطبی اور علامہ ابن عاشور نے ایک انتہائی لطیف اور گہرا سوال اٹھایا ہے کہ ’حکم اور اختیار‘ تو آج دنیا میں بھی اللہ ہی کا ہے (الا لہ الخلق والامر)، تو پھر یہاں خاص طور پر ’يَوْمَئِذٍ‘ (اس دن) کی قید کیوں لگائی گئی کہ اس دن اختیار اللہ کا ہوگا؟

اس کا جواب انسانی تاریخ کے سب سے بڑے سیاسی اور فلسفیانہ مغالطے کا پردہ چاک کرتا ہے۔

بات یہ ہے کہ اس دنیا کی زندگی کو اللہ تعالیٰ نے چونکہ دارالامتحان (Testing Ground) بنایا ہے، اس لیے اس نے یہاں انسانوں کو ایک عارضی اور مجازی اختیار (Delegated Agency) عطا کر رکھا ہے۔

یہاں ایک جج کو کرسی دی گئی ہے کہ دیکھا جائے وہ انصاف کرتا ہے یا ظلم؛ ایک حکمران کو فوج اور خزانہ دیا گیا ہے، ایک باپ کو گھر کی سربراہی دی گئی ہے اور ایک سرمایہ دار کو معاشی طاقت دی گئی ہے۔ اس ظاہری اور عارضی اختیار کو دیکھ کر دنیا کے فرعونوں، نمرودوں اور متکبر انسانوں کو یہ خوش فہمی ہو گئی کہ اصل حکم اور اقتدارِ اعلیٰ (Sovereignty) ان کے ہاتھ میں ہے۔

یہاں ظالم کا حکم چلتا ہوا نظر آتا ہے اور مظلوم کی آہ دبتی ہوئی نظر آتی ہے۔

لیکن ’يَوْمَ الدِّينِ‘ کو امتحان کا وقت ختم ہو جائے گا اور وہ تمام عارضی اور مستعار اختیارات جو انسانوں کو آزمائش کے لیے دیے گئے تھے، واپس چھین لیے جائیں گے۔

اس دن نہ ظاہری اسباب کا پردہ باقی رہے گا اور نہ کسی مجازی حاکم کا دعویٰ۔

سورہ المؤمن کی آیت 16 کے الفاظ میں اس دن منادی پکارے گا: ’لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ‘ (آج بادشاہت کس کی ہے؟) اور پوری کائنات میں سناٹا چھا جائے گا، کوئی جابر، کوئی ڈکٹیٹر، کوئی سپر پاور بولنے کی جرات نہیں کرے گی، اور پھر خود ہی جواب گونجے گا:

’لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ‘ (صرف اللہ واحد و قہار کی!)۔

چنانچہ ’وَالْأَمْرُ يَوْمَئِذٍ لِّلَّهِ‘ کا مطلب یہ ہے کہ اس دن اللہ کی مطلق العنان حاکمیت اپنے کامل ظہور کے ساتھ بے نقاب ہو جائے گی اور کسی دوسرے کا ظاہری یا مجازی اختیار بھی باقی نہیں رہے گا (الطبری، جامع البیان، جلد 24، صفحہ 271؛ ابن عاشور، التحریر والتنویر، جلد 30، صفحہ 185)۔

اب ذرا ایک قدم پیچھے ہٹ کر پوری سورہ الانفطار کے آغاز اور اختتام کے معجزانہ ربط (Ring Composition) کو ایک نظر میں دیکھیے۔

سورت کا آغاز ہوا تھا کائنات کے مادی نظام کے ٹوٹنے سے:

’إِذَا السَّمَاءُ انفَطَرَتْ‘ (جب آسمان پھٹ جائے گا)،

اور سورت کا اختتام ہو رہا ہے انسان کے تمام مادی و سماجی اختیارات کے ٹوٹنے پر:

’يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَيْئًا‘!

سورت کے درمیان میں (آیت 6 میں) انسان کو جھنجھوڑا گیا تھا کہ

’مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ‘ (تجھے تیرے ربِ کریم کے بارے میں کس چیز نے دھوکے میں ڈال دیا؟)،

اور سورت کے اختتام پر اس دھوکے کے ہر سہارے کو زمین بوس کر کے انسان کو تنہا اسی رب کے روبرو لا کھڑا کیا گیا ہے جس کا حکم اس دن کائنات کے ذرے ذرے پر نافذ ہوگا۔

سورہ الانفطار کی ان انیس آیات کا یہ فکری، تفسیری اور نفسیاتی سفر آج کے اکیسویں صدی کے انسان کے لیے محض ماضی کی کوئی مذہبی داستان نہیں ہے، بلکہ یہ اس کے وجود کا سب سے بڑا آئینہ ہے۔

آج کا انسان جو ٹیکنالوجی کے عروج، مصنوعی ذہانت، خلائی تسخیر اور کارپوریٹ طاقت کے نشے میں چور ہو کر اپنے آپ کو خدا سے بے نیاز سمجھ بیٹھا ہے؛ جو اپنے جرائم کو قانونی موشگافیوں اور میڈیا کے پروپیگنڈے کے پیچھے چھپا کر مطمئن ہے کہ اسے کوئی نہیں پکڑ سکتا، یہ سورت اس کے گریبان میں ہاتھ ڈال کر اسے بتاتی ہے کہ جس آسمان کے نیچے کھڑے ہو کر تو اکڑ رہا ہے، وہ پھٹنے والا ہے؛ جس جسم اور دماغ کی ترکیب پر تجھے ناز ہے، وہ اسی ربِ کریم کی امانت ہے؛ تیرے دائیں بائیں بیٹھے ہوئے ’کراماً کاتبین‘ تیری ہر سانس اور ہر سازش کا ناقابلِ تردید ریکارڈ تیار کر رہے ہیں؛ اور بہت جلد وہ گھڑی آنے والی ہے جب تیری تمام سفارشی پرچیاں، تیرے تمام بینک اکاؤنٹس اور تیرے تمام جھوٹے سہارے راکھ کا ڈھیر بن جائیں گے۔

اس دن کی رسوائی اور ’جحیم‘ کی ابدی قید سے بچنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ انسان اس سے پہلے کہ اس کے تمام اختیارات چھین لیے جائیں، آج اپنے اس عارضی اختیار کو اپنے ربِّ کریم کی رضا کے سامنے جھکا دے اور اپنے نامۂ اعمال کو ’ابرار‘ کی صف میں شامل کر لے۔

#سنجیدہ_بات

#آزادیات

#بلال #شوکت #آزاد