سلطان صلاح الدین ایوبی۔۔۔ تحریر و تحقیق ۔۔مولانا محمد اسماعیل ریحان۔۔۔پیشکش ۔۔ محمد عثمان انصاری

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )یخ بستہ یورپ کے تنگ و تاریک اور پر ہجوم بازاروں میں اس قدر رش اس سے پہلے شاید ہی کبھی دیکھا گیا ہو۔ ان دِنوں چوکوں اور بازاروں میں خچر پر سوار ایک پستہ قد سیاہ فام فقیر چیختا چلاتا دکھائی دیتا تھا۔ لوگ دم سادھے اس کی پکار سنا کرتے تھے۔ اس کی آواز میں ایسا درد تھا کہ بہت سے افراد دھاڑے مار مار کر رو دیتے تھے۔ اس کی زبان شعلے اگلتی تھی، اس کے ایک ایک لفظ سے سامعین کے دل و دماغ جھنجھنا اٹھتے تھے۔

یہ فقیر اُنہیں بتاتا تھا کہ مسلمان نصرانیوں پر کیسے کیسے مظالم ڈھاتے ہیں، وہ صلیب اور مرقد مسیح کی کس کس طرح توہین کر رہے ہیں۔ وہ انہیں سمجھاتا کہ یروشلم ان کی میراث ہے جسے واپس لینا ان کا مذہبی فریضہ ہے۔ یہ دیوانہ فرانس کا ایک راہب پیٹرڈی ہرمنٹ تھا جسے عرب مؤرخین ”پطرس“ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

پیٹر شروع سے شدت پسند اور تُند مزاج تھا۔ خود بعض یورپی مؤرخین اسے پاگل اور جنونی قرار دیتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایسے لوگ رہتی نسلوں تک کو شدید ترین المیوں اور ناقابل تلافی اجتماعی نقصانات سے دوچار کرتے چلے آئے ہیں۔

پیٹرڈی ہرمنٹ 484ھ (1092ء) میں راہبوں کی ایک جماعت کے ساتھ القدس کی زیارت کے لیے گیا تھا۔ دور خلافتِ راشدہ میں مسلمانوں نے قیصر کو شکست دے کر نصرانیت کو بحیرہ روم کے پار دھکیل دیا تھا۔ تب سے فلس طین کے مقامات مقدسہ مسلمانوں کی تحویل میں تھے۔ القدس ہی میں نصرانیوں کی خود ساختہ مرقد مسیح تھی جسے ان کے سب سے مقدس مقام کی حیثیت حاصل ہے۔ مسلمانوں نے نصرانیوں کی ان مذہبی یادگاروں کو ان کے حال پر رہنے دیا تھا۔ عیسائی اپنے اس مذہبی مرکز کی بازیابی کا خواب صدیوں سے دیکھ رہے تھے مگر ان کا مسلمانوں پر کوئی بس نہیں چلتا تھا۔ نصرانیوں کو مسلم معاشرے میں کوئی تکلیف لاحق نہیں تھی۔ ان کے گرجے بھی محفوظ تھے اور جان و مال بھی۔ مسلم امراء کے ہاں کسی فن میں مہارت رکھنے والے عیسائی افراد کو با عزت مناصب بھی دیے جاتے تھے۔

ہارون الرشید کے دور میں عیسائی بادشاہ شارلمین کے ساتھ القدس آنے والے عیسائی زائرین کے حوالے سے جو معاہدہ کیا گیا تھا، مسلمان اس کی بڑی پابندی کرتے رہے۔ ارضِ مقدس کو یورپی سیاحوں اور زائرین کے لیے کبھی بند نہیں کیا گیا، مگر زیارت کے لیے آنے والے نصرانی تمام سہولتیں ملنے کے باوجود اپنے مذہبی مرکز کو مسلمانوں کے پاس دیکھ کر جلتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی مالداری اور خوشحالی دیکھ کر بھی انہیں شدید صدمہ ہوتا تھا اور وہ یہ جذبہ لے کر اپنے وطن کو لوٹتے تھے کہ کسی بھی طرح اس سرزمین کی دولت اور وسائل پر قابض ہو جائیں۔ صدیوں سے پنپنے والا یہ حسد، جذبہ انتقام اور ہوسِ مال و ملک گیری صلیبی جنگوں کے اہم محرکات تھے۔

صلیبی جنگوں کے باقاعدہ آغاز سے تقریباً ڈیڑھ صدی قبل ہلال و صلیب میں شدید تناؤ کی کیفیت پیدا ہو چکی تھی۔ چوتھی صدی ہجری میں عباسی خلافت بے اختیار ہو کر دیلمی شیعہ امراء کے زیرِ اثر آ چکی تھی اور عالمِ اسلام کی وحدت ختم ہو گئی تھی۔ ریاستیں خود مختار، منتشر اور کمزور تھیں۔

اس موقع سے فائدہ اٹھا کر قیصرِ روم کا سالار نیکوفورس (تغفور) شام کے ساحل پر قابض ہو گیا۔ سیف الدولہ نامی ایک حاکم اس سے لڑتا رہا مگر 356ھ میں اس کی وفات کے بعد نصرانیوں کی ہمت بڑھ گئی اور 361ھ میں وہ دیارِ بکر تک قابض ہو گئے۔

(قدیم تاریخ اور سیف الدولہ کے دور میں دیارِ بکر جس خطے اور شہر کو کہا جاتا تھا، وہ جغرافیائی طور پر آج کے ترکی کا جنوب مشرقی حصہ (Diyarbakır) ہی ہے۔ اس وقت ”دیارِ بکر“ ایک پورے خطے/صوبے کا نام تھا جس میں آمد (موجودہ دیارِ بکر شہر)، میافارقین، اور حصن کیفا کے علاقے شامل تھے، اور اس خطے کا مرکزی اور سب سے مضبوط شہر آمد (Amid) تھا۔ بعد میں اس مرکزی شہر ”آمد“ کو ہی دیارِ بکر (Diyarbakır) کا نام دے دیا گیا، جو کہ آج ترکی کے جنوب مشرقی اناطولیہ کا ایک اہم صوبہ اور بڑا شہر ہے۔ ویکیپیڈیا)

سیف الدولہ کی یہ لڑائیاں صلیبی جنگیں نہیں کہلاتیں مگر ان کی تمہید مانی جاتی ہیں۔ نصرانیوں کی یہ فتوحات پائیدار ثابت نہ ہوئیں اور مسلمانوں نے اپنے علاقے کچھ مدت بعد آزاد کرا لیے مگر اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ مسلمان اب نصرانیوں کے مقابلے میں ناقابلِ شکست قوت نہیں رہے۔

اس دوران عیسائی زائرین کی بیت المقدس میں آمد جاری تھی۔ انہوں نے مقدس سرزمین کے آداب کو فراموش کر کے جگہ جگہ اودھم مچانا شروع کر دیا تھا۔ وہ ہزاروں کی تعداد میں بڑے بڑے قافلے بنا کر آتے اور بعض اوقات راستے میں پڑنے والے اسلامی شہروں کی انتظامیہ کو تنگ کر کے رکھ دیتے۔

پادریوں نے یروشلم کی زیارت کو دوزخ سے آزادی کا ذریعہ قرار دیا ہوا تھا اس لیے زائرین کے قافلوں میں بڑی تعداد شرابیوں ، بدکاروں اور غنڈوں کی ہوتی تھی جو تمام گناہوں سے پاک ہونے کے شوق میں جوق در جوق ادھر کا رخ کرتے تھے مگر وہ خدا خوفی، پرہیزگاری اور ادب وانکسار سے کوسوں دور رہتے۔ راستے بھر ناچتے گاتے، شراب نوشی کرتے اور باجے بجائے القدس میں داخل ہوتے۔ جب ان کی خرمستیاں حد سے بڑھ گئیں تو مسلم حکمرانوں نے ان پر کچھ پابندیاں عائد کردیں اور انہیں مجبور کیا کہ وہ خاموشی اور ادب و احترام کے ساتھ ارضِ مقدس میں آئیں۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ سختی بھی کی گئی۔ اس رویے کو عیسائی زائرین نے جبر و تشدد کا نام دے دیا۔

پیٹر راہب جب القدس پہنچا تھا تو ان دنوں بھی زائرین پر کچھ پابندیاں عائد تھیں۔ پیٹر نے ان پابندیوں کو سخت نفرت کی نگاہ سے دیکھا اور تمنا کی کہ کسی طرح یہ مقدس شہر مسلمانوں سے واپس لے لیا جائے۔ القدس کے بشپ (بڑے پادری) نے اسے مسلمانوں کے مظالم کے فرضی قصے سنا کر مزید مشتعل کر دیا۔ جب پیٹر نے بیت المقدس کو مسلمانوں سے چھیننے کے جذبے کا اظہار کیا تو بڑے پادری نے جواب دیا:

’’یورپی تاجدار ہی آ کر ہمیں نجات دے سکتے ہیں۔‘‘

اس پر پیٹر نے شاہانِ یورپ کو جھنجھوڑنے کی ذمہ داری قبول کی اور بشپ نے اسے یورپی بادشاہوں کے نام خطوط دیے جن میں انہیں شام پر حملے کی دعوت دی گئی تھی۔

پیٹر یہ خطوط لے کر اٹلی کے دارالحکومت روم میں کلیسا کے سربراہ پوپ سے ملا۔ صدیوں سے کلیسا دو حصوں میں تقسیم تھا۔ ایک مشرقی کلیسا تھا جس کا مرکز قسطنطنیہ تھا۔ دوسرا مغربی کلیسا تھا جس کا مرکز روم تھا۔ دونوں میں صدیوں سے عداوت چلی آرہی تھی مگر مسلم دشمنی میں دونوں ایک تھے۔

پیٹر راہب روم کے پوپ اربن ثانی سے ملا جو حد درجہ متعصب انسان تھا۔ اس نے القدس کی بازیابی کے خیال کو بڑی دلچسپی سے سنا اور پیٹر کو گلے لگا کر اسے یہ مہم سونپی کہ وہ یورپ کے کونے کونے میں جا کر عوام اور حکام کو شام پر حملے کی دعوت دے۔ بس پھر کیا تھا، پیٹر یورپ کے دورے پر نکل گیا اور اس نے پورے یورپ کو مسلمانوں کے خلاف مشتعل کر دیا۔

اس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اسے یروشلم میں یسوع کی قبر سے یہ پکار سنائی دی تھی:

’’اٹھو میرے پیروکاروں کے مصائب کا چرچا کرو، یہ وقت ہے کہ میرے خدا کی نصرت ہو اور مقدس مقامات آزاد ہوں۔‘‘

صلیبی جنگ کی آگ

پیٹر کے ان دعوؤں اور شعلہ نوا تقاریر نے اہل یورپ کو مشرق پر ٹوٹ پڑنے کے لیے اس طرح ابھارا کہ لگتا تھا ان کے پاس جینے کا کوئی اور مقصد ہی نہیں ہے۔ خود یورپی حکمران بھی اس مہم میں غیر معمولی دلچسپی لینے لگے۔ اس کی ایک بڑی وجہ تھی کہ کچھ مدت پہلے 479ھ (1086ء) میں مراکش کے حکمران یوسف بن تاشفین نے اسپین میں نصرانیوں کو عبرتناک شکست دی تھی جس کا بدلہ لینے کے لیے عیسائی موقعے کے متلاشی چلے آ رہے تھے۔ پھر اس دوران 484ھ (1091ء) میں بحیرہ روم میں واقع اسلامی ملک صقلیہ (سسلی) پر قبضہ کرنے میں کامیابی بھی ہو گئے تھے جس کی وجہ سے انہیں مسلمانوں کو ایشیا کے میدانوں میں بھی شکست دینے کی امید ہو چلی تھی۔

ادھر یورپ میں یہ سوچ پروان چڑھ رہی تھی۔ ادھر قسطنطنیہ کے شہنشاہ "ایلکسی اس” نے بھی روم سے سابقہ اختلافات فراموش کر کے مسلمانوں کے خلاف اتحاد کی داغ بیل ڈالنے کی کوشش کی۔ اصل میں قسطنطنیہ کو سلجوقی ترکوں سے خطرہ لاحق تھا۔ 463ھ (1071ء) میں نامور سلجوقی حکمران الپ ارسلان نے قسطنطنیہ کے قیصر رومانوس دیو جانس کو ایسی شکست دی تھی کہ قسطنطنیہ کا دم لبوں پر آ گیا تھا۔ اس کے بعد سے قسطنطنیہ کے ہر تاجدار کو مسلمانوں کے حملے کا دھڑکا رہتا تھا، خصوصاً سلجوقیوں کے مردِ جری ملک شاہ کی ہیبت سے قسطنطنیہ برسوں کانپتا رہا تھا مگر جن دنوں پیٹرڈی ہرمنٹ القدس کا سفر کر کے لوٹا، ملک شاہ کی اچانک وفات ہو گئی۔ یہ شوال 485ھ (نومبر 1092ء) کا واقعہ ہے۔

ملک شاہ کے رخصت ہوتے ہی شام کی سلجوقی حکومت کئی ٹکڑوں میں بٹ گئی۔ قیصر "ایلکسی اس” نے اسے بہترین موقع تصور کرتے ہوئے پوپ اور یورپی حکمرانوں کو خطوط لکھ کر انہیں جلد از جلد شام پر قبضہ کرنے کی ترغیب دی۔ اس نے خطرہ ظاہر کیا کہ اگر یورپ ایشیا کے نصرانیوں کی مدد کو نہ آیا تو ترک قسطنطنیہ پر بھی قبضہ کر لیں گے۔ اس کے ساتھ اس نے اپنے ملک کی دوشیزاؤں کے حسن و جمال کی تصویر کشی کرتے ہوئے یورپی جنگجوؤں کو امید دلائی کہ وہ مسلمانوں کے خلاف جنگ کر کے ان حسیناؤں کے نہ صرف دل جیت سکتے ہیں بلکہ انعام میں ان کے جسم بھی پا سکتے ہیں۔

فرانسیسی مؤرخ مچاڈ اعتراف کرتا ہے کہ قیصر کی ان گھٹیا ترغیبات نے مغرب کے جنگجوؤں کے جذبات کو متحرک کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ یورپی نوابوں اور پادریوں کی اس مہم میں دلچسپی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ جاگیردارانہ نظام کی زیادتیوں اور کلیسا کی بے جا سختیوں کی وجہ سے لوگوں میں حکومتوں اور مذہب سے بیزاری پیدا ہو چکی تھی۔ یورپ کے سیاسی اور مذہبی رہنماؤں نے محسوس کیا کہ اگر وہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگوں کی توجہات کا رخ بیرونی معاملات کی طرف پھیر دیں تو اندرونی مسائل فراموش ہو جائیں گے اور ان کی بدعنوانیوں کے خلاف کسی مؤثر احتجاج کے امکانات ختم ہو جائیں گے۔

اونچے گھرانوں کے عیسائیوں کی اس مہم جوئی میں دلچسپی کا ایک سبب یہ تھا کہ فارغ اور بے مقصد زندگی گزارنے والے کم ثروت عیسائی شہزادوں کو جاگیروں کے لیے نو آبادیات کی تلاش تھی جبکہ یورپی تاجر نئی منڈیوں کی جستجو میں تھے۔ مسلمانوں کے خلاف جنگوں کا سلسلہ ان مقاصد کے حصول کا اچھا بہانہ بن سکتا تھا۔ عام لوگ پادریوں کے بھڑکانے کی وجہ سے اس مہم میں شرکت پر آمادہ ہوئے۔

دراصل عیسائیت کے "پیدائشی گناہ” کے تصور نے ہر شخص میں احساسِ جرم پیدا کر رکھا تھا اور حقیقتاً بھی عیسائی معاشرے میں اخلاقی جرائم کا کوئی حد و شمار نہ تھا۔ پادریوں نے لوگوں کو ورغلانے کے لیے اعلان کر دیا کہ اس جنگ  میں شرکت سے آدمی گناہوں سے بالکل پاک ہو جاتا ہے۔ اس طرح صلیبی قائدین اپنے اصل سیاسی و مادی مقاصد کو اوجھل رکھ کر جنگوں کو مذہبی لباس اوڑھاتے ہوئے عوام کو مشتعل کر رہے تھے۔

(جاری ہے…..)

تحریر و تحقیق: مولانا محمد اسماعیل ریحان

پیشکش: محمد عثمان انصاری