بازار کے بیچ ایک آدمی ۔۔۔ انتخاب ۔۔۔  محمد جاوید عظیمی

بازار کے بیچ ایک آدمی

انتخاب ۔۔۔  محمد جاوید عظیمی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ بازار کے بیچ ایک آدمی ۔۔۔ انتخاب ۔۔۔  محمد جاوید عظیمی)سکرات کے سامنے کھڑا تھا اور اسے گالیاں دے رہا تھا۔ وہ غصے سے لال پیلا ہو رہا تھا، پھول پھول کر بول رہا تھا۔ سکرات کی ہر بات پر اس کی پوری نسل تک کے لیے گندی گالیاں دے رہا تھا۔ اور سکرات بس مسکرا رہا تھا۔ دوستوں، وہ کیوں مسکرا رہا تھا؟ کسی کی گالیاں سن کر کوئی کیسے چین سے رہ سکتا ہے؟ سکرات نے اس دن اپنے شاگرد کو ایسا سبق دیا جو شاید آپ کی پوری زندگی بدل دے—کہ لوگوں کی فضول باتوں کو دل میں جگہ دیے بغیر کیسے ایک پہاڑ کی طرح سکون سے رہیں۔ تو آخر تک ضرور رکیں۔ ایک بار…

 سقراط اپنے شاگرد کے ساتھ بازار سے گزر رہا تھا۔ دونوں باتیں کر رہے تھے کہ اچانک ایک آدمی آ گیا اور سقراط کو گالیاں دینے لگا۔ سقراط نے اس کی ایک بات کا بھی جواب نہیں دیا۔ بس ہلکی سی مسکراہٹ دی اور اس کے پاس سے چلتا بنا۔ مگر سقراط کو مسکراتے دیکھ کر وہ آدمی اور بھی بھڑک اٹھا۔ اب وہ نہ صرف سقراط کو بلکہ اس کے پورے خاندان کو گالیاں دینے لگا۔ مگر ان سب باتوں کے باوجود سقراط سکون سے مسکراتے ہوئے آگے بڑھتا رہا۔ آخرکار جب اس آدمی نے دیکھا کہ میری باتوں کا سقراط پر کوئی اثر نہیں ہو رہا۔

 وہ آدمی بس چپکے چپکے اپنے راستے چل دیا۔ جیسے ہی وہ گیا، شاگرد کا دل نہیں مانا کہ کچھ نہ پوچھے۔ اس نے پوچھا، "استاد، آپ نے اس کی باتوں کا جواب کیوں نہیں دیا؟ اور تو اور آپ تو بس مسکرا رہے تھے۔ کیا آپ کو اس کی کوئی بات بری نہیں لگی؟ کیا آپ کو دکھ نہیں ہوا؟” اور دوستوں، رک کر سوچیں۔ یہی وہ سوال ہے جو اُس وقت ہم سب کے دل میں آتا ہے۔ کوئی ہمیں بنا وجہ برا بھلا کہے اور ہم چپ رہ جائیں تو ہمارے خیال میں جواب دینا ہی مردانگی ہے۔ چپ رہنا کمزوری ہے۔ مگر سقراط کا جواب اس سوچ کو جڑ سے بدل دینے والا تھا۔

 سقراط نے شاگرد کی طرف ایک نظر ڈالی۔ لیکن اس کی بات کا جواب دینے کی بجائے اسے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔ شاگرد چپ چاپ اس کے پیچھے چل پڑا۔ چلتے چلتے دونوں سقراط کے گھر پہنچ گئے۔ شاگرد کو باہر رکنے کا اشارہ کیا اور سقراط اندر چلا گیا۔ کچھ دیر بعد جب وہ باہر آیا تو اس کے ہاتھ میں ایک گندا بدبودار تولیہ اور کچھ کپڑے تھے، جیسے ابھی ابھی کسی کوڑے دان سے نکالے گئے ہوں۔ سقراط نے وہ کپڑے شاگرد کے ہاتھ میں تھما دیے اور کہا، "لو اس تولیے سے اپنے ہاتھ صاف کر لو اور یہ کپڑے پہن لو۔ ان کپڑوں پر ایسی گندگی تھی کہ…”

 وہ آ رہا تھا کہ شاگرد نے ہاتھ میں لیتے ہی اسے دور پھینک دیا۔ استاد، میں یہ کیسے پہن سکتا ہوں؟ یہ تو انتہائی گندے اور بدبو دار ہیں۔ اور یہی دوستوں، سقراط نے وہ بات کہی جو اس پوری کہانی کی جان ہے۔ سقراط مسکرایا اور بولا، جس طرح تم ان میلے بدبو دار کپڑوں کو قبول نہیں کر سکتے، بالکل اسی طرح میں بھی کسی کے بدبو دار الفاظ کو کیوں قبول کروں؟ اگر کوئی بغیر کسی وجہ کے تمہیں برا بھلا کہے اور تم اس کی باتوں سے پریشان ہو جاؤ، اپنے کام چھوڑ کر اس کی فضول باتوں کے بارے میں سوچنے لگو، ان پر غصہ کرنے لگو تو۔

 یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے تم نے اپنے صاف ستھرے کپڑے اتار کر کسی کے پڑے ہوئے وہ گندے بدبو دار کپڑے پہن لیے ہوں۔ شاگرد چپ چاپ رہ گیا۔ آج اسے زندگی کا سب سے بڑا سبق مل چکا تھا۔ اور دوستو، ذرا اپنی زندگی کو دیکھو۔ کتنی بار ایسا ہوتا ہے۔ ہم اچھے مزاج میں کہیں جا رہے ہوتے ہیں، گاڑی چلا رہے ہوتے ہیں اور کوئی بنا وجہ ہم سے الجھ پڑتا ہے اور ہم اس ایک انسان کی وجہ سے اپنا سارا موڈ خراب کر لیتے ہیں۔ پورا دن ضائع کر دیتے ہیں۔ جو کر رہے ہوتے ہیں، اسے بھول کر گھنٹوں اسی بندے کے بارے میں بات کرتے رہتے ہیں۔

 ہوتے ہیں۔ ان کا رویہ ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے۔ یاد رکھو دوستوں، ایسے لوگ کچرے کے ڈبے کی طرح ہوتے ہیں۔ وقت کے مارے ہوئے، اندر سے ٹوٹے ہوئے، ہر وقت غصے سے بھرے ہوئے۔ اصل میں یہ لوگ ذہنی طور پر بیمار ہوتے ہیں۔ اپنی ناراضگی، اپنا سارا کچرا کسی نہ کسی پر پھینکنا چاہتے ہیں اور جو بھی ان کے سامنے آ جائے، وہی اس کا شکار بنتا ہے۔ تو تم ایسے لوگوں کا شکار مت بننا۔ اگر کبھی راستے میں تمہارے آگے کوئی کچرے کا ڈھیر آجائے تو اس سے بچتے ہوئے، مسکراتے ہوئے آگے نکل جاؤ۔ تو دوستوں، یاد ہے شروع میں سقراط کی وہ مسکراہٹ؟

 اب آپ جانتے ہیں کہ یہ کمزوری کی مسکراہٹ نہیں تھی۔ یہ سب سے بڑی طاقت کی مسکراہٹ تھی۔ کیونکہ سقراط جانتا تھا کہ کسی کی فضول بات پر اپنا سکون ضائع کرنا، کسی کے ہاتھ کا کھلونا بن جانا کہ کوئی جب چاہے آ کے آپ کو غصہ دلا دے اور آپ کا دن خراب کر دے، یہ سب مناسب نہیں۔ مگر آپ کے دل اور دماغ کا ریموٹ کنٹرول کسی اور کے ہاتھ میں نہیں، ہمیشہ آپ کے اپنے ہاتھ میں ہونا چاہیے۔ کیونکہ جس دن آپ نے یہ سیکھ لیا کہ کس کی بات کو اندر آنے دینا ہے اور کس کی بات کو مسکرا کر نظرانداز کرنا ہے، اسی دن سے دنیا کا کوئی بھی انسان آپ کا سکون نہیں چھین سکتا۔

 نہیں چھین سکے گا