ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ام المؤمنین سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا: ایثار، وفاداری اور رفعتِ کردار کی عظیم داستان
نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ، آپ کی اولاد کی شفیق والدہ اور کائنات میں سب سے پہلے آپ ﷺ کی نبوت پر ایمان لانے والی عظیم ہستی کا نام حضرت خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا ہے۔ آپ کا تعلق مکہ مکرمہ کے ایک انتہائی مالدار اور معزز گھرانے سے تھا۔ دورِ جاہلیت کی تاریکیوں میں بھی آپ کی سیرت اس قدر اجلی اور بے داغ تھی کہ لوگ آپ کو احتراماً ’الطاہرہ‘ (انتہائی پاکیزہ خاتون) کہہ کر پکارتے تھے۔
دینِ اسلام نے صنفِ نازک کو جو عزت و توقیر بخشی، وہ تاریخ میں بے مثال ہے۔ تاریخِ انسانی کی جن چار کامل ترین خواتین کا ذکر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا، ان میں سیدہ خدیجہ کا نام سرفہرست ہے۔ آپ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: "دنیا کی عورتوں میں کمال کے درجے پر پہنچنے والی صرف چار خواتین ہیں: عمران کی بیٹی مریم، فرعون کی زوجہ آسیہ، خویلد کی بیٹی خدیجہ اور محمد ﷺ کی لختِ جگر فاطمہ۔”
قرآن مجید نے بھی ازواجِ مطہرات کے بلند مقام اور عظمت کی گواہی دی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ: "نبی کا حق مومنوں پر ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ ہے، اور نبی کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔” (سورہ الاحزاب: 6)
خاندانی پس منظر اور نمایاں خوبیاں
آپ رضی اللہ عنہا کا شجرہ نسب خدیجہ بنت خویلد بن اسد القرشیہ ہے۔ آپ کی والدہ کا نام فاطمہ بنت زائدہ تھا اور کنیت ‘ام القاسم’ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ظاہری حسن و جمال کے ساتھ بے پناہ دولت، اعلیٰ فہم و فراست اور دانشمندی سے بھی نوازا تھا جس میں مکہ کی کوئی عورت آپ کی ہم پلہ نہ تھی۔ نبی کریم ﷺ کی زوجیت میں آنے سے قبل آپ کی دو شادیاں (عتیق بن عائذ اور ابو ہالہ سے) ہو چکی تھیں، اور ان کی وفات کے بعد آپ بیوگی کی زندگی گزار رہی تھیں۔
تجارتی سفر سے رشتہِ ازدواج تک
جب رسول اللہ ﷺ کی دیانت داری، سچائی اور امانت داری کے چرچے مکہ میں پھیلے تو سیدہ خدیجہ نے اپنا مالِ تجارت آپ ﷺ کے سپرد کر کے شام بھیجا۔ آپ ﷺ کی برکت اور حسنِ معاملہ سے اس سفر میں توقعات سے دگنا منافع حاصل ہوا۔ سفر میں ہمراہ جانے والے غلام ‘میسرہ’ نے واپسی پر جب آپ ﷺ کے اعلیٰ اخلاق اور حیرت انگیز معجزات کا ذکر کیا، تو حضرت خدیجہ کے دل میں آپ ﷺ کی عقیدت اور احترام مزید گہرا ہو گیا۔
اگرچہ اس وقت نبی کریم ﷺ کی عمر مبارک 25 برس اور حضرت خدیجہ کی عمر 40 سال تھی، لیکن اعلیٰ سیرت و کردار نے اس ظاہری فرق کو بے معنی کر دیا۔ آپ نے اپنی قریبی دوست نفیسہ کے توسط سے نکاح کا پیغام بھیجا جسے رسول اللہ ﷺ نے قبول فرما لیا۔ اللہ رب العزت نے اس بابرکت بندھن کے نتیجے میں آپ ﷺ کو دو صاحبزادوں (قاسم اور عبداللہ) اور چار صاحبزادیوں (زینب، رقیہ، ام کلثوم اور فاطمہ رضی اللہ عنہن) سے نوازا۔
نزولِ وحی اور ورقہ بن نوفل کی گواہی
غارِ حرا کی تنہائیوں میں جب پہلی مرتبہ وحی نازل ہوئی اور رسول اللہ ﷺ پر ایک جلال اور گھبراہٹ طاری ہوئی تو آپ ﷺ نے گھر تشریف لا کر فرمایا: "مجھے چادر اڑھا دو۔” اس کٹھن اور غیر معمولی گھڑی میں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے جو حوصلہ افزا الفاظ کہے، وہ تاریخِ انسانی کے ماتھے کا جھومر ہیں:
"ہرگز نہیں! بخدا، اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔ آپ تو رشتوں کو جوڑتے ہیں، سچ بولتے ہیں، بے سہاروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں اور حق کی خاطر مصیبت زدوں کے کام آتے ہیں۔”
سیدہ خدیجہ نے محض تسلی دینے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ آپ ﷺ کو اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں، جو سابقہ الہامی کتابوں (تورات و انجیل) کے ماہر تھے۔ ساری تفصیل جاننے کے بعد ورقہ پکار اٹھے: "یہ تو وہی فرشتہ (ناموسِ اکبر) ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر بھیجا گیا تھا۔ کاش میں اس وقت طاقتور جوان ہوتا جب آپ کی قوم آپ کو آپ کے وطن سے نکال دے گی!” ان الفاظ نے رسول اللہ ﷺ کے قلبِ مبارک کو زبردست تقویت دی۔
قربانی اور ایثار کی بے مثال داستان
اسلام کی اشاعت کے لیے حضرت خدیجہ نے اپنی تمام جمع پونجی اور بے تحاشا دولت رسول اللہ ﷺ کے قدموں میں نچھاور کر دی۔ جب مکہ کے کفار نے مسلمانوں کا معاشی بائیکاٹ کیا اور انہیں ‘شعبِ ابی طالب’ کی گھاٹی میں محصور کر دیا گیا، تو بڑھاپے کے باوجود سیدہ خدیجہ نے اپنے شوہرِ نامدار کا بھرپور ساتھ دیا اور فاقوں، بھوک اور پیاس کی ہر صعوبت خندہ پیشانی سے برداشت کی۔
وفات اور دائمی یادیں
نبوت کے دسویں سال، شعبِ ابی طالب کی قید سے رہائی پانے کے کچھ ہی عرصہ بعد، ایثار و وفا کا یہ پیکر اس دارِ فانی سے کوچ کر گیا۔ ان کی رحلت کا رسول اللہ ﷺ کو اس قدر گہرا صدمہ پہنچا کہ آپ ﷺ نے اس سال کا نام ہی ‘عام الحزن’ (یعنی غم کا سال) رکھ دیا۔
آپ ﷺ اپنی پوری زندگی سیدہ خدیجہ کی وفاداریوں کو یاد فرماتے رہے۔ ایک مرتبہ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رشک کے عالم میں کچھ کہا تو آپ ﷺ نے فرمایا:
"وہ اس وقت مجھ پر ایمان لائیں جب لوگوں نے مجھے جھٹلایا، انہوں نے اپنا مال مجھ پر اس وقت خرچ کیا جب دوسروں نے مجھے محروم رکھا، اور اللہ نے مجھے ان کے ذریعے اولاد عطا فرمائی۔”
خواتین کے لیے مشعلِ راہ
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی حیاتِ طیبہ قیامت تک آنے والی خواتین کے لیے ایک کامل نمونہ ہے۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ ایک باوفا عورت کس طرح اپنے شوہر کی سب سے بڑی طاقت بنتی ہے اور حق کے راستے میں اپنا سب کچھ کیسے قربان کیا جاتا ہے۔ اس عظیم المرتبت ماں پر کروڑوں سلام، جنہیں خود اللہ رب العزت نے حضرت جبرائیل امین علیہ السلام کے واسطے سے سلام بھیجا اور جنت الفردوس میں ایک ایسے موتی کے محل کی بشارت دی، جہاں نہ کوئی شور و غل ہوگا اور نہ ہی کوئی رنج و تھکن۔