رازِ سلوک: کرب سے قرب تک 🕯️

رازِ سلوک: کرب سے قرب تک 🕯️

عجز و نیاز سے ہی ملا قربِ کبریا

سجدے میں جو گرا تو وہ عرشِ بریں ہوا ✨

ہالینڈ(ڈٰلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )1۔ کرب اور آزمائش کا مقصد:سلوک کی راہ میں ہر پہنچنے والی تکلیف یا باطنی تڑپ (کرب) کا مقصد انسان کو سزا دینا نہیں، بلکہ اس کے دل کو کندن بنانا ہوتا ہے

قرب کا سورج باطن کے افق پر تبھی طلوع ہوتا ہے جب روح کرب کی تاریک وادیوں سے گزر چکی ہو

۔ رازِ سلوک ہر راہرو پر آشکار نہیں ہوتا؛ یہ وہ پرپیچ باطنی سفر ہے جہاں درد کی آنچ پر تپ کر صبر، سونا بنتا ہے؛

 صبر کی کوکھ سے رضا کا نور جنم لیتا ہے؛

 اور یہی رضا، بندۂ خاکی کو اپنے رب کی چوکھٹ پر جھکنے کا قرینہ سکھاتی ہے

۔

2۔ رضا کی منازل🚶:

انسان اپنے وجود اور اپنی مرضی کو اللہ کی رضا میں فنا کر دے۔ جب بندہ اس مقام پر پہنچتا ہے، تو اس کی ہر آہ بیداری کا سبب بنتی ہے اور وہ محرومی کے احساس سے پاک ہو جاتا ہے۔

مگر ہوشیار باش!

 ہر کرب، قربت کا پیش خیمہ نہیں ہوتا،

 اور ہر سرد آہ، معرفت کی دلیل نہیں بنتی

۔ کرب کی معراج تب ہے

 جب وہ انسان کو اس کی سرکش انا کے حصار سے نکال کر، عجز کی خاک پر لا کھڑا کرے،

 توبہ کی سسکیاں عطا کرے اور صدقِ بندگی کا وہ سوز بخشے جس سے دل پگھل جائے

۔ تبھی تو درد،

 سلوک کی راہ میں

 معانی کا لباس پہنتا ہے۔

جیسا کہ خالقِ کائنات نے

 خود اس رازِ دروں سے

 پردہ اٹھایا:

3۔ سجدہ:

💟 قربت کا نقطہ عروج

وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ

’’سجدہ کرو اور قریب ہو جاؤ۔‘‘

(سورۃ العلق: ۱۹)

اور اسی ابدی حقیقت کو محبوبِ خدا ﷺ نے یوں بیان فرمایا:

أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّهِ وَهُوَ سَاجِدٌ

’’بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب سجدے کی حالت میں ہوتا ہے۔‘‘

(صحیح مسلم: ۴۸۲)

یہی تو وہ ماوراے عقل رازِ سلوک ہے! جب دل کا سوز اسے درِ الٰہی کا بھکاری بنا دے

، جب آنکھوں کی نمی، گریۂ نیاز کا سمندر بن جائے، اور جب روح کائنات کی ہر طلب کو ٹھکرا کر صرف اور صرف رضاے الٰہی کے عشق میں محو ہو جائے

—تو بندگی محض ایک بے جان رسم نہیں رہتی، بلکہ ایک دھڑکتی ہوئی زندہ نسبت بن جاتی ہے۔

4۔🔲 زندہ نسبت

جب بندگی محض ظاہری ارکان اور رسم تک محدود نہیں رہتی،

 بلکہ دل کی حاضری

 اور روح کے سپرد ہو

 جانے کا نام بن جاتی ہے،

 تو انسان کو قربِ خاص

 حاصل ہوتا ہے۔

 یہ مقام دعووں سے نہیں، بلکہ پوشیدہ اخلاص، تقویٰ اور گمنامی سے ملتا ہے

قربِ خاص کسی زبانی دعوے یا ظائری پارسائی کا نام نہیں؛

 یہ تو اخلاصِ بے ریا،

تقویٰ کی خوشبو،

صبر کی خاموشی

 اور بندگی کی اس

مخفی کیفیت کا نام ہے

جس کے مرتبے سے صرف

 اللہ کی ذات ہی واقف ہے۔

اگر باطن کا کرب آپ کو رب کی طرف لوٹنا سکھا دے

، تو یاد رکھیے یہ کوئی

 محرومی یا سزا نہیں،

 بلکہ روح کی بیداری

کا جشن ہے؛

 اور سجدہ اگر دل کی گہرائیوں کو جھکا دے، تو وہ محض زمین پر پیشانی کا رکھنا نہیں،

 بلکہ قطرے کا سمندر میں مل جانا اور روح کا اپنے خالق کے حضور ابدی سپرد ہو جانا ہے۔ 🤍

حکایتِ صوفیہ: کرب سے قرب کی ایک زندہ مثال

اولیاء اللہ کے دل بندوں کو اللہ سے جوڑنے کے لیے کس قدر تڑپتے ہیں، اس کا اندازہ اس ایمان افروز واقعے سے لگایا جا سکتا ہے:

حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ مستجاب الدعوات اور صاحبِ کرامت ولی اللہ تھے۔ ایک مرتبہ آپ رحمتہ اللہ علیہ ایک مسجد میں تشریف فرما تھے، اچانک ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: "یا شیخ! آپ کا وعظ صرف شہر میں ہی اثر دکھاتا ہے یا جنگل میں بھی اس کا کچھ اثر ہوتا ہے؟” حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ نے اس سے دریافت فرمایا کہ بات کیا ہے؟ اس شخص نے کہا: "فلاں مقام پر جنگل کے اندر چند لوگ بیٹھے شراب نوشی میں مشغول ہیں۔”

آپ رحمتہ اللہ علیہ یہ سن کر اٹھے اور چہرہ کپڑے سے ڈھانپ کر جنگل کی طرف تشریف لے گئے۔ جب ان لوگوں کے نزدیک پہنچے تو وہ لوگ (خوف اور شرمندگی سے) اٹھ کر بھاگنے لگے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے ان کو آواز دی اور فرمایا: "ٹھہرو! بھاگو نہیں، میں بھی تمہاری ہی طرح ہوں، میرے لیے بھی شراب لاؤ۔ شہر میں تو ہم پی نہیں سکتے، چھپتے چھپاتے یہاں پر آئے ہیں۔”

آپ کا یہ فرمانا تھا کہ ان لوگوں کے اٹھے ہوئے قدم رک گئے اور وہ افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہنے لگے کہ ہمیں بہت افسوس ہے، اب تو شراب ہمارے پاس ختم ہو گئی ہے، اگر آپ فرمائیں تو شہر سے ابھی منگوا لیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا: "تم لوگوں کو کوئی ایسی بات نہیں آتی جس سے شراب خود بخود آجایا کرے؟” وہ کہنے لگے: "جناب! یہ کمال ہم میں تو نہیں ہے۔” آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا: "اچھا تو پھر آؤ میں تم کو ایسی بات سکھا دوں جس سے شراب خود بخود آجائے اور پھر تم اس شراب کا مزہ دیکھو۔” آپ رحمتہ اللہ علیہ کی یہ بات سن کر وہ لوگ بہت حیران ہوئے اور حیرت کے عالم میں گفتگو کرتے ہوئے کہنے لگے کہ ایسا کمال تو آپ ہمیں ضرور بتائیں۔

حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا: "تو پھر یوں کرو، سب سے پہلے غسل کرو، پھر صاف کپڑے پہن کر میرے پاس آؤ۔” چنانچہ ان سب نے خوب اچھی طرح غسل کیا، اپنے کپڑے دھو کر پاک کیے اور صاف ستھری حالت میں آپ رحمتہ اللہ علیہ کے پاس حاضر ہوئے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے ان سے فرمایا: "تم سب دو رکعت نفل نماز ادا کرو۔” وہ سب لوگ نماز کی ادائیگی کے لیے کھڑے ہو گئے۔

جب وہ سب نماز میں مشغول تھے، تو آپ بارگاہِ الٰہی میں بدستِ دعا ہوئے: "اے اللہ! تو بڑا غفور الرحیم ہے۔ میرا تو اتنا ہی کام تھا کہ میں نے ان کو تیری بارگاہ میں لا کر کھڑا کر دیا، اب تجھے اختیار ہے، تو ان کو گمراہ رکھ یا ہدایت نصیب فرما۔” آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے دستِ مبارک دعا کے لیے دراز فرمائے ہی تھے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا کو شرفِ قبولیت بخشا۔ وہ لوگ جو چند لمحے پہلے گناہ کے کرب میں مبتلا تھے، آپ کی دعا کی برکت سے اسی وقت سجدۂ نیاز میں گر کر راہِ راست پر آ گئے، سچی توبہ کی اور صراطِ مستقیم پر گامزن ہو گئے۔

(حوالہ کتاب: قصص الاولیاء)

🌴صوفی جب تک خدا سے دور اس دنیا میں رہتا ہے، وہ ایک مستقل کرب اور بے چینی کا شکار رہتا ہے۔

صوفی کا یہی کرب اور سچی تڑپ اسے خدا کے قریب لے جاتی ہے۔

جب بندہ دنیا کے اندھیروں کو پیچھے چھوڑ کر سچے دل سے جھک جاتا ہے، تو قربِ الٰہی کے نورانی دروازے اس کے لیے کھول دیے جاتے ہیں۔ یہ کربِ ہجر سے وصلِ یار تک کا ایک حسین سفر ہے۔

درد ہی وہ جگہ ہے جہاں سے روشنی انسان کے اندر داخل ہوتی ۔

@ shagufta