ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل)روحانی سفر کی ترقی کا دارومدار اپنی ذات کی اصلاح یعنی تزکیہ نفس پر ہے. یہی وہ دشوار مرحلہ ہے جہاں اکثر اہل شوق حضرات ڈگمگا جاتے ہیں. نفس کو قربان کرنا آسان نہیں ہوتا، اپنی خواہشات کو مارنا اور رضا میں داخل ہونا بڑا دشوار مرحلہ ہوتا ہے. بہت سارے لوگ طریقت و سلوک کی راہ سے جڑتے ہیں پر تزکیہ کے سفر میں یا تو ابتداء میں ہی چھوڑ دیتے ہیں یا پھر اتنے کمزور قدم سے چلتے ہیں کہ سفر نہ ہونے کے برابر ہوجاتا ہے.
تزکیہ نفس کے حوالے سے بزرگانِ طریقت نے کئی ایک طریقے بتائے ہوئے ہیں، مختلف سلاسل میں مختلف طریقہ موجود ہے. یہ چیز دیکھنے میں آئی ہے کہ ہر ایک طریقہ ہر ایک کے لیے نہیں ہوتا. ہر مسافر کا مرض جدا ہوتا ہے اور ہر مرض کا علاج بھی جدا ہوتا ہے. اس لیے ایک ہی شیخ اپنے شاگردوں کو مختلف طریقوں سے گزارتا ہے. دوا درد کے موافق ہوتی ہے.
تزکیہ نفس یا ذات کی اصلاح کا انحصار مسافر پر ہے. اس کے ذوق و شوق کے ساتھ ساتھ سفر چلتا ہے اسی لیے فرمایا گیا ہے شوق اس راہ کی سواری ہے. جب تک مسافر کے اندر خود شوق پیدا نہیں ہوگا وہ تزکیہ کے عمل سے نہیں گزر سکتا چاہے کتنے ہی کامل یا بڑے فیض سے منسلک ہو. یہ مرحلہ اس نے خود ہی طے کرنا ہوتا ہے. گُر سکھا دیا جاتا ہے پر عمل اپنا اپنا ہے.
شوق کا انحصار اندر کی طلب و تڑپ پر ہے، جس قدر اندر آگ لگی ہوگی اتنا ہی بندہ پانی مانگے گا. جتنا مانگے گا اتنا سیر کیا جائے گا. یہاں اہم نکتہ شوق کی ابتداء یا شدت کیسے حاصل ہو. اس کے لیے دعا اہم ہے. اللہ سے محبت مانگی جائے، طلب مانگی جائے، اس کی راہ میں مرنے کا شوق مانگا جائے، پھر کچھ ایسے لوگوں کے ساتھ رہنا، یعنی ان کی صحبت اختیار کرنا جن کو یہ شوق کی دولت حاصل ہو، وہ بھی رنگ چڑھا دیتی ہے. صحبت کا مضمون وسیع ہے. اس پر مزید کبھی کچھ عرض کروں گا.
تو جو اس راہ سے جڑتا ہے یا تھقڑا بہت بھی وابستہ ہوا ہے اس کے اندر اتنی طلب تو ہوتی ہے کہ وہ مانگ سکے. پھر جس قدر اس کے اندر تڑپ پیدا ہوگی اتنا ہی وہ اصلاح کی راہ پر گامزن ہو سکے گا.
اصلاح کا راستہ دو دھاری تلوار جیسا ہوتا ہے. ہر ہر قدم پر کٹتا جاتا ہے. ایک ایک خواہش، ایک ایک آرزو چھوڑنا پڑتی ہے. کسی ایک آرزو کی طلب میں خود کو گم کرنا ہوتا ہے. ایک مدعا کے لیے باقی سب مدعا کو قربان کرنا ہوتا ہے. تب جا کر قرب کی لذتیں نصیب ہوتی ہیں.
آپ ایسا کریں ایک مقصد بنائیں، جو مسافران طریقت ہیں وہ اللہ کی رضا کو اپنا مقصود بنا لیں. اس طلب و خواہش کو ترجیح دیں. اتنی ترجیح دیں کہ آپ باقی ترجیحات کو اس ایک ترجیح پر قربان کر سکیں. جب آپ کے اندر ایک مقصد کی طلب اس قدر بڑھ جائے گی پھر آپ کے لیے کچھ بھی کرنا یا چھوڑنا مشکل یا تکلیف دہ نہیں ہوگا.
آپ کو اگر معلوم ہو جائے کہ یہ دس قدم کانٹوں پر چلنا ہے، اور دس قدم کی سختی کے بعد محبوب موجود ہے، جس سے آپ مل سکو گے. تو آپ وہ دس قدم پرواہ نہ کرتے ہوئے آگے بڑھتے چلے جاؤ گے.
اسی طرح سے یہ تزکیہ یا ذات کا سفر بہت آسان ہو جاتا ہے. پھر اس میں لطف آنا شروع ہوجاتا ہے. بندہ خوشی خوشی محبوب کی رضا کے لیےتختہء دار پر چڑھ جاتا ہے. بلکہ وہ سولی کو بھی چومتا ہے کہ اس کی بدولت محبوب کی رضا حاصل ہو جائے گی.
اللہ ہم سب کے لیے آسانی پیدا فرمائے. آمین
کسی سوال و الجھن کے حوالے سے بلا ججھک رابطہ کر سکتے ہیں.