اگر زمین ریت کا ایک ذرہ ہوتی تو کائنات کیسی دکھائی دیتی؟
تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی )دوستو! کبھی آپ نے سوچا ہے کہ ہماری زمین کتنی بڑی ہے؟ اس پر بلند و بالا پہاڑ، وسیع سمندر، صحرا، گھنے جنگلات اور اربوں انسان آباد ہیں۔ ہمیں اپنی دنیا اتنی وسیع اور لامحدود محسوس ہوتی ہے کہ اس سے آگے کسی بڑی جگہ کا تصور کرنا بھی مشکل لگتا ہے۔
لیکن جب ہم جدید فلکیات کی آنکھ سے کائنات کی وسعت کا مطالعہ کرتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہماری یہ عظیم الشان زمین درحقیقت کائنات کے موازنے میں کتنی حقیر اور چھوٹی ہے۔ آئیے! آج ایک انتہائی دلچسپ سائنسی اور ذہنی تجربہ کرتے ہیں۔ فرض کریں کہ ہماری پوری زمین سکڑ کر ریت کے صرف ایک ذرے جتنی رہ جائے، جس کا قطر محض 1 ملی میٹر ہو۔ اب اسی تناسب سے سورج، سیاروں، ستاروں اور کہکشاؤں کے فاصلے کا حساب لگاتے ہیں۔ یہ کوئی حقیقی تبدیلی نہیں بلکہ کائنات کی وسعت کو انسانی عقل کے دائرے میں لانے کا ایک فرضی پیمانہ ہے۔
اگر زمین صرف 1 ملی میٹر کی ہوتی!
ہماری زمین کا حقیقی قطر تقریباً 12,756 کلومیٹر ہے، جبکہ سورج کا قطر تقریباً 13 لاکھ 91 ہزار کلومیٹر ہے۔
اگر زمین کو 1 ملی میٹر کا ریت کا ذرہ تصور کریں، تو اسی پیمانے پر سورج کا قطر تقریباً 11 سینٹی میٹر ہوگا، یعنی ایک چھوٹی گیند کے برابر۔ لیکن اصل حیرت ان کے درمیانی فاصلے میں ہے! زمین اور سورج کے درمیان حقیقی اوسط فاصلہ تقریباً 15 کروڑ کلومیٹر ہے۔ اس فرضی پیمانے پر سورج زمین کے ریت کے ذرے سے تقریباً 11.7 میٹر دور ہوگا۔
ذرا تصور کیجیے! ایک طرف آپ کی انگلی پر صرف 1 ملی میٹر کا ریت کا ذرہ ہے اور تقریباً 12 میٹر دور ایک 11 سینٹی میٹر کی گیند رکھی ہوئی ہے۔ یہی ہماری زمین اور سورج کے حقیقی سائز اور فاصلے کا ایک چھوٹا سا نمونہ ہوگا۔
مریخ اور پلوٹو کہاں ہوں گے؟
اب نظامِ شمسی کے دوسرے سیاروں کی طرف چلتے ہیں۔ مریخ کا قطر تقریباً 6,792 کلومیٹر ہے۔ اس پیمانے پر وہ بھی تقریباً آدھے ملی میٹر کا ایک چھوٹا سا ذرہ ہوگا۔ مریخ سورج سے زمین کے مقابلے میں اوسطاً 1.52 گنا زیادہ فاصلے پر گردش کرتا ہے۔ اس لیے اس کا اوسط مداری فاصلہ ہمارے ماڈل میں تقریباً 17.8 میٹر ہوگا۔
اب پلوٹو (Pluto) کو دیکھیے، جسے اب سیارہ نہیں بلکہ بونا سیارہ (Dwarf Planet) قرار دیا جاتا ہے۔ یہ سورج سے اوسطاً تقریباً 40 فلکیاتی اکائیوں (AU) کے فاصلے پر گردش کرتا ہے۔ ہمارے فرضی پیمانے پر یہ فاصلہ تقریباً 470 میٹر ہوگا۔ یہاں یاد رہے کہ پلوٹو نظامِ شمسی کا آخری کنارہ نہیں؛ اس سے آگے بھی دور دراز اجرام اور دمدار ستاروں کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔
اصل حیرت: اگلا ستارہ ہزاروں کلومیٹر دور!
اب ذرا نظامِ شمسی سے باہر نکلتے ہیں۔ ہمارے سورج کے بعد زمین کے قریب ترین ستارہ ‘پروکسیما سینٹوری’ (Proxima Centauri) ہے، جو تقریباً 4.25 نوری سال دور واقع ہے۔ ایک نوری سال وہ فاصلہ ہے جو روشنی ایک سال میں طے کرتی ہے، یعنی تقریباً 9.46 ٹریلین کلومیٹر۔
اب اسی ریت کے ذرے والے پیمانے پر حساب لگائیے تو پروکسیما سینٹوری تقریباً 3,150 کلومیٹر دور ہوگا! یعنی آپ کی انگلی پر زمین کا ایک ملی میٹر کا ذرہ موجود ہے، اس کے قریب 12 میٹر پر سورج کی گیند رکھی ہے، لیکن اگلا ستارہ وہاں سے ہزاروں کلومیٹر دور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ستاروں کے درمیان موجود فاصلوں کو سمجھنے کے لیے ماہرینِ فلکیات کلومیٹر کے بجائے نوری سال جیسی بڑی اکائی استعمال کرتے ہیں۔
ہماری پوری کہکشاں کتنی بڑی ہوگی؟
اب ہم اپنی کہکشاں ‘ملکی وے’ (Milky Way) کی طرف آتے ہیں۔ ناسا کے مطابق ہماری کہکشاں کا قطر تقریباً ایک لاکھ نوری سال ہے اور اس میں اندازاً 100 سے 400 ارب ستارے موجود ہیں۔
اگر زمین 1 ملی میٹر کا ذرہ ہو تو اسی پیمانے پر ہماری پوری کہکشاں کا قطر حیرت انگیز طور پر تقریباً 7 کروڑ 42 لاکھ کلومیٹر بن جائے گا! سوچیے کہ جس کہکشاں میں ہمارا سورج ایک معمولی سا ستارہ ہے، اس کی اپنی وسعت ہی کروڑوں کلومیٹر کے برابر ہوگی، جبکہ ہماری زمین اس میں ایک معمولی سے ذرے کی حیثیت رکھتی ہے۔
پھر پوری قابلِ مشاہدہ کائنات کتنی بڑی ہوگی؟
اب آتے ہیں سب سے ہوش ربا حصے کی طرف۔ موجودہ سائنسی اندازوں کے مطابق قابلِ مشاہدہ کائنات (Observable Universe) کا قطر تقریباً 92 ارب نوری سال ہے۔ ناسا کے حالیہ مضامین میں بھی یہی تخمینہ بیان کیا گیا ہے۔ اس میں یہ وضاحت بھی موجود ہے کہ چونکہ کائنات مسلسل پھیل رہی ہے، اس لیے انتہائی دور کہکشاؤں سے آنے والی روشنی کا سفر اور ان کا موجودہ فاصلہ ایک ہی چیز نہیں۔
اگر ہم اسی 1 ملی میٹر والے پیمانے کو پوری قابلِ مشاہدہ کائنات پر لاگو کریں تو اس کا قطر تقریباً 68 ٹریلین کلومیٹر بنے گا! جہاں ہماری زمین ایک ملی میٹر کا ذرہ ہے، وہاں پوری قابلِ مشاہدہ کائنات کا فرضی قطر 68 ٹریلین کلومیٹر تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ وہ اعداد ہیں جنہیں عام انسانی ذہن کے لیے براہِ راست تصور کرنا بھی انتہائی مشکل ہے۔ کائنات میں سینکڑوں ارب سے لے کر تقریباً 2 ٹریلین تک کہکشائیں موجود ہو سکتی ہیں۔
کارل ساگان کی ایک مشہور بات
معروف امریکی ماہرِ فلکیات کارل ساگان (Carl Sagan) نے اپنی مشہور سیریز Cosmos میں کائنات کی وسعت سمجھانے کے لیے ایک انتہائی خوبصورت تشبیہ پیش کی تھی۔ ان کے مطابق: "کائنات میں ستاروں کی کل تعداد، زمین کے تمام ساحلوں پر موجود ریت کے کل ذرات سے بھی زیادہ ہے۔” اس تشبیہ کا مقصد کسی باقاعدہ گنتی کا دعویٰ کرنا نہیں، بلکہ انسانی ذہن کو کائنات کی غیر معمولی وسعت کا گہرا احساس دلانا ہے۔
قرآنی تدبر:
اللہ تبارک و تعالی سورۃ الملک کی آیت 3 میں کائنات کی تخلیق پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:
ترجمہ: ”جس نے سات آسمان اوپر تلے پیدا کیے۔ تم رحمٰن کی تخلیق میں کوئی بے ربطی نہیں پاؤ گے۔ پھر نگاہ دوڑا کر دیکھو، کیا تمہیں کوئی شگاف (نقص) نظر آتا ہے؟“
ہم یہ وضاحت ضروری سمجھتے ہیں کہ ہم اس آیت کو جیمز ویب ٹیلی اسکوپ، فلکیاتی فاصلوں یا ریت کے ذرے والے سائنسی ماڈل کی مخصوص پیش گوئی قرار نہیں دیتے۔ قرآن مجید ہدایت اور تدبر کی کتاب ہے۔
یہ آیت ہمیں اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں غور و فکر اور اس کے بے عیب نظام کی عظمت کو دیکھنے کی دعوت دیتی ہے۔ سائنس ہمیں اللہ تعالیٰ کی تخلیق کو زیادہ گہرائی سے سمجھنے اور اس کی وسعت کا اندازہ لگانے میں مدد دیتی ہے۔ جب ہم اپنی زمین کو ایک ریت کے ذرے کے برابر تصور کرتے ہیں، تو ہمارے سامنے کائنات کی ایسی وسعت آتی ہے جس کا عام انسانی مشاہدے سے اندازہ لگانا ممکن نہیں تھا۔ ذرا سوچیے! اس عظیم کائنات کا خالق کتنا عظیم ہوگا جس کی تخلیق کو سمجھنے کے لیے انسانی علم اور جدید ترین دوربینیں بھی آج تک مسلسل کوشش کر رہی ہیں۔ ہماری زمین مادی اعتبار سے ایک معمولی سا ذرہ ضرور ہے، لیکن اس پر رہنے والے انسان کو جو عقل، شعور اور غور و فکر کی صلاحیت عطا کی گئی ہے، وہ اسے پوری کائنات میں ممتاز بناتی ہے۔
مستند حوالہ جات:
۱۔ ناسا (NASA)، Facts About Earth، زمین کا قطر اور سورج سے فاصلہ۔
۲۔ ناسا / جے پی ایل (NASA/JPL)، Solar System Sizes and Distances۔
۳۔ ناسا (NASA)، How Big Is Space?، اشاعت 21 مئی 2025۔
۴۔ سائنسی جریدہ نیچر (Nature)، Universe Much Richer in Galaxies، 2016۔
۵۔ کارل ساگان (Carl Sagan)، Cosmos, Episode 8: Journeys in Space and Time، 1980۔
۶۔ ناسا (NASA)، James Webb Space Telescope: Early Universe۔
۷۔ القرآن الکریم، سورۃ الملک، آیت 3؛ تفسیر ابن کثیر۔