ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ شیطان کا سب سے بڑا فریب ۔۔۔ تحریر ۔ ۔سید اسلم شاہ)شیطان کا سب سے بڑا فریب یہ تھا کہ اس نے دنیا کو یقین دلا دیا کہ وہ ہے ہی نہیں۔”*
یہ جملہ ہالی ووڈ کی 1995 کی مشہور فلم The Usual Suspects کے کردار “کَیزر سوزے” کا نچوڑ ہے — مگر درحقیقت یہ انسانی نفسیات کا ایک گہرا سچ بھی ہے۔
چوری یا فراڈ پر بنی دنیا کی مشہور فلمیں اور سیریز دیکھ لیجیے — چاہے Inside Man ہو یا Money Heist — ان سب میں ایک چیز مشترک نظر آتی ہے:
*جھوٹ کو اتنے یقین اور تکرار سے بولو کہ سننے والا ہی نہیں، خود بولنے والا بھی اس پر یقین کرنے لگے۔*
تب وہی جھوٹ “سچ” بن جاتا ہے۔
یہی کھیل ہمارے اندر بھی جاری ہے۔
شیطان ہماری رگوں میں نہیں، خیالات میں سرگوشی کرتا ہے۔
وہ ہمیں بار بار ایک ہی بات مختلف انداز میں سناتا ہے — وہ جھوٹ جو ہمارے یقین کو کھا جائے، جو ہمیں اپنے آپ پر شک میں مبتلا کر دے۔
لیکن یاد رکھو — یقین ہمیشہ اُمید کی بنیاد پر کھڑا ہوتا ہے۔
اور اللہ نے انسان کی امید کو بہت طاقتور بنایا ہے۔
یہ وہ قوت ہے جو گرنے کے بعد بھی اٹھنا سکھاتی ہے، جو اندھیروں میں بھی روشنی ڈھونڈ لیتی ہے۔
اسی لیے شیطان کا اگلا وار اُمید پر ہوتا ہے۔
وہ ہمیں یقین دلاتا ہے کہ “اب کی بار بھی کچھ نہیں بدلے گا، سب بےکار ہے” —
اور جب ہم یہ مان لیتے ہیں، تو وہ جیت جاتا ہے۔
جب کوئی فرد یا پورا معاشرہ اس جھوٹ کو “حقیقت” مان لے،
تب شیطان اپنی سب سے بڑی کامیابی کا جشن مناتا ہے۔
وہ ایسا لمحہ ہوتا ہے جب انسان اپنی اور دوسروں کی قدر کھو دیتا ہے،
جب ہم ایک دوسرے سے ڈرنے لگتے ہیں،
اور یوں شیطان ہم پر قابض ہو کر انسانیت کا جنازہ نکال دیتا ہے۔