اگر سورج کی آواز زمین تک پہنچتی تو کیا ہوتا؟۔۔۔تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی

اگر سورج کی آواز زمین تک پہنچتی تو کیا ہوتا؟

تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی )دوستو! ہم روزانہ سورج کو طلوع ہوتے دیکھتے ہیں۔ وہ ہمیں روشنی دیتا ہے، حرارت فراہم کرتا ہے اور زمین پر زندگی کے لیے توانائی کا سب سے بنیادی اور واحد بڑا ذریعہ ہے۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ اتنے بڑے آگ کے گولے کی بھی کوئی آواز ہوتی ہوگی؟ اگر ہاں، تو پھر ہم اسے کیوں نہیں سنتے؟ اور اگر فرض کریں کہ اس کی آواز خلا کے ذریعے زمین تک پہنچ سکتی تو کیا ہماری دنیا ہمیشہ ایک خوفناک شور میں ڈوبی رہتی؟

اس دلچسپ سوال کا جواب ہمیں سورج کے پیچیدہ اندرونی نظام، صوتی لہروں (Sound waves) اور خلا کی ایک بنیادی سائنسی حقیقت سے روشناس کراتا ہے۔

کیا سورج واقعی آواز پیدا کرتا ہے؟

جی ہاں! سورج کے اندر صوتی ارتعاشات (Acoustic Oscillations) حقیقتاً موجود ہیں۔ اگرچہ ہم اسے زمین سے خاموش اور پُرسکون دیکھتے ہیں، لیکن اس کے اندر مسلسل زبردست حرکت، دباؤ میں شدید تبدیلی اور انتہائی گرم پلازما کی گردش جاری رہتی ہے۔

سورج کے مرکز میں ایٹمی بھٹی یعنی نیوکلیئر فیوژن (Nuclear Fusion) کا عمل ہوتا ہے، جس میں ہائیڈروجن کے ایٹم مل کر ہیلیم بناتے ہیں۔ اندازاً ہر سیکنڈ تقریباً 60 کروڑ ٹن ہائیڈروجن اس عمل میں حصہ لیتی ہے، جس میں سے تقریباً 40 لاکھ ٹن خالص کمیت (Mass) براہِ راست توانائی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

تاہم یہاں ایک اہم سائنسی وضاحت ضروری ہے: سورج کی صوتی لہریں براہِ راست ان نیوکلیئر فیوژن کے دھماکوں سے پیدا نہیں ہوتیں۔ ان کا ایک اہم ذریعہ سورج کی بیرونی تہوں میں گرم پلازما کی ہنگامہ خیز حرکت اور حرارتی ترسیل (Convection) ہے۔ اس ابلتی ہوئی حرکت سے دباؤ میں زبردست تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں، جو صوتی لہروں کو جنم دیتی ہیں۔ یہ لہریں سورج کے اندر مختلف سمتوں میں سفر کرتی اور اس کی سطح سے ٹکرا کر منعکس ہوتی رہتی ہیں۔ ان لہروں کے سائنسی مطالعے کو ‘ہیلیو سیسمولوجی’ (Helioseismology) کہا جاتا ہے۔

جس طرح ماہرینِ ارضیات زمین پر زلزلوں کی لہروں کی مدد سے زمین کے اندرونی حصوں کا نقشہ بناتے ہیں، بالکل اسی طرح ماہرینِ فلکیات سورج کی ان صوتی ارتعاشات کا مطالعہ کر کے اس کے اندرونی درجہ حرارت، کثافت اور ساخت کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہیں۔

ناسا نے سورج کی آواز کیسے سنائی؟

یہاں ایک انتہائی دلچسپ اور جدید سائنسی حقیقت سامنے آتی ہے۔ ناسا اور اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے ‘سوہو’ (SOHO) نامی خلائی مشن کے ذریعے سورج کی سطح پر ہونے والی انتہائی معمولی حرکات اور ارتعاشات کا ڈیٹا جمع کیا۔

اس ڈیٹا میں سورج کی تقریباً 3 ملی ہرٹز (0.003 Hz) کی صوتی لہروں کا انتخاب کیا گیا۔ یہ تعدد (Frequency) انسانی کان کی سماعت کی حد سے بہت زیادہ نیچے ہے۔ سائنس دانوں نے ان لہروں کو انسانی سماعت کے قابل بنانے کے لیے سپر کمپیوٹرز کی مدد سے ان کی رفتار تقریباً 42,000 گنا بڑھا دی۔ اس عمل کو سونیفیکیشن (Sonification) کہا جاتا ہے، یعنی سائنسی اعداد و شمار کو آواز کی صورت میں تبدیل کرنا۔ لہٰذا ناسا کی پیش کردہ سورج کی وہ پراسرار آواز جو ہم انٹرنیٹ پر سنتے ہیں، کسی مائیکروفون سے خلا میں ریکارڈ کی گئی حقیقی آواز نہیں ہے، بلکہ سورج کے قدرتی ارتعاشات کے ڈیٹا کی سائنسی صوتی تشکیل ہے۔

پھر ہم سورج کی آواز کیوں نہیں سنتے؟

اس کی وجہ طبیعیات کا ایک بہت ہی بنیادی اصول ہے۔ آواز دراصل ایک میکانی لہر (Mechanical Wave) ہے۔ اسے سفر کرنے کے لیے کسی مادی واسطے (Medium) کی ضرورت ہوتی ہے، مثلاً ہوا، پانی یا دھات۔

جب ہم بولتے ہیں تو ہماری آواز ہوا کے ذرات میں دباؤ کی تبدیلیاں پیدا کرتی ہے۔ یہ ذرات ایک دوسرے سے ٹکرا کر حرکت منتقل کرتے ہیں اور بالآخر آواز ہمارے کانوں تک پہنچتی ہے۔ لیکن زمین اور سورج کے درمیان کروڑوں کلومیٹر تک تقریباً مکمل خلا (Vacuum) ہے، جہاں عام صوتی لہروں کو منتقل کرنے کے لیے مطلوبہ کثافت کا کوئی واسطہ سرے سے موجود ہی نہیں۔

یہاں ایک اور سائنسی باریکی بھی ہے: خلا مکمل طور پر خالی نہیں ہے۔ اس میں انتہائی کم کثافت والے ذرات، شمسی ہوا اور پلازما موجود ہوتے ہیں۔ ان میں بعض اقسام کی پلازما لہریں سفر کر سکتی ہیں، جنہیں حساس خلائی آلات محسوس بھی کرتے ہیں۔ مگر یہ عام ہوا میں سفر کرنے والی آواز کی طرح نہیں ہوتیں جنہیں انسانی کان براہِ راست سن سکیں۔

اگر آواز سفر کر سکتی تو زمین تک پہنچنے میں کتنا وقت لگتا؟

اب ذرا ایک بہت ہی دلچسپ ذہنی اور حسابی تجربہ کرتے ہیں۔ زمین اور سورج کے درمیان اوسط فاصلہ تقریباً 14 کروڑ 96 لاکھ کلومیٹر ہے۔ سورج کی روشنی کو خلا میں یہ فاصلہ طے کر کے ہماری آنکھوں تک پہنچنے میں تقریباً 8 منٹ اور 20 سیکنڈ لگتے ہیں۔

لیکن آواز کی رفتار روشنی کے مقابلے میں انتہائی سست ہوتی ہے۔ زمین پر تقریباً 20 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت میں آواز کی رفتار تقریباً 343 میٹر فی سیکنڈ ہوتی ہے۔ اب فرض کریں کہ سورج اور زمین کے درمیان پورا خلا ختم ہو جائے، اور یہ راستہ بالکل ہماری زمین جیسی ہوا سے بھر جائے، اور آواز اسی رفتار سے سفر کرے۔

اب حساب لگائیے:

فاصلہ: 149,600,000 کلومیٹر

آواز کی رفتار: 0.343 کلومیٹر فی سیکنڈ

اس حساب سے سورج پر پیدا ہونے والی آواز کو زمین تک پہنچنے میں تقریباً 13.8 سال (یعنی تقریباً 14 سال) لگیں گے! یعنی اگر سورج میں پیدا ہونے والی کوئی صوتی لہر آج اس فرضی فضائی راستے پر سفر شروع کرے، تو وہ 14 سال بعد زمین تک پہنچے گی۔ (یاد رہے کہ یہ صرف ایک فرضی سائنسی حساب ہے، حقیقت میں خلا میں اس طرح آواز سفر نہیں کرتی)۔

کیا سورج کی آواز 100 ڈیسیبل تک ہو سکتی ہے؟

اس موضوع پر ایک مشہور سائنسی نظریاتی تخمینہ بھی موجود ہے۔ ماہرِ شمسیات کریگ ڈی فوریسٹ (Craig DeForest) نے ایک فرضی صورتِ حال کا حساب پیش کیا تھا جس کے مطابق اگر سورج کی بے پناہ صوتی توانائی خلا کے بجائے کسی مسلسل مادی واسطے (ہوا) کے ذریعے زمین تک پہنچتی، تو یہاں زمین پر اس کی شدت تقریباً 100 ڈیسیبل کے آس پاس ہو سکتی تھی۔

100 ڈیسیبل کی آواز کا مطلب ہے کہ زمین پر ہر وقت ایک ایسے ہیوی موٹر سائیکل یا راک کنسرٹ جتنا شور رہتا جس سے بچنا ممکن نہ ہوتا۔ لیکن اسے محض ایک نظریاتی تخمینہ ہی سمجھنا چاہیے، براہِ راست پیمائش نہیں۔ مزید یہ کہ سورج کی جن اہم ارتعاشی لہروں کا ناسا نے مطالعہ کیا، ان کی تعدد (Frequency) انسانی سماعت کی حد سے بہت کم ہے۔ اس لیے 100 ڈیسیبل کا عدد سن کر یہ سمجھنا درست نہیں کہ انسان اسے لازماً اسی شور کی طرح محسوس کرے گا۔ آواز کی شدت کے ساتھ اس کی تعدد کا ہونا بھی ضروری ہے۔

کیا کائنات واقعی بالکل خاموش ہے؟

یہاں ایک اور دلچسپ بات سامنے آتی ہے۔ ہم اکثر سائنس فکشن فلموں میں دیکھتے ہیں کہ جب خلا میں کوئی خلائی جہاز پھٹتا ہے تو زوردار دھماکے کی آواز سنائی دیتی ہے، یا کسی سیارے پر کوئی بڑا واقعہ ہوتا ہے تو اس کی گرج خلا میں پھیل جاتی ہے۔

حقیقت میں خلا کے تقریباً خالی ماحول (Vacuum) میں عام آواز اس طرح بالکل سفر نہیں کر سکتی۔ البتہ سائنس دان خلائی جہازوں اور انٹینا کے ذریعے برقی اور مقناطیسی لہروں (Electromagnetic waves)، پلازما کی حرکت اور دوسرے سگنلز کو ریکارڈ کرتے ہیں۔ پھر وہ کمپیوٹرز کے ذریعے انہیں انسانی سماعت کے قابل بنا کر ‘آواز’ کی صورت میں پیش کرتے ہیں۔ اس لیے انٹرنیٹ پر موجود ہر ‘خلائی آواز’ کو حقیقی صوتی ریکارڈنگ سمجھنا قطعی درست نہیں۔

قرآنی تدبر: کائنات کے قوانین میں غور و فکر

اللہ تبارک و تعالی سورۃ آل عمران کی آیت 190 میں کائنات کے اس حیرت انگیز نظام پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:

إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ

ترجمہ: ”بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات اور دن کے بدلنے میں عقل والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔“

ہم یہ وضاحت ضروری سمجھتے ہیں کہ ہم اس آیت کو سورج کی صوتی لہروں یا خلائی آواز کی مخصوص سائنسی تحقیق کی پیش گوئی قرار نہیں دیتے۔ قرآنِ مجید فکری تدبر، ہدایت اور کائنات کے خالق کی پہچان کی کتاب ہے۔

یہ آیت ہمیں کائنات کے بے عیب نظام، اس کی تخلیق اور اس میں موجود نشانیوں پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ آج جدید سائنس کی بدولت ہم سورج کے اندرونی ارتعاشات تک کا مطالعہ کر سکتے ہیں، حالانکہ چند صدیاں پہلے انسان کے لیے یہ تصور بھی انتہائی مشکل تھا۔ سورج کی روشنی ہمیں صرف 8 منٹ میں مل جاتی ہے، لیکن اگر آواز کے لیے زمین جیسا مادی واسطہ فرض کر لیا جائے تو اسی فاصلے کو طے کرنے میں تقریباً 14 سال لگ سکتے ہیں۔ یہی فرق ہمیں بتاتا ہے کہ خالق کے بنائے ہوئے قدرت کے قوانین کو سمجھے بغیر کائنات کے مظاہر کا صحیح تصور ممکن نہیں۔

ہماری زمین پر موجود یہ خاموشی بھی اللہ کی ایک بہت بڑی نعمت اور ایک دلچسپ طبعی حقیقت ہے۔ ہم سورج کی روشنی اور حرارت سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں، مگر اس کے اندر پیدا ہونے والی خوفناک صوتی لہریں خلا کے ذریعے ہمارے کانوں تک نہیں پہنچتیں۔ کائنات کو ہم جتنا زیادہ سمجھتے ہیں، اتنے ہی نئے سوالات پیدا ہوتے ہیں، اور یہی سوالات انسان کو تحقیق، علم اور اپنے خالق کی عظمت پر گہرے تدبر کی طرف لے جاتے ہیں۔

مستند حوالہ جات:

۱۔ ناسا (NASA)، Sounds of the Sun، 2018، تازہ کاری 2023۔

۲۔ ناسا مارشل اسپیس فلائٹ سینٹر (NASA MSFC)، Surface Waves and Helioseismology۔

۳۔ اسٹینفورڈ یونیورسٹی (Stanford University)، Sonification of Solar Harmonics Project۔

۴۔ ناسا (NASA)، Chapter 1: The Solar System, Fusion and Solar Sound Waves۔

۵۔ کریگ ڈی فوریسٹ (Craig DeForest)، Theoretical Estimate of Solar Sound، ایسٹرونومی میگزین۔

۶۔ القرآن الکریم، سورۃ آل عمران، آیت 190؛ تفسیر ابن کثیر۔

#سورج #فلکیات #کائنات #سائنس_اور_قرآن #طارق_اقبال_سوہدروی