ایران نے یمن کے حوثی گروپ سے متعلق واضح کیا ہے کہ وہ حوثیوں کے حالیہ اقدامات میں براہِ راست فریق نہیں ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی کے بجائے معاملہ سیاسی رابطوں کے ذریعے حل کرنے کی بھی تجویز دی ہے۔
ایران کی جانب سے یہ تجویز گزشتہ روز نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی نیوز بریفنگ کے دوران سامنے آئی تھی۔
اسحاق ڈار نے سعودی عرب پر حوثیوں کی جانب سے بڑھتے ہوئے حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نیویارک میں جنرل اسمبلی اجلاس کے دوران اس معاملے پر ایران سے بھی تفصیلی بات چیت کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران نے حوثیوں اور عراقی ملیشیاؤں کی حالیہ کارروائیوں سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس بحران کا خاتمہ چاہتا ہے۔ اسحاق ڈار نے مزید بتایا کہ انہوں نے تہران کو ’معاہدہ مکہ‘ کی نوعیت سے آگاہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان اس دفاعی معاہدے کے تحت اپنی تمام تر ذمہ داریاں پوری کرے گا۔
اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے حوثیوں کے ساتھ سیاسی روابط استوار کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ ایران کی جانب سے تحریری یا حتمی پیشکش نہیں تھی بلکہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی غیر رسمی مشاورت کے دوران سامنے آنے والی ایک تجویز تھی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی جانب سے یہ تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں حوثیوں سے متعلق کشیدگی اور ان کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیوں پر بات چیت جاری ہے۔
رپورٹ کے مطابق عباس عراقچی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ حوثیوں پر حملوں کے بجائے سیاسی رابطوں اور سفارتی ذرائع کو استعمال کیا جانا چاہیے تاکہ کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جاسکے۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے مزید بتایا کہ مکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم اسٹریٹجک پولیٹیکل ڈیفنس کمیٹی (ایس پی ڈی سی) کا اجلاس آئندہ ہفتے ریاض میں ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ آئندہ ہفتے ہونے والا یہ اجلاس ہنگامی نوعیت کا ہے جس میں بالخصوص سعودی عرب کے حوالے سے موجودہ صورت حال اور زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے گا اور تینوں رکن ممالک اس حوالے سے اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کریں گے۔
![]()





