امریکی ریاست ٹینیسی کے محکمہ اصلاحات کے سربراہ فرینک اسٹراڈا نے ایک ناکام سزائے موت پر شدید تنقید کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ ریاستی حکام کے مطابق وہ رواں ماہ اپنا منصب چھوڑ دیں گے۔ یہ فیصلہ 50 سالہ قیدی کرسٹا پائیک کو مہلک انجیکشن کے ذریعے سزائے موت دینے کی کوشش ناکام ہونے کے چند روز بعد سامنے آیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق کرسٹا پائیک کو بدھ کے روز سزائے موت کے عمل درامد پر نیش وِل کی ریور بینڈ میکسی مم سکیورٹی انسٹی ٹیوشن میں مہلک انجیکشن دیا گیا، تاہم یہ عمل معمول کے مطابق مکمل نہ ہو سکا۔ کرسٹا پائیک شدید بیمار حالت میں بے ہوش ہو گئیں اور انہیں سانس لینے کے لیے ٹیوب اور وینٹی لیٹر سے منسلک کرنا پڑا۔
ان کے وکلا نے جمعہ کو عدالت میں جمع کرائی گئی ایک دستاویز میں بتایا کہ ڈاکٹرز کرسٹا پائیک کی جان بچانے اور ان کے جسم سے دی گئی دوا پینٹوباربیٹل خارج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ ٹینیسی میں رواں سال سزائے موت دینے کی دوسری ناکام کوشش ہے۔ مسلسل دوسری ناکامی کے بعد ریاست کے گورنر بل لی نے 2026 کے باقی عرصے کے لیے سزائے موت پر عمل درآمد کی تمام کوششیں روکنے کا حکم دے رکھا ہے۔ گورنر نے اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا بھی حکم دیا ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ سزائے موت دینے کے عمل میں کیا غلطی ہوئی۔
محکمہ اصلاحات کے کمشنر فرینک اسٹراڈا نے اپنے بیان میں کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ادارے کے اہلکاروں نے مقررہ طریقہ کار کے مطابق کام کیا، تاہم آزادانہ تحقیقات کے دوران ان کا عہدے سے الگ ہونا ٹینیسی کے عوام کے مفاد میں بہتر ہے۔ گورنر کے دفتر نے کہا ہے کہ اسٹراڈا کی جگہ عبوری کمشنر کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
گورنر بل لی نے اسٹراڈا کے استعفے پر کہا کہ کمشنر نے دیانت داری کے ساتھ خدمات انجام دیں اور وہ اس مشکل صورتِحال میں ریاست کے عوام کے مفادات کو ترجیح دینے کے فیصلے کو سراہتے ہیں۔
دوسری جانب کرسٹا پائیک کے وکلا نے محکمہ اصلاحات کے حکام پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے پائیک کے ڈاکٹروں کی پیشگی وارننگز کو نظر انداز کیا۔ وکلا کے مطابق ڈاکٹروں نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ پائیک کی رگیں بہت چھوٹی ہیں اور انہیں خون کی ایک بیماری، تھرومبوسائٹوسس، بھی لاحق ہے، جس کی وجہ سے جسم میں رگ کے ذریعے دوا پہنچانے کے لیے مطلوبہ لائن لگانا خاص طور پر مشکل ہو سکتا ہے۔
کرسٹا پائیک کو تقریباً تین دہائیاں قبل 1995 میں 19 سالہ کولین سلیمر کے قتل میں فرسٹ ڈگری قتل کی مجرم قرار دیا گیا تھا۔ اس وقت پائیک کی عمر 18 سال تھی۔ مقدمے کے مطابق وہ سلیمر پر تشدد اور اس کے قتل میں ملوث تھیں۔
حالیہ ناکام پھانسی نے ٹینیسی میں سزائے موت کے طریقہ کار، طبی انتظامات اور حکام کی جانب سے قیدی کی صحت سے متعلق پیشگی خدشات کو سنجیدگی سے لینے کے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ آزادانہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ پائیک کو سزائے موت دینے کی کوشش میں خرابی کہاں پیدا ہوئی اور اس کے ذمہ دار کون سے انتظامی یا طبی فیصلے تھے۔
![]()





