ٹیکنالوجی کی دنیا میں اسمارٹ چشموں کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، تاہم عوامی مقامات پر ان کے ذریعے خفیہ ویڈیو اور تصاویر بنانے کے خدشات نے پرائیویسی اور ہراسانی سے متعلق نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
اسمارٹ چشموں کے ذریعے صارفین ہاتھ استعمال کیے بغیر فون کالز، موسیقی اور مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی سے رابطے کے علاوہ تصاویر اور ویڈیوز بھی بنا سکتے ہیں۔
مارکیٹ میں میٹا اور رے بین کے اشتراک سے تیار کردہ اسمارٹ چشمے نمایاں ہیں، جن کے 70 لاکھ سے زائد جوڑے فروخت ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
برطانیہ میں تقریباً 800 پب چلانے والے ادارے نے اپنے مقامات کے اندر ان چشموں کے ذریعے فلم بندی پر پابندی عائد کردی ہے۔ ادارے کے مطابق اس ٹیکنالوجی کے ذریعے خفیہ نگرانی ممکن ہے، جو عام فہم اصولوں کے خلاف ہے۔ شمالی آئرلینڈ میں کامک کون کے منتظمین نے بھی خفیہ ریکارڈنگ کے خدشات کے باعث ان چشموں پر پابندی عائد کی ہے۔
خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے بھی اس ٹیکنالوجی کے ممکنہ غلط استعمال پر تشویش ظاہر کی ہے۔
ماہرین کے مطابق عام کیمرے یا موبائل فون سے ریکارڈنگ کے دوران متاثرہ شخص کو عموماً اندازہ ہوجاتا ہے، لیکن اے آئی کیمرہ سے لیس چشموں کے ذریعے کسی کو علم ہوئے بغیر ریکارڈنگ ممکن ہے۔ اپ اسکرٹنگ، ہراسانی اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے خدشات بھی ظاہر کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب مواد تخلیق کرنے والے افراد اس ٹیکنالوجی کو مثبت مقاصد کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ بیلفاسٹ کے 31 سالہ پرائس ویلی اپنے اسمارٹ چشموں سے سڑکوں پر لوگوں سے دوستانہ گفتگو کی ویڈیوز بناتے ہیں، جن میں سے ایک ویڈیو کو ٹک ٹاک پر 6 لاکھ مرتبہ دیکھا گیا۔
ماہرین کے مطابق اسمارٹ چشمے بصارت سے محروم افراد کے لیے بھی مفید ثابت ہوسکتے ہیں، تاہم ٹیکنالوجی کے تیز رفتار پھیلاؤ کے ساتھ پرائیویسی، رضامندی اور قانونی تحفظ کے واضح ضوابط کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔
![]()
