ترکیے کا ایک سو تیسرا یوم جمہوریہ،  سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد جدید ترکیے کی جانب پہلا قدم

ترکیے کا ایک سو تیسرا یوم جمہوریہ،  سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد جدید ترکیے کی جانب پہلا قدم

استنبول، ترکیے (ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔نمائندہ خصوصی ۔۔۔سید رضوان حیدر بخاری)ترکیے میں عوام نے قیامِ جمہوریہ کی ایک سو تیسری سالگرہ ملی جوش و جذبے سے منائی ۔ انتیس اکتوبر کا دن ترک قوم کی جدوجہدِ آزادی، قومی خودمختاری اور اتحاد کی علامت ہے۔ اس تاریخی موقع پر بانیٔ جمہوریہ، مصطفیٰ کمال اتاترک اور اُن کے رفقا کی قربانیوں کو یاد کیا جاتا ہے، جنہوں نے جدید ترکیے کی بنیاد رکھی۔

29 اکتوبر، 1923 کو ترکیے کی قومی اسمبلی نے جمہوریہ کے قیام کا اعلان کیا، جس کے ساتھ ہی ملکی تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ تحریکِ آزادی کی قیادت کرنے والے مصطفیٰ کمال اتاترک جمہوریہ کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔

سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد برسوں کی جنگ، جدوجہد اور قربانیوں کے بعد قائم ہونے والی اس جمہوریہ کی بنیاد اِس اصول پر رکھی گئی کہ اقتدارِ اعلیٰ قوم کا حق ہے۔

آج، ایک سو تین برس بعد بھی، یومِ جمہوریہ، جسے ترک زبان میں ’’جمہوریت بیرام‘‘ کہا جاتا ہے، قومی شناخت، یکجہتی اور فخر کا اہم مظہر ہے۔

ترکیے کا سرخ ہلالی پرچم جمہوریت،  خود مختاری اور وطن سے وابستگی کی علامت ہے، جبکہ یہ دن اُن تمام لوگوں کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع بھی ہے، جنہوں نے ملک کی آزادی کے لیے جدوجہد کی۔

نوجوان نسل کے لیے یہ موقع جشن کے ساتھ ایک ذمہ داری کا پیغام بھی رکھتا ہے، کہ جمہوریہ کی بنیادی اقدار کی حفاظت کرنا اور ملک کے مستقبل کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرنا۔

قیامِ جمہوریہ کی ایک سو تیسری سالگرہ پر ترک قوم اپنے ماضی کو یاد کرتے ہوئے، اتحاد اور روشن مستقبل کی امید کے ساتھ آگے بڑھنے کے عزم کی تجدید کرتی ہے۔