تنہائی
احساس
ناز پروین
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ تنہائی۔۔۔تحریر۔۔۔ ناز پروین )تنہائی ۔۔۔کبھی تو یہ بہت اچھی لگتی ہے ۔دل چاہتا ہے سب کچھ چھوڑ کر ایک کمرے میں بند ہو جائیں نہ کسی کی سنیں نہ کسی کو سنائیں ۔گزرے ہوئے خوبصورت لمحوں کو آواز دیں ۔بچھڑے ساتھیوں کو یاد کریں۔۔بقول نادر کاکوروی
اکثر شبِ تنہائی میں
کچھ دیر پہلے نیند سے
گزری ہوئی دلچسپیاں
بیتے ہوئے دن عیش کے
بنتے ہیں شمعِ ذندگی
اور ڈالتے ہیں روشنی
میرے دلِ صد چاک پر
وہ بچپن اوروہ سادگی
وہ رونا وہ ہنسنا کبھی
پھر وہ جوانی کے مزے
وہ دل لگی وہ قہقہے
وہ عشق وہ عہدِ و فا
وہ وعدہ اور وہ شکریہ
وہ لذتِ بزمِ طرب
یاد آتے ہیں ایک ایک سب۔۔
۔تخلیق کار،لکھاری ،شاعر ،مصور ہمیشہ تنہائی کو پسند کرتے ہیں کیونکہ اسی میں ان کی تخلیقی صلاحیتیں ابھر کر سامنے آتی ہیں۔۔ اللہ سے باتیں کرنے کے لیے بھی تنہائی درکار ہوتی ہے تاکہ یکسو ہو کر اپنے خالق کے حضور سر جھکائیں ۔۔اپنا حال دل اسے بتائیں ۔کچھ لوگ تنہائی پسند ہوتے ہیں ۔ہجوم میں گھبرا جاتے ہیں ۔۔جبکہ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ لوگوں کے درمیان ہونے کے باوجود آپ تنہا محسوس کرتے ہیں ۔تقریباً ہر مذہب میں صوفی ، راہب، بزرگ ، درویش جنگلوں میں، پہاڑوں پر ،غاروں میں تنہا رہ کر اپنے وجود کو کھوجتے ہیں اپنے خالق کی تلاش کرتے ہیں ۔
یونانی فلسفی ارسطو نے کہا تھا کہ انسان ایک معاشرتی حیوان (سوشل اینیمل) ہے، جس کا مطلب ہے کہ انسان اکیلے زندگی نہیں گزار سکتا بلکہ اسے زندہ رہنے اور ترقی کرنے کے لیے دوسرے انسانوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ معاشرتی تبدیلیاں بھی آتی گئیں۔مشترکہ خاندانی نظام کے فوائد بہت تھے ۔کبھی کوئی تنہا نہ رہتا ۔غم خوشی بیماری سستی دکھ درد میں فوراً اپنے پہنچ جاتے۔۔۔ لیکن رفتہ رفتہ یہ نظام ختم ہوتا جا رہا ہے ۔ہمسایہ داری۔۔۔ پڑوسی کبھی ایک دوسرے کے بہت نزدیک ہوتے تھے ۔۔۔دکھ سکھ کے شریک ۔۔لیکن ترقی کی سیڑھی پر چڑھتے چڑھتے ہم دوست ،رشتہ دار، پڑوسی سب سے دور ہوتے جا رہے ہیں ۔پرائیویسی کے نام پر اب ماں باپ اور اولاد میں بھی فاصلے بڑھ رہے ہیں۔اب ہمیں معلوم نہیں کہ برابر کے گھر میں کون رہ رہا ہے ۔مغرب کی طرح اب ہمارے ہاں بھی یہ خبریں عام ہو رہی ہیں کہ اپارٹمنٹ یا فلیٹ سے کئی دنوں پرانی لاش ملی ۔اور ایسا عام لوگوں کے ساتھ ہی نہیں بلکہ نامور لوگ بھی اس کا شکار ہیں ۔کسی کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں کوئی رشتہ ہی نہیں ۔۔۔یہاں تک کہ مرنے کے بعد کوئی پوچھنے والا ہی نہیں کہ یہ شخص کہاں ہے۔۔۔ اتنے دنوں سے رابطہ نہیں ہوا ۔۔معاشرتی رویوں میں بہت بدلاؤ آ رہا ہے ۔۔پہلے والدین کے ساتھ ساتھ بڑے بزرگ اور رشتہ دار برا بھلا کہتے ۔۔کسی معاملے میں مشورہ دیتے تو کھلے دل سے اسے تسلیم کیا جاتا۔۔ اس لیے کہ برداشت کا کلچر تھا ۔زندگی کے تمام اہم فیصلے سب کی مشاورت سے کیے جاتے ۔رشتے داریاں دوستیاں ہمسایہ داری نبھائی جاتی ۔لیکن اب تو یہ حال ہے کہ سگے بہن بھائی بھی رنجشیں پال کر ایک دوسرے سے ناراض ۔۔۔رہی سہی کسر سوشل میڈیا نے پوری کر دی ۔ہر ایک کے ہاتھ میں موبائل ۔۔۔سینکڑوں فرینڈز، ہزاروں فالوورز جبکہ عملی زندگی میں ایک بھی ساتھی نہیں ۔خود نمائی اور خود ستائشی نے سب کو ذہنی مریض بنا کر رکھ دیا ہے ۔
۔ترقی یافتہ ملکوں میں تنہائی ایک بہت بڑا معاشرتی مسئلہ بن کر رہ گیا ہے ۔جاپان جیسے ترقی یافتہ ملک میں خاندانی نظام ناکام ہو گیا۔وہاں باقاعدہ ایک محکمہ بن گیا ہے جو تنہا مرنے والوں کے گھر جا کر اس کا سامان ٹھکانے لگاتے ہیں ۔ ان کے رشتہ داروں کے پتے ڈھونڈ کر ان کو متعلقہ شخص کی موت کی اطلاع دیتے ہیں ۔خود ہی ان کی آخری رسوم ادا کرتے ہیں ۔ان کا چھوڑا ہوا سامان لینے کے لیے بھی کوئی نہیں آتا۔۔۔ ایسے بے شمار گھر ہیں جن کے مکین دوسری دنیا سدھار گئے اور اب ان کا کوئی والی وارث نہیں ۔۔یہ تو بات ہوئی مرنے والوں کی ۔۔۔جاپانی معاشرے میں تنہائی ایک زہر کی طرح پھیل گیا ہے ۔۔۔وہاں بزرگ ،درمیانی عمر اور نوجوان طبقہ اب اتنا تنہا ہو گیا ہے کے باقاعدہ آن لائن ایسی خدمات کا اجرا ہو رہا ہے جو آپ کو کچھ دیر کے لیے ایسے ساتھی مہیا کرتے ہیں جو آپ کے ساتھ سیر کو جائیں، آپ ان کے ساتھ اپنا دکھ سکھ شیئر کریں ۔۔۔
۔یہ تنہائی تو خود ساختہ ہے ۔۔لیکن ایک تنہائی ایسی بھی ہے جو سزا کے طور پر مسلط کی جاتی ہے ۔ڈاکٹر خالد مفتی پاکستان کے نامور ماہر نفسیات ہیں ۔اس میدان میں ان کا 50 سالہ تجربہ ہے ۔چائنہ ونڈو پشاور میں انہوں نے ایک ادبی نشست میں ٹیری ایلن کوپر کی کتاب solitary تنہائی پر خوبصورت گفتگو کی ۔سولیٹیری مصنف کی 40 سالہ تحقیق اور مشاہدات پر مشتمل کتاب ہے جو انہوں نے امریکی جیل کی سزا و جزا کے نظام اور قید تنہائی پر لکھی ۔اس ادبی نشست میں خواتین اور حضرات کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور گہری دلچسپی کا اظہار کیا ۔ڈاکٹر خالد مفتی نے قید تنہائی اور اس کے قیدیوں کی جسمانی ذہنی صحت اور معاشرتی رویوں پر اثرات پر تفصیلی گفتگو کی ۔۔ان کا کہنا تھا کہ نہ صرف امریکہ بلکہ دنیا بھر میں قید تنہائی سخت سزا کے طور پر دی جاتی ہے جس کے دوران قیدی کا ارد گرد کے لوگوں سے رابطہ بالکل کٹ جاتا ہے ۔ مناسب طبی سہولیات اور صحت مند کھانا نہیں دیا جاتا ۔پاکستان میں سیاسی رہنماؤں ،نامور ادیبوں ،شاعروں کو اکثر قید و بند کی صعوبتیں اٹھانی پڑتی ہیں ۔جن میں طویل عرصے تک قید تنہائی کی سزا بھی دی جاتی ہے ۔ان میں زیادہ تر اس دوران خود احتسابی کے عمل سے بھی گزرتے ہیں ۔۔اپنی زندگی کے مشاہدات اور تجربات کو لے کر کتابیں بھی لکھتے ہیں ۔جنہیں دنیائے ادب کے ساتھ ساتھ سیاست کے میدان میں بھی نمایاںاور تاریخی مقام حاصل ہو جاتا ہے جیسے ذوالفقار علی بھٹو کی کتاب if I am assassinated جو انہوں نے دوران قید لکھی ۔۔۔کو عالمی شہرت ملی ۔ڈاکٹر خالد مفتی نے کہا کہ یہ تو مضبوط اعصاب کے مالک لوگ تھے ۔لیکن سزا یافتہ خطرناک مجرموں کو قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے تو ان کی ذہنی اور جسمانی صحت بری طرح متاثر ہوتی ہے ۔۔مجرموں کو جیل میں بند کرنے کا مقصد معاشرے کو محفوظ بنانا ہے اس کے ساتھ ساتھ قیدیوں کی اصلاح بھی مقصود ہے تاکہ وہ سزا پوری کرنے کے بعد آزاد ہوں تو معاشرے کے مفید شہری ثابت ہوں ۔۔لیکن کیا موجودہ نظام اس مقصد کو پورا کرتا ہے ۔۔۔یہ بات بھی بحث طلب ہے کہ کیا قید تنہائی ان مجرموں کو مزید خطرناک نہیں بنا دیتی ۔نشست کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی تھا کہ ڈاکٹر صاحب اپنے ہونہار سپوت ماہر نفسیات ڈاکٹر علی مفتی کو بھی وقتاً فوقتاً مخاطب کر کے اپنی گفتگو میں شامل کرتے رہے ۔نشست کے اختتام پر سوال و جواب کا دلچسپ سلسلہ بھی ہوا جس میں حاضرین نے بھرپور شرکت کی ۔ڈاکٹر نہار، پروفیسر راج ولی ، ناز پروین ، امجد ملک اور دیگر شرکاء نے قید تنہائی سے متعلق سوال کیے جن کے ڈاکٹر خالد مفتی نے بڑی تفصیل سے جواب دیے ۔قید تنہائی سے متعلق اس نشست کو مدتوں یاد رکھا جائے گا ۔
![]()






