سیارہ نظر نہیں آتا

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )مارچ 2009 کی رات ایک دوربین فلوریڈا سے خلا میں گئی۔ اس نے اپنی پوری زندگی میں ایک بھی سیارے کی تصویر نہیں کھینچی۔ پھر بھی نو سال میں ڈھائی ہزار چھ سو سے زیادہ بیرونی سیاروں کی تصدیق اسی کے ڈیٹا سے ہوئی۔

جو چیز دکھائی ہی نہ دے، وہ ملی کیسے؟

مسئلہ یہ ہے کہ سیارہ اپنی کوئی روشنی نہیں رکھتا۔ وہ صرف اپنے ستارے کی روشنی لوٹاتا ہے، اور وہ بھی ذرا سی۔ مشتری جیسا بڑا سیارہ بھی اپنے ستارے سے ایک ارب گنا کے قریب مدھم ہوتا ہے۔ ستارے کی چمک کے پاس اسے دیکھنا ایسا ہے جیسے سرچ لائٹ کے ساتھ چپکی ہوئی جگنو کو ڈھونڈنا۔

تو سائنسدانوں نے سیارے کو ڈھونڈنا چھوڑ دیا۔ ستارے کو دیکھنا شروع کیا۔

رات کو کسی تیز بلب کے نیچے کھڑے ہوں اور ایک مچھر اس کے سامنے سے گزر جائے۔ آپ مچھر کو الگ سے نہیں دیکھتے، مگر بلب کی روشنی لمحے بھر کو ذرا سی دبتی ہے۔ اگر آپ کے پاس بہت حساس آنکھ ہو تو اسی دبنے سے مچھر کی موجودگی جان لیں گے۔ سیارہ جب اپنے ستارے کے سامنے سے گزرتا ہے تو یہی ہوتا ہے۔ اس گزرنے کو ٹرانزٹ (عبور) کہتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ دبنا کتنا ہوتا ہے۔ سورج کو فٹ بال کے برابر مان لیں تو زمین تقریباً دو ملی میٹر کا دانہ بنتی ہے۔ سورج کے سامنے سے یہ دانہ گزرے تو روشنی صرف 0.0084 فیصد کم ہوتی ہے۔ یعنی دس ہزار بلب ایک ساتھ جل رہے ہوں اور ان میں سے ایک بلب کے برابر روشنی کم ہو جائے۔ مشتری کے برابر سیارہ ہو تو کمی تقریباً ایک فیصد ہوتی ہے۔

ایک فیصد زمین سے پکڑا جا سکتا ہے۔ 1999 میں HD 209458 کے گرد ایک سیارے کو پہلی بار اسی طرح گزرتے ہوئے ناپا گیا، اور کمی ڈیڑھ فیصد کے قریب تھی۔ مگر 0.0084 فیصد زمین سے ناپنا ناممکن ہے، کیونکہ ہماری اپنی فضا کی لرزش ہی اس سے زیادہ روشنی ہلا دیتی ہے۔ اس کے لیے دوربین کو خلا میں جانا تھا۔

وہ دوربین Kepler تھی۔ اس کا اکلوتا آلہ فوٹومیٹر (روشنی ناپنے والا آلہ) تھا، جس کا کام صرف یہ تھا کہ ستاروں کی چمک بار بار ناپے۔ ہر 29.4 منٹ بعد ایک پیمائش۔ زمین جیسے سیارے کا گزرنا تقریباً 13 گھنٹے رہتا ہے، یعنی ایک گزر میں تقریباً چھبیس پیمائشیں، جن میں چمک ذرا سی نیچے بیٹھتی ہے اور واپس اوپر آ جاتی ہے۔

ایک منٹ رکیے۔ اصل بات صرف اتنی ہے: ہم سیارہ نہیں دیکھتے۔ ہم ستارے کی روشنی کا بار بار، ایک ہی وقفے سے، ذرا سا دب جانا دیکھتے ہیں۔

مگر یہ آلہ بنتا ہی نہ، اگر ایک آدمی ہار مان لیتا۔ William Borucki اور Audrey Summers نے 1984 میں یہ طریقہ لکھا تھا کہ ستاروں کی چمک اتنی باریکی سے ناپی جائے کہ سیارے کا گزرنا پکڑا جا سکے۔ پھر مشن کی تجویز NASA کو بھیجی گئی، اور 1992 میں رد ہو گئی کہ ایسے حساس ڈٹیکٹر ابھی بنے ہی نہیں۔ 1994 میں خرچ زیادہ نکلا۔ 1996 میں اعتراض یہ تھا کہ ہزاروں ستاروں کی چمک ایک ساتھ، خودکار طریقے سے ناپنا کسی نے کر کے نہیں دکھایا۔ 1998 میں سوال یہ تھا کہ خلا کے شور میں، جیسے دوربین کا ہلکا سا ہلنا، اتنی باریک پیمائش قائم بھی رہے گی یا نہیں۔

چار بار انکار۔ ہر بار ٹیم NASA کے Ames ریسرچ سینٹر میں واپس گئی، لیبارٹری میں آزمائشی نظام بنایا، اور ثابت کرنے کی کوشش کی کہ زمین کے برابر سیارے کی کمی پکڑی جا سکتی ہے۔ آخرکار December 2001 میں Kepler منظور ہوا۔ پہلی تجویز کو سترہ سال گزر چکے تھے۔

اور اب وہ بات جو مجھے آج تک چونکاتی ہے۔ Kepler نے ایک ہی ٹکڑے پر نظر جمائی، Cygnus اور Lyra کے درمیان آسمان کا ایک حصہ، اور وہاں تقریباً ڈیڑھ لاکھ ستاروں کو دیکھتی رہی۔ ڈیڑھ لاکھ کیوں؟ اتنے ستاروں کی کیا ضرورت تھی؟

وجہ سیاروں کی کمی نہیں تھی۔ وجہ زاویہ تھی۔ سیارہ ہمیں تب ہی گزرتا دکھائی دیتا ہے جب اس کا مدار ہماری نظر کی سیدھ میں ہو۔ سورج جیسے ستارے کے گرد، زمین کے فاصلے پر، یہ اتفاق تقریباً دو سو میں سے ایک نظام کا ہوتا ہے۔ باقی ننانوے سے زیادہ نظاموں میں سیارہ موجود ہوتا ہے، گھوم رہا ہوتا ہے، مگر ہمیں کبھی گزرتا نہیں دکھتا۔ اس پر ایک اور شرط: ایک دبنا کافی نہیں۔ زمین جیسے سیارے کے لیے تین گزر چاہئیں، یعنی تین سال سے زیادہ انتظار، اسی لیے مشن کا منصوبہ ساڑھے تین سال کا تھا۔

اب اس عدد کو پلٹ کر دیکھیں۔ Kepler کو جو ہر سیارہ ملا، اس کے پیچھے شماریاتی طور پر سینکڑوں ایسے ہیں جو ہماری سیدھ میں نہیں تھے۔ اسی حساب سے شواہد مضبوط ہیں کہ ہماری کہکشاں میں عام طور پر ہر ستارے کے پاس کم از کم ایک سیارہ ہوتا ہے، اور شاید اس سے زیادہ۔ یہ حتمی نہیں، بحث ابھی جاری ہے۔ مگر ہم نے جس آسمان کو خالی سمجھا تھا، وہ شاید آبادی سے بھرا ہے۔ ہم بس غلط زاویے سے دیکھ رہے ہیں۔

مجھے یہ سوچ کر عجیب سا سکون ملتا ہے کہ رات کو جو ستارے ہمیں تنہا چمکتے لگتے ہیں، ان میں سے ہر ایک کے گرد شاید کوئی دنیا گھوم رہی ہے جو ہمیں کبھی نظر نہیں آئے گی، اور جس کی موجودگی ہم صرف اس بات سے جان سکتے ہیں کہ کسی دن، کسی ایک ستارے کی روشنی ذرا سی ہلی تھی۔ اگلی بار کسی ستارے کو دیکھیں تو سوچیے گا کہ اس کی چمک کے پیچھے کیا کیا چھپا ہو سکتا ہے۔

🔭 ماخذ: Kepler مشن (NASA)، 2009 سے 2018 — Photometer؛ William Borucki اور Audrey Summers کا 1984 کا مقالہ؛ HD 209458 کا 1999 کا ٹرانزٹ

اگر آپ کو خلاء اور فلکیات کی ایسی باتیں پسند ہیں جو آسان زبان میں بتائی جائیں تو ستاروں سے آگے کو ابھی فالو کریں۔

ہر روز ایک نئی حیرت آپ کا انتظار کر رہی ہے۔

Loading