جسم پر کوڑے پڑے… مگر علم کا وقار باقی رہا

جسم پر کوڑے پڑے… مگر علم کا وقار باقی رہا

 امام مالکؒ — مدینہ کا وہ عالم جسے حقِ علم سے پیچھے نہ ہٹایا جا سکا

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )مدینہ کی گلیوں میں ایک ایسا عالم رہتا تھا جس کی مجلس میں علم کے طالب بیٹھتے، حدیثِ رسول ﷺ سیکھتے اور فقہ کے مسائل سمجھتے تھے۔

اس عالم کا نام تھا امام مالک بن انس۔

وہ صرف ایک فقیہ نہیں تھے؛ مدینہ کے علمی وقار کی ایک نمایاں علامت تھے۔ ان کی کتاب الموطأ میں احادیثِ نبوی ﷺ، آثارِ صحابہ اور فقہی بصیرت ایک جگہ جمع تھیں۔

لیکن ایک دن ان کے علم کا امتحان کتابوں کے درمیان نہیں، اقتدار کے سامنے ہوا۔

عباسی دور میں مدینہ کے لوگوں سے حکمران کے حق میں بیعت لی جا رہی تھی۔ اس ماحول میں امام مالکؒ سے ایک ایسا مسئلہ پوچھا گیا جس کا تعلق جبر کے تحت لی جانے والی بیعت سے تھا۔

امام مالکؒ سے منسوب مشہور جواب یہ تھا کہ جس شخص کو مجبور کرکے بیعت کرائی جائے، اس کی بیعت کو رضامندی والی بیعت جیسا نہیں سمجھا جا سکتا۔

یہ بات سیاسی ماحول میں حساس بن گئی۔

مدینہ کے گورنر جعفر بن سلیمان کے دور میں امام مالکؒ کو سخت سزا دی گئی۔ تاریخی روایات میں آتا ہے کہ انہیں کوڑے مارے گئے اور ان کے کندھوں کو شدید نقصان پہنچا۔

یہاں ایک علمی احتیاط ضروری ہے: امام مالکؒ کو سزا دیے جانے کا واقعہ قدیم تذکروں میں ملتا ہے، لیکن اس کی اصل وجہ، سزا کی تفصیلات اور خلیفہ منصور کے براہِ راست کردار کے بارے میں روایات مختلف ہیں۔ اس لیے ہر مشہور جزئیے کو قطعی حقیقت سمجھنا درست نہیں۔

(دیکھیے: الذہبی، سیر أعلام النبلاء، ترجمۂ امام مالک؛ قاضی عیاض، ترتیب المدارک)

ذرا اس منظر کو اپنے ذہن میں لائیے…

ایک طرف اقتدار تھا، جس کے پاس حکم دینے والے لوگ تھے۔

دوسری طرف ایک عالم تھا، جس کے پاس نہ فوج تھی، نہ حکومت، نہ کوئی دنیاوی طاقت۔

اس کے پاس صرف علم تھا، دلیل تھی اور وہ ذمہ داری تھی جو ایک عالم اپنے رب کے سامنے محسوس کرتا ہے۔

اس آزمائش کا سب سے اہم پہلو صرف یہ نہیں کہ امام مالکؒ کو تکلیف پہنچی۔

اصل سوال یہ ہے کہ علم رکھنے والے انسان کی ذمہ داری کیا ہے؟

کیا عالم کا کام ہر طاقتور کی خواہش کے مطابق بات کرنا ہے؟

کیا کسی منصب، تعلق یا خوف کی وجہ سے وہ اپنی علمی رائے بدل دے؟

یا اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ علم ایک امانت ہے، جسے ذاتی مفاد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا؟

امام مالکؒ کی زندگی کا ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے۔

جب عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور نے خواہش ظاہر کی کہ امام مالکؒ کی کتاب الموطأ کی نقول مختلف شہروں میں بھیجی جائیں اور لوگوں کو اسی کے مطابق عمل کرنے کا پابند بنایا جائے، تو امام مالکؒ نے اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا۔

ان کا موقف تھا کہ مختلف علاقوں کے لوگوں تک مختلف احادیث اور علمی روایات پہنچی ہیں؛ سب کو ایک ہی فقہی رائے کا پابند کرنا مناسب نہیں۔

یہاں ایک عظیم عالم کی وسعتِ نظر سامنے آتی ہے۔

وہ اپنی علمی عظمت کے باوجود یہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کی رائے کو پوری امت پر زبردستی مسلط کر دیا جائے۔

یہ علم کا ادب تھا۔

یہ اختلاف کو برداشت کرنے کا ظرف تھا۔

اور یہ احساس تھا کہ دین کسی ایک انسان کی ذاتی ملکیت نہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

وَلَا تَكْتُمُوا الْحَقَّ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ

“اور حق کو نہ چھپاؤ، حالانکہ تم جانتے ہو۔”

(سورۃ البقرہ: 42)

یہ آیت ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے کی دعوت دیتی ہے۔

ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو حق جانتے ہوئے بھی خاموش رہ جاتے ہیں؟

کبھی کسی تعلق کو بچانے کے لیے۔

کبھی اپنی ملازمت کے خوف سے۔

کبھی کاروباری فائدے کے لیے۔

اور کبھی اس لیے کہ کہیں لوگ ہم سے ناراض نہ ہو جائیں۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ حق پر قائم رہنے کا مطلب ہر اختلاف میں لڑائی کرنا نہیں، اور نہ ہر شخص کو خود کو کسی مظلوم عالم کے مقام پر رکھ لینا چاہیے۔

حق کے لیے استقامت کے ساتھ علم، حکمت، عدل اور اپنی حدود کا شعور بھی ضروری ہے۔

امام مالکؒ کی زندگی ہمیں ایک گہرا سبق دیتی ہے:

علم کی عزت اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب اسے اقتدار کی خوشنودی کے لیے فروخت نہ کیا جائے۔

اور ایک عالم کی عظمت صرف اس کے شاگردوں کی تعداد سے نہیں ناپی جاتی؛ اس بات سے بھی ناپی جاتی ہے کہ وہ اپنے علم کی امانت کے ساتھ کتنا وفادار رہا۔

آج ہم امام مالکؒ کا نام احترام سے لیتے ہیں۔

مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے ان کی زندگی سے یہ سبق بھی لیا؟

کیا ہم اپنی چھوٹی چھوٹی مصلحتوں کے سامنے سچ کو قربان کرنا چھوڑ سکتے ہیں؟

کیونکہ کبھی کبھی انسان کے پاس سب کچھ ہوتا ہے، مگر وہ اپنے ضمیر کو کھو دیتا ہے۔

اور کبھی ایک انسان کے پاس دنیاوی طاقت کچھ بھی نہیں ہوتی، مگر وہ اپنے کردار کی وجہ سے تاریخ میں زندہ رہتا ہے۔

سوچنے کی بات:

اگر میرا فائدہ اور حق ایک دوسرے کے سامنے آ جائیں، تو کیا میں اپنے فائدے کو چھوڑنے کی ہمت رکھتا ہوں؟

اگر یہ تحریر آپ کو اپنے کردار پر غور کرنے کی دعوت دے تو اسے دوسروں تک بھی پہنچائیں۔ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور لکھیے، اور ایسی مزید تاریخی و اصلاحی تحریروں کے لیے پیج کو فالو کریں۔

#امام_مالک #اسلامی_تاریخ #علم_کی_امانت #حق_پر_استقامت #وقت_کے_گواہ