حضرت ہاجرہؑ اور زمزم
جب بے آب و گیاہ وادی میں ماں کی بے قراری اللہ کی رحمت کا سبب بن گئی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ذرا تصور کیجیے! تپتی ہوئی ریت، سر پر آگ برساتا سورج، دور دور تک پھیلے ہوئے سنگلاخ پہاڑ، نہ کسی درخت کا سایہ، نہ پانی کا کوئی چشمہ، نہ انسانوں کی کوئی آبادی، نہ کسی مسافر کے قدموں کی آہٹ۔ ایک ایسی وادی جہاں زندگی کے آثار تک دکھائی نہیں دیتے۔ جہاں اگر کوئی انسان چند لمحوں کے لیے ٹھہر جائے تو اس کے دل میں بھی وحشت اترنے لگے۔ اور اسی وادی میں ایک ماں اپنے شیر خوار بچے کو سینے سے لگائے کھڑی ہے۔ اس کے ساتھ نہ کوئی قافلہ ہے، نہ کوئی خیمہ، نہ کھانے پینے کا سامان، نہ کوئی ایسا انسان جس سے وہ اپنی بے بسی بیان کر سکے۔
اس ماں کا نام ہاجرہؑ ہے اور اس کی گود میں وہ بچہ ہے جس کا نام اسماعیلؑ ہے۔
آج جس مقام پر دنیا کے لاکھوں انسان ایک اللہ کے حضور جھکتے ہیں، جس وادی کی طرف ہر سال کروڑوں دل کھنچے چلے آتے ہیں، جہاں لبیک کی صدائیں فضاؤں میں گونجتی ہیں، کبھی وہی مقام ایسا تھا کہ وہاں پانی کا ایک قطرہ بھی میسر نہ تھا۔ نہ کوئی شہر تھا، نہ آباد بازار، نہ مسجد الحرام کی موجودہ عمارت، نہ زائرین کا ہجوم۔ صرف پہاڑوں کے درمیان ایک خاموش وادی تھی، ایک ماں تھی، ایک معصوم بچہ تھا اور اللہ تعالیٰ کی وہ حکمت تھی جسے انسانی نگاہیں اس وقت سمجھنے سے قاصر تھیں۔
مگر یاد رکھیے! بعض اوقات اللہ تعالیٰ انسان کو ایسی جگہ کھڑا کر دیتا ہے جہاں اسے اپنی تمام تدبیریں ناکافی محسوس ہونے لگتی ہیں، لیکن اسی مقام سے اللہ کی رحمت کے ایسے دروازے کھلتے ہیں جن کا اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوتا۔
حضرت ہاجرہؑ کی داستان محض ایک ماں کی پیاس، ایک بچے کی بے قراری اور پانی کی تلاش کا واقعہ نہیں۔ یہ توکل، قربانی، یقین، کوشش اور اللہ کی رحمت پر بھروسا کرنے کی ایسی زندہ مثال ہے جسے قیامت تک مسلمان اپنے دلوں میں محفوظ رکھیں گے۔
اس واقعے کی جڑیں حضرت ابراہیمؑ کی زندگی سے جڑی ہوئی ہیں۔ وہ اللہ کے جلیل القدر نبی تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی توحید کے لیے وقف کر دی تھی۔ انہوں نے بت پرستی کے ماحول میں اللہ کی وحدانیت کا اعلان کیا، باطل کے سامنے کلمۂ حق بلند کیا اور ہر آزمائش میں اپنے رب کے حکم کو ترجیح دی۔ ان کی زندگی قربانیوں سے عبارت تھی، اور اب ایک ایسی آزمائش سامنے آنے والی تھی جس میں ایک ماں اور ایک شیر خوار بچے کو ایک ویران وادی میں چھوڑنا تھا۔
صحیح بخاری میں حضرت ابن عباسؓ سے حضرت ہاجرہؑ اور زمزم کا واقعہ تفصیل سے منقول ہے۔ اس روایت کے مطابق حضرت ابراہیمؑ حضرت ہاجرہؑ اور ان کے شیر خوار بیٹے حضرت اسماعیلؑ کو لے کر مکہ کی اس وادی میں آئے جہاں اس وقت نہ کوئی آبادی تھی اور نہ پانی۔ حضرت ابراہیمؑ نے انہیں ایک درخت کے قریب، بیت اللہ کے مقام کے پاس چھوڑا۔ اس وقت وہاں نہر بہتی تھی، نہ کوئی چشمہ جاری تھا اور نہ کھجوروں کے باغات تھے۔ حضرت ہاجرہؑ کے پاس ایک تھیلے میں کچھ کھجوریں اور ایک مشکیزے میں پانی تھا۔
ذرا اس منظر کو اپنے دل میں اتاریے۔ ایک طرف اللہ کا نبی، دوسری طرف اس کی اہلیہ اور ننھا بچہ۔ ایک ایسا فیصلہ جس کی ظاہری صورت میں کوئی آسانی دکھائی نہیں دیتی۔ حضرت ابراہیمؑ واپس جانے کے لیے پلٹتے ہیں تو حضرت ہاجرہؑ ان کے پیچھے چل پڑتی ہیں۔ ان کے دل میں سوالات اٹھ رہے ہیں۔ وہ جاننا چاہتی ہیں کہ آخر انہیں اس ویران مقام پر کیوں چھوڑا جا رہا ہے۔
وہ پکارتی ہیں:
’’اے ابراہیم! آپ ہمیں اس وادی میں چھوڑ کر کہاں جا رہے ہیں جہاں نہ کوئی انسان ہے اور نہ کوئی چیز؟‘‘
حضرت ابراہیمؑ چلتے رہتے ہیں۔ وہ پیچھے مڑ کر جواب نہیں دیتے۔ حضرت ہاجرہؑ دوبارہ پوچھتی ہیں، پھر تیسری مرتبہ سوال کرتی ہیں۔ آخرکار وہ ایک ایسا سوال کرتی ہیں جو اس پورے واقعے کی روح کو واضح کر دیتا ہے:
’’کیا اللہ نے آپ کو اس کام کا حکم دیا ہے؟‘‘
حضرت ابراہیمؑ جواب دیتے ہیں: ’’ہاں۔‘‘
اس ایک لفظ کے بعد حضرت ہاجرہؑ کا طرزِ فکر بدل جاتا ہے۔ ابھی تک وہ ایک ایسی عورت تھیں جو اپنے شوہر سے اپنے اور اپنے بچے کے مستقبل کے بارے میں سوال کر رہی تھیں، مگر جب انہیں معلوم ہوا کہ یہ فیصلہ اللہ کے حکم کے تحت ہے تو ان کے یقین نے خوف پر غلبہ پا لیا۔
انہوں نے کہا:
’’پھر اللہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔‘‘
یہ محض چند الفاظ نہیں تھے۔ یہ توکل کی وہ بلندی تھی جہاں انسان ظاہری اسباب کی کمی کو دیکھ کر اپنے رب کی قدرت سے مایوس نہیں ہوتا۔ حضرت ہاجرہؑ کو یہ معلوم نہیں تھا کہ پانی کہاں سے آئے گا، کھانا کیسے ملے گا، ان کے بچے کا مستقبل کیا ہوگا، یا اس وادی میں زندگی کیسے قائم ہوگی۔ مگر انہیں اتنا معلوم تھا کہ جس اللہ کے حکم سے یہ سب ہو رہا ہے، وہ اپنے بندوں کی حالت سے بے خبر نہیں۔
حضرت ابراہیمؑ جب اس مقام سے آگے بڑھے جہاں سے حضرت ہاجرہؑ انہیں دیکھ نہیں سکتی تھیں تو انہوں نے اپنا رخ بیت اللہ کی طرف کیا، جو اس وقت ایک آباد عمارت کی صورت میں موجود نہ تھا، اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔
قرآن مجید میں ان کی یہ دعا سورۂ ابراہیم میں محفوظ ہے:
رَبَّنَا إِنِّي أَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلَاةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُم مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ۔
ترجمہ: ’’اے ہمارے رب! میں نے اپنی کچھ اولاد کو تیرے حرمت والے گھر کے پاس ایک ایسی وادی میں آباد کیا ہے جہاں کھیتی نہیں ہوتی، اے ہمارے رب! تاکہ وہ نماز قائم کریں۔ پس لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کر دے اور انہیں پھلوں سے رزق عطا فرما، تاکہ وہ شکر ادا کریں۔‘‘ (ابراہیم: 37)
غور کیجیے! حضرت ابراہیمؑ نے یہ نہیں کہا کہ اے اللہ! میرے اہل و عیال کو دنیا کی تمام آسائشیں عطا فرما، ان کے لیے آرام و راحت کے محل بنا دے اور ان کی زندگی کو ہر مشکل سے خالی کر دے۔ ان کی دعا کا مرکز نماز، اللہ کی عبادت، لوگوں کے دلوں میں محبت اور رزق تھا، تاکہ وہ شکر گزار بنیں۔
یہاں ہماری زندگی کے لیے ایک بہت بڑا سبق پوشیدہ ہے۔ ہم اپنی اولاد کے لیے کتنی دعائیں کرتے ہیں؟ اچھا گھر، اچھی تعلیم، اچھی ملازمت، کاروبار میں ترقی، معاشرے میں عزت اور مالی خوش حالی۔ یہ سب جائز خواہشات ہیں، مگر کیا ہم اپنی اولاد کے لیے نماز، ایمان، تقویٰ اور اللہ سے تعلق کی دعا بھی اسی تڑپ کے ساتھ کرتے ہیں؟ کیا ہم چاہتے ہیں کہ ہماری اولاد صرف کامیاب ہو، یا یہ بھی چاہتے ہیں کہ وہ اللہ کے نزدیک مقبول اور لوگوں کے لیے نفع بخش ہو؟
حضرت ابراہیمؑ کی دعا ہمیں یاد دلاتی ہے کہ رزق کی طلب بھی ہو تو عبادت کے مقصد سے غافل نہ ہوا جائے، اور دنیا کی خوش حالی مانگی جائے تو آخرت کی کامیابی کو کبھی فراموش نہ کیا جائے۔
ادھر حضرت ہاجرہؑ نے اپنے بچے کے ساتھ اسی وادی میں قیام کیا۔ ان کے پاس موجود پانی آہستہ آہستہ ختم ہونے لگا۔ کھجوریں بھی محدود تھیں۔ دن گزرتے گئے اور پیاس کی شدت بڑھنے لگی۔ شیر خوار اسماعیلؑ پیاس سے بے قرار ہوئے۔ ماں اپنے بچے کو دیکھتی تو اس کا دل تڑپ اٹھتا۔ ایک ماں کے لیے اپنے بچے کی تکلیف سے بڑھ کر کون سا منظر زیادہ کٹھن ہو سکتا ہے؟
بچہ روتا ہے۔ ماں اسے سینے سے لگاتی ہے۔ شاید وہ اسے بہلانے کی کوشش کرتی ہے، شاید اپنے چہرے پر اطمینان لانے کی کوشش کرتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کے پاس پانی ختم ہو رہا ہے اور قریب کوئی دوسرا ذریعہ دکھائی نہیں دیتا۔
وہ صرف اپنے لیے پانی نہیں ڈھونڈ رہی تھی۔ وہ ایک ایسے بچے کے لیے پانی تلاش کر رہی تھی جو خود چل کر اپنی ضرورت پوری نہیں کر سکتا تھا۔ اس کے پاس نہ کوئی سواری تھی، نہ کوئی راستہ معلوم تھا، نہ کوئی ایسا شخص جسے مدد کے لیے پکار سکتی۔ مگر اس کے پاس ایک چیز تھی: امید۔
جب پانی ختم ہوگیا اور پیاس کی شدت ناقابل برداشت ہونے لگی تو حضرت ہاجرہؑ نے بچے کی حالت دیکھی۔ پھر انہوں نے قریب کی پہاڑی صفا کی طرف رخ کیا۔ وہ اس پر چڑھیں اور وادی میں کسی انسان یا پانی کے نشان کی تلاش میں نگاہ دوڑائی۔ مگر انہیں کوئی نظر نہ آیا۔
وہ صفا سے اتریں اور وادی کے نشیب سے گزرتی ہوئی مروہ کی طرف بڑھیں۔ پھر وہاں چڑھ کر دیکھا کہ شاید کہیں کوئی مسافر ہو، کوئی قافلہ آ رہا ہو، یا پانی کی کوئی صورت دکھائی دے جائے۔ مگر وہاں بھی کوئی نہ تھا۔
وہ دوبارہ صفا کی طرف لوٹیں۔ پھر مروہ کی طرف گئیں۔ ان کے قدموں میں تھکن تھی، جسم پر پیاس کا اثر تھا، لیکن بچے کی ضرورت نے انہیں رکنے نہ دیا۔ ایک ماں کی یہ دوڑ صرف جسمانی حرکت نہ تھی؛ یہ زندگی کے لیے جدوجہد تھی، امید کا تعاقب تھا، اسباب اختیار کرنے کی کوشش تھی۔
صحیح بخاری کی روایت کے مطابق حضرت ہاجرہؑ نے صفا اور مروہ کے درمیان سات مرتبہ سعی کی۔ وہ پہاڑیوں کے درمیان آتی جاتی رہیں، ہر مرتبہ امید کے ساتھ نگاہ دوڑاتیں، اور ہر مرتبہ خالی ہاتھ واپس لوٹتیں۔ لیکن انہوں نے تلاش ترک نہیں کی۔
یہاں ایک سوال ہمارے دل کے دروازے پر دستک دیتا ہے: کیا حضرت ہاجرہؑ کو اللہ پر بھروسا نہیں تھا؟ یقیناً تھا۔ پھر وہ ایک پہاڑی سے دوسری پہاڑی تک کیوں دوڑیں؟ کیا وہ وہیں بیٹھ کر معجزے کا انتظار نہیں کر سکتی تھیں؟
اس لیے کہ توکل کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانا نہیں۔ توکل یہ ہے کہ دل اللہ پر بھروسا کرے اور جسم جائز اسباب اختیار کرے۔ حضرت ہاجرہؑ جانتی تھیں کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے، مگر اس یقین نے انہیں کوشش سے نہیں روکا۔ انہوں نے دعا کے ساتھ جدوجہد کی، یقین کے ساتھ تلاش کی، اور امید کے ساتھ قدم اٹھائے۔
آج ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو کسی مشکل میں مبتلا ہوتے ہی مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں؟ کوئی روزگار کی تلاش میں ناکام ہو تو کوشش چھوڑ دیتا ہے، کوئی بیماری یا گھریلو پریشانی سے دوچار ہو تو امید کھو بیٹھتا ہے، کوئی اپنی دعا کا فوری نتیجہ نہ دیکھے تو دل میں شکوک پیدا کرنے لگتا ہے۔ حضرت ہاجرہؑ کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ پر بھروسا رکھنے والا انسان حالات سے لڑنا نہیں چھوڑتا۔ وہ کوشش کرتا ہے، راستے تلاش کرتا ہے، اپنے رب سے مدد مانگتا ہے اور نتیجہ اللہ کے سپرد کر دیتا ہے۔
سات مرتبہ کی یہ سعی آج بھی حج اور عمرے کے اہم مناسک میں شامل ہے۔ لاکھوں لوگ صفا اور مروہ کے درمیان چلتے ہیں، مگر ذرا سوچیے کہ اس عبادت کے پس منظر میں ایک ماں کی بے قراری، اس کی جدوجہد اور اپنے بچے کے لیے اس کی محبت کی داستان موجود ہے۔
قرآن مجید نے اس مقام کی عظمت کو واضح الفاظ میں بیان کیا ہے:
إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ۔
ترجمہ: ’’بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔‘‘ (البقرۃ: 158)
اللہ تعالیٰ نے ایک ماں کی اس جدوجہد کو اپنی عبادت کے شعائر میں شامل فرما دیا۔ دنیا میں کتنے بادشاہ گزرے، کتنے فاتحین آئے، کتنے لوگوں نے اپنے نام کو زندہ رکھنے کے لیے عمارتیں تعمیر کروائیں، مگر ایک ایسی ماں جس نے کسی تخت پر حکومت نہیں کی، جس نے کسی لشکر کی قیادت نہیں کی، جس کے پاس دولت و اقتدار نہیں تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کی سعی کو قیامت تک کے لیے یادگار بنا دیا۔
یہ اللہ کی شان ہے۔ وہ اپنے مخلص بندوں کے ایسے اعمال کو بھی بلند مقام عطا فرماتا ہے جنہیں دنیا کی نگاہیں معمولی سمجھتی ہیں۔
حضرت ہاجرہؑ کی تلاش جاری تھی۔ وہ مروہ پر پہنچیں تو انہیں ایک آواز سنائی دی۔ انہوں نے غور سے سنا۔ کیا یہ کوئی انسان تھا؟ کیا کوئی مسافر مدد کے لیے آیا تھا؟ یا یہ ان کے کانوں کا دھوکا تھا؟
پھر انہیں آواز سنائی دی۔ انہوں نے گویا پکارنے والے سے کہا کہ اگر تم مدد کر سکتے ہو تو مدد کرو۔
صحیح بخاری کی روایت کے مطابق اس موقع پر حضرت ہاجرہؑ نے ایک فرشتے کو دیکھا، جو زمزم کے مقام پر تھا۔ اس نے اپنی ایڑی یا پر سے زمین کو کھودا، یہاں تک کہ وہاں سے پانی ظاہر ہوگیا۔ حضرت ہاجرہؑ نے پانی کو بہتا دیکھا تو فوراً اس کے گرد بند بنانے لگیں تاکہ پانی ضائع نہ ہو۔ وہ اپنے ہاتھوں سے اسے سمیٹنے اور محفوظ کرنے لگیں، اور ساتھ ساتھ مشکیزہ بھی بھرنے لگیں۔
پانی جاری ہو رہا تھا۔ وہی وادی جہاں کچھ دیر پہلے پیاس کا عذاب محسوس ہو رہا تھا، اب اللہ کی رحمت کے ایک چشمے سے آباد ہونے والی تھی۔ وہی زمین جس پر زندگی کے آثار دکھائی نہیں دیتے تھے، اب آنے والے زمانوں میں لاکھوں انسانوں کی پیاس بجھانے والے پانی کا مرکز بننے والی تھی۔
رسول اللہ ﷺ نے اس واقعے کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر حضرت ہاجرہؑ زمزم کو یوں نہ روکتیں تو وہ بہتا ہوا چشمہ بن جاتا۔ صحیح بخاری کی روایت میں حضرت ابن عباسؓ سے یہ مفہوم منقول ہے کہ اللہ اسماعیلؑ کی والدہ پر رحم فرمائے؛ اگر وہ زمزم کو اس طرح نہ روکتیں تو زمزم ایک بہتا ہوا چشمہ ہوتا۔
حضرت ہاجرہؑ پانی پیتی ہیں، بچے کو پانی پلاتی ہیں، اور ان کے دل میں اطمینان پیدا ہوتا ہے۔ جس بچے کی پیاس انہیں بے قرار کر رہی تھی، اب اس کے لیے پانی موجود تھا۔ جس وادی میں موت کا خوف محسوس ہونے لگا تھا، وہاں زندگی کا سرچشمہ پھوٹ پڑا تھا۔
یہاں ایک بنیادی حقیقت سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ کو حضرت ہاجرہؑ کی پیاس، ان کے بچے کی حالت یا ان کی تنہائی سے آگاہ کرنے کے لیے کسی ذریعے کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ تو دلوں کے راز بھی جانتا ہے اور خاموش آنسوؤں کو بھی۔ لیکن اس نے اپنی حکمت سے ایک ایسی آزمائش کو ایک عظیم نعمت کا ذریعہ بنا دیا جس کی یاد صدیوں سے مسلمانوں کے دلوں کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔
بسا اوقات ہم کسی مصیبت کو دیکھ کر فیصلہ کر لیتے ہیں کہ شاید ہماری دعا قبول نہیں ہو رہی، شاید اللہ ہم سے ناراض ہے، شاید ہمارے لیے اب کوئی راستہ باقی نہیں۔ مگر ہم مستقبل کے پردے کے پیچھے نہیں دیکھ سکتے۔ جس لمحے حضرت ہاجرہؑ پانی تلاش کر رہی تھیں، اس لمحے انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ زمزم کا چشمہ نکلنے والا ہے، یہاں ایک شہر آباد ہونے والا ہے، اور ایک دن دنیا کے دور دراز علاقوں سے لوگ اس وادی کا رخ کریں گے۔
اللہ تعالیٰ کی حکمت ہمارے اندازوں سے کہیں وسیع ہے۔ تاہم اس واقعے سے یہ نتیجہ نکالنا بھی درست نہیں کہ ہر آزمائش لازماً اسی دنیا میں ہماری خواہش کے مطابق ختم ہوگی۔ کبھی اللہ کسی مصیبت کو دور فرما دیتا ہے، کبھی اس کے مقابلے کی طاقت دیتا ہے، کبھی اس کے ذریعے انسان کے درجات بلند فرماتا ہے، اور کبھی اس کی حکمت ہماری سمجھ سے باہر رہتی ہے۔ بندے کا کام کوشش، دعا، صبر اور امید کو قائم رکھنا ہے۔
زمزم کے ظہور کے بعد ایک اور اہم مرحلہ شروع ہوا۔ پانی ایک نعمت تھا، مگر اس وادی میں آبادی کے لیے انسانوں کی آمد بھی ضروری تھی۔ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق کچھ عرصے بعد قبیلۂ جُرہم کے لوگ اس وادی کے قریب سے گزرے۔ انہوں نے پرندوں کو ایک جگہ منڈلاتے دیکھا۔ وہ اس بات کو پہچانتے تھے کہ پرندوں کا کسی مقام پر جمع ہونا اکثر پانی کی موجودگی کی علامت ہوتا ہے، جبکہ وہ اس وادی کو پہلے سے جانتے تھے اور وہاں پانی نہیں تھا۔
انہوں نے اپنے آدمی کو تحقیق کے لیے بھیجا۔ پانی کا چشمہ دریافت ہوا تو انہوں نے حضرت ہاجرہؑ سے وہاں قیام کی اجازت طلب کی۔ حضرت ہاجرہؑ نے انہیں پانی کے استعمال کی اجازت دی، اور یوں اس وادی میں انسانی آبادی کے آثار پیدا ہونے لگے۔ بعد میں حضرت اسماعیلؑ نے اسی ماحول میں پرورش پائی اور قبیلۂ جرہم سے عربی زبان سیکھی۔
غور کیجیے! اگر حضرت ہاجرہؑ کو وہاں چھوڑے جانے کا واقعہ صرف ایک ذاتی آزمائش ہوتا، تو اس کے اثرات ایک گھرانے تک محدود رہ سکتے تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی تقدیر نے اسی وادی کو انسانی آبادی، عبادت اور توحید کے ایک عظیم مرکز کی بنیاد بنا دیا۔ یہ وہی مکہ تھا جس کی طرف حضرت ابراہیمؑ نے دعا کی تھی کہ لوگوں کے دل اس کی طرف مائل ہوں اور اس کے رہنے والوں کو رزق عطا ہو۔
آج دنیا بھر سے آنے والے حجاج اور معتمرین جب زمزم پیتے ہیں تو وہ محض پانی نہیں پیتے؛ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت، ایک نبی کے خاندان کی قربانی اور ایک ماں کے توکل کی یاد کو اپنے دل میں تازہ کرتے ہیں۔ زمزم کی تاریخی اہمیت ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کی قدر کرنا ایمان کے تقاضوں میں سے ہے۔
لیکن اس داستان میں صرف رحمت ہی نہیں، ایک عظیم ذمہ داری بھی پوشیدہ ہے۔ حضرت ابراہیمؑ نے اپنی اولاد کو اس وادی میں آباد کرتے وقت نماز کا ذکر کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی جگہ کی حقیقی برکت صرف اس کے وسائل، پانی، تجارت یا آبادی میں نہیں، بلکہ اللہ کی بندگی میں ہے۔
ہم آج دنیا میں پانی کی فراوانی کے باوجود ناشکری کرتے ہیں۔ نل کھلا رہ جاتا ہے، پانی ضائع ہوتا ہے، نعمتیں بے قدری کا شکار ہوتی ہیں۔ دوسری طرف دنیا کے کئی علاقوں میں انسان پانی کی ایک بوند کے لیے تڑپتے ہیں۔ زمزم کا واقعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ نعمت ملنے پر تکبر نہیں، شکر پیدا ہونا چاہیے؛ آسائش ملنے پر غفلت نہیں، عبادت بڑھنی چاہیے؛ اور اپنی ضرورت پوری ہونے کے بعد دوسروں کی ضرورت سے بے خبر نہیں ہونا چاہیے۔
یہاں ایک اور بات سمجھنا ضروری ہے۔ حضرت ہاجرہؑ کے واقعے میں کسی قوم پر عذاب نازل ہونے کا ذکر نہیں، بلکہ یہ آزمائش، توکل، کوشش اور رحمت کی داستان ہے۔ ہر قرآنی یا اسلامی تاریخی واقعے میں عذاب کا پہلو تلاش کرنا ضروری نہیں۔ بعض واقعات اللہ کی رحمت اور اس کی حکمت کو نمایاں کرتے ہیں، اور زمزم کا واقعہ انہی میں سے ہے۔ اس سے ہمیں یہ بھی سبق ملتا ہے کہ دین کی تعلیمات کو بیان کرتے وقت واقعات میں اپنی طرف سے غیر ثابت شدہ تفصیلات یا ایسے نتائج شامل نہ کیے جائیں جو معتبر روایت سے ثابت نہیں۔
حضرت ہاجرہؑ کی زندگی ہمارے سامنے ماں کے مقام کی ایک روشن مثال بھی پیش کرتی ہے۔ انہوں نے تنہائی میں بچے کی پرورش کی، سخت حالات میں اس کی حفاظت کی اور اس کی زندگی کے لیے جدوجہد کی۔ ان کے پاس ظاہری وسائل بہت کم تھے، مگر انہوں نے مایوسی کو اپنے اوپر غالب نہیں آنے دیا۔
آج کتنے والدین ہیں جو اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہیں۔ کوئی معاشی پریشانی سے دوچار ہے، کوئی تعلیم کے اخراجات پورے نہیں کر پا رہا، کوئی اپنے بچوں کی دینی تربیت کے بارے میں پریشان ہے، اور کوئی ایسے ماحول میں رہتا ہے جہاں برائی کے راستے آسان اور نیکی کے راستے دشوار محسوس ہوتے ہیں۔ حضرت ہاجرہؑ کی داستان ایسے تمام والدین کو دعوت دیتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کے لیے دعا کریں، جائز اسباب اختیار کریں، اپنی ذمہ داری پوری کریں اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔
لیکن اس واقعے کو صرف ماؤں کے لیے نصیحت سمجھنا بھی درست نہیں۔ یہ ہر مسلمان کے لیے پیغام ہے۔ نوجوان اس سے محنت اور امید کا سبق لے سکتے ہیں۔ کاروباری افراد اس سے جائز جدوجہد اور اللہ پر بھروسے کا سبق حاصل کر سکتے ہیں۔ مشکلات میں گھرے ہوئے لوگ اس سے صبر سیکھ سکتے ہیں۔ اور اقتدار، دولت یا وسائل رکھنے والے افراد اس سے یہ جان سکتے ہیں کہ اللہ کے نزدیک اصل عزت ظاہری طاقت میں نہیں، بلکہ ایمان، اخلاص اور بندگی میں ہے۔
صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرتے ہوئے ہمیں اپنے دل سے یہ سوال کرنا چاہیے: کیا ہم نے اپنی زندگی میں کوشش کرنا چھوڑ تو نہیں دیا؟ کیا ہم نے دعا کو عمل سے الگ کر دیا ہے؟ کیا ہم کسی ایک ناکامی کے بعد یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ اب کامیابی کا کوئی راستہ باقی نہیں؟ کیا ہم دوسروں کے سامنے اپنی مشکلات کا ذکر تو کرتے ہیں، مگر اپنے رب کے سامنے عاجزی سے ہاتھ اٹھانا بھول گئے ہیں؟
اور جب ہم زمزم پیتے ہیں تو کیا ہمارے دل میں شکر پیدا ہوتا ہے؟ کیا ہم ان لوگوں کو یاد کرتے ہیں جو دنیا میں صاف پانی سے محروم ہیں؟ کیا ہم اپنی استطاعت کے مطابق ان کی مدد کرتے ہیں؟ کیا ہم اس نعمت کو اللہ کی نشانی سمجھ کر اس کے احکام کی پابندی کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟
عبادت کا حسن صرف مناسک کی ادائیگی میں نہیں، بلکہ ان مناسک سے پیدا ہونے والی تبدیلی میں بھی ہے۔ اگر صفا و مروہ کی سعی کے بعد ہماری زندگی سے کوشش، صبر اور توکل غائب رہیں تو ہمیں اپنے عمل کے مقصد پر غور کرنا چاہیے۔ اگر زمزم پینے کے باوجود ہمارے اندر شکر، عاجزی اور اللہ سے تعلق نہ بڑھے تو ہمیں اپنے دل کی کیفیت کا جائزہ لینا چاہیے۔
حضرت ہاجرہؑ نے ہمیں یہ نہیں سکھایا کہ مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے آنسو نہ بہاؤ۔ ان کی داستان تو ایک ماں کی بے قراری سے بھری ہوئی ہے۔ انہوں نے یہ سکھایا کہ آنسو بہانے کے باوجود ہمت قائم رکھی جا سکتی ہے؛ خوف محسوس ہونے کے باوجود اللہ پر بھروسا کیا جا سکتا ہے؛ راستہ معلوم نہ ہونے کے باوجود تلاش جاری رکھی جا سکتی ہے؛ اور ظاہری اسباب ختم ہو جانے کے باوجود امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔
زندگی میں کبھی ایسا وقت آتا ہے جب انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک بے آب و گیاہ وادی میں کھڑا ہے۔ نہ کوئی مددگار دکھائی دیتا ہے، نہ کوئی راستہ، نہ مستقبل کی کوئی واضح صورت۔ اس وقت حضرت ہاجرہؑ کو یاد کیجیے۔ اپنے رب پر بھروسا رکھیے، جائز کوشش جاری رکھیے، دعا کا دروازہ کھٹکھٹاتے رہیے اور اپنی ذمہ داری سے پیچھے نہ ہٹیے۔
مگر یہ بھی یاد رہے کہ اللہ پر توکل کا مطلب اپنی غلطیوں کی اصلاح سے انکار نہیں۔ اگر ہماری مشکلات گناہوں، ناانصافی، حرام کمائی، حقوق العباد کی پامالی یا فرائض سے غفلت کی وجہ سے پیدا ہوئی ہیں تو ہمیں سچی توبہ اور عملی اصلاح کی طرف بھی لوٹنا ہوگا۔ قرآن مجید ہمیں اللہ کی رحمت سے مایوس ہونے سے روکتا ہے، لیکن ساتھ ہی اس کی طرف رجوع کرنے اور اپنی زندگی درست کرنے کی دعوت بھی دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ۔
ترجمہ: ’’کہہ دیجیے: اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے! اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ بے شک اللہ تمام گناہ بخش دیتا ہے۔ یقیناً وہی بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ (الزمر: 53)
یہ آیت گناہوں پر اصرار کرنے کا جواز نہیں، بلکہ گناہوں سے پلٹ آنے کی امید ہے۔ اگر ہم نے نمازوں میں کوتاہی کی ہے تو نماز کی طرف لوٹ آئیں۔ اگر کسی کا حق مارا ہے تو حق ادا کریں۔ اگر کسی کا دل دکھایا ہے تو معافی مانگیں۔ اگر حرام راستوں سے رزق حاصل کیا ہے تو اس سے بچنے کا عزم کریں۔ اگر والدین، اولاد، شریکِ حیات یا رشتہ داروں کے حقوق میں کوتاہی کی ہے تو اپنی اصلاح کا آغاز کریں۔
اللہ کی رحمت پر امید رکھنے کا حقیقی مطلب یہ ہے کہ ہم اس کی طرف پلٹیں، اس کے احکام کو قبول کریں اور اپنی زندگی میں وہ تبدیلی لائیں جس کا تقاضا ہمارا ایمان کرتا ہے۔
حضرت ہاجرہؑ کی داستان کا اختتام کسی ویران وادی کی خاموشی پر نہیں ہوتا۔ یہ داستان ایک چشمے کی صورت میں جاری رہتی ہے، ایک عبادت کی صورت میں زندہ رہتی ہے، ایک شہر کی صورت میں آباد رہتی ہے، اور ہر اس انسان کے لیے امید بن جاتی ہے جو اپنی زندگی کی کسی مشکل میں اللہ کی مدد کا منتظر ہے۔
ایک ماں اپنے بچے کے لیے پانی تلاش کر رہی تھی۔ اسے معلوم نہ تھا کہ اس کی یہ کوشش قیامت تک لاکھوں انسانوں کی عبادت کا حصہ بن جائے گی۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ جس زمین پر وہ بے قراری سے دوڑ رہی ہے، ایک دن وہاں دنیا بھر کے مسلمان اس کے قدموں کے نشانوں کی یاد تازہ کریں گے۔ اسے صرف اتنا معلوم تھا کہ اس کے بچے کو پانی چاہیے، اور اسے اپنی پوری کوشش کرنی ہے۔
یہی اخلاص ہے: اپنی ذمہ داری پوری کرنا، نتیجے کو اللہ کے سپرد کرنا، اور اس کی رحمت سے امید قائم رکھنا۔
آئیے، آج ہم بھی اپنے دلوں میں امید کا چراغ روشن کریں۔ اپنی مشکلات کو اللہ سے دوری کا حتمی ثبوت نہ سمجھیں، مگر اپنی غفلت کو بھی معمولی نہ جانیں۔ کوشش کریں، دعا کریں، توبہ کریں، اپنے فرائض ادا کریں، لوگوں کے حقوق کا خیال رکھیں اور اللہ کی نعمتوں کی قدر کریں۔
اے اللہ! جس طرح تو نے حضرت ہاجرہؑ کی بے قراری کو اپنی رحمت سے سکون عطا فرمایا، ہماری پریشانیوں کو بھی اپنے فضل سے دور فرما۔ ہماری بے بسی میں ہماری مدد فرما، ہمارے خوف کو امن میں بدل دے، ہماری تنگیوں میں آسانی عطا فرما اور ہمیں مایوسی سے محفوظ رکھ۔
اے اللہ! ہمارے دلوں کو اپنے ذکر سے آباد فرما، ہماری اولاد کو ایمان، تقویٰ اور نیک اعمال کی توفیق عطا فرما، ہمارے گھروں میں نماز قائم فرما، ہمارے رزق کو حلال اور بابرکت بنا، اور ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والا بنا۔
اے ہمارے رب! ہمارے گناہوں کو معاف فرما، ہماری کوتاہیوں سے درگزر فرما، جن کے حقوق ہم نے پامال کیے ہیں ان کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرما، اور ہمیں سچی توبہ نصیب فرما۔ ہمارے دلوں سے تکبر، حسد، بغض، ریاکاری اور نافرمانی کو نکال دے۔ ہمیں ایسا ایمان عطا فرما جو مشکل میں بھی قائم رہے، ایسی امید عطا فرما جو آزمائش میں بھی زندہ رہے، اور ایسا توکل عطا فرما جو ہمیں جائز کوشش سے کبھی غافل نہ ہونے دے۔
اے اللہ! ہمیں اپنی رحمت سے محروم نہ فرما۔ ہماری دعاؤں کو قبول فرما، ہماری جائز حاجات پوری فرما، بیماروں کو شفا عطا فرما، پریشان حالوں کی پریشانیاں دور فرما، مقروضوں کے قرض ادا فرما، بے روزگاروں کے لیے حلال رزق کے دروازے کھول دے، اور دنیا بھر کے پیاسے، بھوکے، مظلوم اور بے سہارا انسانوں پر رحم فرما۔
اے اللہ! ہمیں اپنی طرف سچے دل سے پلٹنے والا بنا، ہمارے ظاہر و باطن کی اصلاح فرما، اور ہماری زندگی کا خاتمہ ایمان، مغفرت اور اپنی رضا پر فرما۔
رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ۔
ترجمہ: ’’اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اور اگر تو نے ہمیں نہ بخشا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو یقیناً ہم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔‘‘ (الأعراف: 23)
آمین یا رب العالمین۔
![]()

