داستان ایمان فروشوں کی

داستان ایمان فروشوں کی

قسط نمبر 4: صحرا کا جشن اور خطرناک جال

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )مصر کی سرزمین پر ایک ایسی سازش جنم لے رہی تھی، جس کے اثرات نہ صرف امارتِ مصر بلکہ پوری ملتِ اسلامیہ کے مستقبل کو بدل سکتے تھے۔

سلطان صلاح الدین ایوبی کے سامنے بیٹھے علی بن سفیان نے ناجی کی تخریب کاری کی داستان سنانا شروع کی۔

"امیرِ محترم! ناجی نے بڑے بڑے عہدیداروں کو اپنے ہاتھ میں لے رکھا ہے۔ انتظامیہ میں وہ اپنی مرضی چلاتا ہے۔ رہی بات اس سوڈانی فوج کی، جس کا وہ سپہ سالار ہے، تو وہ ہماری نہیں، ناجی کی وفادار ہے۔ کیا آپ نے اس خطرے کا کوئی علاج سوچا ہے؟”

سلطان کے چہرے پر ایک پُراعتماد مسکراہٹ نمودار ہوئی۔

"صرف سوچا نہیں، بن سفیان! علاج شروع بھی کر چکا ہوں۔ مصر سے جو سپاہی بھرتی کیے جا رہے ہیں، انہیں سوڈانی محافظوں میں شامل کر دوں گا۔ پھر یہ فوج نہ مکمل سوڈانی رہے گی، نہ مصری۔ ناجی کی طاقت بکھر کر ہماری فوج میں جذب ہو جائے گی۔ میں اسے اس کے اصل مقام پر واپس لے آؤں گا۔”

علی بن سفیان نے قدرے جھک کر کہا:

"اور میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ناجی نے صلیبیوں سے بھی گٹھ جوڑ کر رکھا ہے۔ آپ ملتِ اسلامیہ کو ایک مضبوط مرکز میں متحد کرنا چاہتے ہیں، لیکن ناجی آپ کے خوابوں کو دیوانے کا خواب بنانے پر تلا ہوا ہے۔”

سلطان نے تیز نظروں سے اسے دیکھا۔

"تم اس سلسلے میں کیا کر رہے ہو؟”

علی کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔

"یہ مجھ پر چھوڑ دیجیے۔ میں جو کچھ کروں گا، آپ کو وقتاً فوقتاً بتاتا رہوں گا۔ آپ مطمئن رہیں۔ میں نے ناجی کے گرد جاسوسوں کی ایسی دیوار کھڑی کر دی ہے جس کی آنکھیں بھی ہیں اور کان بھی۔ اور یہ دیوار ساکن نہیں، ہر وقت حرکت میں رہتی ہے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ میں نے اسے اپنے جاسوسی کے قلعے میں قید کر لیا ہے۔”

سلطان صلاح الدین ایوبی کو علی بن سفیان پر اس قدر اعتماد تھا کہ اس نے اس کی خفیہ کارروائیوں کی تفصیل دریافت کرنا بھی ضروری نہ سمجھا۔

کچھ دیر بعد علی نے ایک اور اہم بات چھیڑی۔

"معلوم ہوا ہے کہ ناجی آپ کو ایک جشن میں مدعو کرنا چاہتا ہے۔ اگر یہ خبر درست ہے تو میری گزارش ہے کہ آپ اس کی دعوت اسی وقت قبول کریں جب میں آپ کو کہوں۔”

سلطان اٹھ کھڑا ہوا۔ اس نے ہاتھ پشت پر باندھے اور خیمے میں ٹہلنے لگا۔ اچانک اس کے سینے سے ایک گہری آہ نکلی۔ وہ رک گیا اور دھیمی آواز میں بولا:

"بن سفیان! زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ بے مقصد زندگی سے بہتر تو یہ ہے کہ انسان پیدا ہوتے ہی مر جائے۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں، وہ لوگ کتنے خوش نصیب ہیں جن کی قومی حس مر چکی ہے، جن کا کوئی کردار نہیں۔ وہ بے فکری سے جیتے ہیں اور اپنی ہی عیاشیوں میں مر جاتے ہیں۔”

علی نے فوراً جواب دیا:

"وہ خوش نصیب نہیں، بدقسمت ہیں، امیرِ محترم!”

سلطان نے سر اٹھایا۔

"ہاں، بن سفیان! جب میں انہیں خوش نصیب کہتا ہوں تو تمہاری یہی بات میرے کانوں میں گونجتی ہے۔ لیکن سوچتا ہوں، اگر ہم نے تاریخ کا دھارا اس موڑ پر نہ بدلا تو ملتِ اسلامیہ صحراؤں اور وادیوں میں گم ہو جائے گی۔ خلافت تین حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ امیر اپنی من مانیاں کر رہے ہیں اور صلیبیوں کے آلۂ کار بنتے جا رہے ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ اگر مسلمان زندہ بھی رہے تو ہمیشہ صلیبیوں کے غلام بن کر رہیں گے۔ وہ اپنی زندگی پر خوش ہوں گے، مگر قوم کی حیثیت سے مردہ ہوں گے۔”

اس نے سامنے پڑا نقشہ اٹھایا۔

"ذرا دیکھو، علی! آدھی صدی میں ہماری سلطنت کا نقشہ کتنا سکڑ کر رہ گیا ہے!”

خیمے میں خاموشی چھا گئی۔

پھر سلطان کی آواز گونجی:

"جب تباہی اندر سے اٹھے تو اسے روکنا محال ہو جاتا ہے۔ اگر ہماری خلافتوں اور امارتوں کا یہی حال رہا تو صلیبیوں کو ہم پر حملہ کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔ ہم اپنی قومیت، اپنا کردار اور اپنا ایمان خود اس آگ میں جلا رہے ہیں، جس میں صلیبی آہستہ آہستہ تیل ڈالتے رہیں گے۔ ان کی سازشیں ہمیں آپس میں لڑاتی رہیں گی۔”

سلطان کی آواز میں درد تھا، مگر عزم ابھی زندہ تھا۔

"شاید میں اپنا مقصد پورا نہ کر سکوں۔ شاید صلیبیوں سے شکست بھی کھا جاؤں۔ لیکن میں قوم کے نام ایک وصیت ضرور چھوڑنا چاہتا ہوں: کسی غیر مسلم پر کبھی بھروسہ نہ کرنا۔ اگر ان کے خلاف لڑنا پڑے تو لڑ کر مر جانا، مگر اپنی قوم کے مفاد کو قربان نہ کرنا!”

علی بن سفیان نے غور سے سلطان کو دیکھا۔

"آپ کے لہجے سے محسوس ہوتا ہے جیسے آپ اپنے عزم سے مایوس ہو گئے ہیں۔”

سلطان نے فوراً جواب دیا:

"مایوس نہیں، جذباتی ہوں، علی!”

پھر اس کی آواز میں حکم کی گھن گرج پیدا ہو گئی۔

"متعلقہ شعبے تک میرا حکم پہنچاؤ۔ بھرتی کا عمل تیز کر دو۔ ایسے سپاہی زیادہ سے زیادہ شامل کرو جنہیں جنگ و جدل کا پہلے سے تجربہ ہو۔ ہمارے پاس طویل تربیت کا وقت نہیں۔ بھرتی ہونے والوں کے لیے مسلمان ہونا لازمی قرار دو۔”

سلطان کچھ دیر رکا، پھر بولا:

"اور اپنے لیے ذہن نشین کر لو کہ ایسے جاسوسوں کا دستہ تیار کرنا ہے جو دشمن کے علاقے میں جا کر جاسوسی بھی کرے اور ضرورت پڑنے پر شب خون بھی مار سکے۔ انہیں خصوصی تربیت دو۔ ان میں اونٹ جیسی صحرائی برداشت، عقاب جیسی تیز نگاہ، صحرائی لومڑی جیسی چالاکی اور چیتے جیسی پھرتی پیدا کرو۔”

اس کی آنکھوں میں ایک نئے لشکر کا تصور ابھر آیا۔

"ان میں شراب اور حشیش کی عادت نہ ہو۔ ان کا کردار مضبوط ہو، ان کا عزم غیر متزلزل ہو اور وہ دشمن کے سامنے فولاد ثابت ہوں۔ بھرتی تیز کراؤ، علی بن سفیان!”

پھر سلطان نے آخری بات پر زور دیا:

"اور یاد رکھو، میں ہجوم کا قائل نہیں۔ مجھے ایسے لڑنے والے چاہییں جن کی تعداد کم ہو تو بھی ان کے دلوں میں قومی جذبہ ہو۔ وہ میرے عزم کو سمجھتے ہوں۔ کسی کے دل میں یہ شبہ نہ ہو کہ اسے کیوں لڑایا جا رہا ہے!”

—

دس دن بعد: ایک نئی فوج

اگلے دس دنوں میں امارتِ مصر کی فوج میں ہزاروں تربیت یافتہ سپاہی شامل ہو گئے۔

سلطان کی حکمتِ عملی کے تحت نئے سپاہیوں کو پرانے سوڈانی محافظوں میں شامل کیا جانے لگا۔ ناجی کی طاقت، جس پر اسے ناز تھا، اب آہستہ آہستہ کمزور ہو رہی تھی۔

مگر ناجی بھی خاموش نہیں بیٹھا تھا۔

اس نے اپنی ایک اور خطرناک چال تیار کر رکھی تھی۔

زکوئی!

مراکش سے تعلق رکھنے والی یہ حسین لڑکی ناجی کے منصوبے کا اہم ترین حصہ تھی۔ ناجی نے اسے کئی دن تک تربیت دی تھی کہ وہ سلطان صلاح الدین ایوبی کو کس طرح اپنی باتوں، اپنی دلکشی اور اپنی چالاکیوں کے ذریعے متاثر کر سکتی ہے۔

ناجی کے ہمراز دوستوں نے جب زکوئی کو دیکھا تو حیرت سے کہنے لگے:

"اگر مصر کے فرعون بھی اسے دیکھ لیتے تو شاید خدائی کے دعوے بھول جاتے!”

ناجی کے پاس اپنا جاسوسی کا نظام بھی تھا۔ وہ معلوم کر چکا تھا کہ علی بن سفیان سلطان کا خاص مشیر اور عرب کا مشہور سراغ رساں ہے۔ اس نے علی کے تعاقب میں جاسوس لگا دیے تھے، حتیٰ کہ اسے قتل کرنے کا منصوبہ بھی تیار کر لیا تھا۔

لیکن ناجی ایک بات سے بے خبر تھا۔

جس لڑکی کو وہ سلطان کے لیے جال بنا کر لایا تھا، وہ خود اس کے اعصاب پر چھاتی جا رہی تھی۔

زکوئی کی گفتگو میں ایسی کشش تھی کہ ناجی اپنی دوسری منظورِ نظر لڑکیوں کو بھول بیٹھا۔ کئی راتوں سے اس نے ان دونوں کو اپنے کمرے میں بھی نہیں بلایا تھا۔

دونوں لڑکیوں کے لیے یہ ناقابلِ برداشت تھا۔

وہ سمجھتی تھیں کہ ناجی ان کے لیے سونے کے انڈے دینے والی مرغی تھا، جو اب ان کی آغوش سے نکل کر زکوئی کے قریب جا چکا ہے۔

جلد ہی حسد نے سازش کی شکل اختیار کر لی۔

انہوں نے زکوئی کو راستے سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا۔

مگر یہ کام آسان نہ تھا۔ زکوئی کے کمرے کے باہر دو محافظ تعینات تھے، اور دونوں لڑکیاں بھی ناجی کے دیے ہوئے مکان سے اس کی اجازت کے بغیر باہر نہیں نکل سکتی تھیں۔

آخرکار انہوں نے حرم کی ایک نوکرانی کو اپنے اعتماد میں لینا شروع کیا۔

ان کا منصوبہ تھا کہ نوکرانی کے ذریعے زکوئی کو زہر دے دیا جائے۔

مگر انہیں معلوم نہیں تھا کہ ناجی کے محل میں صرف ایک ہی سازش نہیں چل رہی تھی۔

—

سلطان کے محافظ بدل دیے گئے

ادھر علی بن سفیان نے سلطان صلاح الدین ایوبی کے محافظ دستے میں ایک اہم تبدیلی کر دی۔

پرانے محافظوں کی جگہ نئے بھرتی ہونے والے جانبازوں میں سے ایک منتخب دستہ تیار کیا گیا۔ یہ سپاہی جنگی مہارت رکھتے تھے اور ان کے دلوں میں اسلامی جذبہ بھی بیدار کیا جا رہا تھا۔

ناجی کو یہ تبدیلی سخت ناگوار گزری۔

لیکن سلطان کے سامنے اس نے نہایت خوش دلی سے اس اقدام کی تعریف کی۔

"امیرِ محترم! آپ کے محافظوں میں یہ تبدیلی یقیناً بہت مفید ثابت ہوگی۔”

پھر اس نے موقع پا کر اپنی دعوت کا ذکر چھیڑ دیا۔

"اگر آپ میری دعوت قبول فرما لیں تو یہ میرے لیے باعثِ فخر ہوگا۔”

سلطان نے اسے غور سے دیکھا۔

"میں آدھے دن میں تمہیں بتا دوں گا کہ کب آ سکتا ہوں۔”

ناجی رخصت ہو گیا۔

اس کے جاتے ہی سلطان نے علی بن سفیان کو بلایا۔

"اب بتاؤ، اس دعوت پر کب جانا مناسب ہوگا؟”

علی نے مختصر جواب دیا:

"اب آپ کسی بھی روز اس کی دعوت قبول کر سکتے ہیں۔”

اگلے دن سلطان نے ناجی کو پیغام بھجوایا:

"میں کسی بھی رات تمہاری دعوت پر آ سکتا ہوں۔”

ناجی نے فوراً تین دن بعد کا وقت مقرر کیا۔

"یہ دعوت کم اور جشن زیادہ ہوگا، امیرِ محترم! شہر سے دور صحرا میں مشعلوں کی روشنی میں جشن منایا جائے گا۔ گھڑ سوار اپنے کرتب دکھائیں گے، شمشیر زنی اور بغیر ہتھیاروں کے مقابلے ہوں گے۔ ناچ گانے کا بھی انتظام ہوگا۔ آپ کے قیام کے لیے الگ خیمہ نصب کیا جائے گا، اور آپ کو رات وہیں بسر کرنا ہوگی۔”

سلطان خاموشی سے سنتا رہا۔

ناجی نے کچھ جھجکتے ہوئے آخری بات کہی:

"فوج کے بعض سپاہی مسلمان نہیں، یا ابھی پوری طرح مسلمان نہیں ہوئے۔ ان میں سے کچھ کبھی کبھار شراب پیتے ہیں۔ وہ جشن کی رات شراب پینے کی اجازت چاہتے ہیں۔”

سلطان نے سنجیدگی سے جواب دیا:

"آپ ان کے کمانڈر ہیں۔ اگر مناسب سمجھیں تو اجازت دے دیں۔ میں آپ پر اپنا حکم مسلط نہیں کرنا چاہتا۔”

ناجی نے فوراً عاجزی اختیار کی۔

"سلطان صلاح الدین ایوبی کا اقبال بلند ہو! میں کون ہوتا ہوں اس کام کی اجازت دینے والا جسے آپ سخت ناپسند کریں؟”

سلطان نے قدرے توقف کے بعد کہا:

"انہیں اجازت دے دو کہ جشن کی رات ہنگامہ آرائی اور بدکاری کے سوا سب کچھ کر سکتے ہیں۔ اگر کسی نے شراب پی کر شور شرابا کیا تو اسے سخت سزا دی جائے گی۔”

ناجی کے چہرے پر اطمینان پھیل گیا۔

مگر اسے کیا معلوم تھا کہ سلطان کا یہ فیصلہ کسی کمزوری کی علامت نہیں، بلکہ ایک گہری حکمتِ عملی کا حصہ تھا۔

—

فوج میں پھیلتی ہوئی سرگوشیاں

جب یہ خبر سلطان کے سپاہیوں تک پہنچی کہ ناجی امیرِ مصر کے اعزاز میں ایک عظیم جشن منعقد کر رہا ہے، جس میں ناچ گانا اور شراب بھی ہوگی، اور سلطان نے اس دعوت کو قبول بھی کر لیا ہے، تو فوج میں حیرت کی لہر دوڑ گئی۔

کسی نے کہا:

"ناجی جھوٹ بول رہا ہے۔ وہ دوسروں پر اپنا رعب ڈالنا چاہتا ہے۔”

دوسرے نے سرگوشی کی:

"لگتا ہے ناجی کا داؤ سلطان پر بھی چل گیا!”

ناجی کے ہم نوا افسر اس خبر سے خاصے خوش تھے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے مصر کا انتظام سنبھالتے ہی ان کی عیش و عشرت، شراب نوشی اور بدکاری پر سخت پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ اب انہیں امید تھی کہ شاید نیا امیر بھی ان کی رنگینیوں کا حصہ بن جائے گا۔

لیکن پوری فوج میں صرف ایک شخص تھا جو حقیقت جانتا تھا۔

علی بن سفیان!

وہ جانتا تھا کہ سلطان نے جشن کی اجازت کیوں دی ہے۔

اور وہ یہ بھی جانتا تھا کہ صحرا کی اس رات میں صرف مشعلیں روشن نہیں ہوں گی، بلکہ کئی چھپے ہوئے راز بھی سامنے آنے والے تھے۔

—

جشن کی رات

آخرکار وہ شام آ پہنچی۔

چاندنی رات تھی۔ صحرا کی شفاف فضا میں ریت کے ذرے بھی چمک رہے تھے۔ ہزاروں مشعلوں نے وسیع میدان کو دن کی طرح روشن کر دیا تھا۔

میدان کے گرد باڈی گارڈز کا ہجوم دیوار کی مانند کھڑا تھا۔ ایک جانب سلطان صلاح الدین ایوبی کے لیے شاندار مسند بچھائی گئی تھی، جسے دیکھ کر یوں لگتا تھا جیسے کسی عظیم بادشاہ کا دربار سجایا گیا ہو۔ دائیں بائیں بڑے مہمانوں کے لیے نشستیں تھیں۔

تماش گاہ سے کچھ فاصلے پر مہمانوں کے لیے خوب صورت خیمے نصب تھے، جبکہ ایک الگ اور نہایت شاندار خیمہ سلطان کے قیام کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

علی بن سفیان سورج غروب ہونے سے پہلے ہی وہاں پہنچ چکا تھا۔ اس نے سلطان کے خیمے کے گرد اپنے منتخب محافظ تعینات کر دیے تھے۔

مگر اسی وقت ناجی ایک دوسرے خیمے میں زکوئی کو آخری ہدایات دے رہا تھا۔

زکوئی آج پہلے سے کہیں زیادہ دلکش دکھائی دے رہی تھی۔ اس کے لباس، خوشبو اور انداز میں ایسی کشش تھی جو کسی بھی کمزور ارادے والے شخص کو متاثر کر سکتی تھی۔

ناجی نے اسے سر سے پاؤں تک دیکھا اور بولا:

"ممکن ہے سلطان صلاح الدین ایوبی تمہاری ظاہری دلکشی سے متاثر نہ ہو۔ ایسی صورت میں اپنی زبان کا استعمال کرنا۔ وہ تمام باتیں یاد رکھنا جو میں نے تمہیں سکھائی ہیں۔”

زکوئی خاموشی سے مسکراتی رہی۔

ناجی نے مزید کہا:

"اسے اپنے قدموں میں بٹھا لینا۔ اسے یقین دلا دینا کہ تم اس کے لیے خاص ہو۔ یاد رکھو، تمہارا مقصد صرف اسے متاثر کرنا نہیں، بلکہ اس کی شخصیت اور کردار کو کمزور کرنا ہے۔”

زکوئی نے سر ہلایا۔

ناجی کو یقین تھا کہ اس کا منصوبہ کامیاب ہوگا۔

لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ زکوئی کے دل و دماغ میں اب اس کی اپنی مرضی سے زیادہ کچھ اور بھی حرکت کر رہا ہے۔

—

امیرِ مصر کی آمد

سورج غروب ہو چکا تھا۔ مشعلیں روشن تھیں کہ اچانک دور سے گھوڑوں کی ٹاپوں کی آواز سنائی دی۔

سلطان صلاح الدین ایوبی اپنے گھوڑے پر سوار میدان میں داخل ہوا۔ اس کے آگے، پیچھے اور دونوں جانب علی بن سفیان کے منتخب محافظ سوار تھے۔

سلطان کے خیمے کے گرد پہلے ہی دس جانباز محافظ تعینات کیے جا چکے تھے۔

دف کی آواز بلند ہوئی۔

"امیرِ مصر، سلطان صلاح الدین ایوبی زندہ باد!”

نعروں سے صحرا گونج اٹھا۔

ناجی آگے بڑھا اور جھک کر استقبال کیا۔

"عظمتِ اسلام کے پاسبان! آپ کے جانثار آپ کو بسروچشم خوش آمدید کہتے ہیں۔ یہ سپاہی آپ کے اشارے پر جان قربان کرنے کو تیار ہیں!”

وہ خوشامد کے ہر ممکن لفظ کو استعمال کر رہا تھا۔

سلطان نے خاموشی سے اسے دیکھا اور اپنی شاہانہ نشست پر جا بیٹھا۔

اسی لمحے میدان کے دوسرے سرے سے گھوڑوں کی تیز ٹاپیں سنائی دیں۔

چار گھوڑے دائیں جانب سے اور چار بائیں جانب سے میدان میں داخل ہوئے۔ ہر گھوڑے پر ایک سوار تھا۔ ان کے ہاتھوں میں کوئی ہتھیار نہیں تھا۔

دونوں گروہ ایک دوسرے کی طرف بڑھ رہے تھے۔

تماشائیوں کو یوں محسوس ہوا جیسے گھوڑے آپس میں ٹکرا جائیں گے۔

مگر عین آخری لمحے سواروں نے رکابوں میں پاؤں جما لیے، لگامیں ایک ایک ہاتھ میں تھام لیں اور اپنے دوسرے بازو پھیلا دیے۔

اگلے ہی لمحے دونوں گروہ ایک دوسرے سے الجھ گئے!

کسی نے مخالف سوار کو پکڑنے کی کوشش کی، کسی نے اسے گھوڑے سے گرانا چاہا۔ گھوڑے میدان سے آگے نکل گئے تو دو سوار ریت پر گرے اور قلابازیاں کھانے لگے۔

ایک سوار نے مخالف کو بازوؤں میں جکڑ لیا، اسے گھوڑے سے اٹھایا اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ لے گیا۔

تماشائیوں کا شور آسمان تک پہنچ رہا تھا۔

پھر ایک مقابلہ ختم ہوا، دوسرا شروع ہو گیا۔

کبھی چار گھوڑے دائیں سے آتے، کبھی چار بائیں سے۔ اس طرح کئی مقابلے ہوئے۔ اس کے بعد شتر سوار میدان میں اترے۔ گھوڑوں اور اونٹوں پر سوار جانبازوں نے ایسے کرتب دکھائے کہ ہر طرف حیرت کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔

پھر شمشیر زنی کے مظاہرے شروع ہوئے۔

فولاد کی چمک، تلواروں کی جھنکار اور جانبازوں کی للکار نے صحرا کی فضا بدل دی۔ بغیر ہتھیاروں کے لڑائی کے مقابلوں میں بھی کئی سپاہی زخمی ہوئے۔

سلطان صلاح الدین ایوبی کی نظریں میدان پر جمی ہوئی تھیں۔

وہ بہادری کے ان مظاہروں میں اس قدر محو ہو گیا کہ کچھ دیر کے لیے جیسے باقی دنیا بھول گیا۔

پھر اس نے علی بن سفیان کو قریب بلایا اور دھیمی آواز میں کہا:

"اگر اس فوج میں اسلامی جذبہ بھی پیدا ہو جائے تو میں اسی فوج کے ذریعے صلیبیوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکتا ہوں!”

علی نے سلطان کی طرف دیکھا، مگر کچھ نہ بولا۔

کیونکہ اس کی نگاہیں میدان سے زیادہ ان لوگوں کو دیکھ رہی تھیں جو مشعلوں کے سائے میں کھڑے تھے۔

وہ جانتا تھا کہ یہ جشن صرف بہادری کے مظاہروں کے لیے نہیں سجایا گیا۔

کہیں نہ کہیں، اسی روشن میدان کے درمیان، ایک خطرناک جال بچھایا جا چکا تھا۔

اور اس جال کا اگلا شکار کون ہوگا؟

سلطان صلاح الدین ایوبی۔۔۔ یا خود ناجی؟

جاری ہے۔۔۔

اگلی قسط میں

جشن اپنے عروج پر پہنچے گا، مگر مشعلوں کی روشنی میں ایک ایسی چال چلی جائے گی جس کا اندازہ کسی کو نہ ہوگا۔ زکوئی سلطان کے قریب پہنچے گی، جبکہ علی بن سفیان کے جاسوس ایک خطرناک راز تک پہنچنے والے ہوں گے۔

کیا ناجی کا منصوبہ کامیاب ہوگا؟

کیا زکوئی سلطان کے ارادے کو بدل سکے گی؟

یا پھر اس رات ناجی کے اپنے قلعے میں پہلی دراڑ پڑے گی؟

جاری ہے

Loading