جمعہ کے دن درودِ پاک پڑھنے کے فضائل و برکات
قرآن و سنت کی روشنی میں ایک جامع و تحقیقی مضمون
مرتب اشفاق احمد کھوکھر عظیمی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ جمعہ کے دن درودِ پاک پڑھنے کے فضائل و برکات۔۔۔ مرتب اشفاق احمد کھوکھر عظیمی)جمعہ کا دن اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ عظیم نعمتوں میں سے ایک ہے۔ یہ دن مسلمانوں کے لیے عبادت، ذکرِ الٰہی، توبہ و استغفار، دعا اور قربِ الٰہی حاصل کرنے کا خصوصی موقع فراہم کرتا ہے۔ اس مبارک دن کی ایک نہایت اہم عبادت نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر کثرت سے درود و سلام بھیجنا ہے۔ درودِ پاک محض چند کلمات کی تکرار نہیں، بلکہ یہ محبتِ رسول ﷺ کا اظہار، اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل، ایمان کی تازگی اور روحانی تعلق کی مضبوطی کا ذریعہ ہے۔
اسلامی تعلیمات میں درود شریف کی فضیلت عام حالات میں بھی مسلم ہے، لیکن جمعہ کے دن اس کی خصوصی ترغیب احادیثِ مبارکہ میں بیان ہوئی ہے۔ اسی لیے اہلِ علم نے جمعہ کے دن درود و سلام کی کثرت کو ایک مستحسن اور باعثِ اجر عمل قرار دیا ہے۔ اس مضمون میں قرآنِ مجید، احادیثِ نبویہ، شروحِ حدیث اور معتبر اسلامی علمی روایت کی روشنی میں اس موضوع کا تفصیلی جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔
1۔ درودِ پاک کا قرآنی حکم
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا:
اِنَّ اللّٰهَ وَمَلٰٓئِكَتَهٗ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّۚ يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا۔
ترجمہ: بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود بھیجو اور خوب سلام بھیجو۔
(سورۃ الاحزاب، 33:56)
یہ آیتِ مبارکہ درود و سلام کی عظمت اور دینی حیثیت کی بنیادی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے اپنی شان کے مطابق نبی کریم ﷺ پر صلوٰۃ کا ذکر فرمایا، پھر فرشتوں کی صلوٰۃ بیان کی اور اس کے بعد اہلِ ایمان کو درود و سلام بھیجنے کا حکم دیا۔
مفسرین نے واضح کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صلوٰۃ کا مفہوم نبی کریم ﷺ پر رحمت فرمانا، آپ کی شان کو بلند فرمانا اور آپ کی مدح و ثنا فرمانا ہے، جب کہ فرشتوں اور اہلِ ایمان کی صلوٰۃ کے معانی اپنے اپنے مقام کے مطابق دعا، تعظیم اور اللہ تعالیٰ سے آپ ﷺ کے لیے رحمت و رفعت کی درخواست کرنا ہیں۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ درودِ پاک محض ایک نفلی معمول کی حیثیت نہیں رکھتا، بلکہ قرآنِ کریم میں اس کا واضح حکم موجود ہے۔ البتہ اس حکم کی تعمیل کے ساتھ جمعہ کے دن کثرتِ درود کی خصوصی فضیلت احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہوتی ہے۔
2۔ جمعہ کے دن درودِ پاک کی خصوصی تاکید
حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيهِ، فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ۔
ترجمہ: تمہارے بہترین دنوں میں سے جمعہ کا دن ہے، لہٰذا اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو، کیونکہ تمہارا درود میرے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔
حوالہ: سنن ابی داؤد، کتاب الصلاۃ، حدیث 1047؛ سنن نسائی، کتاب الجمعۃ، حدیث 1374۔
یہ حدیث جمعہ کے دن درودِ پاک کی خصوصی فضیلت پر نہایت واضح دلیل ہے۔ اس میں رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کے دن کو اپنے بہترین دنوں میں شمار فرمایا اور اہلِ ایمان کو اس دن کثرت سے درود بھیجنے کی ترغیب دی۔
حدیث کے الفاظ فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيهِ خصوصی توجہ کے مستحق ہیں۔ ان کا مفہوم یہ ہے کہ جمعہ کے دن درودِ پاک کی مقدار بڑھائی جائے اور اس مبارک دن کو ذکرِ رسول ﷺ کے ساتھ آباد رکھا جائے۔
اس فرمان سے چند اہم باتیں سامنے آتی ہیں:
-
جمعہ کے دن درودِ پاک کی خصوصی فضیلت ہے۔
-
اس دن درود شریف کی کثرت کی صریح ترغیب دی گئی ہے۔
-
درود بھیجنا رسول اللہ ﷺ سے محبت اور آپ کے حقِ نبوت کے اعتراف کا ایک اہم اظہار ہے۔
-
مسلمان کو چاہیے کہ جمعہ کے دن اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر درود و سلام کا اہتمام کرے۔
یہ عمل کسی ایک وقت یا مقام تک محدود نہیں۔ مسلمان اپنی سہولت کے مطابق گھر، مسجد، سفر یا دوسری جائز مصروفیات کے دوران درود شریف پڑھ سکتا ہے، بشرطیکہ دوسرے فرائض اور حقوق متاثر نہ ہوں۔
3۔ ایک مرتبہ درود پڑھنے پر دس رحمتوں کی بشارت
درودِ پاک کی فضیلت صرف جمعہ کے دن تک محدود نہیں، بلکہ ہر وقت اس کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
مَنْ صَلَّى عَلَيَّ وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا۔
ترجمہ: جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔
حوالہ: صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ، حدیث 408۔
یہ حدیث درود شریف کے عظیم اجر کو واضح کرتی ہے۔ ایک بندہ اپنے محبوب نبی ﷺ پر درود بھیجتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اس بندے پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ یہ رحمتیں اللہ تعالیٰ کی شان اور حکمت کے مطابق ہیں، اس لیے ان کی کیفیت کا تعین اپنی طرف سے نہیں کرنا چاہیے۔
جب ایک مرتبہ درود پڑھنے پر اتنا اجر بیان ہوا ہے تو جمعہ جیسے مبارک دن میں کثرت سے درود پڑھنے کی اہمیت مزید نمایاں ہو جاتی ہے۔ تاہم یہ بات یاد رہنی چاہیے کہ اس حدیث میں دس رحمتوں کی بشارت عام درود کے لیے ہے، جب کہ جمعہ کے دن کثرتِ درود کی خصوصی تاکید الگ حدیث سے ثابت ہے۔
درود شریف پڑھنے والا دراصل اپنے لیے رحمتِ الٰہی کی دعا کرتا ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ پر درود بھیجنا اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل اور اس کے محبوب رسول ﷺ سے تعلق کے اظہار کا ذریعہ ہے۔
4۔ درودِ پاک کا رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا جانا
جمعہ کے دن درود شریف پڑھنے کی ایک اہم فضیلت یہ ہے کہ حدیثِ مبارکہ میں اس کے رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیے جانے کا ذکر ہے۔
حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ کی مذکورہ روایت میں الفاظ ہیں:
فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ۔
ترجمہ: بے شک تمہارا درود میرے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔
اس فرمان میں اہلِ ایمان کے لیے بڑی بشارت ہے۔ ایک مسلمان دنیا کے کسی بھی حصے میں ہو، جب وہ جمعہ کے دن رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجتا ہے تو حدیث کے مطابق اس کا درود آپ ﷺ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔
یہاں ایک علمی نکتہ قابلِ توجہ ہے۔ درود کے پیش کیے جانے کی کیفیت اور اس کی تفصیلات غیب سے تعلق رکھتی ہیں۔ ہم اتنا ہی بیان کریں گے جتنا رسول اللہ ﷺ نے خبر دی ہے۔ اس کی کیفیت کے بارے میں بلا دلیل تفصیلات متعین کرنا مناسب نہیں۔
اس عقیدے سے مسلمان کے دل میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ درود شریف محض زبان سے ادا کیے جانے والے الفاظ نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کی فضیلت خود رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائی ہے۔ یہی احساس انسان کو اخلاص، محبت اور ادب کے ساتھ درود پڑھنے کی طرف مائل کرتا ہے۔
5۔ جمعہ کے دن درود پڑھنا محبتِ رسول ﷺ کا اظہار ہے
محبت ایک قلبی کیفیت ہے، لیکن سچی محبت کا اثر انسان کے قول و عمل میں بھی ظاہر ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ آپ کی تعلیمات کو اہمیت دی جائے، آپ کی سنت کی پیروی کی جائے، آپ کے اخلاق کو اپنایا جائے اور آپ پر درود و سلام بھیجا جائے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا:
قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُونِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ۔
ترجمہ: فرما دیجیے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت فرمائے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔
(سورۃ آل عمران، 3:31)
یہ آیت بنیادی طور پر اتباعِ رسول ﷺ کے ذریعے محبتِ الٰہی کے حصول کی تعلیم دیتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ محبتِ رسول ﷺ کو محض دعوے تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اس کا حقیقی اظہار اتباعِ سنت، اطاعت، حسنِ اخلاق اور نیک اعمال کے ذریعے ہونا چاہیے۔
درود شریف اس محبت کے اظہار کا ایک بابرکت ذریعہ ہے۔ جمعہ کے دن جب مسلمان شعوری طور پر کثرت سے درود پڑھتا ہے تو وہ اپنے دل میں رسول اللہ ﷺ کی یاد تازہ کرتا اور آپ کی تعلیمات سے اپنے تعلق کو مضبوط کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
البتہ درود شریف کی کثرت کے ساتھ آپ ﷺ کی سنت پر عمل بھی ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص زبان سے درود تو بہت پڑھتا ہو لیکن دوسروں کے حقوق پامال کرتا، جھوٹ بولتا یا ظلم کرتا ہو تو اسے اپنے کردار کی اصلاح بھی کرنی چاہیے۔ حقیقی محبت وہ ہے جو انسان کو نیکی، امانت، عدل اور رحم دلی کی طرف لے جائے۔
6۔ درودِ پاک اور قربِ نبوی ﷺ
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
أَوْلَى النَّاسِ بِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرُهُمْ عَلَيَّ صَلَاةً۔
ترجمہ: قیامت کے دن میرے سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہوں گے جو مجھ پر سب سے زیادہ درود بھیجتے ہیں۔
حوالہ: جامع ترمذی، ابواب الوتر، حدیث 484۔
یہ حدیث درود شریف کی کثرت کے ایک نہایت عظیم روحانی اور اخروی ثمرے کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ قیامت کا دن وہ دن ہوگا جب انسان اپنے اعمال کے نتائج سے دوچار ہوگا اور ہر شخص اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مغفرت کا محتاج ہوگا۔
اس دن رسول اللہ ﷺ کے قرب کی بشارت کسی معمولی فضیلت کا نام نہیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ درود شریف کی کثرت ایک ایسا عمل ہے جس کی اہمیت آخرت میں بھی ظاہر ہوگی۔
یہاں یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ حدیث کسی خاص تعداد کو لازم قرار نہیں دیتی۔ اس میں کثرت کی ترغیب ہے۔ لہٰذا ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق درود شریف پڑھے، مگر اس عمل کو محض گنتی تک محدود نہ کرے۔ اس کے ساتھ اخلاص، اتباعِ سنت، فرائض کی پابندی اور حقوق العباد کی ادائیگی بھی ضروری ہے۔
7۔ جمعہ کے دن درود و سلام اور ذکرِ الٰہی کا تعلق
جمعہ کے دن درود شریف پڑھنا ذکرِ الٰہی سے الگ کوئی مستقل روحانی نظام نہیں، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل اور رسول اللہ ﷺ کے مقام و مرتبے کے اعتراف کا حصہ ہے۔
قرآنِ مجید میں جمعہ کی نماز کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل کو تلاش کرنے اور اس کا ذکر کثرت سے کرنے کی ترغیب دی گئی ہے:
فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۔
ترجمہ: پھر جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ، اللہ کا فضل تلاش کرو اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔
(سورۃ الجمعۃ، 62:10)
اس آیت میں نمازِ جمعہ کے بعد معاشی و معاشرتی سرگرمیوں میں حصہ لینے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ اس عمومی تعلیم کے تحت مسلمان اپنے دن کو ذکر، تلاوت، درود و سلام اور دیگر نیک اعمال سے آباد رکھ سکتا ہے۔
درود شریف پڑھنے سے انسان کا ذہن دنیاوی مشاغل سے ہٹ کر ایک لمحے کے لیے رسول اللہ ﷺ کی یاد اور دینی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ اگر اس عمل کے نتیجے میں انسان کے اخلاق بہتر ہوں، اس کے اندر عاجزی پیدا ہو اور وہ لوگوں کے ساتھ زیادہ حسنِ سلوک کرے تو یہ اس کی روحانی تربیت کا مثبت پہلو ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ درود شریف پڑھنے کی مشغولیت نمازِ جمعہ، خطبے کو توجہ سے سننے اور دوسرے واجبات میں غفلت کا سبب نہ بنے۔ شریعت کی تعلیمات میں ہر عبادت کا اپنا مقام ہے، اور ان سب کی رعایت کرنا دینی بصیرت کی علامت ہے۔
8۔ جمعہ کے دن درود شریف کی کثرت کیوں اہم ہے؟
جمعہ کی فضیلت متعدد احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ۔
ترجمہ: جن دنوں پر سورج طلوع ہوتا ہے، ان میں سب سے بہترین دن جمعہ کا دن ہے۔
اس حدیث میں جمعہ کی عظمت بیان ہوئی ہے۔ اسی دن حضرت آدم علیہ السلام پیدا کیے گئے، اسی دن انہیں جنت میں داخل کیا گیا اور اسی دن وہاں سے زمین پر بھیجا گیا۔
حوالہ: صحیح مسلم، کتاب الجمعۃ، حدیث 854۔
جب کسی دن کی فضیلت خود رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہو تو اس دن ایسے اعمال کا اہتمام کرنا دانش مندی ہے جن کی خصوصی ترغیب بھی آپ ﷺ نے فرمائی ہو۔ جمعہ کے دن درود شریف کی کثرت اسی سلسلے کی ایک اہم مثال ہے۔
اس کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے تین پہلو سامنے رکھنے چاہییں:
-
اتباعِ حکم: قرآنِ کریم میں درود و سلام کا حکم دیا گیا ہے۔
-
اتباعِ سنت: رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کے دن کثرت سے درود بھیجنے کی خصوصی ترغیب فرمائی۔
-
حصولِ اجر: احادیث میں درود بھیجنے پر رحمتِ الٰہی اور قربِ نبوی ﷺ کی بشارت بیان ہوئی ہے۔
اس لیے جمعہ کو محض ہفتہ وار تعطیل یا معاشرتی مصروفیات کا دن سمجھنے کے بجائے اسے عبادت، اصلاحِ نفس اور تعلق بالرسول ﷺ کی تجدید کا موقع بنانا چاہیے۔
9۔ درودِ ابراہیمی کی فضیلت اور اہمیت
درود شریف کے مختلف مسنون صیغے احادیثِ مبارکہ میں منقول ہیں۔ ان میں درودِ ابراہیمی خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ درود سکھایا۔
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صحابۂ کرام نے عرض کیا کہ ہم آپ پر سلام بھیجنے کا طریقہ تو جانتے ہیں، لیکن آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ اس پر رسول اللہ ﷺ نے درود کے الفاظ تعلیم فرمائے۔
درودِ ابراہیمی:
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰى إِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيْمَ، إِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ۔
اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلٰى إِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيْمَ، إِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ۔
ترجمہ:
اے اللہ! حضرت محمد ﷺ اور آلِ محمد پر رحمت نازل فرما، جس طرح تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آلِ ابراہیم پر رحمت نازل فرمائی۔ بے شک تو قابلِ تعریف، بڑی شان والا ہے۔
اے اللہ! حضرت محمد ﷺ اور آلِ محمد پر برکت نازل فرما، جس طرح تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آلِ ابراہیم پر برکت نازل فرمائی۔ بے شک تو قابلِ تعریف، بڑی شان والا ہے۔
حوالہ: صحیح بخاری، کتاب أحادیث الأنبیاء، حدیث 3370؛ صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ، حدیث 406۔
درودِ ابراہیمی کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے الفاظ رسول اللہ ﷺ نے خود تعلیم فرمائے۔ نماز میں بھی یہ درود پڑھا جاتا ہے۔ لہٰذا جمعہ کے دن اس کا اہتمام کرنا ایک عمدہ عمل ہے۔
اس کے ساتھ دیگر صحیح اور ثابت شدہ صیغوں سے درود و سلام پڑھنا بھی درست ہے۔ اصل مقصد اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل، رسول اللہ ﷺ سے محبت اور آپ پر کثرت سے درود بھیجنا ہے۔
10۔ کیا جمعہ کے دن کوئی مخصوص تعداد مقرر ہے؟
جمعہ کے دن درود شریف کی کثرت کی ترغیب احادیث سے ثابت ہے، لیکن اس مضمون میں مذکور بنیادی احادیث میں جمعہ کے لیے کوئی مخصوص لازمی تعداد مقرر نہیں کی گئی۔
چنانچہ کوئی شخص سو مرتبہ، ایک ہزار مرتبہ یا اپنی سہولت کے مطابق اس سے کم یا زیادہ درود پڑھتا ہے تو وہ اپنی استطاعت کے مطابق کثرتِ درود کا اہتمام کر سکتا ہے۔ البتہ کسی خاص تعداد کے لیے مخصوص اجر، یقینی نتائج یا شرعی لزوم بیان کرنے کے لیے معتبر دلیل درکار ہے۔
اس معاملے میں تین اصول یاد رکھنے چاہییں:
اول: جس فضیلت کو قرآن و حدیث سے ثابت کیا جا سکے، اسے اعتماد کے ساتھ بیان کیا جائے۔
دوم: ذاتی معمول یا بزرگوں کے تجویز کردہ کسی وظیفے کو بلا دلیل رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب نہ کیا جائے۔
سوم: کثرتِ درود میں سہولت اور دوام کو اہمیت دی جائے۔ تھوڑا مگر پابندی سے پڑھنا بھی اچھا معمول ہے، اور استطاعت ہو تو مقدار بڑھائی جا سکتی ہے۔
دین میں اصل اہمیت اخلاص، صحیح عقیدے، اتباعِ سنت اور اعمال کی پابندی کو حاصل ہے۔ محض تعداد بڑھانا مقصود نہیں، بلکہ دل اور عمل میں بھی بہتری پیدا ہونا چاہیے۔
11۔ جمعہ کے دن درود شریف پڑھنے کا عملی طریقہ
ہر مسلمان اپنے حالات، مصروفیات اور سہولت کے مطابق درود شریف کا معمول بنا سکتا ہے۔ اس کے لیے ایک آسان اور قابلِ عمل طریقہ درج ذیل ہے:
صبح کے وقت
جمعہ کی صبح اپنے معمولات شروع کرتے ہوئے درودِ ابراہیمی یا کوئی دوسرا ثابت شدہ درود پڑھیں۔ دن کا آغاز ذکر اور نیک نیت کے ساتھ کریں۔
نمازِ جمعہ سے پہلے
اپنی سہولت کے مطابق درود شریف پڑھیں، مسجد جلد پہنچنے کی کوشش کریں اور خطبے کے دوران خاموشی اور توجہ کے ساتھ اسے سنیں۔
دن کے دوسرے اوقات میں
کام کاج، سفر یا گھر کے معمولات کے دوران، جہاں مناسب ہو، درود و سلام پڑھتے رہیں۔ اس سے دن میں ایک مستقل دینی معمول قائم ہو سکتا ہے۔
مغرب سے پہلے اور شام کے وقت
اگر سہولت ہو تو درود شریف کی کثرت کے لیے مزید وقت نکالیں۔ جمعہ کے دن کی فضیلت کے پیشِ نظر دن بھر درود کا اہتمام کرنا مفید ہے۔
یہ ایک عملی تجویز ہے، کوئی لازمی شرعی ترتیب نہیں۔ خاص طور پر نمازِ جمعہ کے خطبے کے دوران ذکر میں مشغول ہونے کے بجائے خطبہ خاموشی سے سننا چاہیے۔
12۔ درود شریف کے روحانی اور اخلاقی اثرات
درود شریف کی فضیلت کا بنیادی ثبوت قرآن و حدیث میں موجود ہے۔ اس کے علاوہ اس عبادت کے کچھ اہم تربیتی اور اخلاقی پہلو بھی ہیں۔
محبت اور وابستگی: رسول اللہ ﷺ کا ذکر انسان کو آپ کی سیرت اور تعلیمات کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
اخلاق کی اصلاح: جب درود پڑھنے والا آپ ﷺ کی سیرت کا مطالعہ بھی کرتا ہے تو اس کے لیے سچائی، عفو و درگزر، امانت داری، عدل اور حسنِ سلوک اپنانا آسان ہو سکتا ہے۔
روحانی توجہ: درود شریف انسان کو اپنی دینی ذمہ داریوں کی یاد دلاتا ہے اور اسے ذکر و عبادت کے لیے وقت نکالنے کی ترغیب دیتا ہے۔
آخرت کی امید: احادیث میں درود پڑھنے والوں کے لیے رحمتِ الٰہی اور قیامت کے دن قربِ نبوی ﷺ کی بشارت موجود ہے۔
تاہم ان اثرات کے بارے میں اعتدال ضروری ہے۔ یہ کہنا درست نہیں کہ درود شریف پڑھنے سے ہر دنیاوی مسئلہ لازماً فوراً حل ہو جائے گا یا کسی خاص تعداد سے ہر مطلوبہ نتیجہ یقینی طور پر حاصل ہو گا۔ دعا کی قبولیت اور اس کی صورت اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تابع ہے۔
درود شریف کی عبادت اپنی جگہ عظیم ہے۔ اس کے ساتھ فرائض کی ادائیگی، حلال روزی، حقوق العباد، توبہ اور اخلاقی اصلاح بھی ضروری ہیں۔
13۔ درود شریف اور حقوق العباد
رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجنے کا تقاضا یہ بھی ہے کہ مسلمان آپ کی تعلیمات کو اپنی زندگی میں جگہ دے۔ محبتِ رسول ﷺ صرف زبان سے ادا کیے گئے کلمات تک محدود نہیں، بلکہ آپ کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش بھی اس کا حصہ ہے۔
اگر کوئی شخص جمعہ کے دن ہزاروں مرتبہ درود پڑھتا ہے، لیکن والدین کے ساتھ بدسلوکی کرتا ہے، بیوی بچوں کے حقوق ادا نہیں کرتا، ملاوٹ یا دھوکا دہی کرتا ہے یا کسی کا حق دباتا ہے، تو اسے اپنی عملی زندگی کا جائزہ لینا چاہیے۔
درود شریف کی کثرت یقیناً ایک عظیم عبادت ہے، مگر عبادت کا مقصد انسان کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی طرف متوجہ کرنا بھی ہے۔ اس لیے درود و سلام کے ساتھ ان امور کا اہتمام بھی ضروری ہے:
-
سچ بولنا اور وعدہ پورا کرنا۔
-
والدین، اہلِ خانہ اور پڑوسیوں کے حقوق ادا کرنا۔
-
کسی پر ظلم نہ کرنا اور دوسروں کی عزت کا خیال رکھنا۔
-
حلال و حرام کی تمیز قائم رکھنا۔
-
رسول اللہ ﷺ کی سنت اور اخلاقِ کریمانہ کو اپنانے کی کوشش کرنا۔
اس طرح درود شریف محض زبان کا ورد نہیں رہتا، بلکہ انسان کے کردار اور روزمرہ زندگی کی اصلاح کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔
14۔ جمعہ کے دن درود و سلام کے بارے میں چند اہم علمی نکات
اس موضوع کو درست طور پر سمجھنے کے لیے چند باتوں کی وضاحت ضروری ہے۔
پہلا نکتہ: درود شریف کا حکم قرآنِ کریم میں موجود ہے۔ سورۃ الاحزاب کی آیت 56 اس کی بنیادی دلیل ہے۔
دوسرا نکتہ: جمعہ کے دن کثرتِ درود کی خصوصی ترغیب حدیثِ نبوی ﷺ سے ثابت ہے۔ اس سلسلے میں سنن ابی داؤد کی روایت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
تیسرا نکتہ: درود پڑھنے پر دس رحمتوں کی بشارت صحیح مسلم میں بیان ہوئی ہے۔ اس فضیلت کو کسی مخصوص دن یا تعداد کے ساتھ محدود نہیں کرنا چاہیے، جب تک اس تخصیص کے لیے الگ دلیل نہ ہو۔
چوتھا نکتہ: قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ کے قرب کی بشارت کثرتِ درود کے حوالے سے جامع ترمذی میں منقول ہے۔
پانچواں نکتہ: درود شریف کے صیغوں میں درودِ ابراہیمی ایک ثابت شدہ مسنون صیغہ ہے۔ اسے جمعہ کے دن بھی پڑھا جا سکتا ہے، اور دوسرے ثابت شدہ صیغوں سے درود و سلام پڑھنا بھی درست ہے۔
چھٹا نکتہ: درود شریف کے فضائل بیان کرتے وقت صحیح، حسن اور ضعیف روایات کے فرق کا خیال رکھنا چاہیے۔ کسی غیر ثابت شدہ روایت یا مخصوص عدد کو یقینی شرعی فضیلت کے طور پر پیش کرنا علمی احتیاط کے خلاف ہے۔
ساتواں نکتہ: جمعہ کے دن درود پڑھنے کی فضیلت کا مطلب یہ نہیں کہ دیگر دنوں میں درود پڑھنے کی اہمیت کم ہو جاتی ہے۔ مسلمان کو ہر وقت درود و سلام کا اہتمام کرنا چاہیے، اور جمعہ کے دن اس میں خصوصی اضافہ کرنا چاہیے۔
________________________________________
جمعہ کے دن درودِ پاک پڑھنا قرآن و سنت کی روشنی میں ایک نہایت بابرکت عمل ہے۔ قرآنِ مجید نے اہلِ ایمان کو رسول اللہ ﷺ پر درود و سلام بھیجنے کا حکم دیا ہے، جب کہ احادیثِ مبارکہ میں جمعہ کے دن کثرتِ درود کی خصوصی تاکید کی گئی ہے۔
ایک مرتبہ درود پڑھنے پر دس رحمتوں کی بشارت، جمعہ کے دن درود کا رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا جانا اور قیامت کے دن آپ ﷺ کے قرب کی فضیلت، یہ سب درود شریف کی عظمت کو نمایاں کرتے ہیں۔
لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ جمعہ کے دن درود شریف کے لیے خصوصی وقت نکالے، درودِ ابراہیمی اور دیگر ثابت شدہ صیغوں سے درود و سلام پڑھے، اپنے دل میں محبتِ رسول ﷺ کو تازہ کرے اور اس محبت کو اپنی عملی زندگی میں بھی ظاہر کرے۔
درود شریف کی حقیقی برکت اس وقت زیادہ نمایاں ہوتی ہے جب زبان کے ساتھ دل بھی متوجہ ہو، عبادت کے ساتھ اخلاق بھی سنوریں، محبت کے ساتھ اتباع بھی ہو اور ذکر کے ساتھ بندوں کے حقوق کی ادائیگی بھی جاری رہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن و سنت کی صحیح سمجھ عطا فرمائے، رسول اللہ ﷺ کی سچی محبت نصیب فرمائے، جمعہ کے دن کثرت سے درود و سلام پڑھنے کی توفیق دے اور ہمیں آپ ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنے والا بنائے۔
آمین یا رب العالمین۔
بنیادی مراجع و مصادر
-
القرآن الکریم: سورۃ الاحزاب، آیت 56؛ سورۃ آل عمران، آیت 31؛ سورۃ الجمعۃ، آیت 10۔
-
صحیح البخاری: کتاب أحادیث الأنبیاء، حدیث 3370، درودِ ابراہیمی کی روایت۔
-
صحیح مسلم: کتاب الصلاۃ، احادیث 406، 408؛ کتاب الجمعۃ، حدیث 854۔
-
سنن ابی داؤد: کتاب الصلاۃ، حدیث 1047، جمعہ کے دن کثرتِ درود کی روایت۔
-
سنن النسائی: کتاب الجمعۃ، حدیث 1374، جمعہ کے دن درود کی فضیلت۔
-
جامع الترمذی: ابواب الوتر، حدیث 484، کثرتِ درود اور قربِ نبوی ﷺ کی فضیلت۔
نوٹ: مختلف مطبوعات اور حدیثی ڈیٹا بیس میں بعض احادیث کی نمبرنگ مختلف ہو سکتی ہے؛ اس لیے تحقیق یا اشاعت سے قبل متعلقہ کتاب اور باب کے تحت متن کا تقابل کرنا مناسب ہے۔
![]()

