انسان اللہ کی وہ تخلیق ہے ۔۔۔ انتخاب ۔ میاں عاصم محمود

انسان اللہ کی وہ تخلیق ہے

                      *******

انتخاب ۔ میاں عاصم محمود

ہالینڈ(ڈیلی روشنی  نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ انسان اللہ کی وہ تخلیق ہے ۔۔۔ انتخاب ۔ میاں عاصم محمود)انسان اللہ کی وہ تخلیق ہے جس کو اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا اور اس کے اندر اپنی روح پھونکی پھر اس کو علم کے لباس پہنائے اور اس کو زمین پر اپنا خلیفہ بنا دیا اس انسان کے اندر پانچ بڑی دنیا آباد ہیں دماغ عقل دل روح اور نفس یہ پانچوں الگ الگ سمندر ہیں لیکن ایک جسم کے ساحل پر ملتے ہیں دماغ وہ محل ہے جس کی کھڑکیاں ہر وقت کھلی رہتی ہیں یہاں خیال آتے ہیں جاتے ہیں یہاں یادیں محفوظ ہوتی ہیں یہاں حساب لگتا ہے یہاں منصوبے بنتے ہیں دماغ سائنس کی نظر میں گوشت کا ایک نرم گودا ہے جس میں ایک سو ارب خلیے ہیں اور ہر خلیہ دس ہزار دوسرے خلیوں سے جڑا ہوا ہے اگر تم دماغ کی تمام تاروں کو ایک لائن میں رکھ دو تو وہ زمین سے چاند تک پہنچ جائے گی لیکن دماغ کے اندر ایک عجیب خاموشی ہے وہ خود بول نہیں سکتا وہ خود رو نہیں سکتا وہ خود ہنس نہیں سکتا وہ صرف ایک نوکر ہے جو مالک کے حکم کا انتظار کرتا ہے اب سوال یہ ہے کہ دماغ کا مالک کون ہے. یہاں دیکھو

 سائنس کہتی ہے کہ دماغ خود ہی فیصلہ کرتا ہے لیکن جب انسان نیند میں ہوتا ہے تو دماغ بند ہو جاتا ہے جب انسان غش کھا جاتا ہے تو دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے جب انسان مر جاتا ہے تو دماغ وہیں پڑا رہتا ہے لیکن سوچ کہاں چلی جاتی ہے تو معلوم ہوا کہ دماغ کے پیچھے کوئی اور ہے جو اس کو چلاتا ہے اور وہ ہے عقل اس پر میں نے بہت تحریر لکھی ہیں

 عقل وہ چراغ ہے جو اللہ نے انسان کے سینے میں روشن کیا ہے جانور کے پاس دماغ ہے لیکن عقل نہیں اس لیے وہ شیر ہرن کو مار کر کھا جاتا ہے اس کو شرم نہیں آتی اس کو رحم نہیں آتا اس کو آخرت کا ڈر نہیں ہوتا لیکن انسان جب ایک چیونٹی کو بھی پاؤں کے نیچے کچل دیتا ہے تو اس کی عقل اس کو رات بھر سونے نہیں دیتی عقل وہ آئینہ ہے جس میں انسان اپنا چہرہ دیکھتا ہے عقل وہ ترازو ہے جس پر انسان اپنے ہر عمل کو تولتا ہے عقل وہ استاد ہے جو دماغ کے ہر خیال سے پوچھتی ہے کہ یہ حلال ہے یا حرام یہ سچ ہے یا جھوٹ یہ تیرے لیے بہتر ہے یا برا لیکن عقل بھی خود مختار نہیں ہے عقل بھی ایک قیدی ہے اس کے اوپر بھی ایک بادشاہ بیٹھا ہوا ہے اور وہ بادشاہ ہے دل وہ کمرہ ہے

 جہاں اللہ کا نور اترتا ہے دل وہ دریا ہے جس میں محبت کی لہریں اٹھتی ہیں دل وہ مسجد ہے جہاں سکون کی اذان ہوتی ہے دل وہ قبر ہے جہاں غم دفن ہوتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان کے جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے اگر وہ ٹھیک ہو جائے تو سارا جسم ٹھیک ہو جاتا ہے اور اگر وہ خراب ہو جائے تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے خبردار وہ دل ہے دل جب نرم ہوتا ہے تو پتھر بھی پگھل جاتا ہے دل جب سخت ہو جاتا ہے تو قرآن کی آیت بھی اثر نہیں کرتی دل جب روتا ہے تو اللہ کے عرش کو ہلا دیتا ہے دل جب خوش ہوتا ہے تو جنت کی ہوا محسوس ہوتی ہے لیکن دل بھی ایک مسافر ہے دل بھی ایک مہمان ہے دل کے اندر بھی کوئی اور رہتا ہے اور وہ ہے روح وہ راز ہے جس کو اللہ نے چھپا کر رکھا ہے قرآن میں اللہ فرماتا ہے کہ وہ تم سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں کہہ دو کہ روح میرے رب کا حکم ہے اور تمہیں بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے

 سائنس نے چاند پر قدم رکھ دیا سائنس نے ایٹم کو توڑ دیا سائنس نے انسان کا ڈی این اے پڑھ لیا لیکن سائنس آج تک یہ نہیں بتا سکی کہ روح کیا ہے روح کا رنگ کیا ہے روح کا وزن کیا ہے روح کو چھوا کیسے جائے ڈاکٹر دل نکال کر دوسرا دل لگا دیتا ہے لیکن مردے کو زندہ نہیں کر سکتا کیوں کیونکہ دل کے بغیر جسم چل سکتا ہے لیکن روح کے بغیر جسم لاش بن جاتا ہے روح وہ مہمان ہے جو اللہ کے گھر سے آئی ہے اور اللہ کے گھر واپس جائے گی روح نہ کھاتی ہے نہ پیتی ہے نہ سوتی ہے روح نہ بوڑھی ہوتی ہے نہ بیمار ہوتی ہے روح وہ شہزادی ہے جو مٹی کے پنجرے میں قید ہے اور ہر وقت اپنے وطن کو یاد کرتی ہے جب انسان سجدے میں روتا ہے تو روح قہقہے لگاتی ہے جب انسان گناہ کرتا ہے تو روح سسکیاں لیتی ہے جب انسان قرآن پڑھتا ہے تو روح جھوم اٹھتی ہے اب رہ گیا

نفس وہ بچہ ہے جو کبھی بڑا نہیں ہوتا نفس وہ شاگرد ہے جو ہر وقت شرارت کرتا ہے نفس وہ دشمن ہے جو دوست کا لباس پہن کر آتا ہے نفس کہتا ہے کھا لو پی لو سو جاؤ عیش کر لو کل کی فکر مت کرو نفس کہتا ہے غصہ کر لو بدلہ لے لو عزت بچاؤ نفس کہتا ہے جھوٹ بول دو دھوکہ دے دو کوئی نہیں دیکھ رہا لیکن نفس کو یہ نہیں پتہ کہ اللہ دیکھ رہا ہے نفس کو یہ نہیں پتہ کہ فرشتے لکھ رہے ہیں نفس کو یہ نہیں پتہ کہ قبر اندھیری ہے نفس کو یہ نہیں پتہ کہ پل صراط تلوار سے زیادہ تیز ہے اب کچھ لوگوں کی زہن میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ان پانچوں بادشاہوں کو کنٹرول کون کر رہا ہے

 دماغ کی فیکٹری چل کون رہا ہے عقل کا چراغ جلا کون رہا ہے دل کا دریا بہا کون رہا ہے روح کا پرندہ اڑا کون رہا ہے نفس کے بچے کو لگام کون دے رہا ہے سائنس دان کہتے ہیں کہ نیورون سگنل بھیج رہے ہیں ڈاکٹر کہتے ہیں کہ دل کی دھڑکن بجلی سے چل رہی ہے فلسفی کہتے ہیں کہ عقل ارتقا سے آئی ہے لیکن مومن کہتا ہے کہ اللہ اکبر اللہ ہر چیز پر قادر ہے اللہ وہ بادشاہ ہے جو رگ جان سے بھی زیادہ قریب ہے اللہ وہ ڈاکٹر ہے جو دل کے زخم بھرتا ہے اللہ وہ استاد ہے جو عقل کو روشنی دیتا ہے اللہ وہ ماں ہے جو روح کو سکون دیتی ہے اللہ وہ باپ ہے جو نفس کو ادب سکھاتا ہے انسان عجیب پہیلی ہے انسان ایک مسجد ہے جس کا مینار دماغ ہے جس کا محراب عقل ہے جس کا فرش دل ہے جس کی چھت روح ہے اور جس کا صحن نفس ہے جب انسان اذان دیتا ہے تو دماغ جاگ جاتا ہے جب انسان نیت کرتا ہے تو عقل سجدہ کر دیتی ہے جب انسان توبہ کرتا ہے تو دل رو پڑتا ہے جب انسان قرآن پڑھتا ہے تو روح پرواز کر جاتی ہے جب انسان صبر کرتا ہے تو نفس ذلیل ہو جاتا ہے دیکھو بھائی یہ جسم مٹی کا بنا ہوا ہے لیکن اس کے اندر جنت کا نور بند ہے یہ آنکھیں مٹی کی ہیں لیکن یہ عرش کو دیکھتی ہیں یہ کان مٹی کے ہیں لیکن یہ اللہ کی آواز سنتے ہیں یہ ہاتھ مٹی کے ہیں لیکن یہ کعبے کا غلاف چھوتے ہیں یہ پاؤں مٹی کے ہیں لیکن یہ مدینے کی مٹی چومتے ہیں تو سوچو کہ یہ عزت کس نے دی یہ عظمت کس نے دی یہ راز کس نے رکھا یقینا وہ اللہ ہے جس نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اب فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے تم چاہو تو دماغ کو دنیا کی فلم دکھاؤ تو دماغ جہنم بن جائے گا تم چاہو تو عقل کو قرآن پڑھاؤ تو عقل جنت بن جائے گی تم چاہو تو دل کو محبت اللہ کی دو تو دل مسجد بن جائے گا تم چاہو تو روح کو ذکر اللہ کی خوراک دو تو روح معراج کر جائے گی تم چاہو تو نفس کو روزے کی لگام دو تو نفس فرشتہ بن جائے گا

 بھائی یاد رکھو یہ جسم کیڑے مکوڑوں کی خوارک ہے موت کے بعد دماغ مٹی ہو جائے گا عقل کا دفتر بند ہو جائے گا دل کی دھڑکن رک جائے گی نفس کی چیخیں خاموش ہو جائیں گی لیکن روح پرواز کر جائے گی اور اللہ کے سامنے کھڑی ہو جائے گی اس دن یہی پوچھا جائے گا کہ اے انسان تو نے اپنی عقل کہاں استعمال کی تو نے اپنے دل کو کہاں لگایا تو نے اپنی روح کو کیا کھلایا تو نے اپنے نفس کو کیا سکھایا

 اس لیے  جاگ جا اپنے دماغ کو اللہ کی فکر دے اپنی عقل کو اللہ کا علم دے اپنے دل کو اللہ کی محبت دے اپنی روح کو اللہ کا ذکر دے اور اپنے نفس کو اللہ کا خوف دے جس دن تم نے یہ کر لیا اس دن تم بادشاہ بن جاؤ گے اس دن فرشتے تمہارے لیے دعا کریں گے اس دن قبر تمہارے لیے جنت کا باغ بن جائے گی اس دن پل صراط تمہارے لیے روشنی کا پل بن جائے گا اور اس دن اللہ تم سے راضی ہو جائے گا اور جس سے اللہ راضی ہو جائے اس کو اور کیا چاہیے.

Loading