میجر سید محمد رفیع
1200 ہزار مہاجرین ۔۔۔
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )اس ٹرین کے مسافروں کو خاموش رہنے کی ہدایت دی گئی تھی… تاکہ باہر موجود لوگوں کو وہ صرف سامان لے جانے والی مال گاڑی معلوم ہو۔ اندر عورتیں، مرد، بچے اور بزرگ سوار تھے، جنہیں پاکستان پہنچنا تھا۔ میجر رفیع کی اہلیہ چاند بی بی نے برسوں بعد اس سفر کو یاد کرتے ہوئے یہ تفصیل بیان کی۔
یہ 1947 کا زمانہ تھا۔ تقسیمِ ہند کے دوران گھر چھوڑ کر ہجرت کرنے والے خاندانوں کے لیے راستہ طے کرنا بھی جان کا خطرہ مول لینے کے برابر تھا۔ ایسے حالات میں ہندوستان کے شہر جبل پور سے ایک خصوصی ٹرین روانہ ہوئی، جس میں فوجی سازوسامان کے ساتھ تقریباً 1,200 مسافر بھی پاکستان آ رہے تھے۔
اس ٹرین کی حفاظت کی ذمہ داری سید محمد رفیع کے پاس تھی، جو اُس وقت کیپٹن تھے اور بعد میں میجر بنے۔ ان کے ساتھ چند مسلح سپاہی تھے۔ اتنے لوگوں کو خطرناک راستے سے بحفاظت گزارنے کے لیے انہیں مسلسل احتیاط اور نگرانی کی ضرورت تھی۔
انہوں نے ایک ماسٹر چابی کی مدد سے ٹرین کی بوگیوں کے دروازے اندر سے بند کیے اور اپنے سپاہیوں کے ساتھ پورے سفر میں پہرہ دیا۔ ان بند دروازوں کے پیچھے سینکڑوں خاندان تھے، اور ان کی حفاظت اس افسر اور اس کے چند ساتھیوں کی ذمہ داری تھی۔
چاند بی بی خود بھی اپنے شوہر کے ساتھ اس ٹرین میں سفر کر رہی تھیں۔ ان کے بیان کے مطابق مسافر رفیع کی ہدایات پر عمل کرتے تھے، دروازوں کے ساتھ کھڑکیاں بھی بند رکھی گئی تھیں، اور خاموشی اختیار کی گئی تھی تاکہ ٹرین میں لوگوں کی موجودگی ظاہر نہ ہو۔ انہوں نے اس سفر میں مدد کرنے والے ایک ہندو ڈرائیور کا بھی ذکر کیا۔
یہ سفر پورے 19 دن جاری رہا۔ فوجی تاریخ کے جریدے بگل اینڈ ٹرمپٹ کے مطابق ٹرین جبل پور سے انبالہ کے راستے لاہور پہنچی اور پھر آگے ملیر، کراچی تک گئی۔ کیپٹن رفیع اور ان کے ساتھی مسافروں کو بحفاظت پاکستان پہنچانے میں کامیاب ہوئے۔ گھر چھوڑ کر نکلنے والے ان خاندانوں کے لیے اس سفر کا اختتام نئی زندگی شروع کرنے کا موقع تھا۔
سفر ختم ہونے کے بعد رفیع نے وہ ماسٹر چابی اپنے پاس محفوظ رکھی۔ تقریباً سات دہائیوں بعد، 2014 میں، انہوں نے اسے گولڑہ کے ریلوے ہیریٹیج میوزیم کو پیش کر دیا۔ 2017 میں میجر سید محمد رفیع انتقال کر گئے۔
إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ
2021 میں پاکستان ریلوے کے افسران نے ان کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے ان کی اہلیہ چاند بی بی کو اعزازی شیلڈ اور شال پیش کی۔ وہ چابی ان انیس دنوں کی یادگار ہے، جب ایک افسر اور اس کے چند ساتھیوں نے تقریباً بارہ سو انسانوں کی حفاظت کی ذمہ داری نبھائی۔ ان کی جرأت کو سلام، اور ان سپاہیوں کو بھی، جو اس مشکل سفر میں ان کے ساتھ کھڑے رہے۔
![]()

