خواب کی تین اقسام — قرآن و سنت کی روشنی میں حقیقت، تعبیر اور رہنمائی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )تمہید: کیا ہر خواب کوئی پیغام ہوتا ہے؟
انسان جب نیند کی دنیا میں داخل ہوتا ہے تو کبھی ایسے مناظر دیکھتا ہے جو بیداری میں ناممکن محسوس ہوتے ہیں۔ کبھی کوئی خوش خبری ملتی دکھائی دیتی ہے، کبھی خوف ناک منظر دل میں گھبراہٹ پیدا کرتا ہے، اور کبھی انسان اپنے روزمرہ کے خیالات، خواہشات یا پریشانیوں کو خواب کی صورت میں دیکھتا ہے۔ بعض خواب جاگنے کے بعد بھی ذہن پر نقش رہتے ہیں۔ انسان سوچتا ہے کہ اس خواب کا کیا مطلب تھا؟ کیا یہ مستقبل کی کسی خبر کی علامت ہے؟ کیا مجھے اس پر کوئی فیصلہ کرنا چاہیے؟ اور کیا ہر خواب کی تعبیر معلوم کرنا ضروری ہے؟
اسلام ان سوالات کا جواب دیتے ہوئے خوابوں کی اہمیت کو تسلیم کرتا ہے، لیکن ساتھ ہی ان کے بارے میں احتیاط اور اعتدال کی تعلیم بھی دیتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے خوابوں کی مختلف اقسام بیان فرمائی ہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: الرُّؤْيَا ثَلَاثَةٌ، فَرُؤْيَا صَالِحَةٌ بُشْرَى مِنَ اللَّهِ، وَرُؤْيَا تَحْزِينٌ مِنَ الشَّيْطَانِ، وَرُؤْيَا مِمَّا يُحَدِّثُ الْمَرْءُ نَفْسَهُ ترجمہ: خواب تین طرح کے ہوتے ہیں: ایک نیک خواب، جو اللہ کی طرف سے خوش خبری ہے؛ دوسرا ایسا خواب جو شیطان کی طرف سے غمگین کرنے کے لیے ہوتا ہے؛ اور تیسرا وہ جو انسان اپنے دل میں خود سے باتیں کرتا رہتا ہے، ان سے متعلق ہوتا ہے۔ صحیح مسلم، کتاب الرؤیا، حدیث ۲۲۶۳۔ حدیث کے مختلف طرق اور مطبوعات میں نمبرنگ مختلف ہو سکتی ہے۔
یہ حدیث خوابوں کو سمجھنے کے لیے ایک بنیادی اصول فراہم کرتی ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر خواب کو دیکھتے ہی انسان یقین کے ساتھ بتا سکتا ہے کہ وہ کس قسم سے تعلق رکھتا ہے۔ بعض اوقات خواب کی نوعیت واضح ہوتی ہے، جبکہ بعض صورتوں میں قطعی فیصلہ کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ آئیے ان تینوں اقسام کو تفصیل سے سمجھتے ہیں۔
پہلی قسم: نیک خواب — خوش خبری اور امید کا ذریعہ
نیک خواب کیا ہوتا ہے؟
نیک خواب کو عربی میں *الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ* کہا جاتا ہے۔ احادیث میں ایسے خواب کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت قرار دیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: *لَمْ يَبْقَ مِنَ النُّبُوَّةِ إِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ* صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: مبشرات کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: *الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ* ترجمہ: نبوت میں سے اب صرف خوش خبریاں باقی رہ گئی ہیں۔ پوچھا گیا کہ خوش خبریاں کیا ہیں؟ فرمایا: نیک خواب۔ صحیح البخاری، کتاب التعبیر، حدیث ۶۹۹۰۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نیک خواب مومن کے لیے خوش خبری کا ذریعہ ہو سکتا ہے۔ لیکن یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے: نیک خواب کا نبوت سے تعلق بیان ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ خواب دیکھنے والا شخص نبی بن جاتا ہے یا اسے وحیِ تشریعی حاصل ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ آخری نبی ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کسی شخص کا خواب نئی شریعت، نیا دینی حکم یا نبوت کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔
کیا نیک خواب ہمیشہ مستقبل کی خبر دیتا ہے؟
ضروری نہیں کہ ہر نیک خواب کسی مخصوص مستقبل کے واقعے کی پیش گوئی ہو۔ کبھی خواب خوش خبری، امید یا تسلی کا ذریعہ ہو سکتا ہے، اور کبھی اس کی تعبیر سمجھنا آسان نہیں ہوتا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ قرآن مجید میں خوابوں کی تعبیر کی ایک نمایاں مثال ہے۔ انہوں نے بچپن میں گیارہ ستاروں، سورج اور چاند کو اپنے سامنے سجدہ کرتے دیکھا۔ بعد میں ان کے حالات نے اس خواب کی تعبیر کو واضح کیا۔ سورۃ یوسف، آیات ۴ تا ۶ اور آیت ۱۰۰۔ لیکن حضرت یوسف علیہ السلام نبی تھے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں خوابوں کی تعبیر کا خاص علم عطا فرمایا تھا۔ اس واقعے سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ ہر شخص کے خواب کی تعبیر لازماً درست طور پر معلوم کی جا سکتی ہے۔
نیک خواب دیکھنے والے کو کیا کرنا چاہیے؟
رسول اللہ ﷺ نے اچھا خواب دیکھنے والے کو اللہ تعالیٰ کی حمد کرنے اور مناسب شخص کے سامنے اسے بیان کرنے کی رہنمائی فرمائی۔ صحیح البخاری، کتاب التعبیر، حدیث ۷۰۴۵۔ اس لیے اچھا خواب دیکھنے کے بعد انسان اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر سکتا ہے، خوشی محسوس کر سکتا ہے اور اسے کسی ایسے شخص سے بیان کر سکتا ہے جو خیرخواہ اور سمجھ دار ہو۔ البتہ خواب کو اپنی روحانی برتری کا ثبوت سمجھنا، دوسروں کو کمتر جاننا یا اپنے مستقبل کے بارے میں قطعی دعوے کرنا مناسب نہیں۔
حضرت یوسف علیہ السلام کے خواب سے کیا سبق ملتا ہے؟
حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو نصیحت فرمائی کہ وہ اپنا خواب بھائیوں کے سامنے بیان نہ کریں، کیونکہ انہیں اندیشہ تھا کہ حسد انہیں کسی غلط اقدام پر آمادہ کر سکتا ہے۔ سورۃ یوسف، آیت ۵۔ اس واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہر ذاتی معاملہ ہر شخص کے سامنے بیان کرنا ضروری نہیں۔ اگر کسی بات کے غلط سمجھے جانے، حسد یا نقصان کا حقیقی اندیشہ ہو تو احتیاط اختیار کرنا مناسب ہے۔ تاہم اس آیت کو یہ عمومی اصول نہیں بنانا چاہیے کہ ہر خواب لازماً چھپایا جائے۔ احادیث میں اچھا خواب مناسب شخص کو بیان کرنے کی اجازت بھی موجود ہے۔
کیا ہر اچھا خواب سچا ہوتا ہے؟
نہیں۔ کسی خواب کا خوش گوار ہونا اور اس کا حقیقت بن جانا دو الگ باتیں ہیں۔ انسان کبھی ایسی چیز بھی دیکھ سکتا ہے جس کی خواہش وہ بیداری میں کرتا رہا ہو۔ اس لیے کسی خواب کو محض اچھا محسوس ہونے کی وجہ سے مستقبل کی یقینی خبر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ *اصولی بات:* نیک خواب بشارت ہو سکتا ہے، لیکن اس کی بنیاد پر غیب کا قطعی علم حاصل ہونے کا دعویٰ درست نہیں۔
دوسری قسم: خوف ناک یا پریشان کرنے والا خواب — شیطانی تحزین
ایسے خواب کی حقیقت کیا ہے؟
احادیث میں خواب کی ایک قسم ایسی بیان ہوئی ہے جس کا مقصد انسان کو خوف، غم یا پریشانی میں مبتلا کرنا ہوتا ہے۔ اسے شیطان کی طرف سے تحزین، یعنی غمگین کرنے، کے مفہوم میں بیان کیا گیا ہے۔ انسان کبھی خواب میں کسی حادثے، موت، تعاقب، بلندی سے گرنے یا کسی عزیز کو نقصان پہنچنے کا منظر دیکھتا ہے۔ جاگنے کے بعد اسے اندیشہ ہونے لگتا ہے کہ شاید یہ سب حقیقت میں ہونے والا ہے۔ لیکن اسلامی تعلیمات ہمیں ہر خوف ناک خواب کو مستقبل کی یقینی خبر سمجھنے کی اجازت نہیں دیتیں۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ محض خواب کے خوف ناک ہونے سے ہر معاملے میں اس کی نوعیت کا قطعی فیصلہ کرنا ممکن نہیں۔ خوابوں کی اقسام کے بارے میں حدیث رہنمائی دیتی ہے، لیکن انسان کو اپنے ہر خواب کے بارے میں غیب کا دعویٰ نہیں کرنا چاہیے۔
برا خواب دیکھنے کے بعد کیا کرنا چاہیے؟
رسول اللہ ﷺ نے ناپسندیدہ خواب کے بارے میں واضح رہنمائی فرمائی۔ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور برا خواب شیطان کی طرف سے۔ جب کوئی شخص ناپسندیدہ خواب دیکھے تو اسے چاہیے کہ اللہ کی پناہ طلب کرے، بائیں طرف تین مرتبہ ہلکا سا تھتکارے اور اس خواب کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے۔ ایسا کرنے سے وہ خواب اسے نقصان نہیں پہنچائے گا۔ صحیح البخاری، کتاب التعبیر، حدیث ۶۹۸۶؛ صحیح مسلم، کتاب الرؤیا، حدیث ۲۲۶۱ کے متعلقہ طرق۔ دوسری روایات میں کروٹ بدلنے، اٹھ کر نماز پڑھنے اور ایسے خواب کو لوگوں کے سامنے بیان نہ کرنے کی ہدایات بھی موجود ہیں۔ صحیح مسلم، کتاب الرؤیا، حدیث ۲۲۶۳۔
ان ہدایات کو سمجھنا ضروری ہے:
– اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرنا خوف کے مقابلے میں ایمان اور توکل کی طرف رجوع ہے۔
– بائیں طرف تین مرتبہ ہلکا سا تھتکارنا حدیث میں بیان کردہ عمل ہے؛ اس سے مراد تھوکنا یا کسی کو نقصان پہنچانا نہیں۔
– کروٹ بدلنے کی ہدایت بھی بعض روایات میں آئی ہے۔
– اگر انسان چاہے تو اٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے۔
– ایسے خواب کو عام لوگوں میں پھیلانے سے گریز کرنا چاہیے، خصوصاً جب اس سے خوف یا غلط فہمیاں بڑھنے کا اندیشہ ہو۔
کیا برا خواب آنے والی مصیبت کی علامت ہے؟
ہرگز یہ لازم نہیں کہ ایسا ہو۔ اگر کوئی شخص خواب میں کسی عزیز کی وفات دیکھ لے تو اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ اس عزیز کی موت قریب ہے۔ اسی طرح حادثہ، بیماری، نقصان یا کسی دوسرے خوف ناک واقعے کا خواب دیکھنا اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ واقعہ ضرور پیش آئے گا۔ اسلامی تعلیمات انسان کو ایسے خوابوں سے خوف زدہ رہنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرنے اور اپنے معمولات جاری رکھنے کی رہنمائی دیتی ہیں۔ اگر کوئی شخص مسلسل ڈراؤنے خوابوں، نیند کی خرابی یا شدید بے چینی کا شکار ہو تو دینی رہنمائی کے ساتھ مناسب طبی یا نفسیاتی مشورہ بھی لیا جا سکتا ہے۔ اس کا مطلب ایمان کی کمزوری نہیں؛ نیند اور ذہنی کیفیت کے مسائل کے متعدد اسباب ہو سکتے ہیں۔
خواب کی وجہ سے کسی پر شک کرنا
یہ ایک اہم عملی مسئلہ ہے۔ فرض کیجیے کسی شخص نے خواب میں دیکھا کہ اس کا کوئی رشتہ دار اسے نقصان پہنچا رہا ہے۔ اگر وہ جاگنے کے بعد اسی خواب کی بنیاد پر اس رشتہ دار کو دشمن سمجھنے لگے، اس پر الزام لگائے یا تعلق توڑ دے تو وہ ایک غیر ثابت شدہ تصور کو حقیقت بنا رہا ہوگا۔ خواب کسی شخص کے خلاف ثبوت نہیں ہوتا۔ کسی کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لیے حقیقی شواہد اور انصاف کے اصول ضروری ہیں۔ *اصولی بات:* ناپسندیدہ خواب کو غیبی فیصلہ سمجھ کر اپنے دل میں خوف، نفرت یا بدگمانی پیدا نہ ہونے دیں۔
تیسری قسم: حدیثُ النفس — اپنے خیالات اور ذہنی مشاغل سے متعلق خواب
حدیثُ النفس کا مطلب کیا ہے؟
عربی اصطلاح *حَدِيثُ النَّفْسِ* سے مراد وہ باتیں اور خیالات ہیں جو انسان اپنے ذہن میں دہراتا رہتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے خوابوں کی اقسام بیان کرتے ہوئے اس نوعیت کے خواب کا بھی ذکر فرمایا ہے، جو انسان کے اپنے ذہنی مشاغل سے متعلق ہوتا ہے۔ صحیح مسلم، کتاب الرؤیا، حدیث ۲۲۶۳۔ یہ پہلو خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ بعض لوگ اپنے ہر خواب میں کوئی پوشیدہ پیغام تلاش کرنے لگتے ہیں، حالانکہ خواب انسان کے روزمرہ تجربات اور خیالات سے بھی تعلق رکھ سکتے ہیں۔
روزمرہ کی زندگی خوابوں میں کیسے آ سکتی ہے؟
ایک طالب علم امتحان کے بارے میں مسلسل سوچ رہا ہو تو وہ خواب میں امتحان دیتے ہوئے دیکھ سکتا ہے۔ کوئی شخص مالی پریشانی میں مبتلا ہو تو اسے خواب میں قرض، کاروبار یا نقصان سے متعلق مناظر نظر آ سکتے ہیں۔ کوئی ماں اپنے دور رہنے والے بچے کو یاد کر رہی ہو تو اسے خواب میں اپنے بچے کی زیارت ہو سکتی ہے۔ کوئی شخص دن بھر کسی تنازعے پر غور کرتا رہا ہو تو رات کو اسی تنازعے کے مختلف مناظر دیکھ سکتا ہے۔ ان مثالوں میں خواب کے مندرجات انسان کے ذہنی مشاغل سے متعلق ہو سکتے ہیں۔ اس کے لیے ضروری نہیں کہ کوئی غیبی پیغام فرض کیا جائے۔
کیا ایسے خواب بے معنی ہوتے ہیں؟
ہر خواب کے بارے میں یہ کہنا بھی درست نہیں کہ وہ بالکل بے معنی ہے۔ خواب انسان کی یادوں، جذبات اور ذہنی کیفیت کی عکاسی کر سکتا ہے، جس سے اسے اپنے حالات سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ لیکن کسی خواب کا انسان کی نفسیاتی کیفیت سے تعلق ہونا اور اس کا غیبی خبر ہونا دو الگ دعوے ہیں۔ مثلاً اگر کوئی شخص اپنے مرحوم والد کو خواب میں دیکھے تو یہ اس کی محبت، یاد یا غم سے متعلق ہو سکتا ہے۔ صرف اس خواب کی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں کہ مرحوم نے لازماً کوئی پیغام بھیجا ہے یا وہ کسی خاص حالت میں ہیں۔ مرحومین کی اخروی حالت کا فیصلہ خوابوں کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔
کیا ہر خواب کی تعبیر تلاش کرنا ضروری ہے؟
نہیں۔
اگر کسی خواب کا تعلق روزمرہ کی سوچ، کام، پریشانی یا خواہش سے محسوس ہو تو اس کی لازماً کوئی علامتی تعبیر تلاش کرنا ضروری نہیں۔ کسی شخص کا یہ خیال کہ خواب میں نظر آنے والی ہر چیز کسی مخصوص واقعے کی علامت ہے، خود ایک غلط فہمی بن سکتا ہے۔ خوابوں کی علامتوں کے بارے میں عام کتابوں میں لکھی ہوئی ہر بات کو قرآن و سنت سے ثابت شدہ اصول نہیں سمجھنا چاہیے۔ *اصولی بات:* ہر خواب کو غیب کی خبر سمجھنے کے بجائے اس امکان کو بھی تسلیم کریں کہ وہ آپ کے اپنے خیالات اور تجربات سے متعلق ہو سکتا ہے۔
خوابوں کی تین اقسام کا تقابلی خلاصہ
| قسم | بنیادی مفہوم | مناسب رویہ |
|—|—|—|
| نیک خواب | اللہ کی طرف سے بشارت ہو سکتا ہے | اللہ کا شکر، امید اور احتیاط |
| پریشان کرنے والا خواب | شیطانی تحزین سے متعلق ہو سکتا ہے | اللہ کی پناہ، مسنون ہدایات اور خوف سے گریز |
| حدیثُ النفس | اپنے خیالات اور ذہنی مشاغل سے متعلق | اسے لازماً غیبی پیغام نہ سمجھنا |
یہ تقسیم صحیح مسلم کی مذکورہ حدیث سے ماخوذ ہے۔ اس کا مقصد ہر خواب کی قطعی درجہ بندی کرنا نہیں، بلکہ خوابوں کے بارے میں اسلامی رہنمائی کو سمجھنا ہے۔
خواب، نبوت کا چھیالیسواں حصہ اور عام انسان
رسول اللہ ﷺ سے صحیح بخاری میں روایت ہے: *الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ* ترجمہ: نیک خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔ صحیح البخاری، کتاب التعبیر، حدیث ۶۹۸۹۔ صحیح مسلم میں پینتالیس حصوں کی نسبت سے روایت بھی موجود ہے (صحیح مسلم، حدیث ۲۲۶۳)۔ محدثین نے ان روایات کی تشریح میں مختلف توضیحات بیان کی ہیں۔ اس حدیث سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ ہر خواب نبوت کا حصہ ہے۔ روایت میں نیک خواب کا ذکر ہے۔ نہ ہی اس کا مطلب یہ ہے کہ خواب دیکھنے والا شخص نبی بن جاتا ہے یا اس کا خواب شریعت میں مستقل دلیل بن سکتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ آخری نبی ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی خواب نبوت یا وحیِ تشریعی کا دروازہ نہیں کھولتا۔ یہ فرق واضح رہنا چاہیے، تاکہ نیک خواب کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے بارے میں مبالغہ آرائی نہ ہو۔
کیا خواب کی بنیاد پر استخارہ اور اہم فیصلے کیے جا سکتے ہیں؟
استخارہ کا مقصد اللہ تعالیٰ سے کسی جائز معاملے میں خیر طلب کرنا ہے۔ اس کے لیے خواب آنا شرط نہیں۔ کسی شخص نے استخارہ کیا اور خواب نہیں دیکھا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ استخارہ ناکام رہا۔ اسی طرح خواب میں کسی کام کو اچھا دیکھ لینے سے اس کی کامیابی یقینی نہیں ہو جاتی۔ شادی، کاروبار، ملازمت یا کسی دوسرے اہم معاملے میں انسان کو شرعی حدود کا خیال رکھنا چاہیے، مناسب مشورہ لینا چاہیے اور دستیاب حقائق کی روشنی میں فیصلہ کرنا چاہیے۔ اگر خواب کسی ایسے کام کی طرف متوجہ کرے جو پہلے ہی شریعت کے مطابق اچھا ہے، تو اس کام کو اختیار کرنے کی بنیاد شریعت اور اس کی مصلحت ہو سکتی ہے، خواب کو نئی شرعی دلیل بنانے کی ضرورت نہیں۔
خواب کی تعبیر کون کر سکتا ہے؟
قرآن مجید میں حضرت یوسف علیہ السلام کو خوابوں کی تعبیر کا علم عطا کیے جانے کا ذکر ہے۔ اس سے خوابوں کی تعبیر کے امکان اور اہمیت کا پتا چلتا ہے۔ لیکن کسی مشہور معبر کا نام، کسی بزرگ کی طرف منسوب کتاب یا سوشل میڈیا پر مقبول کوئی تعبیر اس بات کی ضمانت نہیں کہ ہر بات درست ہے۔ امام محمد بن سیرینؒ کا نام تعبیرِ خواب کے حوالے سے معروف ہے، لیکن ان کے نام سے منسوب ہر قول اور ہر کتاب کی نسبت کو الگ تحقیق کے بغیر قطعی نہیں ماننا چاہیے۔ تعبیر کرنے والے کو اپنی بات میں احتیاط برتنی چاہیے۔ جہاں یقینی علم نہ ہو، وہاں کسی خواب کی قطعی تعبیر دینے سے گریز کرنا زیادہ علمی رویہ ہے۔ کسی معبر کو یہ حق بھی حاصل نہیں کہ وہ خواب کی بنیاد پر کسی شخص کے ایمان، کردار، مستقبل یا آخرت کے بارے میں قطعی حکم لگا دے۔
اختتامی پیغام: خواب کی اہمیت بھی، حقیقت کی پہچان بھی
خواب انسان کے لیے کبھی خوش خبری، کبھی خوف اور کبھی ذہنی مشاغل کا عکس بن کر سامنے آتے ہیں۔ قرآن و سنت ہمیں ان سب پہلوؤں کو سمجھنے کی رہنمائی دیتے ہیں۔ نیک خواب دیکھنے پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے، پریشان کن خواب پر اللہ کی پناہ طلب کرنی چاہیے، اور اپنے خیالات سے متعلق خواب کو بلاوجہ غیبی پیغام نہیں بنانا چاہیے۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ خواب کسی دوسرے انسان کے خلاف ثبوت نہیں، شریعت کا نیا حکم نہیں، اور کسی شخص کے روحانی مرتبے کا قطعی پیمانہ نہیں۔
*اسلام خوابوں کا انکار نہیں کرتا، لیکن خوابوں کو قرآن و سنت کی رہنمائی سے بالاتر بھی نہیں کرتا۔* اصل کامیابی اس بات میں نہیں کہ انسان کتنے غیر معمولی خواب دیکھتا ہے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ بیداری کی زندگی میں کس قدر سچائی، انصاف، رحم، دیانت اور اللہ کی اطاعت اختیار کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح علم، درست فہم، غیر ثابت شدہ باتوں سے بچنے اور قرآن و سنت کی روشنی میں زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔