منکرینِ حدیث کی کتابیں خریدنے پر افسوس۔۔۔غلام نبی کشافی

تعمیرِ فکر

          منکرینِ حدیث کی کتابیں خریدنے پر افسوس

غلام نبی کشافی

آنچار صورہ، سرینگر

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔تحریر۔۔۔ غلام نبی کشافی )ایک قاری نے مجھے ایک لمبی تحریر بھیجی ، جس کا خلاصہ یہ ہے۔

’’سرینگر میں منعقدہ جولائی 2026ء کے چنار بک فیسٹیول میں، میں نے بیس سے زائد کتابیں خریدی تھیں، جن میں آٹھ دس کتابیں راشد شاز کی تھیں۔ لیکن جب آپ کی وہ پوسٹ منظرِ عام پر آئی، جس میں آپ نے منکرینِ حدیث کی کتابیں نہ خریدنے کا مشورہ دیا تھا، تو مجھے افسوس ہوا کہ کاش میں نے آپ کا مشورہ پہلے پڑھ لیا ہوتا۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ راشد شاز کی ایک بھی کتاب سے مجھے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ان کتابوں میں بوریت بہت زیادہ ہے، احادیثِ نبوی کا کوئی نام و نشان تک نہیں اور قرآن سے بھی برائے نام استدلال کیا گیا ہے۔ ان کی سوانحِ حیات بھی حد درجہ خشک اور غیر دلچسپ ہے۔

   اب مجھے احساس ہو رہا ہے کہ اگر میں نے آپ کا مشورہ پہلے پڑھ لیا ہوتا تو اتنی بڑی رقم خرچ کرکے یہ کتابیں خریدنے کے بجائے اس سے کہیں زیادہ مفید کتابیں خرید سکتا تھا۔‘‘

                  تنویر احمد/ سرینگر

   میرے ایک دوست نے بھی مولوی راشد شاز کی دو ضخیم جلدوں پر مشتمل کتاب ” لایموت ولا یحییٰ ” خریدی تھی ۔ انہوں نے اس خیال سے خریدی کہ شاید یہ قرآن مجید کی کوئی تفسیر ہوگی ۔ لیکن جب گھر جاکر کتاب کھول کر دیکھی تو معلوم ہوا کہ یہ تفسیرِ قرآن نہیں ہے۔ بلکہ یہ خشک اور بے مقصد سوانح حیات ہے ، اور انہیں بھی مطالعہ کے دوران شدید بوریت محسوس ہوئی اور وہ اس افسوس میں مبتلا ہوگئے کہ ایک بڑی رقم خرچ کرنے کے باوجود ان کے ہاتھ کچھ نہیں آیا۔

     دراصل میں نے بچپن ہی سے قادیانیوں اور منکرینِ حدیث کے لٹریچر کے مطالعہ کے دوران ایک عجیب قسم کی گھٹن اور بے اطمینانی محسوس کی ہے۔ غلام احمد پرویز کی تفسیر ” مفہوم القرآن ” کا مطالعہ کیا تو مجھے مولانا محمد علی لاہوری قادیانی کی تفسیر اس کے مقابلے میں کہیں بہتر محسوس ہوئی۔

    اسی پس منظر میں، میں نوجوانوں کو قادیانیوں اور منکرینِ حدیث کے لٹریچر سے اجتناب کا مشورہ دینا اپنا دینی فریضہ سمجھتا ہوں۔ میری کوشش ہے کہ نئی نسل اپنا قیمتی وقت اور وسائل ایسے لٹریچر پر صرف کرنے کے بجائے قرآن مجید، احادیثِ نبوی، سیرتِ رسول اور مستند اسلامی علمی ذخیرے کے مطالعہ پر توجہ دے۔

ترکی کے معروف دانشور مصطفیٰ اکیول نے اپنی ایک کتاب میں امام غزالیؒ کا ایک اقتباس اس طرح نقل کیا ہے۔

’’عام لوگوں کو گمراہ کن مصنفین کی کتابوں کے مطالعے سے حتی الامکان روکنا ضروری ہے، کیونکہ ان میں فریب اور گمراہی کے پہلو ہوتے ہیں۔ جس طرح کمزور تیراک کو پھسلن والے کنارے سے دور رکھنا چاہئے، اسی طرح لوگوں کو ایسی کتابوں سے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔ جس طرح بچے کو سانپ چھونے سے روکنا ضروری ہے، اسی طرح عام لوگوں کو ایسی باتیں سننے سے بچانا چاہیے۔‘‘

    میرے نزدیک، قادیانیت اور انکارِ حدیث پر مبنی فکر میں بعض معاملات میں مماثلت پائی جاتی ہے۔ قادیانیت ختمِ نبوت کے عقیدے کی نفی کرتی ہے، جب کہ منکرینِ حدیث کا بنیادی مسئلہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات اور سنتِ نبوی کو دین میں حجت تسلیم کرنے سے انکار ہے۔

  دونوں صورتوں میں دین کے بنیادی ماخذ اور مسلمہ عقائد سے انحراف کا معاملہ سامنے آتا ہے۔ اسی لیے میں سمجھتا ہوں کہ ان دونوں فتنوں سے فکری طور پر محفوظ رہنے کے لئے ضروری ہے کہ ان کے لٹریچر کا مطالعہ کرتے وقت غیر معمولی احتیاط برتی جائے اور نوجوان اپنے علمی ذوق کی تشکیل مستند اسلامی مصادر کی روشنی میں کریں۔

  مولوی راشد شاز کے طرزِ عمل کا ایک پہلو مجھے اس وقت خاصا بچکانہ لگا ، جب میں نے دیکھا کہ وہ اپنے سوشل میڈیا صفحے پر بار بار کشمیریوں کے ساتھ اپنی تصاویر شیئر کر رہے تھے۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ ان تصاویر کے ذریعے سرینگر میں ان سے ملاقات کرنے اور ان کے ہاتھ پر بیعت کرنے والوں کی تعداد نمایاں کرنا مقصود ہے۔ حالانکہ ان کی بمشکل پچاس ہوگی ۔ میرے نزدیک، کسی شخص کی علمی حیثیت کا فیصلہ اس بات سے نہیں کیا جاسکتا کہ اس کے گرد کتنے لوگ جمع ہوتے ہیں یا کتنے افراد اس کے ساتھ تصاویر بنواتے ہیں۔

البتہ اس معاملے میں کشمیریوں کی ایک عادت کا ذکر کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ہمارے یہاں لوگوں کا دل بہت بڑا ہے۔ کسی فلمی اداکار سے لے کر کسی معروف شخصیت تک، جو بھی یہاں آتا ہے، لوگ اسے دیکھنے، سننے اور اس کے ساتھ ہاتھ ملانے کے لیے جمع ہوجاتے ہیں۔ لیکن کسی کی مقبولیت یا عوامی پذیرائی اس کے افکار کی صحت اور علمی مقام کی دلیل نہیں بن سکتی۔

شاید امیر مینائی نے ہم کشمیریوں کی اسی وسیع القلبی کو دیکھ کر یہ شعر کہا ہوگا:

              خنجر  چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیرؔ

              سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے

          مجھے ایک کشمیری اسکالر کے طرزِ عمل پر بھی بڑی حیرت ہوئی۔ مجھے توقع تھی کہ ان کے دل میں دفاعِ حجیتِ حدیث کا احساس ہوگا اور وہ ایسے افراد کے معاملے میں علمی اصولوں کو پیشِ نظر رکھیں گے جو احادیثِ نبوی کو دین میں حجت تسلیم نہیں کرتے۔ لیکن بک فیسٹیول کے دوران جب میں نے انہیں ایک منکرِ حدیث شخصیت کے سامنے اس انداز سے سرِ تسلیم خم کرتے دیکھا تو مجھے سخت افسوس ہوا۔ اس واقعے کے بعد میں نے ان کی تحریریں پڑھنا بھی چھوڑ دیں۔

     میری نظر میں، اہلِ علم سے یہ توقع بجا ہے کہ وہ اپنی ملاقاتوں، پذیرائی اور عقیدت مندانہ رویوں کے ذریعے ایسے افکار کی حوصلہ افزائی نہ کریں جو ان کے اپنے دینی اصولوں سے متصادم ہوں۔ اختلافِ رائے اور علمی مکالمے سے مجھے انکار نہیں، لیکن کسی شخصیت کی غیر معمولی پذیرائی اور اس کے افکار کی علمی جانچ پڑتال دو الگ معاملات ہیں۔

     پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث اور سنت کا دفاع محض تحریروں اور تقریروں تک محدود نہیں ہونا چاہئے ۔ ہمارے علمی رویوں میں بھی اس کی اہمیت نمایاں ہونی چاہئے۔ میری شکایت کسی شخص سے ذاتی دشمنی کی بنیاد پر نہیں، بلکہ اس توقع کے تحت ہے کہ علمی مقام رکھنے والے افراد دین کے بنیادی ماخذ کے تحفظ کے معاملے میں زیادہ حساس اور محتاط ہوں گے۔

میری نوجوانوں سے یہی گزارش ہے کہ مطالعہ میں اپنی ترجیحات متعین کریں، کتابوں کا انتخاب محض شہرت، نام یا ظاہری کشش کی بنیاد پر نہ کریں، بلکہ یہ دیکھیں کہ مصنف کے افکار، استدلال اور علمی مآخذ کیا ہیں۔ قیمتی وقت اور وسائل کو ایسے مطالعے پر صرف کرنا چاۂے جو علم میں اضافہ کرے، فکر کو سنوارے اور قرآن و سنت سے تعلق مضبوط بنائے۔

                                  __________________________