منصور عباس : اسرائیلی پارلیمنٹ میں عرب فلسطینیوں کی آواز

منصور عباس : اسرائیلی پارلیمنٹ میں عرب فلسطینیوں کی آواز
منصور عباس اسرائیل کی سیاست میں ایک ایسی شخصیت ہے جس نے عرب فلسطینی شہریوں کی نمائندگی کا طریقہ بدلنے کی کوشش کی۔ وہ نہ فلسطینی اتھارٹی کا سربراہ ہے، نہ حماس کا رہنما اور نہ ہی اسرائیل کی حکومت کا سربراہ۔ وہ اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ کا رکن اور رعام نامی سیاسی جماعت کا رہنما ہے۔ اس کی اہمیت اس بات میں ہے کہ وہ اسرائیل کے اندر رہنے والے عرب شہریوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے اسی ریاست کے سیاسی نظام میں حصہ لیتا ہے جس کی پالیسیوں پر فلسطینیوں کے حقوق کے حوالے سے طویل عرصے سے اختلافات موجود ہیں۔ اس کی سیاست کو سمجھنے کے لیے اس کی ذاتی زندگی، مذہبی پس منظر، فلسطینی شناخت اور اقتدار کے ساتھ اس کے تعلق کو ایک ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔

منصور عباس 22 اپریل 1974ء کو مغار نامی قصبے میں پیدا ہوا، جو اسرائیل کے شمال میں واقع ہے۔ اس کا تعلق عرب مسلم خاندان سے ہے اور اس نے دندان سازی کی تعلیم حاصل کی۔ بعد میں اس نے حیفا یونیورسٹی سے سیاسیات میں ماسٹرز کی ڈگری بھی حاصل کی۔ اس کا تعلیمی پس منظر اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ وہ صرف مذہبی سرگرمیوں تک محدود رہنے کے بجائے ریاستی اداروں، سیاسی مذاکرات اور حکومتی فیصلوں کے ذریعے اپنے معاشرے کے مسائل حل کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ تاہم، اس کی سیاسی شناخت کسی سرکاری عہدے سے نہیں بلکہ اسلامی تحریک کے ساتھ اس کی وابستگی اور عرب شہریوں کی نمائندگی کے لیے شروع کی گئی جدوجہد سے بنی۔

اسرائیل کی اسلامی تحریک سے اس کا تعلق اس کی سیاست کی بنیاد ہے۔ یہ تحریک عرب مسلم معاشرے میں مذہبی تعلیم، سماجی خدمت، فلاحی سرگرمیوں اور سیاسی نمائندگی کے لیے کام کرتی رہی ہے۔ وقت کے ساتھ اس تحریک میں اختلاف پیدا ہوا کہ اسرائیلی ریاست کے سیاسی نظام میں حصہ لینا چاہیے یا اس سے دور رہنا چاہیے۔ جنوبی دھڑے نے انتخابات اور پارلیمانی سیاست میں شرکت کا راستہ اختیار کیا، جبکہ شمالی دھڑے نے اس حکمتِ عملی کی مخالفت کی۔ اسرائیل نے 2015ء میں شمالی دھڑے پر پابندی عائد کردی تھی۔ منصور عباس جنوبی دھڑے سے وابستہ ہے، اس لیے اس کی سیاست کا بنیادی راستہ انتخابی عمل اور مذاکرات ہیں۔ اس فرق کو سمجھے بغیر اسے حماس یا دیگر فلسطینی تنظیموں کے ساتھ ایک ہی خانے میں رکھنا درست نہیں ہوگا۔

اسی سیاسی پس منظر سے رعام وجود میں آئی، جس کا پورا نام یونائیٹڈ عرب لسٹ ہے۔ یہ جماعت اسرائیل کے عرب شہریوں کی نمائندگی کرتی ہے اور اس کی توجہ مقامی آبادی کے ایسے مسائل پر ہے جن کا تعلق روزمرہ زندگی سے ہے۔ عرب علاقوں میں جرائم، مسلح تشدد، رہائش کی کمی، زمین کی منصوبہ بندی، تعمیرات کے اجازت ناموں، تعلیم، روزگار اور بنیادی سہولتوں کی کمی جیسے مسائل طویل عرصے سے زیرِبحث ہیں۔ منصور عباس کا مؤقف ہے کہ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے صرف احتجاج کافی نہیں؛ ان کے لیے حکومتی بجٹ، قانون سازی اور انتظامی فیصلوں پر اثر انداز ہونا بھی ضروری ہے۔ یہی سوچ اسے ان سیاست دانوں سے مختلف بناتی ہے جو حکومت میں شمولیت کے بجائے مستقل اپوزیشن کو اپنی بنیادی حکمتِ عملی سمجھتے ہیں۔

اسرائیل کے عرب شہریوں کی حیثیت کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ یہ آبادی اسرائیل کی مجموعی آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ ہے اور اس میں ایسے فلسطینی خاندان شامل ہیں جو 1948ء میں اسرائیل کے قیام کے بعد بھی اپنی سرزمین پر رہے اور اسرائیلی شہری بنے۔ ان کی فلسطینی قومی شناخت اور اسرائیلی شہریت دو الگ حقیقتیں ہیں، جو اکثر سیاسی بحث کا موضوع بنتی ہیں۔ منصور عباس بنیادی طور پر انہی عرب شہریوں کی پارلیمانی نمائندگی کرتا ہے، نہ کہ غزہ، مغربی کنارے یا مشرقی یروشلم کے تمام فلسطینیوں کی۔ ان علاقوں کے رہائشیوں کی قانونی حیثیت، سیاسی حالات اور نمائندگی کے ادارے مختلف ہیں۔ اس لیے اس کے کردار کا درست جائزہ لینے کے لیے یہ فرق ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ وہ اسرائیلی شہریوں کے ووٹ سے منتخب ہونے والا سیاست دان ہے، پوری فلسطینی قوم کا منتخب نمائندہ نہیں۔

اس کی سیاست کا سب سے اہم موڑ 2021ء میں آیا، جب رعام نے نفتالی بینیٹ اور یائیر لاپید کی قیادت میں بننے والے حکومتی اتحاد میں شمولیت اختیار کی۔ اس وقت اسرائیل میں مسلسل انتخابی بحران اور حکومت سازی کی مشکلات کے باعث سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کے نئے راستے تلاش کر رہی تھیں۔ نیتن یاہو کی طویل حکمرانی ختم کرنے کے لیے دائیں بازو، مرکز پسند اور بائیں بازو کی جماعتوں نے ایک مشترکہ اتحاد تشکیل دیا، جس میں منصور عباس کی جماعت بھی شامل ہوئی۔ اس فیصلے نے اسرائیلی سیاست میں ایک نئی مثال قائم کی، کیونکہ رعام پہلی آزاد عرب جماعت بنی جس نے اسرائیلی حکومت میں باقاعدہ شمولیت اختیار کی۔ اس قدم سے واضح ہوا کہ عرب جماعت بھی پارلیمانی اکثریت بنانے کے عمل میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے، بشرطیکہ بڑی جماعتوں کے پاس اپنی اکثریت موجود نہ ہو۔

حکومت میں شامل ہونے کے بعد رعام کو عرب علاقوں کی ترقی، مقامی حکومتوں کے وسائل، جرائم کی روک تھام اور بنیادی سہولتوں کے بارے میں مذاکرات کا موقع ملا۔ اس دور میں عرب آبادی کے لیے اربوں شیکل کے ترقیاتی منصوبوں اور فنڈز کی منظوری بھی ہوئی۔ لیکن کسی منصوبے کے لیے رقم مختص ہوجانا اور اس منصوبے کا زمین پر مکمل ہونا دو مختلف چیزیں ہیں۔ اسی لیے منصور عباس کی کامیابی کا فیصلہ صرف اس بنیاد پر نہیں کیا جاسکتا کہ حکومت نے کتنی رقم مختص کی، بلکہ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ کتنے منصوبے مکمل ہوئے، مقامی آبادی کو کیا فائدہ پہنچا اور جرائم و تشدد کے مسائل میں کتنی تبدیلی آئی۔ اس کے حامیوں کے نزدیک حکومتی شمولیت نے عرب شہریوں کو فیصلوں پر اثر انداز ہونے کا موقع دیا، جبکہ ناقدین سمجھتے ہیں کہ محدود ترقیاتی فوائد کے لیے سیاسی سمجھوتے کرنا قومی حقوق کے بڑے سوالات کو کمزور کرسکتا ہے۔

بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ منصور عباس کے تعلقات بھی اسی عملی سیاست کا حصہ ہیں۔ 2021ء کی حکومت سازی سے پہلے نیتن یاہو نے بھی رعام کے ساتھ مذاکرات کیے تھے، کیونکہ انہیں حکومت بنانے کے لیے اضافی پارلیمانی حمایت درکار تھی۔ لیکن ان کے بعض قوم پرست اتحادی عرب اسلامی جماعت کے ساتھ تعاون پر آمادہ نہیں تھے، اور یہ مذاکرات حکومت سازی کے معاہدے میں تبدیل نہ ہوسکے۔ بعد میں منصور عباس نے بینیٹ اور لاپید کے اتحاد کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا۔ اس واقعے سے اس کی سیاسی حکمتِ عملی واضح ہوتی ہے کہ وہ مذاکرات کے دروازے مختلف جماعتوں کے لیے کھلے رکھنا چاہتا ہے، لیکن کسی جماعت کے ساتھ بات چیت کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اس کی ہر پالیسی کی حمایت کرتا ہے۔ اس کی ترجیح یہ ہے کہ پارلیمانی طاقت کو عرب شہریوں کے لیے عملی فائدہ حاصل کرنے میں استعمال کیا جائے۔

منصور عباس کی سیاست کا سب سے حساس پہلو اسرائیل کی یہودی ریاستی شناخت اور فلسطینی قومی حقوق کے درمیان تعلق ہے۔ وہ اسرائیل کے اندر رہ کر عرب شہریوں کے لیے مساوات اور شہری حقوق کا مطالبہ کرتا ہے، لیکن فلسطینی شناخت اور ایک الگ فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت بھی کرتا ہے۔ فلسطینیوں کے لیے آزاد ریاست کا تصور دو ریاستی حل کہلاتا ہے، جس میں اسرائیل کے ساتھ فلسطینی ریاست قائم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے مؤقف پر اس لیے بحث ہوتی ہے کہ اسرائیل کی ریاستی شناخت اور فلسطینیوں کی قومی خود ارادیت کے درمیان کئی بنیادی تنازعات موجود ہیں۔ اس کا سیاسی طریقہ یہ ہے کہ ان اختلافات کے باوجود اسرائیلی اداروں میں حصہ لے کر اپنے ووٹروں کے لیے جگہ بنائی جائے، لیکن اس حکمتِ عملی کو تمام فلسطینی سیاسی حلقوں کی حمایت حاصل نہیں۔

غزہ کی جنگ نے اس کی سیاست کو مزید مشکل بنا دیا، کیونکہ اب اسے عرب شہریوں کے روزمرہ مسائل کے ساتھ فلسطینی قومی مسئلے پر بھی اپنا مؤقف واضح کرنا پڑتا ہے۔ 7 اکتوبر 2023ء کو حماس کے حملوں اور اس کے بعد اسرائیلی فوجی کارروائیوں نے اسرائیلی اور فلسطینی معاشروں کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید گہرا کردیا۔ منصور عباس نے شہریوں پر حملوں کی مخالفت کی اور سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیا۔ اس کا سیاسی راستہ مسلح جدوجہد کے بجائے مذاکرات، فلسطینی ریاست اور اسرائیلی اداروں میں سیاسی شرکت پر مبنی ہے۔ تاہم، غزہ کے مستقبل، فلسطینی حکومت کی تشکیل اور سکیورٹی انتظامات کے بارے میں مختلف فلسطینی اور اسرائیلی فریقوں کے درمیان شدید اختلافات موجود ہیں، اس لیے اس کی تجاویز کو کسی متفقہ حل کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔

منصور عباس کے ناقدین کا بنیادی اعتراض یہ ہے کہ کیا اسرائیلی حکومتوں میں شمولیت عرب شہریوں کے مسائل حل کرنے کے لیے کافی ہے، یا اس سے ایسی پالیسیوں کو بھی سیاسی سہارا مل سکتا ہے جنہیں فلسطینی اپنے قومی حقوق کے خلاف سمجھتے ہیں۔ مثال کے طور پر، نفتالی بینیٹ ماضی میں مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی حمایت کرتے رہے، جبکہ منصور عباس فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے۔ ان دونوں کے ایک حکومتی اتحاد میں شامل ہونے سے واضح ہوتا ہے کہ عملی سیاست میں بعض اوقات ایسے رہنما بھی ساتھ بیٹھتے ہیں جن کے بنیادی نظریات مختلف ہوتے ہیں۔ منصور عباس کے حامی کہتے ہیں کہ حکومت سے باہر رہنے سے عرب شہریوں کے مسائل خود بخود حل نہیں ہوں گے، جبکہ مخالفین سمجھتے ہیں کہ حکومتی اتحاد میں شامل ہونے سے اصولی مؤقف کمزور پڑ سکتا ہے۔ یہ اختلاف اس کی سیاست کا سب سے اہم سوال ہے اور اسے کسی ایک جملے میں حل نہیں کیا جاسکتا۔

اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ میں 120 نشستیں ہیں اور حکومت بنانے کے لیے عموماً کم از کم 61 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ اگر بڑی جماعتیں مطلوبہ اکثریت حاصل نہ کرسکیں تو رعام جیسی چھوٹی جماعت بھی حکومت سازی میں اہم ہو سکتی ہے۔ 2021ء میں اس کی چار نشستوں نے اسے ایک ایسے اتحاد میں اہم مقام دیا جس کے پاس اپنی طاقت کے باوجود عرب جماعت کی حمایت کے بغیر اکثریت قائم رکھنا مشکل تھا۔ لیکن یہ طاقت ہر انتخاب میں یکساں نہیں رہتی۔ اس کا انحصار انتخابی نتائج، دوسری جماعتوں کے درمیان اختلافات اور اس بات پر ہوتا ہے کہ کون سی جماعت کس کے ساتھ حکومت بنانے پر آمادہ ہے۔ اس لیے منصور عباس کو مستقل طور پر حکومت بنانے یا گرانے والا سیاست دان کہنا درست نہیں، البتہ اس کا تجربہ دکھاتا ہے کہ پارلیمانی نظام میں چند نشستیں بھی بعض حالات میں غیر معمولی اہمیت حاصل کرسکتی ہیں۔

منصور عباس کی سیاسی کہانی دراصل اسرائیل کے عرب شہریوں کے سامنے موجود ایک بڑے سوال کی عکاسی کرتی ہے: کیا ریاست کے اندر رہ کر اس کے اداروں میں حصہ لینے سے حقیقی تبدیلی لائی جاسکتی ہے، یا اس راستے میں ایسے سمجھوتے کرنا پڑتے ہیں جو قومی شناخت اور بنیادی حقوق کے مطالبات کو محدود کردیں؟ اس کی سیاست کا مقصد عرب شہریوں کے لیے وسائل، تحفظ، رہائش، تعلیم اور روزگار کے مواقع بڑھانا ہے، لیکن اس کے ساتھ فلسطینی ریاست اور قومی شناخت کا سوال بھی موجود رہتا ہے۔ اس کے حامی اسے ایک عملی سیاست دان سمجھتے ہیں جو محدود سیاسی طاقت کو استعمال کرنا جانتا ہے، جبکہ اس کے ناقدین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ عملی کامیابیوں کو وسیع تر فلسطینی حقوق سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔ اس کی اصل سیاسی اہمیت اسی تناؤ میں ہے، جہاں شہری ضروریات، قومی شناخت اور اقتدار میں شمولیت کے درمیان توازن قائم کرنا آسان نہیں۔

محسن علی

27 اکتوبر 2026ء

⸻

#mohsiiinaliii #east2blue #MansourAbbas #IsraelPolitics #Palestine