Daily Roshni News

خیال کہاں سے پیدا ہوتا ہے؟۔۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔  محمد شعیب عمر

خیال کہاں سے پیدا ہوتا ہے؟

تحریر  ۔۔۔۔۔۔۔  محمد شعیب عمر

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ خیال کہاں سے پیدا ہوتا ہے؟۔۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔  محمد شعیب عمر)خیال اچانک آسمان سے نہیں اترتا؛ عموماً وہ انسان کے اندر پہلے سے موجود کسی تجربے، سوال، مشاہدے، احساس یا علم کے درمیان پیدا ہونے والا ایک نیا تعلق ہوتا ہے۔ انسان کچھ دیکھتا ہے، کچھ سنتا ہے، کچھ پڑھتا ہے، کچھ محسوس کرتا ہے، پھر اس کے ذہن میں موجود سابقہ معلومات سے اسے جوڑتا ہے—اور اسی جوڑ سے ایک نیا خیال جنم لیتا ہے۔

ایک منظر کسی خیال کو جگا سکتا ہے، مگر خیال صرف منظر نہیں ہوتا۔ راستے میں ایک بوڑھا شخص دکھائی دیتا ہے؛ منظر ختم ہو جاتا ہے، مگر سوال باقی رہ جاتا ہے: یہ شخص اپنی زندگی میں کیا کچھ دیکھ چکا ہوگا؟ یہی سوال مشاہدے کو خیال میں بدل دیتا ہے۔

کبھی خیال سوال سے پیدا ہوتا ہے۔

“ایسا کیوں ہے؟”

“کیا واقعی ایسا ہی ہے؟”

“اگر اس کے برعکس ہو تو؟”

“جو سب لوگ درست سمجھتے ہیں، کیا وہ حقیقتاً درست بھی ہے؟”

ایک اچھا سوال ذہن کو سکون نہیں دیتا؛ اسے تلاش پر لگا دیتا ہے۔ اسی تلاش میں خیال پختہ ہوتا ہے۔

کبھی خیال مطالعے سے پیدا ہوتا ہے۔ ایک کتاب ہمیں صرف معلومات نہیں دیتی؛ وہ ہمارے ذہن میں موجود دو بظاہر الگ باتوں کے درمیان ایک نیا رشتہ قائم کر سکتی ہے۔ ایک شخص مختلف موضوعات پڑھتا ہے، پھر ایک دن اسے ان کے درمیان ایسی نسبت دکھائی دیتی ہے جو پہلے اس کی نگاہ سے پوشیدہ تھی۔ یہی دریافت خیال بن جاتی ہے۔

کبھی خیال تجربے کے درد سے نکلتا ہے۔ ناکامی انسان کو وہ سوال سکھا دیتی ہے جو کامیابی کبھی نہیں سکھاتی۔ جدائی تعلق کی قدر سمجھا دیتی ہے، تنہائی انسان کو اپنے اندر دیکھنے پر مجبور کرتی ہے، اور غلطی کبھی کبھی وہ سبق دے جاتی ہے جو نصیحت نہیں دے پاتی۔

کبھی خیال خاموشی سے پیدا ہوتا ہے۔ مسلسل شور میں ذہن اکثر دوسروں کے خیالات دہراتا رہتا ہے؛ خاموشی میں انسان اپنے خیالات کی آواز سننا شروع کرتا ہے۔ اسی لیے بعض گہرے خیالات گفتگو کے ہجوم میں نہیں بلکہ تنہائی کے کسی خاموش لمحے میں پیدا ہوتے ہیں۔

لیکن ہر خیال حقیقت نہیں ہوتا۔ ذہن میں آنے والی ہر بات درست، مفید یا قابلِ تحریر نہیں ہوتی۔ کچھ خیالات تعصب سے پیدا ہوتے ہیں، کچھ خوف سے، کچھ خواہش سے، کچھ غلط معلومات سے اور کچھ محض جذباتی ردِعمل ہوتے ہیں۔ اس لیے خیال کا پیدا ہونا پہلی منزل ہے، اس کی جانچ اگلی۔

ایک پختہ خیال کو علم کے سامنے پرکھا جاتا ہے، عقل سے جانچا جاتا ہے، تجربے سے دیکھا جاتا ہے، دلیل سے مضبوط کیا جاتا ہے اور اخلاق کے میزان پر تولا جاتا ہے۔

یوں خیال کی ایک مکمل زندگی بنتی ہے:

مشاہدہ

 سوال

 تعلق

 غور و فکر

 تحقیق

 فہم

 خیال

 اظہار

اور شاید تخلیقی انسان اور محض معلومات رکھنے والے انسان میں بنیادی فرق بھی یہی ہے۔ معلومات بہت سے لوگوں کے پاس ہوتی ہیں، مگر ان معلومات کے درمیان نئے اور بامعنی تعلقات دیکھنے کی صلاحیت ہر شخص میں یکساں نہیں ہوتی۔

اسی لیے خیال صرف دماغ کی پیداوار نہیں؛ اس میں آنکھ کا مشاہدہ، دل کا احساس، عقل کی جستجو، تجربے کی پختگی، مطالعے کی وسعت اور سوال کی بے چینی سب شریک ہوتے ہیں۔

اور جب یہ سب ایک نقطے پر جمع ہو جائیں تو خاموشی کے اندر سے ایک آواز اٹھتی ہے:

“اس بات کو لکھنا چاہیے۔”

وہیں سے خیال، لفظ کی طرف اپنا سفر شروع کرتا ہے۔

محمد شعیب عمر

Loading