Daily Roshni News

مذہبی ٹھگ

مذہبی ٹھگ

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )متحدہ ہند کے دور میں ٹھگوں کا سب سے خطرناک مگر بظاہر پر امن ہتھیار ‘مذہبی وار’  تھا- ایک ایسا وار جس میں نہ خون بہتا تھا اور نہ کوئی چیخ سنائی دیتی مگر انسان سب کچھ لٹا بیٹھتا-

بنارس وہ مقام تھا’ جہاں یاترا کے بہانے آنے والوں کی تعداد سب سے ذیادہ لوٹی جاتی- ٹھگ سادھو’ ملا’ فقیروں اور یاتریوں کا روپ دھار لیتے- وہ جانتے تھے کہ لوگوں کا ایمان’ خوف اور عقیدہ ہی وہ دروازہ ہے’ جسے کھول کر دلوں کے اندر داخل ہوا جا سکتا ہے- اسی لیئے وہ کبھی ہندو بن جاتے اور کبھی مسلمان- جیسا ماحول’ ویسا ہی حلیہ اور یہ ہی ان کی سب سے بڑی چال تھی-

آج بھی بھارت’ پاکستان اور بنگلہ دیش میں ایسی ہزاروں جعلی درگاہیں اور مزارات موجود ہیں’ جہاں نسل در نسل یہ سلسلہ چل رہا ہے- ان کا طریقہ واردات انتہائی باریک مگر  خطرناک ہوتا ہے- یہ پہلے اپنے گروہ کے جند مردوں اور عورتوں کو مختلف علاقوں میں بھیجتے ہیں- وہ ‘کرامات’  کی جھوٹی داستانیں پھیلاتے ہیں کہ فلاں بابا کے ہاتھ میں شفا ہے’ فلاں دربار پر آنکھوں کی روشنی واپس آ جاتی ہے’ فلاں کنوئیں کا پانی پیتے ہی دل کو سکون مل جاتا ہے- پھر لوگ آنا شروع ہوتے ہیں اور یہی سے واردات شروع ہو جاتی ہے-

نیاز’ لنگر یا ہلکی سی کوئی ایسی چیز پانی میں ملا دی جاتی ہے’ جو چند گھنٹوں کیلئے دماغ کو غیر معمولی سکون دیتی ہے- عام لوگ اسے روحانی کیفیت سمجھ کر یقین کر لیتے ہیں کہ یہ مرشد کی کرامت ہے- اس کے بعد جعلی مریض آتے ہیں’ جو پہلے سے گروہ کے ممبر ہوتے ہیں- وہ سب کے سامنے ‘شفایاب’  ہوتے ہیں’ ڈرامائی انداز میں ٹھیک ہوتے ہیں اور یوں مزید لوگوں کو پھانس لیا جاتا ہے-

پاکستان جیسے خوبصورت ملک کی معصوم عوام ان چالوں میں پھنس جاتی ہے- کوئی پیسہ لٹا بیٹھتا ہے تو کوئی عزت’ اور کوئی اپنی زندگی کی ریل گاڑی ان جعلی روحانیوں  کے پیچھے لگا دیتا ہے- کئ نوجوان ان ہی ٹھگوں کے ہاتھوں چرس’ بھنگ اور مختلف نشوں کی طرف دھکیل دیئے جاتے ہیں- پھر وہی نوجوان گھروں سے پیسے چرا کر ان ہی درباروں پر پہنچتے ہیں اور نشہ خریدتے ہیں- سب کچھ ‘روحانی تعلق’  کے نام پر- یہ سلسلہ صدیوں سے چلا آ رہا ہے’ صرف چہرے بدلے ہیں طریقہ نہیں-

یاد رکھیں- روحانیت کبھی دھوکے اور ڈرامے کی محتاج نہیں ہوتی- سچ میں’  نہ جادو ہوتا ہے’ نہ شور’ نہ تماشا اور نہ ہی وہ آپ سے آپ کی عقل’ عزت یا پیسے کا مطالبہ کرتی ہے- اپنے ایمان کو صرف ان ہاتھوں میں دیں’ جو علم’ کردار اور امانت سے پہچانے جائیں’ نہ کہ ان چہروں میں جو وقت اور مفاد کے مطابق مذہب بھی بدل لیں اور تسبیح بھی- یہ دور ٹھگوں کا ہے- ایمان بچانا عبادت ہے اور عقل استعمال کرنا فرض- اپنے دل کو کسی جھوٹے سادھو’ جعلی پیر اور بناوٹی فقیروں کے سپرد نہ کریں- سچے رب کا راستہ ہمیشہ روشن ہوتا ہے’ بس آنکھیں کھول کر چلنے کی ضرورت ہے…!!!!!

@veryone

Loading