دوحہ میں چوپال کے زیرِ اہتمام ڈاکٹر افضل رضوی کے اعزاز میں ظہرانہ، ’’در برگِ لالہ و گل‘‘ کی تیسری جلد کی رونمائی
دوحہ ( ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ نمائندہ خصوصی )اقبال شناسی کے فروغ کے لیے علمی و ادبی نشست؛ ضیا الرحمن کا خطاب، ڈاکٹر افضل رضوی سے سوال و جواب اور شعرا دانش و آصف شفیع کی جانب سے شعری مجموعوں کا تحفہ
دوحہ (قطر، 19 اکتوبر 2026ء): چوپال کے زیرِ اہتمام ممتاز محقق، ادیب اور اقبالیات کے معروف اسکالر ڈاکٹر افضل رضوی کے اعزاز میں ظہرانےکا اہتمام کیا گیا۔اس موقع پر ان کی اہم تحقیقی تصنیف ’’در برگِ لالہ و گل: علامہ اقبال کی شاعری کا نباتاتی مطالعہ‘‘ کی تیسری جلد کی رونمائی بھی کی گئی۔ تقریب میں علامہ اقبال کی فکر و شاعری، اقبالیات میں تحقیق کی اہمیت اور ڈاکٹر افضل رضوی کی علمی و ادبی خدمات کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو ہوئی۔
تقریب ملک تنویر حسن مصنف ’’مٹی‘‘ کی تحریر ضیا الرحمن نے حاضرین کے سامنے پیش کیا جس میںڈاکٹر افضل رضوی کی تحقیقی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ سنجیدہ علمی تحقیق کسی بھی زبان و ادب کے فروغ اور فکری روایت کی تفہیم میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ علامہ اقبال کی شاعری فکری گہرائی، روحانی بصیرت اور فطرت کے مظاہر کی بھرپور علامتی معنویت سے مالامال ہے، جسے سمجھنے کے لیے مسلسل مطالعے اور تحقیق کی ضرورت ہے۔
اس موقع پر ڈاکٹر افضل رضوی نے اپنی مختصر گفتگو میں چوپال کے منتظمین اور شرکائے تقریب کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اپنی کتاب کے موضوع اور علامہ اقبال کی شاعری میں نباتاتی عناصر کی معنویت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اقبال کے ہاں پھول، لالہ، گل، شجر اور دیگر مظاہرِ فطرت محض شاعرانہ آرائش نہیں، بلکہ ان کے ذریعے زندگی، ارتقا، خودی، روحانی بالیدگی اور انسانی شخصیت کی تعمیر جیسے اہم تصورات کو بیان کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر افضل رضوی کی تین جلدوں پر مشتمل یہ تحقیقی تصنیف علامہ اقبال کی شاعری میں نباتاتی عناصر کے مطالعے اور ان کے فکری، علامتی اور جمالیاتی پہلوؤں کی تفہیم کے لیے ایک منظم علمی کوشش ہے۔ اس تحقیق کے ذریعے اقبال کے کلام میں فطرت کے مظاہر اور انسانی فکر و شخصیت کے درمیان معنوی رشتوں کو سمجھنے کا ایک نیا زاویہ سامنے آتا ہے۔
تقریب کے دوران ڈاکٹر افضل رضوی کے ساتھ سوال و جواب کی نشست بھی منعقد ہوئی، جس میں شرکائے محفل نے علامہ اقبال کی شاعری، تصورِ خودی، فطرت کے استعاروں اور اقبال کے پیغام کی عصرِ حاضر میں معنویت کے حوالے سے سوالات کیے۔ ڈاکٹر افضل رضوی نے جوابات دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اقبال کو سمجھنے کے لیے ان کے اشعار کو محض دہرانا کافی نہیں، بلکہ ان کے فکری پس منظر، فلسفیانہ تصورات اور علامتی نظام کا گہرا مطالعہ ضروری ہے۔ ان کے مطابق اقبال کے پیغام کی حقیقی تفہیم اسی وقت ممکن ہے جب ان کے کلام کو اس کے فکری اور تہذیبی تناظر میں پڑھا جائے۔
تقریب کا ایک خوش گوار ادبی پہلو یہ بھی تھا کہ دوحہ کے معروف شعرا جاویددانش اور آصف شفیع نے ڈاکٹر افضل رضوی کو اپنے اپنے شعری مجموعے پیش کیے۔ اس اقدام سے ادبی روابط، باہمی احترام اور کتاب و ادب سے وابستگی کے جذبات کا اظہار ہوا۔ یہ موقع علمی و ادبی شخصیات کے درمیان تبادلۂ خیال اور اردو ادب کے فروغ کے حوالے سے بھی اہمیت کا حامل تھا۔
دوحہ میں منعقد ہونے والی یہ تقریب اقبال شناسی، اردو زبان و ادب اور تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ایک اہم ادبی اجتماع ثابت ہوئی۔ شرکائے محفل نے ڈاکٹر افضل رضوی کی تحقیقی خدمات کو سراہا اور اس امید کا اظہار کیا کہ ایسی علمی و ادبی نشستیں فکری مکالمے، کتاب دوستی اور اردو ادب کی روایت کو مزید مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کرتی رہیں گی۔