رنگیلا: پاکستانی سینما کا وہ لازوال فنکار جس نے قہقہوں کو فن بنا دیا
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )پاکستانی فلمی صنعت کی تاریخ میں کچھ فنکار ایسے گزرے ہیں جنہیں صرف اداکار کہنا ان کے فن کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ محمد سعید خان المعروف رنگیلا بھی انہی عظیم فنکاروں میں شامل تھے جنہوں نے اداکاری، مزاح، گلوکاری، ہدایت کاری، فلم سازی اور تحریر سمیت فن کے کئی شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ان کا انداز منفرد تھا، چہرے کے تاثرات بے مثال تھے، مکالموں کی ادائیگی دلکش تھی اور وہ معمولی سے معمولی کردار کو بھی اپنی فنکارانہ صلاحیت سے یادگار بنا دیتے تھے۔
🌟 ایک عام نوجوان سے عظیم فنکار تک
محمد سعید خان 1937ء میں پیدا ہوئے۔ ان کی ابتدائی زندگی مشکلات اور جدوجہد سے عبارت تھی۔ نوجوانی ہی سے انہیں جسمانی ورزش اور باڈی بلڈنگ کا شوق تھا۔ روزگار کی تلاش انہیں لاہور لے آئی، جہاں انہوں نے فلمی صنعت کے لیے اشتہاری بورڈ اور سائن بورڈ پینٹ کرنے کا کام بھی کیا۔
یہی وہ مرحلہ تھا جہاں ان کا تعلق فلمی دنیا سے مضبوط ہوا۔ قسمت نے ایک دن انہیں پردۂ سیمیں کے سامنے لا کھڑا کیا۔ ایک فلم کی شوٹنگ کے دوران مزاحیہ کردار کے لیے ضرورت پیش آئی تو محمد سعید خان کو موقع دیا گیا۔ ان کی برجستہ اداکاری اور منفرد انداز نے لوگوں کو متاثر کیا اور یوں ایک پینٹر سے فلمی اداکار بننے کا سفر شروع ہوا۔
🎬 فلمی سفر کا آغاز
رنگیلا نے 1950ء کی دہائی کے آخر میں فلمی دنیا میں قدم رکھا اور پنجابی فلم “جٹی” سے اپنی اداکاری کا باقاعدہ سفر شروع کیا۔ اس کے بعد ان کی مزاحیہ اداکاری نے انہیں بہت جلد فلم بینوں میں مقبول بنا دیا۔
رنگیلا کی خاص بات یہ تھی کہ وہ صرف مزاحیہ اداکار بن کر نہیں رہ گئے۔ انہوں نے وقت کے ساتھ ساتھ خود کو ایک مکمل فلمی فنکار کے طور پر منوایا۔ وہ اداکار ہونے کے ساتھ ساتھ ہدایت کار، فلم ساز، مصنف، گلوکار، موسیقار اور پروڈیوسر بھی بنے۔
🎥 “دیا اور طوفان” اور ہدایت کاری
1969ء میں رنگیلا نے فلم “دیا اور طوفان” کے ذریعے ہدایت کاری اور فلم سازی کے میدان میں قدم رکھا۔ یہ ان کے فنی سفر کا ایک اہم موڑ تھا۔
اس فلم کے حوالے سے ان کا گایا ہوا گیت “گا میرے منوا گاتا جا رے” بھی بہت مقبول ہوا۔ یوں رنگیلا نے ثابت کیا کہ ان کی صلاحیت صرف اداکاری اور کامیڈی تک محدود نہیں بلکہ وہ موسیقی اور فلم سازی کے دیگر شعبوں میں بھی اپنی شناخت بنا سکتے ہیں۔
بعد ازاں انہوں نے رنگیلا پروڈکشنز کے نام سے اپنی فلم سازی کا سلسلہ شروع کیا اور کئی فلمیں بنائیں۔ ان کی فلموں میں مزاح کے ساتھ ساتھ معاشرتی موضوعات، منفرد کردار اور دلچسپ کہانیوں کا امتزاج نظر آتا تھا۔
😂 کامیڈی کا ایک منفرد انداز
رنگیلا کی کامیڈی محض قہقہہ لگوانے کا نام نہیں تھی۔ ان کے چہرے کے تاثرات، جسمانی حرکات، مکالموں کا اتار چڑھاؤ اور کردار میں ڈوب جانے کا انداز انہیں اپنے عہد کے دوسرے کامیڈینز سے ممتاز کرتا تھا۔
وہ ایک ہی وقت میں مزاحیہ بھی ہوسکتے تھے اور سنجیدہ بھی۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے صرف کامیڈی کرداروں تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ ہیرو اور مختلف سنجیدہ کردار بھی ادا کیے۔
ان کی جوڑی اپنے دور کے ایک اور عظیم مزاحیہ فنکار منور ظریف کے ساتھ بھی بے حد مقبول ہوئی۔ دونوں فنکار جب پردۂ سیمیں پر اکٹھے آتے تو فلم بینوں کے لیے ہنسی اور تفریح کا ایک یادگار ماحول پیدا ہوجاتا تھا۔
🎞️ یادگار فلمیں
رنگیلا کے فنی سفر میں بے شمار فلمیں شامل ہیں۔ ان کی نمایاں فلموں میں:
“دیا اور طوفان”، “رنگیلا”، “دل اور دنیا”، “میری زندگی ہے نغمہ”، “کبرا عاشق”، “انسان اور گدھا”، “پردے میں رہنے دو”، “عورت راج”، “سونا چاندی”، “مس کولمبو”، “باغی قیدی”، “تین یکے تین چھکے” اور دیگر فلمیں شامل ہیں۔
“رنگیلا” میں انہوں نے مرکزی کردار ادا کیا، جبکہ “دل اور دنیا” بھی ان کے اہم فنی کاموں میں شمار ہوتی ہے۔ “سونا چاندی” اور “عورت راج” سمیت متعدد فلموں میں ان کی اداکاری اور فلم سازی کی صلاحیت نمایاں رہی۔
🏆 اعزازات اور فنی خدمات
رنگیلا کی غیر معمولی صلاحیتوں کا اعتراف صرف عوام نے ہی نہیں بلکہ فلمی دنیا نے بھی کیا۔ انہیں مختلف شعبوں میں متعدد نگار ایوارڈز ملے۔
ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔ مختلف معتبر ذرائع ان کے فنی سفر میں گیارہ نگار ایوارڈز تک کا ذکر کرتے ہیں، جبکہ بعض پرانے حوالوں میں مختلف زمروں کے ایوارڈز کی تعداد الگ بیان ہوئی ہے۔
یہ اعزاز اس بات کا ثبوت تھے کہ رنگیلا محض عوام کو ہنسانے والے کامیڈین نہیں بلکہ پاکستانی فلمی صنعت کے ایک ہمہ جہت فنکار تھے۔
🎭 رنگیلا صرف کامیڈین نہیں تھے
رنگیلا کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ انہوں نے اپنے آپ کو کسی ایک شعبے تک محدود نہیں کیا۔ وہ:
اداکار بھی تھے، کامیڈین بھی، گلوکار بھی، ہدایت کار بھی، پروڈیوسر بھی، مصنف بھی اور فلم ساز بھی۔
انہوں نے فلمی صنعت کے مختلف شعبوں میں کام کرکے یہ ثابت کیا کہ ایک باصلاحیت فنکار اپنی محنت، تخلیقی صلاحیت اور مسلسل جدوجہد سے کئی میدانوں میں کامیابی حاصل کرسکتا ہے۔
ان کا فنی سفر چار دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط رہا اور مختلف ذرائع کے مطابق انہوں نے سینکڑوں فلموں میں کام کیا۔ بعض حوالوں میں ان کی فلموں کی تعداد 300 سے زائد جبکہ بعض میں 550 یا اس سے بھی زیادہ بیان ہوئی ہے، اس لیے حتمی تعداد کے بجائے یہ کہنا زیادہ محتاط ہے کہ وہ پاکستانی سینما کے سب سے زیادہ مصروف اور کثیرالعمل فنکاروں میں شمار ہوتے تھے۔
🕊️ زندگی کا آخری باب
زندگی کے آخری برسوں میں رنگیلا مختلف طبی مسائل کا شکار رہے اور صحت کی خرابی کے باعث رفتہ رفتہ فلمی سرگرمیوں سے دور ہوتے گئے۔
بالآخر 24 مئی 2005ء کو لاہور میں 68 برس کی عمر میں ان کا انتقال ہوگیا۔ ان کی وفات پاکستانی فلمی صنعت کے لیے ایک بڑا نقصان تھی۔
ان کے انتقال کو کئی برس گزر چکے ہیں، مگر ان کے کردار، مکالمے، چہرے کے تاثرات اور مخصوص مزاحیہ انداز آج بھی پرانی پاکستانی فلموں کے شائقین کے ذہنوں میں زندہ ہیں۔
🌹 رنگیلا کا اصل کمال
رنگیلا کا سب سے بڑا کمال یہ تھا کہ انہوں نے مشکل حالات سے نکل کر اپنا مقام خود بنایا۔
ایک نوجوان جس نے کبھی فلمی بورڈ پینٹ کرکے روزی کمائی، وہی شخص آگے چل کر پاکستانی سینما کا معروف اداکار، کامیڈین، گلوکار، ہدایت کار اور فلم ساز بنا۔ ان کی زندگی اس بات کی مثال ہے کہ صلاحیت کو اگر محنت، مسلسل جدوجہد اور مواقع میسر آجائیں تو ایک عام انسان بھی غیر معمولی مقام حاصل کرسکتا ہے۔
رنگیلا نے لوگوں کو ہنسایا، تفریح فراہم کی اور پاکستانی فلمی صنعت کو اپنے منفرد فن سے مالا مال کیا۔ اسی لیے ان کا نام پاکستانی سینما کی تاریخ میں ایک ایسے فنکار کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا جس کا ہر رنگ واقعی نرالا تھا۔
اللہ تعالیٰ مرحوم محمد سعید خان المعروف رنگیلا کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور پاکستانی فن و ثقافت کے اس عظیم فنکار کو اپنی رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہو تو اسے ضرور لائک کریں اور ایسی مزید معلوماتی تحریروں کے لیے میرے پیج کو فالو کریں۔
![]()

