Daily Roshni News

سائنس کی دنیا ۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔  عالم نامہ

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیو زانٹرنیشنل ۔۔۔ سائنس کی دنیا ۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔  عالم نامہ)شاید کسی دن زمین سے  22 کروڑ کلومیٹر دور موجود ایک دوسری دنیا کی مٹی ہماری زمین پر آنے والی ہے۔۔۔۔۔ یہ سننے میں ایک عام سی بات لگے۔۔ لیکن اگر آپ ذرا گہرائی میں سوچیں تو احساس ہوگا کہ یہ مٹی اربوں سال پرانے راز اپنے اندر چھپائے ہوئے ہو سکتی ہے۔۔۔۔۔ ممکن ہے اسی معمولی سی دھول کے چند ذرات ہمیں یہ بتا دیں کہ اربوں سال پہلے مریخ کیسا تھا۔۔    وہاں اخر کیاتھا۔۔۔۔۔۔اس کا ماحول آج سے کتنا مختلف تھا۔۔۔ اور کیا وہاں کبھی زندگی کے لیے سازگار حالات موجود تھے۔۔۔۔۔۔یہ مشن جاپان کی خلائی ایجنسی JAXA انجام دے رہی ہے۔۔۔اور اس کا مقصد مریخ کے سب سے بڑے چاند فوبوس پر اتر کر وہاں سے 10 گرام دھول اکٹھی کرنا اور اسے 2031 میں زمین پر واپس لانا ہے۔۔۔۔ 10 گرام سننے میں بہت کم لگتا ہے۔۔۔۔۔۔لیکن سائنس کی دنیا میں یہی چند گرام دھول ایک خزانے سے کم نہیں۔۔۔۔۔مگر سائنس دان مریخ کی بجائے فوبوس سے کیوں مٹی کے نمونے لارہا ہیں۔۔۔۔۔اس کی وجہ یہ ہے کہ فوبوس کروڑوں نہیں بلکہ اربوں سال سے مریخ کے بالکل قریب گردش کر رہا ہے ۔۔۔ جب کوئی بہت بڑا شہاب ثاقب مریخ سے ٹکراتا ہے تو وہ مریخ پر بڑا گڑھا بناتا ہے ۔۔۔۔۔۔ اور شاید یہ ذرات مریخ کی ان گڑھوں  کے اندر پرانی چٹانوں سے آئے ہوں جو شہاب ثاقب کے ٹکرانے سے بننے والے گڑھوں کے اندر سے خلا میں اچھل گئی تھیں اور ان کےٹکڑے خلا میں بکھیر گئے ہے۔۔۔۔۔ ان چٹانوں میں اربوں سال پرانی تہیں بھی شامل ہو سکتی ہیں۔۔ جو مریخ کے قدیم ماحول پانی اور اس کی ابتدائی تاریخ کے بارے میں اہم معلومات اپنے اندر محفوظ رکھے ہوئے  ہیں۔ یہی ٹکڑے بعد میں فوبوس پر جا کر جمع ہوتے رہتے ہیں۔۔۔۔۔۔اسی وجہ سےفوبوس کو مریخ کا قدرتی میوزیم بھی کہتے ہیں۔۔۔ کیونکہ اس کی سطح پر مریخ سے آئے ہوئے بے شمار ذرات ہزاروں لاکھوں اور کروڑوں سال سے محفوظ پڑے ہوئے ہیں۔۔۔۔دوسرے لفظوں میں، فوبوس نے مریخ کی تاریخ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کو اپنے اندر سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔۔۔۔۔دلچسپ بات یہ ہے کہ مریخ کے کچھ پتھر پہلے بھی زمین پر دریافت کیے ہیں۔ یہ پتھر بھی کسی زمانے میں شہاب ثاقب کے ٹکراؤ سے مریخ سے اڑ کر خلا میں نکلے تھے اور لاکھوں سال بعد زمین پر آ گرے۔۔۔لیکن زمین تک پہنچنے کے دوران انہیں خلا کے سخت ماحول اور پھر زمین کے ماحول میں داخل ہوتے وقت شدید حرارت کا سامنا کرنا پڑا۔۔۔ اس کے مقابلے میں فوبوس تک پہنچنے والے ذرات نسبتا کم نقصان اٹھاتے ہیں، اسی لیے امید کی جا رہی ہے کہ وہ زیادہ اچھی حالت میں محفوظ ہوں گے۔۔۔۔2019 میں شائع ہونے والی ایک سائنسی تحقیق کے مطابق اگر MMX مشن تقریبا 10 گرام دھول واپس لاتا ہے تو اس میں اوسطا 34 ایسے ذرات موجود ہو سکتے ہیں جو اصل میں مریخ سے آئے ہوں۔۔۔ یہ تعداد کم لگ سکتی ہے۔ لیکن ہر ذرہ ایک الگ کہانی سنا سکتا ہے۔ ہوسکتا ہے۔۔۔ ایک ذرہ مریخ کے کسی قدیم آتش فشاں سے آیا ہو۔۔۔ دوسرا کسی ایسی جگہ سے جہاں کبھی پانی بہتا تھا اور تیسرا کسی ایسی چٹان کا حصہ ہو جو اربوں سال پہلے بنی تھی۔۔۔۔۔ ان ذرات کو انتہائی طاقتور خوردبینوں جدید کیمیائی تجزیوں اور آئسوٹوپ ٹیسٹ کے ذریعے جانچیں گے۔۔۔۔ ان سے معلوم کیا جا سکے گا کہ یہ چٹانیں کس ماحول میں بنی تھیں۔۔۔ ان میں کون سے معدنیات موجود ہیں۔۔۔ اور کیا ان پر کبھی پانی کا اثر رہا تھا۔۔۔ اگر ان میں پانی کے آثار ملے تو یہ مریخ کے ماضی کو سمجھنے میں بہت اہم پیش رفت ہوگی۔۔۔۔اس سے یہ امید بھی کی جاتی ہے کہ ان ذرات میں نامیاتی مرکبات مل سکتے ہیں۔۔۔۔۔ یہ وہ کیمیائی مرکبات ہیں جو زندگی کے بنیادی اجزاء میں شمار ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ  صرف مریخ کے ذرات ہی نہیں لائے گا بلکہ فوبوس کی اپنی مٹی کا بھی تفصیلی مطالعہ کیا جائے گا۔۔۔۔  ہم آج تک یقین سے نہیں جانتے کہ فوبوس اصل میں کیسے بنا تھا۔۔۔۔ہاں کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ایک سیارچہ تھا ۔۔۔جسے مریخ نے اپنی کشش ثقل سے پکڑ لیا۔۔۔جبکہ دوسرے ماہرین کے مطابق یہ مریخ سے ٹکرانے والے کسی بڑے جسم کے ملبے سے وجود میں آیا۔۔۔۔ مگر ایک بات واضح کرنا ہے ۔۔۔۔۔کہ فوبوس سے واپس آنے  نمونو میں زندہ مریخی جراثیم موجود ہونے کا امکان دس لاکھ میں ایک سے بھی کم ہے۔۔ اسی لیے اس مشن کو محفوظ قرار دیا گیا ہے۔ واپس آنے کے بعد ان نمونوں کو انتہائی محفوظ لیبارٹریوں میں رکھا جائے گا۔۔۔ جہاں دنیا بھر کے سائنس دان برسوں تک ان کا مطالعہ کریں گے۔

اگر یہ مشن کامیاب رہا تو ممکن ہے کہ صرف دو چائے کے چمچ دھول انسان کو مریخ کی اربوں سال پرانی تاریخ کے ایسے راز بتا دے جنہیں جاننے کی کوشش کئی دہائیوں سے جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تخریر۔۔۔۔۔عالم نامہ Aalam nama

Loading