سانحہ کار ساز ، کراچی شاعر ۔ ناصر نطامی ( گولڈ میڈلسٹ )

سانحہء کار ساز ، کراچی

کتنی خوں آ شام تھی وہ، شام
چاروں طرف تھا حشر کا، کہرام

یزیدوں نے کھیلے، خونی، تماشے
ہر طرف بکھرے شہیدوں کے، لاشے
برپا تھا ہنگامہء قتل عام

وہ تھے قافلہ ءحق کے، سالار
بی بی شہید کے، جاں نثار
انسانیت کی عظمت کے، امام

اپنے لہو کے جلا کر چراغِ
دھو گئے، ظلمتوں کی شب کے، داغ
زندہ رہے گا ان کا سدا ، نام

پستے رہے جو مزدور، کسان
ترقی نہ کرے گا، پاکستان
ختم کرو، یہ طبقاتی،۔ نظام

فراہم کرو سب کو، روزگار
بڑھاؤ اپنی قومی، پیداوار
اس مہنگائی کو کرو، زیر دام

نظریئے کو بناؤ اپنی ، نظر
پانا ہے اپنا نصب العین، اگر
بھٹو ازم کا پھیلاؤ، پیغام

جو جیتنی ہے زندگی کی، بازی
کرنی ہو گی ا ہنی ، کردار سازی
سب سے مشکل ہے نظامی یہ، کام

ناصر نظامی
گولڈ میڈلسٹ
ا یمسٹرڈم ہالینڈ