*ستارہ امتیاز، انتہائی سینئر اور تجربہ کار سفارتکار، انقرہ، ترکیے میں پہلی خاتون سفیر آمنہ بلوچ نے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔۔*

*ستارہ امتیاز، انتہائی سینئر اور تجربہ کار سفارتکار، انقرہ، ترکیے میں پہلی خاتون سفیر آمنہ بلوچ نے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔۔*

انقرہ، ترکیے (روزنامہ روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔نمائندہ خصوصی۔۔۔ سید رضوان حیدر بخاری)سفیر آمنہ بلوچ (ستارہ امتیاز)، جو تین دہائیوں سے زائد کے تجربے کی حامل کیریئر سفارت کار ہیں، نے ترکیے کے لیے پاکستان کی نامزد سفیر کے طور پر اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا ہے۔

سفیر آمنہ بلوچ نے 1991 میں پاکستان فارن سروس میں شمولیت اختیار کی اور وہ تاریخ اور بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگریاں رکھتی ہیں۔

ان کی ابتدائی تعیناتیوں میں کوپن ہیگن، کولمبو اور چینگدو میں پاکستانی مشنز شامل ہیں، جہاں انہوں نے قونصل جنرل کے طور پر خدمات انجام دیں۔ بعد ازاں، پاکستان کی 33ویں سیکرٹری خارجہ بننے سے قبل، انہوں نے ملائیشیا میں ہائی کمشنر (2019–2023) اور بیلجیئم میں سفیر (2023–2024) کے طور پر خدمات انجام دیں۔ اس حیثیت سے انہوں نے دو سال تک وزارت خارجہ کی قیادت کی، جو کہ انتہائی اہم سفارتی سرگرمیوں کا دور تھا۔

’معرکہ حق‘ کے دوران ان کی قیادت کو قومی سطح پر سراہا گیا، اور یوم آزادی 2025 کے موقع پر، وزیر اعظم نے انہیں ان کی سفارتی قیادت کے اعتراف میں ’ستارہ امتیاز‘ سے نوازا۔

ان کا مشن پاکستان اور برادر ملک ترکیے کے درمیان دوستی کے دیرینہ تعلقات کو مضبوط بنانا اور مشترکہ تاریخ، اعتماد اور باہمی تعاون کی بنیاد پر کثیر جہتی شراکت داری کو مزید گہرا کرنا ہے۔

ان کی یہ تقرری پاکستان کی سفارت کاری میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے: یہ پہلا موقع ہے کہ کوئی خاتون انقرہ میں ملک کی نمائندگی کرے گی۔

سفیر آمنہ بلوچ نے اس اہم ذمہ داری کو سونپے جانے پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا، اسے اپنے لیے ایک بڑا اعزاز قرار دیا اور پوری لگن، دیانت داری اور عزم کے ساتھ خدمات انجام دینے کا عہد کیا۔

نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ان کی مخلصانہ خدمات کو سراہا اور ان کی نئی ذمہ داری کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے تعاون اور رہنمائی فراہم کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

صدر آصف علی زرداری نے انہیں مبارکباد دی اور سیکرٹری خارجہ کے طور پر ان کی کامیاب مدتِ ملازمت کو سراہتے ہوئے پاکستان اور ترکی کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر زور دیا۔