سورہ یاسین۔۔۔ غفلت سے بیداری تک۔۔۔ انتخاب ۔۔۔۔۔  محمد اصغر چوہدری

سورہ یاسین

غفلت سے بیداری تک

انتخاب ۔۔۔۔۔  محمد اصغر چوہدری

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ سورہ یاسین۔۔۔ غفلت سے بیداری تک۔۔۔ انتخاب ۔۔۔۔۔  محمد اصغر چوہدری)کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ انسان سچ سننا تو چاہتا ہے، لیکن صرف وہ سچ جو اس کی خواہش کے مطابق ہو؟

ہم کہتے ہیں: "ہمیں حق چاہیے۔”

لیکن اگر حق ہماری خواہش کے خلاف ہو تو؟

اگر قرآن ہماری کسی ایسی عادت پر انگلی رکھ دے جسے ہم برسوں سے درست سمجھتے آئے ہیں تو؟

اگر اللہ کا حکم ہمارے مفاد کے راستے میں آ جائے تو؟

اگر دین ہمیں کسی ایسی چیز کو چھوڑنے کا کہے جس سے ہمارا دل بہت جڑا ہوا ہے تو؟

تب کیا ہم واقعی حق کو قبول کریں گے؟

یہ سوال صرف دوسروں کے لیے نہیں، ہمارے اپنے لیے ہے۔

کیونکہ انسان کی سب سے بڑی آزمائش کبھی کبھی یہ نہیں ہوتی کہ اسے حق معلوم نہیں۔

بلکہ یہ ہوتی ہے کہ حق معلوم ہونے کے بعد بھی وہ اپنی خواہش کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔

اور شاید یہی وجہ ہے کہ سورۃ یٰسین کا آغاز ہمیں ایک ایسے سفر پر لے جاتا ہے جو صرف الفاظ پڑھنے کا سفر نہیں، بلکہ غفلت سے بیداری تک کا سفر ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

يس ۝ وَالْقُرْآنِ الْحَكِيمِ ۝ إِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ ۝ عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ۝ تَنزِيلَ الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ ۝ لِتُنذِرَ قَوْمًا مَّا أُنذِرَ آبَاؤُهُمْ فَهُمْ غَافِلُونَ

"یٰس۔ حکمت والے قرآن کی قسم! بے شک آپ رسولوں میں سے ہیں، سیدھے راستے پر ہیں۔ یہ زبردست، نہایت رحم والے کی طرف سے نازل کیا ہوا ہے، تاکہ آپ ایسی قوم کو ڈرائیں جس کے باپ دادا کو نہیں ڈرایا گیا تھا، پس وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔”

ان چند آیات میں سورۃ یٰسین کے پورے پیغام کا ایک اہم دروازہ کھلتا ہے:

انسان کی سب سے بڑی ضرورت صرف معلومات نہیں، بیداری ہے۔

وَالْقُرْآنِ الْحَكِيمِ — حکمت والا قرآن

اللہ تعالیٰ قرآن کی قسم کھاتے ہوئے اسے الْحَكِيمِ فرماتے ہیں۔

یعنی حکمت والا۔

قرآن ہمیں صرف یہ نہیں بتاتا کہ کیا حلال ہے اور کیا حرام۔

وہ اس سے کہیں زیادہ گہری چیز کرتا ہے۔

وہ انسان کو اپنے آپ سے ملواتا ہے۔

وہ بتاتا ہے کہ تمہاری خواہشات تمہیں کہاں لے جا سکتی ہیں۔

تمہارا غرور تمہیں کہاں گرا سکتا ہے۔

تمہاری غفلت تمہیں کس حقیقت سے دور کرسکتی ہے۔

اور تمہارا اللہ سے تعلق تمہاری پوری زندگی کا رخ کیسے بدل سکتا ہے۔

ہم قرآن کو اکثر تلاوت کی کتاب سمجھتے ہیں، اور یقیناً اس کی تلاوت عبادت ہے۔

لیکن قرآن صرف زبان کے لیے نہیں آیا۔

قرآن دل کو جگانے کے لیے آیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ہمیں کبھی کبھی خود سے یہ سوال کرنا چاہیے:

میں روز قرآن پڑھتا ہوں، لیکن کیا قرآن میری زندگی میں کوئی تبدیلی بھی پیدا کر رہا ہے؟

اگر میری زبان قرآن پڑھ رہی ہے لیکن جھوٹ بھی بول رہی ہے، تو مجھے رک کر سوچنا ہوگا۔

اگر میری آنکھیں قرآن پڑھ رہی ہیں لیکن حرام سے نہیں بچ رہیں، تو مجھے سوچنا ہوگا۔

اگر میرے کان قرآن سن رہے ہیں لیکن غیبت سے لطف اندوز ہورہے ہیں، تو مجھے سوچنا ہوگا۔

اگر میری پیشانی سجدے میں جھکتی ہے لیکن دل تکبر سے بھرا ہوا ہے، تو مجھے سوچنا ہوگا۔

قرآن کا مقصد صرف یہ نہیں کہ ہم اس کے الفاظ پڑھیں۔

قرآن چاہتا ہے کہ اس کے الفاظ ہمارے اندر اتر جائیں۔

إِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ — اللہ نے انسان کو بے ہدایت نہیں چھوڑا

اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتے ہیں:

إِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ

"بے شک آپ رسولوں میں سے ہیں۔”

یہاں انسان کے لیے ایک بہت بڑی حقیقت سامنے آتی ہے۔

اللہ نے ہمیں دنیا میں بھیج کر بے مقصد نہیں چھوڑا۔

ہمیں عقل دی۔

ہمیں فطرت دی۔

ہمیں سوچنے کی صلاحیت دی۔

پھر ہماری رہنمائی کے لیے رسول بھیجے۔

کتابیں نازل کیں۔

حق اور باطل میں فرق واضح کیا۔

یعنی انسان کے پاس یہ عذر نہیں کہ:

"مجھے معلوم ہی نہیں تھا کہ مجھے کس راستے پر چلنا ہے۔”

ہدایت ہمارے پاس آئی۔

سوال یہ ہے کہ ہم نے اسے قبول کیا یا نہیں؟

یہاں سورۃ یٰسین ہمیں ایک نہایت اہم حقیقت سمجھاتی ہے:

انسان کی گمراہی ہمیشہ راستہ نہ ملنے کی وجہ سے نہیں ہوتی۔

کبھی وہ راستہ ملنے کے بعد بھی دوسری طرف چل پڑتا ہے۔

عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ — سیدھا راستہ

پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ

"آپ سیدھے راستے پر ہیں۔”

دنیا میں راستے بہت ہیں۔

ہر انسان اپنی کامیابی کی ایک الگ تعریف بنائے بیٹھا ہے۔

کسی کے لیے دولت کامیابی ہے۔

کسی کے لیے شہرت۔

کسی کے لیے اقتدار۔

کسی کے لیے لوگوں کی تعریف۔

کسی کے لیے آرام دہ زندگی۔

کسی کے لیے سوشل میڈیا پر ہزاروں لوگوں کی توجہ۔

لیکن قرآن انسان کو ایک مختلف معیار دیتا ہے۔

سیدھا راستہ وہ ہے جس کی سمت اللہ کی طرف ہو۔

ممکن ہے اس راستے پر مشکلات ہوں۔

ممکن ہے کبھی انسان کو اپنی خواہش قربان کرنی پڑے۔

ممکن ہے کبھی حرام فائدہ سامنے ہو اور اسے چھوڑنا پڑے۔

ممکن ہے کبھی سچ بولنے کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑے۔

لیکن راستہ سیدھا ہو تو منزل درست رہتی ہے۔

اس کے برعکس غلط راستے پر انسان بہت تیزی سے بھی چل رہا ہو تو اس کی رفتار اسے منزل سے دور لے جا رہی ہوتی ہے۔

اسی لیے ہمیں صرف یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ:

"میں کتنی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہوں؟”

بلکہ یہ بھی دیکھنا چاہیے:

"میں کس سمت میں آگے بڑھ رہا ہوں؟”

تَنزِيلَ الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ — یہ قرآن کس کی طرف سے ہے؟

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

تَنزِيلَ الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ

"یہ زبردست، نہایت رحم والے کی طرف سے نازل کیا ہوا ہے۔”

یہاں اللہ تعالیٰ کی دو صفات ایک ساتھ آتی ہیں:

العزیز — زبردست، غالب۔

الرحیم — نہایت رحم کرنے والا۔

اس میں ایک گہری تربیت ہے۔

ہمارا رب طاقتور بھی ہے اور رحیم بھی۔

وہ ہمارے گناہوں سے بے خبر نہیں، لیکن ہماری توبہ کا دروازہ بھی بند نہیں کرتا۔

وہ ہماری کمزوریوں کو جانتا ہے، لیکن ہمیں واپس آنے کا موقع دیتا ہے۔

وہ ہماری نافرمانی دیکھتا ہے، لیکن ہمیں مسلسل اپنی طرف بلاتا ہے۔

یہی اللہ کی رحمت ہے۔

اس لیے قرآن کی تنبیہ کو صرف خوف کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔

کبھی اللہ کا ہمیں خبردار کرنا بھی اللہ کی رحمت ہوتا ہے۔

جیسے ایک ماں اپنے بچے کو خطرناک راستے سے روکتی ہے، اسی طرح قرآن ہمیں ان راستوں سے روکتا ہے جو ہماری آخرت تباہ کرسکتے ہیں۔

لِتُنذِرَ قَوْمًا… فَهُمْ غَافِلُونَ — اصل بیماری غفلت ہے

پھر ان آیات کا سب سے اہم لفظ سامنے آتا ہے:

فَهُمْ غَافِلُونَ

"پس وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔”

یہی وہ لفظ ہے جس سے ہماری پوری سیریز کا مرکزی عنوان جڑتا ہے:

غفلت سے بیداری تک

غفلت کیا ہے؟

غفلت صرف یہ نہیں کہ انسان اللہ کو بھول جائے۔

غفلت یہ بھی ہے کہ انسان اللہ کو مانتا ہو، مگر اپنی زندگی کے فیصلوں میں اللہ کو بھول جائے۔

اسے موت کا یقین ہو، مگر ایسے زندگی گزارے جیسے کبھی مرنا ہی نہیں۔

اسے آخرت کا علم ہو، مگر پوری توجہ صرف دنیا جمع کرنے پر ہو۔

اسے معلوم ہو کہ ہر عمل کا حساب ہوگا، مگر پھر بھی تنہائی میں گناہ کرتے ہوئے یہ بھول جائے کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔

یہ غفلت ہے۔

اور اس غفلت کی سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ انسان اکثر اسے غفلت سمجھتا ہی نہیں۔

وہ مصروف ہے، اس لیے سمجھتا ہے کہ زندگی ٹھیک چل رہی ہے۔

وہ پیسہ کما رہا ہے، اس لیے سمجھتا ہے کہ کامیاب ہے۔

لوگ اس کی تعریف کررہے ہیں، اس لیے سمجھتا ہے کہ وہ درست راستے پر ہے۔

لیکن قرآن آکر ایک مختلف سوال کرتا ہے:

"تمہارا دل کہاں ہے؟”

ہم آج بھی غفلت کے اسی خطرے میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔

صبح آنکھ کھلتے ہی موبائل دیکھنا یاد رہتا ہے، لیکن اللہ کو یاد کرنا نہیں۔

دنیا کی خبریں پڑھنے کا وقت ہے، لیکن قرآن سمجھنے کا وقت نہیں۔

لوگوں کے پیغامات کا جواب فوراً دینا ضروری ہے، لیکن اذان کی آواز پر اٹھنا مشکل لگتا ہے۔

ہم دوسروں کی زندگیوں کا جائزہ لیتے رہتے ہیں، لیکن اپنی آخرت کا جائزہ لینے کے لیے چند منٹ نہیں نکالتے۔

یہی تو غفلت ہے۔

اور شاید سب سے خطرناک غفلت وہ ہے جس میں انسان خود کو بیدار سمجھ رہا ہو۔

سورۃ یٰسین ہمیں جگانا چاہتی ہے

ان ابتدائی آیات میں ہمیں ایک پورا نقشہ ملتا ہے:

قرآن حکمت والا ہے۔

رسول اللہ ﷺ اللہ کے بھیجے ہوئے ہیں۔

راستہ سیدھا ہے۔

قرآن اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔

اور اس کا مقصد انسان کو غفلت سے نکالنا بھی ہے۔

تو پھر سوال یہ نہیں کہ:

"کیا ہمیں ہدایت مل رہی ہے؟”

سوال یہ ہے:

"ہم ہدایت کے ساتھ کیا کررہے ہیں؟”

کیا ہم اسے صرف سنتے ہیں؟

یا اس کے سامنے جھکتے بھی ہیں؟

کیا ہم آیات دوسروں کو بھیجتے ہیں؟

یا کبھی انہیں اپنے اوپر بھی لاگو کرتے ہیں؟

کیا ہم قرآن سے صرف سکون چاہتے ہیں؟

یا اصلاح بھی چاہتے ہیں؟

کیونکہ کبھی قرآن ہمیں سکون دینے سے پہلے ہمیں جھنجھوڑتا ہے۔

کبھی وہ ہمیں خوش کرنے سے پہلے ہماری غلطی دکھاتا ہے۔

کبھی وہ ہمیں تسلی دینے سے پہلے ہمیں ہماری ذمہ داری یاد دلاتا ہے۔

اور یہی اس کی حکمت ہے۔

آج کا سب سے اہم سوال

ذرا چند لمحوں کے لیے اپنی مصروف زندگی سے باہر نکل کر خود کو دیکھیں۔

آپ کے پاس دنیا کی کتنی چیزیں ہیں؟

لیکن اللہ کے ساتھ آپ کا تعلق کیسا ہے؟

آپ لوگوں کی نظروں میں کتنے کامیاب ہیں؟

لیکن اللہ کے سامنے آپ کی حالت کیا ہے؟

آپ نے زندگی میں کتنا حاصل کیا؟

لیکن اگر آج زندگی ختم ہوجائے تو آپ اپنے رب کے سامنے کیا لے کر جائیں گے؟

یہ سوال خوف پیدا کرنے کے لیے نہیں۔

یہ سوال بیداری پیدا کرنے کے لیے ہے۔

کیونکہ جب تک انسان خود سے سوال کرتا رہتا ہے، اصلاح کا دروازہ کھلا رہتا ہے۔

غفلت سے بیداری کا پہلا قدم

بیداری ہمیشہ کسی بڑے واقعے سے شروع نہیں ہوتی۔

کبھی بیداری ایک چھوٹے سے سوال سے شروع ہوتی ہے:

"میں اللہ سے کتنا دور ہوگیا ہوں؟”

پھر انسان ایک نماز سنبھالتا ہے۔

پھر ایک گناہ چھوڑتا ہے۔

پھر کسی کا حق واپس کرتا ہے۔

پھر کسی کو معاف کرتا ہے۔

پھر قرآن کو سمجھ کر پڑھنا شروع کرتا ہے۔

پھر تنہائی میں اللہ کو یاد کرتا ہے۔

اور آہستہ آہستہ دل جاگنے لگتا ہے۔

انسان ایک دن میں ولی نہیں بنتا، لیکن ایک دن میں بیدار ضرور ہوسکتا ہے۔

شاید آج وہ دن ہو۔

اگر سورۃ یٰسین کی یہ پہلی آیات آج میرے سامنے آئیں اور مجھ سے پوچھیں کہ "تم غفلت میں کہاں پڑے ہوئے ہو؟” تو میری زندگی کا کون سا حصہ سب سے پہلے سامنے آئے گا؟

اس سوال سے بھاگنے کے بجائے اسے اپنے دل میں جگہ دیجیے۔

کیونکہ شاید یہی سوال آپ کو غفلت سے بیداری کی طرف پہلا قدم اٹھانے پر مجبور کردے۔

اگر یہ تحریر آپ کے دل کو چھو گئی ہے تو اسے لائک کریں، دوسروں تک پہنچائیں اور ہمارے صفحے سے جڑ جائیں۔

اور کمنٹ میں ضرور بتائیں:

آپ کے خیال میں آج کے انسان کی سب سے بڑی غفلت کیا ہے؟

ان شاء اللہ اگلی قسط میں سورۃ یٰسین کی اگلی آیات کے ساتھ اس سفر کو مزید آگے بڑھائیں گے۔

Loading