شباب کی باتیں۔۔۔ کتاب شیلف سے نکلی ہے تیری یادوں کی ۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔۔    مشتاق شباب

*شباب کی باتیں*

*کتاب شیلف سے نکلی ہے تیری یادوں کی*

  ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ شباب کی باتیں۔۔۔ کتاب شیلف سے نکلی ہے تیری یادوں کی ۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔۔    مشتاق شباب) مرزا غالب سے ادبی چشمک رکھنے والے اور شہنشاہ بہادر شاہ ظفر کے استاد شیخ ابراہیم ذوق نے کیا خوب کہا ہے کہ

*اے ذوق کسی ہمدم دیرینہ سے ملنا*

*بہتر ہے ملاقات مسیحا و خضر سے*

گزشتہ منگل کے روز حلقہ ارباب ذوق کا اجلاس ہمدم   دیرینہ، ڈاکٹر نہار اللہ کے نام تھا جو حال ہی میں کینیڈا سے چند دنوں کے لیے اپنے وطن، عزیزوں رشتہ داروں اور ادب نواز دوستوں سے ملنے آئے تھے، ان کو حلقہ ارباب ذوق کے دوسرے پڑاؤ "آئے دنیا ہمارے ساتھ چلے” کے اجلاس میں، جس میں ممتاز ماہر نفسیات ڈاکٹر خالد مفتی نے ایک بہت ہی اہم موضوع پر لیکچر دیا تھا، اور جس کے بارے میں تین اکتوبر کو شائع ہونے والے ہمارے کالم میں گزارشات کی جا چکی ہیں اور جس کا عنوان تھا، *حد چاہیے سزا میں عقوبت کے واسطے*  اچانک دیکھ کر ہمیں حیرت کے ساتھ خوشی بھی ہوئی تھی، اور پھر ناصر علی سید کے ساتھ مشورہ کر کے منگل کو ہونے والے اجلاس میں ڈاکٹر نہار اللہ کے ساتھ کینیڈا میں ادبی سرگرمیوں کے حوالے سے ایک مکالمے کا ڈول ڈالا گیا۔  جس کی صدارت صوفی دانشور اقبال سکندر نے کی،  جبکہ خود ہم نے ڈاکٹر نہار اللہ کے حوالے سے پشاور اور خصوصا حلقہ ارباب ذوق کی سرگرمیوں پر مختصر سی گفتگو کی اور ڈاکٹر نہار اللہ اور ان کے دوسرے ساتھی ڈاکٹر صغیر اسلم (وہ بھی اب کینیڈا ہی میں ہوتے ہیں) کے بارے میں بتایا، اسی طرح پروفیسر ناصر علی سید نے بھی نہ صرف ڈاکٹر نہار اللہ، اور ڈاکٹر صغیر اسلم کی پشاور قیام کے دوران ادبی سرگرمیوں کو اجاگر کیا بلکہ کینیڈا میں بھی جہاں ناصر علی سید بھی اب امریکہ اور برطانیہ کے ساتھ ادبی دوروں پر جاتے رہتے ہیں،  ڈاکٹر نہار اللہ کی فعال ادبی سرگرمیوں کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ حلقہ سے جو بھی جڑا ہے وہ جہاں بھی رہے، حلقہ ارباب ذوق کی یادیں اس کو تنگ کرتی رہتی ہیں، اگرچہ مغربی دنیا میں خصوصاً پاکستان کے ساتھ تعلق رکھنے والوں کے پاس وقت کی بہت ہی کمی ہوتی ہے کہ وہ وہاں خود کو ایڈجسٹ کرنے میں مگن ہوتے ہیں،  تاہم ڈاکٹر نہار اللہ اور ڈاکٹر صغیر اسلم کینیڈا جیسے مصروف ترین ملک میں بھی ادبی سرگرمیوں کے لیے وقت نکالتے ہیں اور وہاں کے حلقہ ارباب ذوق کو فعال رکھنے میں مصروف رہتے ہیں۔  اس موقع پر ڈاکٹر نہار اللہ نے اپنی یادیں کریدتے ہوئے کہا کہ آج وہ ڈاکٹر نذیر تبسم کو بہت شدت سے مس کر رہے ہیں،ب وہ ہوتے تو انہیں خوشی ہوتی۔  ادب سے جڑنے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہمارے گھر کا ماحول بھی "شاعرانہ” تھا، ہر طرف پشتو شاعروں کی بہتات تھی،  میری شاعری کی بنیاد بھائی افضل نے رکھی، تاہم میرا رجحان پشتو سے زیادہ اردو شاعری کی جانب رہا۔  میرا استاد فری کتابیں دیتا تھا جن کے مطالعے سے ادبی ذوق پروان چڑھتا رہا،  پھر اسلامیہ کالج  پہنچا تو ڈاکٹر اظہار اللہ اظہار سے ملاقات ہوئی اور وہاں پشتو سوسائٹی کے تحت ادبی سرگرمیاں جاری رکھیں۔  اس کے بعد حلقہ ارباب ذوق پشاور سے تعلق قائم ہوا اور یہاں سے کینیڈا پہنچا تو ایک سکھ سردار نے کبیر لٹریری سوسائٹی کے نام سے ادبی تنظیم بنائی تھی،  وہ ہمیں شرکت کی دعوت دیتے اور  صورتحال اس نہج پر بالاخرجا پہنچی کہ اب ہماری شرکت کے بغیر کوئی ادبی تقریب منعقد ہی نہیں ہوتی۔  ڈاکٹر نہار اللہ نے کہا کہ کینیڈا میں پنجابی بڑے فعال ہیں مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ اپنے اپ کو امرتسر سے نہیں افغانستان سے جوڑتے ہیں۔  اس موقع پر ناصر علی سید نے بہت ہی پتے کی بات کی اور کہا کہ وادی پشاور کئی قوموں کی گزرگاہ رہی ہے،  ہر بڑے آدمی کا تعلق کہیں نہ کہیں سے یہاں سے رہا ہے اور باہر جب یہ لوگ ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو یہ نہیں پوچھتے کہ پشاور شہر کا کیا حال ہے؟  بلکہ یہ کہتے ہیں کہ شہر کا کیا حال ہے؟ گویا انہیں یقین ہے کہ دنیا میں ایک ہی شہر ہے اور وہ پشاور ہے۔  ہم نے اس موقع پر بھارتی فلم انڈسٹری کی عالمی سطح پر مشہور کپور فیملی کے بارے میں بتایا کہ ان کا تعلق بھی چونکہ پشاور سے ہے،  اس لیے وہ ممبئی میں جب بھی کوئی نیا گھر تعمیر کرتے ہیں، تو اس کی بنیادوں میں پشاور کی مٹی ڈال کر اس شہر سے اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔  یعنی بقول ناصر علی سید

*کوئی اس شہر پشاور سے جدا کیسے ہو؟*

اس موقع پر شرکاء نے سوال بھی کئے اور ڈاکٹر اویس قرنی نے موجودہ ملکی حالات کے حوالے سے بحث چھیڑی جس کا مختصر سا جواب ہم نے دیا، جبکہ ناصرعلی سید نے تفصیل کے ساتھ صورتحال کی وضاحت کی۔

صدر محفل اقبال سکندر نے بھی ڈاکٹر نہار اللہ کی ادبی سرگرمیوں کا بھرپور جائزہ پیش کیا اور ان کے حلقہ ارباب ذوق پشاور کے ساتھ جڑی یادوں کو حاضرین کے ساتھ شیئر کرتے ہوئے ان کی سرگرمیوں کو سراہا۔ اس موقع پر ڈاکٹر نہار اللہ نے پشتو کی ایک غزل کے علاوہ اردو کی چند غزلیں بھی پیش کر کے حاضرین سے داد سمیٹی،  چند شعر ملاحظہ فرمائیں۔

*کتاب شیلف سے نکلی ہے تیری یادوں کی*

*اور اس کتاب سے سوکھا گلاب نکلے گا*

*سوال سے میں گریزاں رہا کہ میرے لئے*

*لبوں سے کیوں کوئی اچھا جواب نکلے گا؟*

*ہر کوئی اپنے آپ میں گم ہے*

*ہاتھ سب سے ملا کے دیکھ لیا*

*وہ نہیں ہے تو کچھ نہیں سجتا*

*شہر سارا سجا کے دیکھ لیا*

*اب کہ وہ بات تو نہیں ہے نا*

*ہاتھ میں ہاتھ تو نہیں ہے نا*

*عشق میں جیت تو کسی کی نہیں*

*مات بھی مات تو نہیں ہے نا*

Loading