ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ سچا واقعہ ۔۔۔ انتخاب ۔ ۔۔محمد جاوید عظیمی)ضیاء الحق کا دور تھا ۔یہ بالکل سچا واقعہ ہے ۔نئی نسل سے شاید ھی کوئی اس واقعے سے واقف ہو۔ آج اچانک بیٹھے بیٹھے یہ واقعہ یاد آگیا ۔
*فروری 1983ء میں پیش آنے والا یہ واقعہ تاریخ میں "سانحہ ہاکس بے کیس ” Hawke’s Bay Case کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ تواہم پرستی، شدید مذہبی عقیدت اور hallucinations کی ایک ایسی دلدوز داستان ہے جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
یہ واقعہ ضلع چکوال سے تعلق رکھنے والے ایک اہل تشیع سید خاندان کا ہے۔ اس خاندان کے بزرگ سید ولایت حسین شاہ تھے، جبکہ ان کی 18 سے 20 سالہ بیٹی کا نام سیدہ نسیم فاطمہ تھا۔
نسیم فاطمہ کے بارے میں خاندان کا ماننا تھا کہ اسے اکثر سچے خواب آتے ہیں۔ فروری 1983ء میں اس نے دعویٰ کیا کہ خواب میں اس کا رابطہ براہ راست بارہویں امام (امام مہدیؑ) سے ہوا ہے اور امام نے انہیں بغیر کسی سفری خرچ اور ویزے کے عراق میں کربلا پہنچنے کی بشارت دی ہے۔ حکم یہ تھا کہ تمام خاندان کراچی کے ساحل ہاکس بے پہنچے۔ وہاں سمندر ان کے لیے ویسے ہی دو حصوں میں پھٹ کر راستہ دے گا جیسے حضرت موسیٰؑ کے لیے دریائے نیل پھٹا تھا۔ مزید یہ ہدایت کی گئی کہ خواتین اور بچوں کو لوہے کے بڑے صندوقوں میں بند کر دیا جائے تاکہ وہ پانی سے محفوظ رہیں اور مرد ان صندوقوں کو سمندر میں دھکیلتے ہوئے آگے بڑھیں۔
نسیم فاطمہ کے اس دعوے پر ولایت شاہ اور ان کے قریبی رشتہ داروں نے اندھا یقین کر لیا۔ انہوں نے اپنے گھر بار اور مال مویشی اونے پونے داموں بیچے، لوہے کے بڑے بڑے 6 صندوق خریدے اور دو ٹرکوں میں سوار ہو کر تقریباً 38 سے 42 افراد کا یہ قافلہ کراچی کے لیے روانہ ہوا۔
24 فروری 1983ء کی رات یہ لوگ کراچی کے ساحل ہاکس بے پر پہنچے۔ ولایت شاہ نے ہاتھ میں مذہبی پرچم (علم پاک) تھام رکھا تھا۔ انہوں نے لڑکی کے بتائے ہوئے حکم کے مطابق خواتین اور بچوں کو صندوقوں میں بند کر کے تالے لگا دیے اور مردوں نے ان وزنی صندوقوں کو گہرے پانی کی طرف دھکیلنا شروع کر دیا۔
جیسے ہی یہ لوگ گہرے پانی میں پہنچے، سمندر پھٹنے کے بجائے تیز لہروں نے انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ وزنی صندوق پانی میں ڈوب گئے اور ان میں بند خواتین اور بچے دم گھٹنے اور پانی بھرنے سے جاں بحق ہو گئے۔ خود ولایت شاہ آخری لمحات میں شدید لہروں کے باعث ساحل کی طرف واپس آ گئے اور بچ نکلے۔
اس خوفناک سانحے میں مجموعی طور پر 18 افراد ڈوب کر جاں بحق ہو گئے، جن میں زیادہ تر خواتین اور معصوم بچے تھے (بشمول خواب کا دعویٰ کرنے والی لڑکی نسیم فاطمہ)۔
پولیس نے موقع پر پہنچ کر کارروائی کی اور سمندر سے لاشیں اور زندہ بچ جانے والے 20 افراد کو نکالا۔ بچ جانے والوں پر بغیر قانونی دستاویزات (پاسپورٹ/ویزہ) کے سمندری راستے سے ملک سے باہر جانے کی کوشش کے جرم میں مقدمہ درج کر کے گرفتار کر لیا گیا۔
اس واقعے کا سب سے حیران کن نتیجہ یہ تھا کہ اتنی بڑی تباہی کے باوجود ولایت شاہ اور دیگر بچ جانے والے افراد اپنے یقین پر قائم رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے پیارے ڈوبے نہیں بلکہ "شہید” ہوئے ہیں اور وہ کربلا پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے عدالت میں بھی اپنے اس نظریے کا دفاع کیا۔
جب یہ کہانی میڈیا کے ذریعے پورے ملک اور دنیا میں پھیلی، تو کراچی کے ایک معروف امیر تاجر (مخیر شخصیت) نے ہمدردی کے تحت اس خاندان کی ضمانت کروائی اور ان کے عقیدے اور خواہش کا احترام کرتے ہوئے، بچ جانے والے تمام افراد کے لیے عراق کے ہوائی ٹکٹوں اور ویزے کا بندوبست کیا۔ یوں وہ بچ جانے والے افراد بالآخر ہوائی جہاز کے ذریعے کربلا پہنچے۔
اس واقعے نے پاکستانی معاشرے میں توہم پرستی اور اندھی تقلید پر ایک نئی بحث چھیڑ دی۔تھی عالمی سطح پر یہ واقعہ اتنا مشہور ہوا کہ معروف گستاخ مصنف سلمان رشدی نے اپنے متنازع ناول ‘The Satanic Verses’ میں اس واقعے سے متاثر ہو کر ایک پورا باب لڑکی اور سمندر کا راستہ دینے کا قصہ) لکھا۔
یہ واقعہ آج بھی پاکستان کی تاریخ میں اندھے مذہبی جوش اور نفسیاتی مسائل (Mass Hysteria) کی ایک المناک مثال کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔