*شباب کی باتیں*
*سلطان اولیاء ہے تو وہ شاہ قبول ہے*
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ شباب کی باتیں۔۔۔ سلطان اولیاء ہے تو وہ شاہ قبول ہے ۔۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔ مشتاق شباب مشتاق شباب)حضرت شاہ قبول اولیاء رحمت اللہ علیہ کا عرس اس لحاظ سے گزشتہ کئی برس سے پشاور کے مذہبی، دینی اور سماجی حلقوں میں ایک اہم حیثیت اختیار کر چکا ہے، اور اس موقع پر محافل سماع، ختم درود شریف کے علاوہ نعتیہ مشاعروں کا انعقاد یادگار تقاریب کی صورت ہوتی ہیں۔ عرس مبارک کی ابتداء کب ہوئی؟ اس حوالے سے خود ہماری یادداشت میں بھی صحیح تاریخ محفوظ نہیں، بس اتنا جانتے ہیں کہ جب ہم نے 1971ء میں ریڈیو پاکستان کی ملازمت اختیار کرتے ہوئے بطور پروگرام پروڈیوسر ذمہ داری سنبھالی اور ملازمت کے ابتدائی ایام ہی میں بیرونی نشریات کا شعبہ ہمارے حوالے کیا گیا، جسے براڈکاسٹنگ کی زبان میں “او بی” یعنی آ(ؤٹ ڈور براڈکاسٹ) کہتے ہیں تو اپریل 1972ء کے اوائل ہی سے، حضرت شاہ قبول اولیاء رحمت اللہ علیہ کے معتقدین کے خطوط کا ایک تانتا بندھ گیا۔ وہ سارے خطوط ہمارے سینیئرز کی جانب سے ہمیں مارک کیے جاتے رہے اور ہمیں بتایا گیا کہ چند سال سے ریڈیو پاکستان پشاور، ہر سال مئی کے مہینے میں، اللہ کے اس برگزیدہ ہستی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد سے تعلق رکھنے والے ولیء کامل کے عرس مبارک کے موقع پر نصف گھنٹے پر محیط پروگرام نشر کرتا ہے۔ جس میں سید شاہ قبول اولیاء کے دربار عالیہ پر منعقد ہونے والی تین روزہ تقاریب کی ریکارڈنگ کرکے ان کے منتخب حصوں پر مشتمل ایک پروگرام مرتب کیا جاتا ہے اور دربار عالیہ کے سجادہ نشینوں کو تاریخ نشر سے آگاہ کر دیا جاتا ہے، تاکہ وہ اپنے مریدین کو باقاعدہ اطلاع کر سکیں۔ پروگرام نشر ہونے کے بعد مریدین اور معتقدین کی جانب سے ایک بار پھر خطوط کا جو تانتا بندھتا تھا، تو وہ ڈھیروں بلکہ اگر ان خطوط کو تول لیا جاتا تو یقینا دس بارہ کلو وزن سے کم کیا ہوتا ہوگا۔ اور یہ خطوط حضرت شاہ قبول اولیاء رحمت اللہ علیہ کے معتقدین، جو ضلع ہزارہ میں مانسہرہ اور اٹک خورد کے علاقوں وغیرہ تک پھیلے ہوئے ہیں اور اب بھی وہاں بہت بڑی تعداد میں ان مریدین کے لاتعداد خاندان آباد ہیں۔
*سلطان اولیاء ہے تو وہ شاہ قبول ہے*
*ولیوں کا رہنما ہے تو وہ شاہ قبول ہے*
رہی پشاور کی بات تو پشاور تو اس لحاظ سے خوش قسمت ترین شہر ہے، جہاں حضرت شاہ قبول رحمت اللہ علیہ نے نہ صرف زندگی کا بیشتر حصہ گزارا، بلکہ یہیں آسودہء خاک ہوئے اور ان کا مرقد روشن، صدیوں سے مرجعء خلائق ہے۔ جبکہ ان کی اولاد کی مستقل رہائش اور موجودگی سے عوام کے دل حضرت شاہ قبول اولیاء کی چھوڑی ہوئی تعلیمات اور تجلیات سے کسب فیض پاتی رہتی ہے۔ اور ان کی دعائیں دلوں کو سکون و راحت کا باعث ہوتی ہیں۔
*دل میں جو جا گزیں ہے یہ صدیوں کی بات ہے*
*دل کیا کہ جا بجا ہے تو وہ شاہ قبول ہے*
سلطان الاولیاء کے حوالے سے اوپر کی سطور میں دو مقامات کا ذکر آیا ہے، جن کا ان کی کرامات سے خاص تعلق ہے۔ اولیاء اللہ کے بارے میں یہ بات عام ہے کہ ان کو جب کبھی ہدایات ملتی ہیں یا تو کشف کے ذریعے یا پھر خوابوں میں، تو وہ اپنے ٹھکانے بدلتے ہیں۔ اسی طرح جب سیدنا حضرت شاہ قبول رحمت اللہ علیہ کو اپنے بزرگوں سے نقل مکانی کے اشارے دیے گئے، تو انہوں نے اپنے وطن سے ہجرت کرتے ہوئے ہندوستان کی راہ لی اور مختلف مقامات پر مختصر اور عارضی قیام کرتے ہوئے بالاخر اٹک خورد کے علاقے میں آن بسے۔ ابتداء میں ان کی جانب لوگوں کی توجہ مرکوز نہیں ہوئی تھی۔ ایک بار انہوں نے دریائے اٹک کو پاؤں میں کنڑاؤں پہن کر، اور پانی کے اوپر قدم رکھتے ہوئے، علاقہ ملاحی ٹولہ سے، دریا کے دوسری جانب، نظام پور تک کا فاصلہ طے کیا، تو ان کی اس کرامت کی خبر پا کر لوگ جوق درجوق ان کے حلقہء ارادت میں شامل ہوتے چلے گئے اور ان کے معجزات سے متاثرین کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا گیا۔ اسی طرح ایک بانجھ عورت کو اولاد کی شدید خواہش نے ان کے بارے میں خبر پا کر مانسہرہ سے ان کے دربار میں حاضری دینے پر مجبور کر دیا۔ حضرت نے اس خاتون کو اولاد سے سرفراز فرمانے کے لیے اللہ کے دربار میں دعا مانگی، جو مقبول ہو گئی۔ اور اس اولاد سے محروم خاتون کو اللہ نے جو بیٹا عنایت فرمایا تھا گزشتہ روز اس خانوادے کی نسل کا ایک شخص بھی (جو خود بھی ادھیڑ عمر کا ہے) عرس مبارک کی تقریبات میں شرکت کرنے مانسہرہ سے آیا تھا۔
ان کرامات کے علاوہ اہل پشاور، صدیوں سے حضرت کی دعاؤں سے نہ صرف ان کی زندگی میں فیض یاب ہوتے رہے بلکہ ان کا دربار اج بھی مرجع خلائق ہے اور لوگ دن رات ان کے دربار عالیہ اور آستانے پر حاضری دے کر فیض یاب ہوتے ہیں
*پاتے ہیں فیض مرکز اقدس سے لوگ یوں*
*ہر ہر قدم دعا ہے تو وہ شاہ قبول ہے*
استانہ عالیہ شریف حویلی حضرت شاہ قبول اولیاء رحمت اللہ علیہ کے سجادہ نشین، جسٹس (ریٹائرڈ) سید یحییٰ زاہد گیلانی گزشتہ کئی سال سے دربار عالیہ پر جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے نعتیہ مشاعرے کا اہتمام کرتے ہیں، جس میں اردو، پشتو اور ہندکو کے شعرائے کرام بڑی تعداد میں شریک ہوتے ہیں۔ گزشتہ روز بھی ایک محفل نعت و نعتیہ مشاعرے کا اہتمام کیا گیا تھا جس کی صدارت سید یحییٰ زاہد گیلانی نے کی جبکہ مہمان خصوصی، ناصر علی سید تھے، جو دو روز قبل ہی جسٹس صاحب کی خصوصی دعوت پر برطانیہ، کینیڈا اور امریکہ کا طویل ادبی دورہ مختصر کر کے پہنچے تھے۔ مہمانان خصوصی میں صوفی دانشور اقبال سکندر اور عزیز اعجاز جبکہ یہ حقیر فقیر پر تقصیر بھی شامل تھے۔ اس موقع پر شاعروں کی ایک قابل ذکر تعداد نے گلہائے عقیدت سے نعتیہ مشاعرے کو یادگار بنا دیا تھا۔ آخر میں جسٹس ریٹائرڈ یحییٰ زاہد گیلانی نے اپنے مخصوص انداز میں دعا کرائی اور رات گئے یہ یادگار محفل، دلوں کو منور کرتے ہوئے اختتام پذیر ہوئی۔
*مرشد تمام خوش ہیں عنایات فیض سے*
*حسن فلک نما ہے تو وہ شاہ قبول ہے*
![]()

