ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ شباب کی باتیں ۔۔۔*سوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتے۔۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔مشتاق شباب)دھمکیوں اور گیدڑ بھبکیوں میں قدر مشترک تلاش کرنے میں زیادہ مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، حالانکہ تحریک انصاف کے چیئرمین اور چند دوسرے زعما، خیبر پختونخواہ میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کی خبریں آنے سے پہلے یہ دھمکیاں دیتے نظر آرہے تھے کہ اگر حکومت نے ایسا کوئی قدم اٹھایا تو تحریک انصاف کے ارکان پارلیمنٹ (سینٹ، قومی اسمبلی اور خیبر پختونخوا اسمبلی) استعفے دے کر ایوان ہائے سے باہر آجائیں گے، مگر حکومت نے صرف ایمرجنسی یا گورنر راج کی بجائے بہ یک وقت دونوں لگا کر دھمکی دینے والوں کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے، اور اب وہی لوگ جو اجتماعی استعفوں کی گیدڑ بھبکیوں سے جمہوریت کی پیالی میں طوفان اٹھانے کی کوشش کر رہے تھے، اچانک اپنا بیانیہ تبدیل کرتے ہوئے اب فرما رہے ہیں کہ کسی بھی اسمبلی سے استعفیٰ دینے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ سیانے کہہ گئے ہیں کہ پہلے تولو پھر بولو، مگر اس ملک کی سیاست کا انداز ہی انوکھا ہے، یہاں بولتے پہلے ہیں اور تولنے کی سوچ بعد میں آتی ہے۔ شاد رامپوری نے کہا تھا
*مرے وطن کی سیاست کا حال مت پوچھو*
*گھری ہوئی ہے طوائف تماش بینوں میں*
اس معاملے پر بات کرنے سے پہلے چند اخباری سرخیاں ملاحظہ فرمائیں جن سے موجودہ سیاسی صورتحال کے حوالے سے ملے جلے تاثرات واضح ہوتے ہیں۔
ایک سرخی ہے کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے خلاف اپوزیشن کا متحدہ جدوجہد کا اعلان۔ ایک اور سرخی کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اگر معاہدہ ہو جاتا تو ایمرجنسی نہ لگتی۔ اب یہاں ذرا رک جاتے ہیں اور گزشتہ روز مولانا فضل الرحمن کے دیئے ہوئے اس بیان پر بات کرتے ہیں، جس میں انہوں نے الزام لگایا تھا کہ ان کے ساتھ حکومتی حلقوں نے بات کر کے ایمرجنسی اور گورنر راج کی حد تک نہ جانے کی بات کی تھی، مگر پھر اس کے خلاف اقدام اٹھا لیا۔ یعنی گورنر راج بھی لگا دیا اور ایمرجنسی بھی نافذ کر دی۔ اب کون درست کہہ رہا ہے اور کون غلط؟ اس پر سوچنا تو بنتا ہے۔ آگے چلتے ہیں اور اخباری سرخیوں کی مزید بات کرتے ہیں۔ خبر کے مطابق پی پی پی قانون سازی میں حکومت کا ساتھ دینے پر آمادہ ہو گئی ہے، جبکہ ایک اور خبر کے مطابق حکومت نے ایک بار پھر محمود اچکزئی کو ملاقات کی دعوت دے دی ہے۔ تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیوں اور کس لیے؟ ظاہر ہے محمود اچکزئی تو یہی مطالبہ کریں گے کہ حکومت موجودہ اقدامات کو واپس لے کر صوبہ خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی کی حکومت کو بحال کرے، تاہم حکومت کس موڈ میں ہے اور وہ اس قسم کے مطالبے ماننے کو تیار ہوگی یا نہیں؟ ایک اور چھوٹی سی خبر جو پشاور ڈیٹ لائن سے ہے کہ شہریوں کا گورنر راج اور ایمرجنسی کا خیر مقدم۔ خبریں تو اور بھی بہت ہیں تا ہم دو وی لاگرز کی تازہ پوسٹوں پر بھی نظر دوڑاتے ہیں۔
ہمارے ایک دیرینہ کرم فرما اور دوست حماد حسن اپنے ایکس اکاؤنٹ پر رقم طراز ہیں۔ ” پی ٹی آئی والوں سے اگر پوچھیں کہ مزاحمت کیوں نہیں کی؟ تو جواب دیتے ہیں کہ ذرا انٹرنیٹ کھول کر تو دیکھیں۔” حالانکہ پختونخوا میں جزوی طور پر جبکہ باقی تمام پاکستان میں انٹرنیٹ چل رہا ہے۔ لیکن ایوب مارشل لاء کے خلاف سیاسی کارکنوں، خصوصا جماعت اسلامی کی دلیر مزاحمت، ون یونٹ کے خلاف نیشنل عوامی پارٹی کی تاریخ ساز مزاحمت، جب خان عبدالغفار خان سمیت ہزاروں کارکن جیلوں میں تھے اور صرف ہری پل جیل سے 16 کارکنوں کے جنازے نکلے تھے، اور پھر ضیا مارشل میں پھانسیوں کوڑوں اور خوفناک جبر کے سامنے ڈٹے جیالوں کی شاندار مزاحمت کرنے والوں کے پاس کون سا انٹرنیٹ تھا؟ ایک ضرب المثل کے مطابق ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا۔ ایک اور صحافی اور ویلاگر غریدہ فاروقی نے لکھا ہے "حیران کن ہے، 25 کروڑ کی سب سے مقبول ترین جماعت خیبر پختونخواہ کی 14 سالہ بلا شرکت غیرے حکمران جماعت، ایمرجنسی لگ گئی، حکومت ختم ہو گئی مگر کے پی میں ایک بندہ تک نہیں نکلا”
انتہائی معذرت کے ساتھ عرض کرنے دیجئے کہ اس جماعت پر عام طور پر یہ جو الزام لگایا جاتا ہے کہ یہ صرف اور صرف انٹرنیٹ کی مقبولیت سے زندہ ہے اور بقول حماد حسن، جماعت کے اکثر کارکن بھی تو یہی کہتے ہیں کہ ذرا انٹرنیٹ کھول کر تو دیکھیں، اب ان دعوؤں سے پارٹی کے کارکن کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ یعنی بقول مرزا ذاکر حسین قزلباش
*باغبان نے آگ دی جب آشیانے کو مرے*
*جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے*
*مٹھیوں میں خاک لے کر دوست آئے وقت دفن*
*زندگی بھر کی محبت کا صلہ دینے لگے*
خیر جانے دیں، اس صورتحال کا ایک اور پہلو بھی ہے اور وہ ہے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور اے این پی کے سربراہ ایمل ولی خان کا موقف جو بقول ان کے, اصولی اور جمہوری سوچ پر مبنی ہے. چلیں ان کو یہ سوچ مبارک ہو، اگرچہ دونوں جماعتوں کے ساتھ گزشتہ انتخابات میں جو رویہ اختیار کیا گیا اور ان کی جس طرح "تذلیل” کی گئی، نہ صرف اے این پی کے رہنماؤں کو مبینہ دہشت گردی کا شکار کر کے انتخابات سے دور رکھا گیا۔ دونوں جماعتوں کی جیتی ہوئی سیٹیں مبینہ دھاندلی اور زور زبردستی ان سے چھینی گئیں، اور یہ جو صوبے میں تیسری بار بلا شرکت غیرے اقتدار کو اس جماعت کی مقبولیت قرار دیا جا رہا تھا، اس کی اصلیت یہ تھی کہ پہلی بار آر ٹی ایس بٹھا کر اور باقی دو بار صوبے میں ہر قسم کی دھاندلی کے ذریعے، جس میں پارٹی کے ایک اہم لیڈر کو مخالفین کے ووٹوں سے بھرے ہوئے بکسے بھگانے کی تصاویر بھی وائرل ہوئی تھیں، اور مخالفین کے خلاف مبینہ دہشت دہشت گردوں کے ذریعے کاروائیاں کر کے، انہیں انتخابی عمل سے دور اور اقتدار سے محروم رکھا گیا وہ کیا تھا؟ دوسروں پر فورم 47 کے الزامات لگانے والے، اپنے گریبان میں بھی جھانکتے تو انتخابی دھاندلی کی اصل تصویر سامنے آجاتی۔ اس کے بعد اس بدنصیب صوبے کے ساتھ جو کھلواڑ کی جاتی رہی اس حوالے سے اب خبریں وائرل ہو رہی ہیں۔ ہم ان دعووں سے انکار نہیں کرتے اور اس کی حقیقت بھی سامنے آنی چاہیے کہ فارم 47 والے الزامات کہاں تک درست ہیں؟ مگر یہ جو مولانا صاحب اور ایمل ولی خان اب جمہوریت کے مامے چاچے بن کر سامنے آرہے ہیں، تو ان کے اس تازہ موقف پر سوال ضرور اٹھتا ہے کہ اگر ان کو ایک فلمی شاعر کے مزاحیہ مصرع کے مطابق
*درد جگر ہووے آج مرے پاؤں میں*
درست ہے تو پھر وہ آج تک اپنے ساتھ روا رکھے جانے والے رکھے ناروا سلوک (اسمبلی نشستوں کی مبینہ چوری بذریعہ دھاندلی) پر احتجاج کیوں کرتے رہے ہیں؟ یا تو ان کا احتجاج جھوٹ تھا یا پھر اگر وہ الزامات درست تھے تو موجودہ صورتحال میں، بقول ان کے مبینہ دھاندلی سے برسر اقتدار آنے والی جماعت، کے ساتھ کھڑے ہونے کا کیا جواز ہے؟ انہیں تو خاموش رہنا چاہیے تھا، یوں وہ اپنی کھال بھی بچا لیتے اور ان کا موقف بھی برقرار رہتا۔ گویا بقول منیر نیازی