"عالم ارواح سے عالم برزخ تک کا سفر”

"عالم ارواح سے عالم برزخ تک کا سفر”

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )میں ان کی باتوں میں اپنی بہت سی باتوں کے جواب تلاش کر رہا تھا۔ میں نے انہیں اپنی ساری روداد سنائی کہ میں کیسے ، کہاں سے ، اور یہاں کس طرح پہنچا۔

 میری بات سنتے ہی وہ مذکر روح اچانک میرے پیچھے آکھڑی ہوئی اور آہستگی سے بولی تمہارا ابھی دنیا میں جانے کا پروانہ جاری نہیں ہوا، اور بغیر پروانے کے تمہارا اس عالم میں نازل ہونا مالک کی طرف سے کوئی آزمائش ہو سکتی ہے۔

تم واپس جانے کے لیے اپنے مالک سے التجا کرو، ورنہ یہاں سے اکیلے ہی دنیا میں چلے گئے تو تمہارے لیے دنیا میں بہت مشکلات ہو سکتی ہیں۔

اس کی باتوں سے میں تھوڑا افسردہ ہوا۔ میں نے اس کی طرف توجہ کی اور پوچھا: "تمہارے ساتھ کون کون سے ساتھی ہیں جو دنیا میں تمہارے ہمراہ جا رہے ہیں ؟””

وہ بولا : ” ان کو ایک علیحدہ جگہ قید کیا گیا ہے۔ ان میں سے کچھ خوفناک شکل والے ہیں اور کچھ خوبصورت شکل والے بھی۔ ان میں ہمارے مالک کا مقصودکیا ہے، وہ وہی جانتا ہے، مگر میں نے سنا ہے کہ خوفناک شکل والے ہماری یادداشت پر قابض ہوں گے ، اسے مزید کمزور کریں گے ، اور ہمیں یہ بھولنے میں کامیاب کریں گے کہ ہم دنیا میں کیا کرنے جا رہے ہیں۔ جبکہ خوبصورت شکل والے ہمیں یاد دہانی کروانے کے لیے ہیں کہ ہم دنیا میں کیا کرنے آئے ہیں۔”

میں نے اس سے پوچھا: "کیا تم اپنے ساتھ جانے والوں کو جانتے ہو ؟”

اس نے کہا: "کیوں نہیں ! بہت اچھے سے ان کو جانتا ہوں، ان کی آواز بھی پہچانتا ہوں۔ ہمیں یہاں سب کو پروں والی مخلوق چھوڑ کر گئی ہے اور سب کچھ سمجھا دیا گیا ہے۔ اور میں دیکھ رہا ہوں کہ تم یہاں اکیلے اور خود ہی پہنچے ہو ، اور تمہارے پاس کچھ علم بھی نہیں ہے۔ اس لیے تم مالک سے التجا کرو کہ وہ تمہیں بھی ساتھی عنایت کرے ، ورنہ یہیں سے اکیلے دنیا میں چلے گئے تو پتہ نہیں تم کیسے وقت گزارا کروگے۔”

اب میں اس کی باتوں سے تھوڑا خوف محسوس کرنے لگا تھا کہ یہ سب کیا ہے ، مگر ایک حوصلہ بھی ملا کہ دنیا میں کوئی اکیلا نہیں جائے گا، سب کے ساتھ ساتھی ہوں

گے۔ لیکن خوفناک شکلیں؟ وہ کون ہوں گے؟ ہم ان کے ساتھ دشمن بن کر کیوں جائیں گے ؟

میں نے وہاں موجود ارواح پر آخری نظر ڈالی اور وہاں سے کوچ کر گیا (Departed) اور بلندیوں میں اُڑنے لگا۔ میں سوچ رہا تھا کہ کوئی ایسی جگہ میسر ہو (Available) جہاں میں اپنے مالک سے بات کر سکوں، مگر مجھے کچھ بھی سمجھ نہیں آرہی تھی۔ اگر میرا دنیا میں جانے کا پروانہ جاری نہیں ہوا تو پھر مجھے اس آخری درجہ میں کیوں بھیجا گیا ہے ؟ کیا میں اب کبھی اپنے اصل مقام پر جا سکوں گا یا نہیں؟

مجھے ایسے لگ رہا تھا کہ میں اپنے پہلے مقام کو شدید یاد (Miss) کر رہا ہوں اور میں جلد از جلد وہاں جانا چاہتا ہوں۔ جیسے مجھے اور کہیں سکون نہیں مل رہا تھا۔ مگر کیا کرتا؟ میں وہاں جانے کی بجائے تب سے پتہ نہیں کہاں کہاں بھٹک رہا تھا، اور میں نے مالک سے فریاد بھی نہیں کی تھی۔اب میں سوچ رہا تھا کہ مالک سے التجا کی جائے اور اپنے اصل مقام پر جانے کی دعا کروں، اور میں جو بھٹکتا پھر رہا ہوں اس سے نجات مل جائے۔

میں اس وقت ایسے مقام پر تھا جہاں کوئی روح یا کوئی بھی مخلوق موجود نہیں تھی۔ میرے اطراف میں خوشبودار دھوئیں کے بادل منڈلا رہے تھے۔ میں نے اس جگہ اور موقع کو غنیمت سمجھا، اور وہیں پر اپنے مالک کو پریشانی اور امید سے ملے جلے جذبات سے پکارا:

” مالک ! میں کہاں ہوں؟ میں کب تک بھٹکتا رہوں گا ؟ آپ کہاں ہو ؟ میری پکار سن رہے ہو ؟ براہ کرم مجھے میرے اصل مقام کا راستہ دکھا دیجیے اور مجھے اپنے اصل مقام پر پہنچا دیجیے۔ میں آپ سے درخواست گزار ہوں کہ میری آواز کو سینے اور مجھے نجات دیجیے۔ اگر مجھے دنیا میں ہی جانا ہے تو مجھے اچھے ساتھی عنایت فرمائیں، جیسا کہ دوسری ارواح کو عنایت کیے گئے ہیں۔ میرے خوف کو دور کیجیے، مجھے میری منزل پر پہنچا کر سکون فراہم کیجیے، اور میں شکر گزار ہوں گا۔میں اپنی مناجات میں بہت ہی پرجوش اور منہمک تھا کہ اچانک۔۔۔۔۔۔(جاری ہے)

"تو پیارے دوستوں !آپ کو پہلی قسط کیسی لگی ،کمینٹ میں ضرور بتانا اور پیج کو فالوکر دیں، اور پوسٹ کو لائک شئیر ضرور کردیں۔”