ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )کراچی کی ایک لڑکی اپنی کتابیں اور یونیفارم دوست کے گھر چھپا کر رکھتی تھی تاکہ والد کو معلوم نہ ہو کہ وہ اسکول جاتی ہے۔ جب راز کھلا تو باپ نے اسے اور اس کی ماں کو مارا، مگر لڑکی نے پڑھائی نہیں چھوڑی۔ پھر اسی لڑکی نے اپنے علاقے کے بارہ سو بچوں کے لیے اسکول قائم کردیا!
کراچی کے علاقے مواچھ گوٹھ میں ایک لڑکی روزانہ گھر سے نکلتی، اپنی دوست کے گھر پہنچتی اور وہاں رکھی ہوئی اسکول یونیفارم پہن کر پڑھنے چلی جاتی۔ اس کے بستے اور کتابوں کو بھی گھر سے چھپا کر رکھا جاتا تھا۔ یہ سب اس لیے نہیں تھا کہ وہ کوئی غلط کام کررہی تھی، بلکہ اس لیے کہ اس کے والد نہیں چاہتے تھے کہ وہ پرائمری جماعتوں کے بعد مزید تعلیم حاصل کرے۔
اس لڑکی کا نام حمیرا بچل تھا۔ ان کا خاندان سندھ کے ضلع ٹھٹھہ سے کراچی منتقل ہوا تھا۔ حمیرا کے والد ٹرک ڈرائیور تھے اور ایسے روایتی ماحول میں پلے بڑھے تھے جہاں لڑکیوں کی تعلیم کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ بیٹی بڑی ہوکر شادی کرے اور گھر سنبھالے۔ حمیرا کی خواہش اس سے مختلف تھی۔ وہ پڑھنا چاہتی تھیں، آگے بڑھنا چاہتی تھیں اور یہ سمجھنا چاہتی تھیں کہ ان کے آس پاس بہت سے بچے اسکول سے باہر کیوں ہیں۔
حمیرا کی والدہ زینب بی بی نے بیٹی کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ وہ خود زیادہ تعلیم یافتہ نہیں تھیں، مگر جانتی تھیں کہ تعلیم ان کی بیٹی کے لیے بہتر مستقبل کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ انہوں نے حمیرا کو خاموشی سے اسکول جانے میں مدد دی۔ کتابیں اور یونیفارم دوست کے گھر رکھ دی جاتیں تاکہ والد کو خبر نہ ہو۔
یہ سلسلہ کافی عرصے تک جاری رہا، مگر ایک دن راز کھل گیا۔ حمیرا امتحان دینے کی تیاری کررہی تھیں جب والد کو معلوم ہوا کہ بیٹی ان کی مخالفت کے باوجود پڑھنے جارہی ہے۔ حمیرا کے مطابق والد شدید ناراض ہوئے اور انہوں نے بیٹی کے ساتھ اس کی والدہ پر بھی ہاتھ اٹھایا۔ اس مشکل وقت میں زینب بی بی نے بیٹی کو پڑھائی جاری رکھنے کا حوصلہ دیا۔ حمیرا امتحان دینے گئیں اور کامیاب ہوئیں۔ بعد میں والد بھی ان کی مزید تعلیم پر آمادہ ہوگئے۔
لیکن حمیرا کے سامنے صرف اپنی تعلیم کا مسئلہ نہیں تھا۔ مواچھ گوٹھ میں وہ روزانہ ایسے بچے دیکھتی تھیں جو اسکول جانے کے بجائے گلیوں میں کھیلتے یا چھوٹے موٹے کام کرتے تھے۔ ان میں بہت سے بچوں کے والدین تعلیم کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے تھے اور کچھ خاندان لڑکیوں کی تعلیم کو ضروری ہی نہیں سمجھتے تھے۔
حمیرا کی زندگی میں ایک افسوس ناک واقعے نے اس احساس کو مزید گہرا کیا۔ ان کے ایک کم عمر رشتے دار کی موت ایسی دوا استعمال کرنے کے بعد ہوئی جس کی مدت ختم ہوچکی تھی۔ بچے کی والدہ پڑھنا نہیں جانتی تھیں، اس لیے دوا پر لکھی تاریخ سمجھ نہ سکیں۔ حمیرا کے لیے یہ صرف ایک خاندان کا صدمہ نہیں تھا۔ انہیں احساس ہوا کہ ناخواندگی بعض اوقات زندگی اور موت کا مسئلہ بھی بن سکتی ہے۔
تقریباً تیرہ سال کی عمر میں حمیرا نے اپنے گھر میں محلے کے بچوں کو پڑھانا شروع کردیا۔ وہ اسکول میں استعمال ہونے والی پرانی کتابیں، کاپیاں اور دوسری چیزیں اپنی سہیلیوں سے جمع کرتی تھیں۔ ان کی بہن اور چند دوست بھی اس کام میں شامل ہوگئیں۔ ابتدا میں یہ چند بچوں کو پڑھانے کی معمولی کوشش تھی، مگر آہستہ آہستہ والدین اپنے بچوں کو ان کے پاس بھیجنے لگے۔
حمیرا نے گھر گھر جاکر لوگوں کو سمجھایا کہ بچوں، خاص طور پر لڑکیوں، کا تعلیم حاصل کرنا کیوں ضروری ہے۔ کئی بار انہیں مخالفت اور طنز کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض لوگوں کو یہ پسند نہیں تھا کہ ایک نوجوان لڑکی محلے کے معاملات میں اس طرح دلچسپی لے۔ مگر حمیرا نے اپنا کام جاری رکھا۔
وقت کے ساتھ ان کی اس کوشش نے ڈریم ماڈل اسٹریٹ اسکول کی شکل اختیار کرلی۔ 2013 کی رپورٹوں کے مطابق وہاں تقریباً بارہ سو بچے تعلیم حاصل کررہے تھے اور درجنوں اساتذہ اور رضاکار تدریسی کام میں حصہ لے رہے تھے۔ یہ وہی علاقہ تھا جہاں کبھی بہت سے بچے اسکول کا نام تک نہیں جانتے تھے۔
حمیرا کی جدوجہد پر پاکستان کی معروف دستاویزی فلم ساز شرمین عبید چنائے نے فلم بنائی۔ 2013 میں اس فلم کی وجہ سے ان کی کہانی معروف امریکی گلوکارہ میڈونا تک پہنچی۔ لندن میں ایک تقریب کے دوران میڈونا نے حمیرا کو اسٹیج پر بلایا اور ان کے اسکول کے لیے عطیات جمع کرنے کی اپیل کی۔ چند ہفتوں میں نئی عمارت کے پہلے حصے کی تعمیر کے لیے ستاون ہزار ڈالر سے زیادہ رقم جمع ہوگئی۔ میڈونا نے بھی مزید تعاون کا وعدہ کیا۔
یوں کراچی کی وہ لڑکی جسے کبھی اپنی ہی کتابیں گھر سے چھپا کر رکھنا پڑتی تھیں، اب اپنے علاقے کے بچوں کے لیے ایک بہتر اسکول بنانے کی کوشش میں دنیا بھر سے مدد حاصل کررہی تھی۔
حمیرا بچل کی کہانی کا سب سے خوبصورت پہلو یہ ہے کہ انہیں اپنی تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھی دوسروں سے چھپنا پڑا، مگر انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ان کے محلے کے دوسرے بچوں کو ایسی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس جدوجہد میں ان کی والدہ کا کردار بھی غیرمعمولی تھا، جنہوں نے مخالفت اور تشدد کے باوجود بیٹی کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ کبھی کبھی ایک ماں کا اپنی بیٹی کی تعلیم کے لیے کھڑا ہوجانا صرف ایک لڑکی کا مستقبل نہیں بدلتا، بلکہ اس سے پورے محلے کے بچوں کے لیے علم کے دروازے کھل سکتے ہیں۔