ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ قلم، لوحِ محفوظ اور تقدیرِ الٰہی ۔۔۔ انتخاب ۔ ۔۔۔محمد جاوید عظیمی)الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على أشرف الأنبياء والمرسلين، سيدنا ومولانا محمد، وعلى آله وأصحابه وأولياء أمته أجمعين۔
تخلیقِ کائنات کی نوری ابتدا کے بعد باری تعالیٰ نے اس عالم کے نظام، انسانی افعال اور کائنات کی ہر چھوٹی بڑی تقدیر کو ایک محکم اور حکمت سے بھرپور نظامِ قلم و کتابت میں مسطور فرمایا۔ سالکِ راہِ حق کے لیے قلم، لوحِ محفوظ اور تقدیرِ الٰہی کا صحیح فہم اور باطنی معرفت حاصل کرنا اس لیے ضروری ہے تاکہ اس کے اندر مقامِ تسلیم و رضا، توکل اور رب کریم کی حکمتِ بالغة پر راسخ ایقان پیدا ہو جائے۔
جب تک انسان تقدیر کے راز کو شریعت اور ادب کے دائراں میں نہ سمجھے، وہ شکوے، بے چینی اور اعتراضات کی باطنی بیماریوں سے نجات حاصل نہیں کر سکتا۔
قرآنِ مجید نے قلم، لوحِ محفوظ اور لوحِ تقدیر کا ذکر جابجا عظمت اور حکمت کے ساتھ فرمایا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
ن ۚ وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ
ن۔ قسم ہے قلم کی اور اس (مضمون) کی جو فرشتےلکھتے ہیں۔ (القلم: 01)
اسی طرح لوحِ محفوظ کی عظمت کو واضح کرتے ہوئے سورۃ البروج میں فرمایا:
بلکہ یہ قرآنِ مجید ہے، جو لوحِ محفوظ میں (نقش و درج) ہے۔ (البروج: 21-22)
لوحِ محفوظ درحقیقت باری تعالیٰ کے علمِ ازلی کا وہ نوری صحیفہ ہے جس میں کائنات کے وجود میں آنے سے لے کر ابد تک کے تمام واقعات، مقادیر، اور حالات درج ہیں۔ قلمِ قدرت نے حکمِ الٰہی کے تحت تمام کائنات کے قوانین اور مقدر کو اس پر نقاش فرما دیا ہے۔
انوارِ نبوت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شمع سے جب ہم تقدیر اور قلمِ قدر کے اولین تخلیقی لمحات کی تلاش کرتے ہیں، تو جامع احادیثِ مبارکہ سامنے آتی ہیں۔
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
بے شک اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا فرمایا، پھر اس سے فرمایا: ‘لکھ’ اس نے عرض کیا: ‘اے میرے رب میں کیا لکھوں؟’ فرمایا: ‘قیامت تک پیدا ہونے والی ہر شے کی تقدیر لکھ دے۔
(سنن ابوداؤد / جامع الترمذی)
یہ حدیثِ مبارکہ واضح کرتی ہے کہ کائنات میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے، وہ باری تعالیٰ کے علمِ ازلی، ارادے اور حکمت کے تحت مسطور ہے، اور اس کا کوئی ذرہ بھی رب کے احاطۂ علم سے باہر نہیں۔
اہلِ بیتِ اطہار اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اس تقدیرِ الٰہی کو خشک جَبریت کا سبب نہیں بنایا، بلکہ اسے مقامِ تسلیم و رضا اور شریعت پر محنت کا ذریعہ بنایا۔
امیر المؤمنین سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم سے جب ایک شخص نے تقدیر اور انسانی اختیار کا باطنی راز پوچھا تو آپ نے فرمایا: تقدیر اللہ کا ایک گہرا سمندر ہے، اس میں بلا علمی گہرائی کے نہ اترو؛ مگر یہ یاد رکھو کہ تم اپنے جن اعمال کے مکلف بنائے گئے ہو (شریعت کے احکام)، ان میں تم سے تمہا را اختیار پوچھا جائے گا، نہ کہ لوحِ محفوظ کی لکھی ہوئی۔
یعنی بندہ شریعت کے احکام پر عمل کا مکلف ہے اور جو نتائج اور حالات اس کی زندگی میں پیش آتے ہیں وہ تقدیرِ الٰہی کے تحت رضائے الٰہی کا مظہر ہوتے ہیں۔
حضور غوثِ اعظم سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی قدس اللہ سرہ العزیز اپنی کتاب فتوح الغیب میں تقدیر اور سالک کے رویے پر گفتگو فرماتے ہوئے ارشار فرماتے ہیں:
اے سالک جب تک تو تقدیرِ الٰہی کے فیصلوں پر راضی ہونا نہیں سیکھتا، تو طریقت میں قدم نہیں رکھ سکتا۔ تقدیر کے مقابلے میں اپنے نفس کی خواہشات اور اعتراضات کو فنا کر دے۔ جب تیرے اوپر کوئی مصیبت يا خوشی آئے تو لوحِ محفوظ کے لکھنے والے کو دیکھ، اسباب پر نظر نہ رکھ۔ رب کے فیصلوں پر تسلیم و رضا ہی اولیاء اللہ کی اصل کرامت اور ان کا دائمی سکون ہے۔
ائمۂ سلف (مثلًا امام غزالیؒ اور مجدد الف ثانیؒ) نے اس بات کو کھول کر بیان فرمایا کہ تقدیر کے دو پہلو ہیں:
تقدیرِ مبرم: وہ حتمی فیصلہ جو تبدیل نہیں ہوتا (مثلًا موت کا وقت، نظامِ عالم)۔
تقدیرِ معلق: وہ فیصلہ جو دعاؤں، صدقات، اور والدین کی خدمت سے بظاہر بدلتا یا بلا ٹلتی ہے، لیکن یہ تبدیلی بھی لوحِ محفوظ اور علمِ الٰہی میں پہلے سے درج ہوتی ہے۔
اس باطنی و ایمانی حقیقت کو روزمرہ زندگی کی ایک سادہ تمثیل سے سمجھیے۔ فرض کیجئے ایک بحری جہاز سمندر میں سفر کر رہا ہے۔ جہاز کا انجن، راستہ اور سمت کپتان کے ہاتھ میں ہے، مگر سمندر کی لہریں، ہوا کا رخ اور بارش پر کپتان کا کوئی اختیار نہیں۔ دانشمند انسان ہوا کی لہروں سے لڑنے کے بجائے اپنے جہاز کے چپو (شریعت کی پیروی) کو محتاط طریقے سے چلاتا رہتا ہے اور لہروں (تقدیرِ الٰہی) کو اللہ کے سپرد کر دیتا ہے۔ انسان کی ظاہری جدوجہد اور عبادت شریعت کی اطاعت ہے، اور پیش آنے والے حالات پر صبر و شکر کرنا تقدیرِ الٰہی پر تسلیم و رضا ہے۔
ہماری عملی و قلبی اصلاح کے لیے درخشندہ نکات درج ذیل ہیں۔
مقامِ تسلیم و رضا: زندگی میں آنے والے نامساعد حالات، ناکامیوں يا بیماریوں پر شکوہ و شکایت کے بجائے یہ سوچیں کہ "اس میں میرے رب کی کوئی نہ کوئی باطنی حکمت ہے”۔
شریعت پر عمل اور توکل: تقدیر کا بہانہ بنا کر عبادات اور محنت کو نہ چھوڑیں، بلکہ شریعت پر سختی سے عمل کرتے ہوئے نتائج اللہ پر چھوڑ دیں۔
دعا اور استغفار: دعاؤں اور صدقات کو کثرت سے اپنائیں کیونکہ دعا تقدیرِ معلق کے بلائیں ٹالنے کا سب سے محکم مسنون ذریعہ ہے۔
اے ہمارے رحیم، کریم اور غفور پروردگار ہمیں اپنی تقدیر کے تمام فیصلوں پر صبر، شکر اور مقامِ تسلیم و رضا نصیب فرما۔ مالکِ دو جہاں ہمارے قلوب کو شکوے اور بے چینی کی بیماریوں سے پاک کر کے توکل اور سکونِ قلب کا مسکن بنا دے۔ ہمیں لوحِ محفوظ کے انوار سے اپنے حلم و حیاء کی توفیق عطا فرما اور سلف صالحین کے محکم ایمان کا حصہ عطا فرما۔