ماورائیت اور قربِ رگِ جاں کا معمہ: لا مکاں خالق اور مادی کائنات کے ربط کی حقیقت! – بلال شوکت آزاد
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )رات کے پچھلے پہر جب شہر کی رونقیں ماند پڑ جاتی ہیں اور کمرے کی تنہائی میں صرف میز پر رکھے لیمپ کی زرد روشنی جاگ رہی ہوتی ہے، تو ایک متجسس نوجوان اپنے سامنے رکھی ہوئی طبیعیات اور فلسفے کی کتابوں کے اوراق پلٹتے ہوئے اچانک اپنے ہی ہاتھ کی طرف دیکھتا ہے۔
وہ اپنے ذہن میں ایک خیال لاتا ہے کہ مجھے چائے کا پیالہ اٹھانا ہے، اور اگلے ہی لمحے اس کے گوشت پوست اور ہڈیوں سے بنے ہوئے ہاتھ کی انگلیاں حرکت میں آتی ہیں اور پیالے کو تھام لیتی ہیں۔
بظاہر یہ دن بھر میں ہزار بار ہونے والا ایک معمولی سا عمل ہے، لیکن جیسے ہی وہ اس سادہ سے عمل کو فلسفے کی خوردبین کے نیچے رکھتا ہے، اس کے سامنے سوالات کا ایک ایسا بھنور کھل جاتا ہے جو سیدھا کائنات کے سب سے بڑے مابعد الطبیعیاتی معمے سے جا ملتا ہے۔
وہ سوچتا ہے کہ اس نے پچھلی تمام بحثوں میں یہ تو مان لیا کہ کائنات کی ایک ابتدا ہے، اور جس چیز کی ابتدا ہو اس کا کوئی سبب ہونا چاہیے، اور چونکہ زمان و مکان یعنی وقت اور جگہ خود بگ بینگ کے ساتھ وجود میں آئے ہیں، اس لیے کائنات کے خالق کو لازماً زمان، مکان اور مادے کی قید سے ماورا ہونا چاہیے۔
لیکن عین اسی مقام پر، جہاں ایک مذہبی ذہن یہ سمجھتا ہے کہ اس نے خدا کے وجود کو سائنسی اور عقلی اعتراضات سے محفوظ کر لیا ہے، جدید الحادی فلسفہ اپنا سب سے کاری اور مہلک وار کرتا ہے۔
نوجوان کے ذہن میں سوشل میڈیا کے مباحثوں، فلسفیانہ پوڈکاسٹس اور جدید ملحد مفکرین کی تحریروں سے کشید کیا ہوا ایک سوال ہتھوڑے کی طرح برستا ہے:
اگر خدا واقعی زمان و مکان سے ماورا ہے، اگر وہ نہ مادہ ہے، نہ توانائی ہے، نہ کسی خاص جگہ پر موجود ہے اور نہ ہی اس پر وقت گزرتا ہے، تو پھر ایسی مکمل طور پر غیر مادی اور ماورا ہستی کا اس مادی، مکانی اور زمانی کائنات کے ساتھ تعلق کیسے ممکن ہے؟
جو ہستی وقت کے دائرے سے باہر ہے، وہ وقت کے اندر ہونے والے واقعات کو کیسے چلا سکتی ہے؟
جو ذات مکان اور ابعاد سے پاک ہے، وہ خلا میں تیرتے ہوئے ایٹموں کو کیسے حرکت دے سکتی ہے؟
کیا خدا کو زمان و مکان سے ماورا مان لینے کا منطقی نتیجہ یہ نہیں نکلتا کہ ہم نے خدا کو اس کائنات سے ہمیشہ کے لیے بے دخل اور معطل کر دیا ہے؟
یہ سوال کوئی سطحی یا جذباتی نعرہ نہیں ہے، بلکہ یہ جدید فلسفۂ مذہب اور مابعد الطبیعیات کا وہ سنگین ترین اشکال ہے جسے علمی اصطلاح میں ماورائیت اور حلول کا تنازعہ یا غیر مادی اور مادی کے مابین تعامل کا معمہ (The Problem of Interaction between the Immaterial and the Material) کہا جاتا ہے۔
اس اعتراض کی جڑیں جدید فلسفے کے آغاز ہی میں اس وقت نمودار ہو گئی تھیں جب سترہویں صدی کے عظیم فرانسیسی فلسفی اور ریاضی دان رینے ڈیکارٹ نے یہ نظریہ پیش کیا کہ انسان دو بالکل مختلف جواہر سے مل کر بنا ہے:
ایک مادی جسم جو جگہ گھیرتا ہے، اور دوسرا غیر مادی ذہن یا روح جو جگہ، لمبائی، چوڑائی اور مادے سے بالکل پاک ہے۔
ڈیکارٹ کے اس نظریے پر اس عہد کی ذہین ترین خاتون، بوہیمیا کی شہزادی الزبتھ نے مئی 1643ء میں لکھے گئے اپنے تاریخی خطوط میں ایک ایسا سوال اٹھایا جس نے پورے مغربی فلسفے کو ہلا کر رکھ دیا۔
شہزادی الزبتھ نے ڈیکارٹ کو لکھا کہ میری عقل یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ ایک ایسی روح جو غیر مادی ہے اور جگہ نہیں گھیرتی، وہ ایک مادی جسم کو کیسے دھکیل سکتی ہے یا اس میں حرکت پیدا کر سکتی ہے، کیونکہ حرکت پیدا کرنے کے لیے تو دو چیزوں کا آپس میں چھونا اور کسی مخصوص مقام پر ٹکرانا ضروری ہے، اور چھونا یا ٹکرانا بغیر مکانی وسعت اور مادی جسم کے ناممکن ہے۔
(René Descartes & Princess Elisabeth, The Correspondence between Princess Elisabeth of Bohemia and René Descartes, edited and translated by Lisa Shapiro, University of Chicago Press, 2007, pp. 61–62)
شہزادی الزبتھ کا یہ اعتراض جو ابتدا میں انسانی روح اور جسم کے تعلق پر تھا، انیسویں اور بیسویں صدی کے الحادی فلسفے میں پھیل کر براہِ راست خدا اور کائنات کے تعلق پر آ لگا۔
آج کے دور میں جب کوئی نوجوان الحاد کے سنجیدہ علمی لٹریچر کا مطالعہ کرتا ہے، تو اسے یہ اعتراض تین انتہائی مضبوط حصاروں میں بند نظر آتا ہے۔
پہلا حصار جدید طبیعیات کے ایک بنیادی اصول کے گرد تعمیر کیا گیا ہے جسے طبعی کائنات کی سببی بندش (Causal Closure of the Physical) اور بقائے توانائی کا قانون (Law of Conservation of Energy) کہا جاتا ہے۔
دورِ حاضر کے ممتاز فلاسفر آف مائنڈ جیگون کِم نے اپنی معروف کتاب میں اس اصول کو بڑی صراحت سے بیان کیا ہے کہ مادی کائنات ایک بند نظام ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ کائنات کے اندر ہونے والے ہر مادی واقعے کی اگر کوئی علت یا وجہ ہوتی ہے، تو وہ لازماً کوئی دوسری مادی علت ہی ہو سکتی ہے۔
(Jaegwon Kim, Physicalism, or Something Near Enough, Princeton University Press, 2005, Chap. 1, pp. 15–17)
اس بنیاد پر امریکی ملحد فلسفی ایون فیلز اور دیگر مفکرین یہ استدلال کرتے ہیں کہ کسی بھی مادی ذرے کو حرکت دینے کے لیے توانائی کی منتقلی درکار ہوتی ہے۔
حرحرکیات کا پہلا قانون (First Law of Thermodynamics) یہ کہتا ہے کہ کائنات میں مادے اور توانائی کی مجموعی مقدار مستقل ہے؛ یہ نہ تو نئی پیدا ہو سکتی ہے اور نہ فنا ہو سکتی ہے۔
اب اگر زمان و مکان سے ماورا کوئی غیر مادی خدا اس کائنات کے کسی ایک ایٹم کو بھی ہلاتا ہے، یا کسی بیمار کو شفا دیتا ہے، یا کوئی معجزہ دکھاتا ہے، تو اس کے لیے کائنات میں باہر سے نئی توانائی داخل کرنا پڑے گی، جو کہ طبیعیات کے بنیادی ترین قانون کی خلاف ورزی ہے، اور اگر کوئی توانائی منتقل نہیں ہوتی تو پھر مادی کائنات میں کوئی تبدیلی بھی واقع نہیں ہو سکتی
(Evan Fales, Divine Intervention: Metaphysical and Epistemological Puzzles, Routledge, 2010, Chap. 2, pp. 19–25)
اس الحادی استدلال کا دوسرا حصار مکان یا جگہ (Space) سے متعلق ہے۔
معترض کہتا ہے کہ ہر عمل کسی نہ کسی جگہ پر واقع ہوتا ہے۔
اگر خدا مکان سے ماورا ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ وہ کائنات کے اندر کسی بھی نقطے پر موجود نہیں ہے۔
جو ہستی سرے سے کہیں موجود ہی نہ ہو، اس کے اور ایک خاص مقام پر موجود مادی شے کے درمیان وہ کون سا پل یا رابطہ (Causal Nexus) ہے جس کے ذریعے خدا کا حکم اس مادے تک پہنچتا ہے؟
اور تیسرا، سب سے پیچیدہ فلسفیانہ حصار وقت (Time) سے متعلق ہے جسے بیسویں صدی کے معروف تجزیاتی فلسفیوں نیلسن پائیک اور انتھونی کینی نے بڑی تفصیل سے پیش کیا ہے۔
نیلسن پائیک اپنی کتاب میں یہ منطقی الجھن کھڑی کرتے ہیں کہ کسی بھی کام کرنے، تخلیق کرنے یا کسی انسان کی دعا کا جواب دینے کے لیے وقت کا ہونا شرط ہے، کیونکہ عمل کا مطلب ہے کہ پہلے ایک حالت تھی اور بعد میں دوسری حالت وجود میں آئی۔
پہلے اور بعد کا تصور صرف وقت کے اندر ممکن ہے۔
اگر خدا وقت سے ماورا اور مکمل طور پر غیر متغیر (Immutable and Timeless) ہے، تو وہ کسی خاص لمحے میں نیا عمل کیسے کر سکتا ہے؟
اگر وہ پیر کے دن زید کی دعا سن کر منگل کو اس کی حاجت پوری کرتا ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ خدا کے عمل میں پیر اور منگل کے درمیان تبدیلی آئی، اور جس میں تبدیلی آئے وہ وقت کے اندر قید ہو جاتا ہے، وقت سے ماورا نہیں رہتا؛ اور اگر اس میں کوئی تبدیلی نہیں آتی، تو پھر وہ ایک جامد، بے حس اور غیر فعال تصور بن کر رہ جاتا ہے جس کا زندہ انسانوں سے کوئی تعلق نہیں ہو سکتا۔
(Nelson Pike, God and Timelessness, Schocken Books, 1970, pp. 104–110; Anthony Kenny, The God of the Philosophers, Clarendon Press, 1979, pp. 38–48)
یہ ہے اس اعتراض کی وہ مکمل، فولادی اور علمی صورت جو جب کسی طالب علم کے سامنے آتی ہے تو اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے مذہب ایک بند گلی میں پھنس گیا ہے:
اگر خدا کو زمان و مکان کے اندر مانیں تو وہ مخلوق اور مادے کی طرح محتاج بن جاتا ہے، اور اگر اسے زمان و مکان سے ماورا مانیں تو کائنات سے اس کا ربط ٹوٹ جاتا ہے۔
لیکن کیا واقعی یہ کوئی ناقابلِ حل منطقی تضاد ہے، یا اس بظاہر خوفناک استدلال کی تہہ میں انسانی تخیل کے چند ایسے بنیادی مغالطے چھپے ہوئے ہیں جنہیں بے نقاب ہوتے ہی یہ پوری عمارت ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہے؟
جب ہم اس الحادی استدلال کا ٹھنڈے دل سے منطقی پوسٹ مارٹم شروع کرتے ہیں، تو سب سے پہلی حقیقت جو ہم پر آشکار ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ پورا اعتراض عقل (Reason) کی نہیں بلکہ وہم اور تخیل (Imagination) کی پیداوار ہے۔
اسلامی تاریخ کے عظیم متکلم اور فلسفی امام ابو حامد الغزالی اور امام فخر الدین رازی نے انسانی ادراک کی صلاحیتوں کا تجزیہ کرتے ہوئے عقل اور وہم کے درمیان ایک انتہائی لطیف اور فیصلہ کن فرق بیان کیا ہے۔
انسان کا وہم یا تخیل چوں کہ پیدائش سے لے کر موت تک صرف مادی، مکانی اور زمانی چیزوں کا مشاہدہ کرتا ہے، اس لیے وہ ہر حقیقت کو مادی تصویروں میں ڈھال کر دیکھنے کا عادی ہو جاتا ہے۔
جب کسی انسان کے سامنے یہ جملہ بولا جاتا ہے کہ خدا کائنات اور زمان و مکان سے ماورا (باہر) ہے، تو اس کا تخیل فوراً ایک مادی تصویر بناتا ہے۔
وہ فرض کر لیتا ہے کہ کائنات ایک بہت بڑے شیشے کے گولے یا ڈبے کی طرح ہے جس کے اندر وقت اور جگہ چل رہے ہیں، اور خدا اس ڈبے کے باہر کسی اور خالی جگہ میں بیٹھا ہوا ہے، اور ان دونوں کے درمیان ایک دیوار یا فاصلہ حائل ہے جسے پار کر کے خدا کو اندر ہاتھ ڈالنا پڑتا ہے۔
(Fakhr al-Din al-Razi, Asas al-Taqdis, Mu’assasat al-Kutub al-Thaqafiyyah, 1995, Part 1, pp. 58–64)
ذرا رک کر اس ذہنی تصویر پر غور کیجیے۔
جیسے ہی آپ نے یہ سوچا کہ خدا کائنات سے باہر کسی فاصلے پر ہے، آپ نے نادانستہ طور پر خدا کو دوبارہ مکان (Space) کے اندر قید کر دیا!
کیونکہ باہر ہونا، دور ہونا، یا درمیان میں کسی سرحد کا ہونا تو خود مکانی تصورات ہیں۔
دو چیزوں کے درمیان فاصلہ صرف تب ہوتا ہے جب وہ دونوں ایک ہی مکانی چادر کے دو مختلف نقطوں پر واقع ہوں۔ جب ہم کہتے ہیں کہ خدا زمان و مکان سے ماورا (Transcendent) ہے، تو اس کا مطلب جغرافیائی دوری نہیں ہوتا، بلکہ وجودی برتری (Ontological Superiority) ہوتا ہے۔
ماورا ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ہم سے کروڑوں نوری سال دور کسی خلا کے اس پار بیٹھا ہے جہاں سے اس کی آواز یا طاقت کو ہم تک پہنچنے کے لیے سفر کرنا پڑتا ہے؛ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس جہت اور پیمانے کی قید سے آزاد ہے جو چیزوں کو ایک دوسرے سے دور کرتا ہے۔
اس نکتے کو سمجھتے ہی منطق کی ایک حیرت انگیز حقیقت سامنے آتی ہے جو اس الحادی اعتراض کو جڑ سے پلٹ دیتی ہے۔
معترض یہ سمجھتا ہے کہ خدا کا زمان و مکان سے ماورا ہونا کائنات سے اس کی دوری اور لاتعلقی کا سبب ہے، حالانکہ فلسفیانہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے:
خدا کا زمان و مکان سے ماورا ہونا ہی اس بات کی واحد وجہ ہے کہ وہ کائنات کے ہر ذرے سے اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے!
آئیے اس بظاہر حیران کن دعوے کو خالص منطق اور طبیعیات کی روشنی میں پرکھتے ہیں۔
اگر خدا ایک مادی یا مکانی وجود ہوتا جو مکان کے اندر کسی ایک جگہ پر مقیم ہوتا، تو مادی قوانین کی رو سے جو چیز ایک خاص جگہ پر ہوتی ہے، وہ عین اسی وقت دوسری جگہوں سے غائب اور دور ہوتی ہے۔
اگر میں لاہور کے ایک کمرے میں بیٹھا ہوں، تو میرا اس خاص مکانی نقطے پر ہونا ہی مجھے کراچی، لندن اور مریخ سے دور کر دیتا ہے۔
حتیٰ کہ دو مادی ایٹم جب ایک دوسرے کے بالکل قریب آ کر جڑتے ہیں، تب بھی ان کے درمیان ایک مکانی حجاب اور فاصلہ رہتا ہے، کیونکہ جہاں پہلا ایٹم موجود ہے اس جگہ کے اندر دوسرا ایٹم حلول نہیں کر سکتا۔
گویا مکان یا جگہ (Space) ربط پیدا کرنے والا ذریعہ نہیں، بلکہ چیزوں کو ایک دوسرے سے جدا رکھنے اور ان کے درمیان فاصلہ ڈالنے والا پردہ ہے!
اب چوں کہ کائنات کا خالق جسم، مادے اور مکان کی قید سے ماورا ہے، اس لیے کوئی مکانی فاصلہ اسے کسی ذرے سے دور نہیں کر سکتا، اور کوئی مادی دیوار اس کے اور مخلوق کے درمیان حجاب نہیں بن سکتی۔
وہ مکان میں نہیں ہے، اسی لیے کائنات کا ہر مکان اس کے حضور میں ہے۔
اس گہرے فلسفیانہ تصور کو آج کا ایک نوجوان روزمرہ زندگی کی ایک انتہائی سادہ اور واضح تمثیل سے سمجھ سکتا ہے، جسے بیسویں صدی کی معروف برطانوی ادیبہ ڈورتھی سیئرز اور مفکر سی ایس لوئس نے اپنے فلسفیانہ مباحث میں استعمال کیا ہے۔
(Dorothy L. Sayers, The Mind of the Maker, Methuen & Co., 1941, Chap. 3, pp. 33–42; C. S. Lewis, Miracles: A Preliminary Study, Geoffrey Bles, 1947, Chap. 11, pp. 99–105)
فرض کیجیے کہ ولیم شیکسپیئر اپنے کمرے میں بیٹھا اپنا مشہورِ زمانہ ڈرامہ ہیملٹ لکھ رہا ہے۔
اس ڈرامے کے اندر ایک پوری کائنات آباد ہے؛ وہاں ڈنمارک کا شاہی محل ہے، وہاں کے کمرے، تلواریں، زہر کے پیالے، رات کی تاریکی اور صبح کا اجالا ہے، اور وہاں ڈرامے کا اپنا ایک اندرونی وقت اور اپنا ایک جغرافیائی مکان چل رہا ہے۔
اب اگر ڈرامے کے اندر موجود کردار ہیملٹ، جو اپنے محل کے ایک کمرے میں کھڑا ہے، یہ سوال اٹھائے کہ اگر شیکسپیئر نامی کوئی خالق موجود ہے تو وہ مجھے اس محل کے کسی کمرے، کسی تہہ خانے یا ڈنمارک کی کسی سڑک پر چلتا پھرتا نظر کیوں نہیں آتا؟
اور اگر شیکسپیئر ڈنمارک کے زمان و مکان سے باہر ہے، تو وہ میرے ہاتھ میں پکڑی ہوئی اس تلوار یا اس محل کے واقعات کے ساتھ تعلق کیسے رکھ سکتا ہے؟
ہر ذی شعور قاری ہیملٹ کے اس سوال پر مسکرا دے گا۔
ہم جانتے ہیں کہ شیکسپیئر ڈرامے کے کسی کمرے میں اس لیے نہیں مل سکتا کیونکہ وہ ڈرامے کا کوئی کردار یا ڈرامے کی دنیا کی کوئی مادی چیز نہیں ہے؛ وہ ڈرامے کے زمان و مکان سے مکمل طور پر ماورا ہے۔
لیکن کیا ڈرامے کے زمان و مکان سے ماورا ہونے کی وجہ سے شیکسپیئر اپنے لکھے ہوئے ڈرامے سے بے تعلق اور دور ہو گیا ہے؟
ہرگز نہیں!
حقیقت یہ ہے کہ ڈرامے کے اندر رہنے والا ہیملٹ تو اپنے محل کے صرف ایک کمرے تک محدود ہے اور اسے نہیں معلوم کہ اگلے کمرے میں کیا ہو رہا ہے یا کل کی قسط میں کیا ہوگا، لیکن شیکسپیئر چوں کہ اس ڈرامے کے زمان و مکان سے باہر اور بلند ہے، اس لیے ڈرامے کا پہلا صفحہ بھی، درمیانی صفحہ بھی اور آخری صفحہ بھی، اور محل کا ہر کونا اور ہر کردار کا باطن بیک وقت اور براہِ راست شیکسپیئر کے علم اور قدرت کے احاطے میں ہے!
ہیملٹ کو دوسرے کمرے میں رکھی ہوئی میز کو ہلانے کے لیے چل کر وہاں جانا پڑے گا اور اپنے ہاتھ سے اسے دھکیلنا پڑے گا، لیکن شیکسپیئر کو ڈرامے کے اندر طوفان لانے کے لیے خود کاغذ کے اندر گھس کر ہوا چلانے کی ضرورت نہیں، اس کے ذہن کا ایک ارادہ اور قلم کی ایک جنبش ڈرامے کے پورے مادی و مکانی منظرنامے کو بدل کر رکھ دیتی ہے۔
اس تمثیل کو اکیسویں صدی کے ڈیجیٹل دور کے نوجوان کے لیے کمپیوٹر سائنس اور ورچوئل رئیلٹی (Virtual Reality) کی زبان میں مزید نکھارا جا سکتا ہے۔
آج ایک سافٹ ویئر انجینئر اور گیم ڈویلپر کمپیوٹر کوڈ کے ذریعے ایک تھری ڈی ورچوئل کائنات تخلیق کرتا ہے۔
اس گیم کی کائنات کے اندر اپنی کششِ ثقل ہے، اپنے طبعی قوانین ہیں، وہاں کی گھڑیوں کا اپنا وقت ہے اور وہاں کی عمارتوں کے اپنے لمبائی، چوڑائی اور اونچائی کے ابعاد (Dimensions) ہیں۔
اب وہ پروگرامر جو اس ورچوئل دنیا کا خالق ہے، وہ خود پکسلز (Pixels) سے نہیں بنا ہوا، وہ اس گیم کے تھری ڈی نقشے کے اندر کسی ایکس، وائی، زیڈ کوآرڈینیٹ پر قید نہیں ہے، اور نہ ہی گیم کے اندر چلنے والی گھڑی کی سوئیاں اس پروگرامر کی عمر کو ناپ سکتی ہیں۔
وہ اس گیم کے زمان و مکان سے کلیتاً ماورا ہے۔
لیکن اس کے باوجود، اس گیم کا ایک ایک پکسل ہر لمحہ اپنے وجود اور اپنی بقا کے لیے اس پروگرامر کے کوڈ اور اس کے فراہم کردہ برقی بہاؤ کا محتاج ہے۔
پروگرامر کو گیم کے اندر کسی کردار کی مدد کرنے کے لیے خود گوشت پوست کا جسم لے کر مانیٹر کی سکرین توڑ کر اندر جانے کی ضرورت نہیں ہوتی؛ وہ اپنے ماورا مقام پر بیٹھے ہوئے ہی محض ایک کمانڈ یا ارادے سے اس ورچوئل کائنات کے کسی بھی حصے میں جو چاہے تغیر پیدا کر سکتا ہے۔
ان تمثیلات سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ کسی ہستی کا کسی نظام کے زمان و مکان سے ماورا ہونا اس نظام پر اثر انداز ہونے میں رکاوٹ نہیں بنتا، بلکہ اسے اس پورے نظام پر محیط اور حاوی کر دیتا ہے۔
اب ہم الحادی استدلال کے دوسرے بڑے ستون کی طرف آتے ہیں، اور وہ ہے یہ مفروضہ کہ کائنات میں کسی بھی اثر یا تعلق کے لیے مادی ٹکراؤ (Mechanical Contact) یا توانائی کی منتقلی ضروری ہے، جیسا کہ شہزادی الزبتھ اور جدید مادیت پرست فلسفیوں نے فرض کیا۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ جو ملحدین سائنس کے نام پر مذہب کو رد کرتے ہیں، وہ اس اعتراض کو اٹھاتے وقت سترہویں اور اٹھارہویں صدی کی اس فرسودہ میکانیکی طبیعیات میں جکڑے نظر آتے ہیں جسے خود جدید سائنس کب کا دفن کر چکی ہے۔
پرانے زمانے کے مادیت پرست یہ سمجھتے تھے کہ کائنات بلیئرڈ کی میز پر رکھی ہوئی گیندوں کی طرح ہے؛ ایک گیند تبھی ہلتی ہے جب دوسری مادی گیند آ کر اس سے جسمانی طور پر ٹکراتی ہے۔
لیکن طبیعیات کی تاریخ گواہ ہے کہ یہ سادہ لوح تصور آئزک نیوٹن کے دور ہی میں متزلزل ہونا شروع ہو گیا تھا، جب کششِ ثقل نے دکھایا کہ سورج کروڑوں میل کے خالی خلا کے باوجود زمین کو اپنے مدار میں کھینچے ہوئے ہے۔
بعد ازاں جب مائیکل فیراڈے اور جیمز کلارک میکسویل نے برقی مقناطیسی میدانوں (Electromagnetic Fields) کا تصور پیش کیا اور پھر بیسویں صدی میں البرٹ آئن سٹائن کی عمومی اضافیت (General Relativity) اور کوانٹم مکینکس (Quantum Mechanics) کا ظہور ہوا، تو مادے کا وہ ٹھوس اور میکانیکی تصور ہمیشہ کے لیے پاش پاش ہو گیا۔
آج کی کوانٹم فزکس ہمیں بتاتی ہے کہ ایٹم کی گہرائی میں جب ہم جھانکتے ہیں تو وہاں ٹھوس گیندیں نہیں ہیں، بلکہ امکانات کی لہریں (Wave Functions) اور ریاضیاتی قوانین کارفرما ہیں۔
اس سے بھی بڑھ کر، کوانٹم انٹینگلمنٹ (Quantum Entanglement) یا کوانٹم الجھاؤ کے مظہر نے، جسے جان بیل کے مشہور ریاضیاتی قضیے اور بعد ازاں الین اسپیکٹ کے تجربات نے حتمی طور پر ثابت کیا۔
(John S. Bell, "On the Einstein Podolsky Rosen Paradox”, Physics Physique Физика, Vol. 1, No. 3, 1964, pp. 195–200; Alain Aspect, Jean Dalibard, & Gérard Roger, "Experimental Test of Bell’s Inequalities Using Time-Varying Analyzers”, Physical Review Letters, Vol. 49, No. 25, 1982, pp. 1804–1807)
جس پر 2022ء میں طبیعیات کا نوبل انعام بھی دیا گیا، یہ ثابت کر دیا کہ دو ذرات اگر ایک بار باہم مربوط ہو جائیں تو انہیں کائنات کے دو الگ الگ کناروں پر اربوں نوری سال کے فاصلے پر بھی رکھ دیا جائے، تب بھی ایک ذرے کی حالت میں ہونے والی تبدیلی عین اسی لمحے، بغیر کسی وقت کے ضیاع کے اور بغیر درمیان کے مکانی فاصلے میں کسی مادی سگنل کے سفر کیے، دوسرے ذرے کی حالت کو متعین کر دیتی ہے۔
طبیعیات دان اسے غیر مقامی تاثیر (Non-locality) کہتے ہیں۔
یعنی خود طبعی کائنات کے اندر ایسے تعلقات اور اثرات موجود ہیں جو مکانی فاصلے اور مادی ٹکراؤ کے محتاج نہیں ہیں!
بات صرف یہیں ختم نہیں ہوتی۔
اکیسویں صدی کی نظریاتی طبیعیات (Theoretical Physics) اور کوانٹم گریویٹی کی جدید ترین تحقیقات نے تو مادیت پرستوں کے پیروں تلے سے زمین ہی کھینچ لی ہے۔
آج دنیا کے صفِ اول کے طبیعیات دان یہ کہہ رہے ہیں کہ زمان و مکان (Spacetime) کائنات کی بنیادی حقیقت نہیں ہیں، بلکہ زمان و مکان خود ایک ظہوری حقیقت (Emergent Phenomenon) ہیں جو ایک ایسی گہری حقیقت سے پھوٹتے ہیں جو بذاتِ خود زمان و مکان سے ماورا ہے!
پرنسٹن کے انسٹی ٹیوٹ فار ایڈوانسڈ اسٹڈی کے معروف طبیعیات دان ہوان مالڈاسینا نے 1997ء میں ہولوگرافک اصول (AdS/CFT Correspondence) پیش کیا جس نے دکھایا کہ تین مکانی ابعاد اور کششِ ثقل پر مشتمل ایک پوری کائنات درحقیقت ایک ایسی نچلی سطح کی معلومات کا عکس ہو سکتی ہے جہاں کششِ ثقل اور وہ مکانی جہت سرے سے موجود ہی نہیں۔
(Juan Maldacena, "The Large N Limit of Superconformal Field Theories and Supergravity”, Advances in Theoretical and Mathematical Physics, Vol. 2, 1998, pp. 231–252)
اسی ادارے کے ایک اور نامور طبیعیات دان ناتھن سیبرگ نے اپنے تحقیقی مقالے میں واضح الفاظ میں لکھا ہے کہ جدید طبیعیات کے تمام شواہد اس طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ جگہ اور وقت بنیادی نہیں ہیں بلکہ کسی غیر مکانی اور غیر زمانی حقیقت سے نمودار ہوتے ہیں۔
(Nathan Seiberg, "Emergent Spacetime”, in The Quantum Structure of Space and Time: Proceedings of the 23rd Solvay Conference on Physics, World Scientific, 2007, pp. 163–178, arXiv:hep-th/0601234)
مزید برآں، 2013ء اور 2014ء میں طبیعیات دان نیما ارکانی حامد اور ان کے رفقاء نے ذرات کے ٹکراؤ کا حساب لگانے کے لیے ایمپلی ٹوہیڈرون (Amplituhedron) نامی ایک ایسا ہندسی ڈھانچہ دریافت کیا جو زمان و مکان اور کوانٹم مکینکس کی روایتی حدود سے مکمل طور پر باہر ہے، لیکن اس سے زمان و مکان کے اندر ہونے والے واقعات کے نتائج بالکل درست برآمد ہوتے ہیں۔
(Nima Arkani-Hamed & Jaroslav Trnka, "The Amplituhedron”, Journal of High Energy Physics, Vol. 2014, No. 10, Article 30, 2014)
اب ذرا ایک لمحے کے لیے ٹھہر کر اس سائنسی انقلاب کے فلسفیانہ مضمرات پر غور کیجیے۔
جب جدید ترین طبیعیات خود اپنے مساواتی اور مشاہداتی سفر کے نتیجے میں اس دہلیز پر آ کھڑی ہوئی ہے کہ یہ مادی زمان و مکان اپنی بقا کے لیے ایک ایسی حقیقت کے محتاج ہیں جو خود زمان و مکان سے ماورا (Non-spatiotemporal) ہے، تو پھر ایک ملحد فلسفی کس منہ سے یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ جو چیز زمان و مکان سے ماورا ہو اس کا زمان و مکان کی کائنات کے ساتھ کوئی تعلق ممکن نہیں؟
اگر غیر مکانی اور غیر زمانی ریاضیاتی اطلاعات سے زمان و مکان کا پورا کارخانہ وجود میں آ سکتا ہے، تو ایک غیر مکانی اور غیر زمانی علیم و قدیر خالق کے ارادے سے زمان و مکان کی تخلیق اور تدبیر کو ناممکن قرار دینا کون سی عقل مندی ہے؟
یہاں ہمیں خود طبیعیات کے قوانین کی نوعیت پر بھی ایک بنیادی سوال اٹھانا چاہیے۔
ملحدین بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ کائنات کو قوانینِ فزکس (Laws of Physics) چلا رہے ہیں۔
لیکن اگر ان سے پوچھا جائے کہ کیا کششِ ثقل کا قانون یا کوانٹم مکینکس کی شروڈنگر مساوات (Schrödinger Equation) خود کوئی مادی چیز ہے؟
کیا فزکس کے قانون کا کوئی وزن، کوئی رنگ، کوئی جسامت ہے؟
کیا فزکس کا قانون کائنات کے کسی خاص کونے میں بیٹھا ہوا ہے؟
ہرگز نہیں!
قوانینِ طبیعیات اور ریاضی کے اصول غیر مادی ہیں، وہ کسی ایک جگہ پر قید نہیں ہیں اور نہ ہی وقت گزرنے کے ساتھ بوڑھے ہوتے ہیں، لیکن اس کے باوجود پوری مادی کائنات کا ذرہ ذرہ ان غیر مادی قوانین کی گرفت میں ہے اور انہی کے مطابق حرکت کر رہا ہے۔
اگر ایک ملحد یہ مان لیتا ہے کہ ایک غیر مادی، غیر مکانی اور غیر زمانی ریاضیاتی قانون مادی ایٹموں پر حکم چلا سکتا ہے، تو اسے ایک غیر مادی، غیر مکانی اور غیر زمانی خالق کے کائنات پر حکم چلانے پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟
خاص طور پر جب کہ بے جان ریاضیاتی مساواتوں میں خود تو کوئی ارادہ یا عمل کی طاقت (Causal Agency) نہیں ہوتی؛ وہ قوانین تو دراصل اسی خالق کے ارادے کا مستقل پیٹرن ہیں جسے قرآن کی زبان میں سنتِ الٰہیہ کہا جاتا ہے۔
اس مقام پر خود انسانی شعور (Consciousness) کی گواہی الحاد کے خلاف ایک ایسی حجت بن کر کھڑی ہو جاتی ہے جس سے فرار ممکن نہیں۔
آکسفورڈ کے ممتاز سائنس دان سر راجر پینروز، فلسفی ڈیوڈ چالمرز اور تھامس نیگل جیسے غیر مذہبی مفکرین بھی اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ انسانی شعور، معنی، منطق اور ارادے کو محض گوشت کے لوتھڑے میں ہونے والے کیمیائی تعاملات تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔
(David J. Chalmers, The Conscious Mind: In Search of a Fundamental Theory, Oxford University Press, 1996, pp. 3–11; Thomas Nagel, Mind and Cosmos: Why the Materialist Neo-Darwinian Conception of Nature Is Almost Certainly False, Oxford University Press, 2012, pp. 35–45)
جب ایک ملحد سوشل میڈیا پر بیٹھ کر یہ پوسٹ لکھتا ہے کہ غیر مادی چیز مادی چیز کو حرکت نہیں دے سکتی، تو ذرا دیکھیے کہ اس وقت کیا ہو رہا ہوتا ہے!
اس ملحد کے ذہن میں ایک منطقی دلیل، ایک معنی (Meaning) اور ایک مقصد موجود ہے۔
منطق کا کوئی اصول یا کسی جملے کا مفہوم کوئی مادی چیز نہیں ہے؛
آپ کسی دلیل کو ترازو میں تول کر نہیں بتا سکتے کہ اس دلیل کا وزن پچاس گرام ہے یا اس خیال کی لمبائی دو انچ ہے۔
لیکن یہی غیر مادی اور غیر مکانی خیال اس ملحد کے دماغ کے نیورونز کو متحرک کرتا ہے، جس سے اس کی انگلیاں کی بورڈ کے مادی بٹنوں کو دباتی ہیں اور سکرین پر حروف ابھرتے ہیں!
نوبل انعام یافتہ ماہرِ اعصاب سر جان ایکلس اور عظیم فلسفیِ سائنس کارل پوپر نے اپنی مشترکہ تحقیقی کتاب میں اسی حقیقت کو بنیاد بنا کر ثابت کیا تھا کہ غیر مادی ذہن اور خیالات کی دنیا مسلسل مادی دماغ کے ساتھ تعامل کرتی ہے۔
(Karl R. Popper & John C. Eccles, The Self and Its Brain: An Argument for Interactionism, Springer-Verlag, 1977, Part I & II, pp. 36–50, 355–376)
اب اس منطقی ستم ظریفی کو دیکھیے:
اگر ملحد کا یہ دعویٰ سچ ہے کہ غیر مادی اور ماورا حقیقت مادی دنیا پر اثر انداز نہیں ہو سکتی، تو پھر اس ملحد کے اپنے ذہن کے غیر مادی خیالات اور منطقی تصورات نے اس کی مادی انگلیوں سے وہ تحریر نہیں لکھوائی، بلکہ اس کی تحریر محض ایٹموں کی اندھی اور بے معنی ٹکر کا نتیجہ ہے؛
اور اگر اس کی تحریر منطق کے بجائے اندھے کیمیائی تعاملات کا نتیجہ ہے، تو پھر اس کی اپنی دلیل کی کوئی عقلی حیثیت باقی نہیں رہتی!
گویا وہ جس شاخ پر بیٹھا ہے، اپنے ہی ہاتھوں سے اسی شاخ کو کاٹ رہا ہے۔
یہاں اب اس سائنسی اشکال کا ازالہ بھی کر لیا جائے جو بقائے توانائی کے قانون (Conservation of Energy) اور کائنات کے بند نظام ہونے کے حوالے سے اٹھایا گیا تھا۔
عصرِ حاضر کے عظیم ترین تجزیاتی فلسفی الون پلانٹنگا نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف میں اس اعتراض کی قلعی کھولتے ہوئے واضح کیا ہے کہ طبیعیات کا بقائے توانائی کا قانون یہ نہیں کہتا کہ کائنات لازماً ایک بند نظام ہے جس میں کوئی مداخلت نہیں ہو سکتی؛ بلکہ طبیعیات کا قانون ایک مشروط جملہ ہے جو صرف اتنا کہتا ہے کہ: اگر کوئی نظام بیرونی اثرات سے بند اور الگ تھلگ (Causally Isolated System) ہو، تو اس میں توانائی کی مقدار مستقل رہتی ہے۔
(Alvin Plantinga, Where the Conflict Really Lies: Science, Religion, and Naturalism, Oxford University Press, 2011, Chap. 3, pp. 78–84)
یہ کہنا کہ کائنات اپنے خالق کے ارادے سے بھی بند ہے، سائنس کا قانون نہیں بلکہ الحاد کا بے بنیاد فلسفیانہ عقیدہ ہے!
اگر ایک کمرے میں دس بلبلے رکھے ہوں تو جب تک کمرہ بند ہے ان کی تعداد دس رہے گی، لیکن یہ اصول کمرے کے مالک کے ہاتھ بٹنھ نہیں دیتا کہ وہ دروازہ کھول کر گیارہواں بلبلہ اندر نہ رکھ سکے۔
مزید برآں، اسلامی علم الکلام کی رو سے کائنات کی کل توانائی کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو خدا سے آزاد اپنی ذات سے قائم ہو؛ بلکہ کائنات کے ہر ذرے اور ہر توانائی کی لہر کو ہر لمحہ وجود میں برقرار رکھنے والی طاقت ہی خدا کی صفتِ قیومیت ہے، اس لیے وہاں کسی بیرونی مکینک کی طرح توانائی کا ٹیکہ لگانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
اب ہم اس بحث کے سب سے لطیف، گہرے اور نازک فلسفیانہ مرحلے میں داخل ہوتے ہیں، اور وہ ہے زمانے (Time) اور ابدیت (Eternity) کے مابین تعلق کا مسئلہ۔
معترض کا سوال بڑا واضح تھا: اگر خدا ازلی، ابدی اور وقت سے ماورا ہے، تو اس کے ارادے سے ایک ایسی کائنات کیسے وجود میں آ سکتی ہے جو وقت کے اندر ہے اور جس کی ایک ابتدا ہے؟
اور وہ وقت کے اندر ہونے والی تبدیلیوں، واقعات اور دعاؤں کے ساتھ تعلق کیسے رکھتا ہے جب کہ اس کی اپنی ذات میں کوئی زمانی تبدیلی واقع نہیں ہوتی؟
یہ بعینہٖ وہی سوال ہے جو آج سے تقریباً ایک ہزار سال قبل یونانی فلسفے سے متاثر فلاسفہ (جیسے فارابی اور ابن سینا) نے اٹھایا تھا، اور جس کا دندان شکن اور تاریخ ساز جواب حجۃ الاسلام امام غزالی نے اپنی شہرہ آفاق کتاب تہافت الفلاسفہ کے پہلے ہی مسئلے میں دیا تھا۔
قدیم فلاسفہ کا کہنا تھا کہ اگر خدا قدیم اور ازلی ہے اور اس کی ذات میں کوئی تبدیلی نہیں آتی، تو یا تو کائنات بھی ازل سے اس کے ساتھ موجود ہونی چاہیے (کیونکہ جب علت موجود ہو تو معلول میں تاخیر نہیں ہو سکتی)، یا پھر اگر خدا نے کسی خاص لمحے میں کائنات بنائی تو اس کا مطلب ہے کہ کائنات بنانے سے پہلے خدا میں کوئی نیا ارادہ، کوئی نئی خواہش یا کوئی تبدیلی پیدا ہوئی جس نے اسے تخلیق پر آمادہ کیا، اور اگر خدا میں تبدیلی پیدا ہوئی تو خدا خود وقت اور تغیر کا شکار ہو گیا!
امام غزالی نے اس بظاہر ناقابلِ شکست منطق کا تجزیہ کرتے ہوئے فلسفے کی تاریخ میں ایک عظیم الشان دریافت پیش کی۔
انہوں نے واضح کیا کہ فلاسفہ نے علتِ طبعیہ (Natural/Mechanical Cause) اور علتِ ارادیہ (Volitional/Personal Cause) کو آپس میں خلط ملط کر دیا ہے۔
بے جان اور طبعی علت کا خاصہ یہ ہوتا ہے کہ جیسے ہی وہ موجود ہو، اس کا اثر فوراً اور مجبوراً ظاہر ہو جاتا ہے؛ جیسے آگ جب کپاس کو چھوتی ہے تو اس کے پاس کوئی اختیار نہیں ہوتا کہ وہ دس منٹ بعد جلائے، وہ فوراً جلا دیتی ہے۔
لیکن ایک زندہ اور صاحبِ ارادہ ہستی کی صفت یہ ہوتی ہے کہ وہ ارادہِ قدیمہ (Eternal Will) رکھتی ہے۔
امام غزالی سمجھاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارادہ ازلی ہے، لیکن ایک ازلی اور غیر زمانی ارادہ ازل ہی میں یہ طے کر سکتا ہے کہ فلاں شے فلاں وقت پر وجود میں آئے گی اور فلاں واقعہ فلاں لمحے میں رونما ہوگا!
اس صورت میں جب وہ وقت آتا ہے اور وہ چیز وجود میں آتی ہے، تو تبدیلی خدا کی ذات یا اس کے ارادے میں نہیں آتی، بلکہ تبدیلی مخلوق اور واقعے میں آتی ہے جو عدم سے وجود میں آتا ہے، جب کہ خدا کا ارادہ ازل سے ابد تک ایک ہی شان پر قائم رہتا ہے۔
(Abu Hamid al-Ghazali, Tahafut al-Falasifa [The Incoherence of the Philosophers], translated by Michael E. Marmura, Brigham Young University Press, 2000, First Discussion, pp. 14–27)
امام غزالی کے اس نکتے کو تیرہویں صدی کے عظیم مسیحی متکلم تھامس ایکویناس نے بھی اپنی تصانیف میں اپنایا اور اسے ایک انتہائی جامع جملے میں سمو دیا۔
ایکویناس نے لکھا کہ تبدیلی کا ارادہ کرنے (Willing a change) اور ارادے کے تبدیل ہونے (Changing one’s will) میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔
(Thomas Aquinas, Summa Contra Gentiles, translated by James F. Anderson, University of Notre Dame Press, 1975, Book II, Chap. 35, pp. 103–106; Summa Theologiae, Part I, Question 19, Article 7)
اسے ایک روزمرہ کی مثال سے سمجھیے۔
فرض کیجیے کہ ایک ماہر طبیب اپنے مریض کے لیے ایک ہی نشست میں، ایک ہی وقت میں پورے ہفتے کا ایک جامع نسخہ لکھ کر دے دیتا ہے کہ تم نے پیر کو صبح نیلی گولی کھانی ہے، منگل کو دوپہر کو سرخ دوا پینی ہے، اور بدھ کو پٹی تبدیل کرنی ہے۔
اب پیر، منگل اور بدھ کو مریض کی حالت اور اس کے اعمال میں مسلسل تبدیلی آ رہی ہے، ہر روز ایک نیا واقعہ رونما ہو رہا ہے، لیکن کیا منگل کے دن جب مریض نے نیلی گولی چھوڑ کر سرخ دوا پی، تو اس وقت طبیب کے ذہن یا اس کے ارادے میں کوئی نیا بدلاؤ آیا؟
ہرگز نہیں!
طبیب نے تو اپنے ایک ہی، واحد اور جامع ارادے میں ان تمام زمانی مراحل اور ان کی ترتیب کو پہلے ہی سمو دیا تھا۔
اسی طرح کائنات کا خالق اپنے ازلی، لا زمانی اور محیط ارادے کے ایک ہی حکمِ کُن کے ذریعے وقت کے آغاز سے لے کر قیامت تک کے تمام زمانی واقعات، ان کی ترتیب اور ان کے اسباب و علل کو وجود عطا فرماتا ہے۔
وقت کے لمحات ہمارے لیے ایک کے بعد ایک گزرتے ہیں، لیکن خالق کے ارادے میں کوئی کل اور آج کا تغیر پیدا نہیں ہوتا۔
بیسویں صدی کے آخر میں فلسفۂ مذہب میں اس مسئلے پر مزید گہرا کام ہوا جب نامور فلسفیوں ایلینور اسٹمپ اور نارمن کریٹزمین نے 1981ء میں اپنا شہرہ آفاق تحقیقی مقالہ شائع کیا جس میں انہوں نے ابدی اور زمانی ہم عصریت (ET-Simultaneity) کا نظریہ پیش کیا۔
(Eleonore Stump & Norman Kretzmann, "Eternity”, The Journal of Philosophy, Vol. 78, No. 8, 1981, pp. 429–458; see also Brian Leftow, Time and Eternity, Cornell University Press, 1991, Chap. 10)
انہوں نے آئن سٹائن کے نظریہِ اضافیت سے مدد لیتے ہوئے سمجھایا کہ جس طرح طبیعیات میں وقت کوئی مطلق شے نہیں بلکہ مشاہدہ کرنے والے کے فریم آف ریفرنس کے لحاظ سے بدلتا ہے، بالکل اسی طرح وقت کے اندر رہنے والی مخلوق کا فریم آف ریفرنس زمانی ہے، جب کہ وقت سے ماورا خالق کا فریم آف ریفرنس ابدی (Eternal Present) ہے۔
اسے سادہ ترین الفاظ میں سمجھنے کے لیے ایک دائرے اور اس کے مرکز کی قدیم و جمیل فلسفیانہ تمثیل کو دیکھیے جسے بوئیتھیس اور مسلم حکماء نے استعمال کیا ہے۔
تصور کیجیے کہ ایک بہت بڑا دائرہ ہے جس کی بیرونی لکیر (طواف گاہ) پر ایک چیونٹی چل رہی ہے۔
اس چیونٹی کے لیے دائرے کا ہر نقطہ ایک الگ وقت ہے؛ جہاں وہ پیچھے سے گزر آئی وہ اس کا ماضی ہے، جہاں وہ اس وقت کھڑی ہے وہ اس کا حال ہے، اور جو نقطہ ابھی آگے آنا ہے وہ اس کا مستقبل ہے۔
اس چیونٹی کے لیے ماضی، حال اور مستقبل کبھی ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔
لیکن اب ذرا اس دائرے کے بالکل بیچوں بیچ موجود نقطہِ مرکز (Center Point) کو دیکھیے۔
وہ نقطہِ مرکز خود دائرے کی لکیر کا حصہ نہیں ہے اور نہ ہی وہ لکیر پر چل رہا ہے، لیکن اپنے مرکزی اور ماورا مقام کی بدولت دائرے کے محیط کا ہر نقطہ، چاہے وہ چیونٹی کا ماضی ہو، حال ہو یا مستقبل، اس مرکز سے بالکل مساوی فاصلے پر اور بیک وقت اس کے بالکل سامنے موجود ہے!
مرکز کو دائرے کے کسی نقطے سے جڑنے کے لیے خود اپنی جگہ چھوڑ کر لکیر پر دوڑنے کی ضرورت نہیں؛ وہ اپنے ثبات اور ماورائیت ہی کی وجہ سے بیک وقت ہر نقطے کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
اللہ رب العزت کی ذاتِ گرامی (وللہ المثل الاعلیٰ) زمانے کی اس لکیر کے اندر قید کوئی مسافر نہیں ہے، بلکہ وقت کی پوری پٹی، ازل سے ابد تک، اس کے ابدی حال کے حضور بیک وقت کھلی ہوئی ہے۔
یہاں ایک ذہین قاری کے ذہن میں فوراً دعا اور مناجات کا سوال ابھرتا ہے۔
وہ پوچھتا ہے کہ اگر خدا زمانے سے ماورا ہے اور اس کا ارادہ ازلی ہے، تو جب میں آج رات تین بجے اٹھ کر روتے ہوئے اپنے رب سے دعا مانگتا ہوں کہ اے اللہ میری فلاں مشکل آسان کر دے، تو میری اس زمانی دعا کا اس لا زمانی خالق پر کیا اثر پڑتا ہے؟
کیا میری دعا بے فائدہ نہیں ہو جاتی؟
اس اشکال کا جواب بھی اسی دائرے کے مرکز اور ابدی حال کے تصور میں چمک رہا ہے۔
چوں کہ آپ کا آج رات تین بجے ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا خدا کے لیے کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کا وہ انتظار کر رہا تھا کہ کب رات کے تین بجیں اور کب اسے پتا چلے؛ بلکہ آپ کا آج رات تین بجے اپنے آزاد ارادے سے دعا مانگنا ازل ہی سے اس کی نگاہِ ابدیت کے عین سامنے موجود ہے!
چنانچہ خالقِ کائنات نے اپنے ازلی اور لا زمانی ارادے ہی میں آپ کی اس زمانی دعا کو سن کر، اسی دعا کو سبب بناتے ہوئے، ازل ہی میں یہ فیصلہ صادر فرما دیا تھا کہ چوں کہ میرا بندہ فلاں لمحے میں مجھ سے مانگے گا، اس لیے میں اس کی اس دعا کے جواب میں فلاں لمحے میں اس کی مشکل کشائی کا سامان پیدا کر دوں گا۔
غور کیجیے کہ کتنی خوبصورت اور بے عیب ہم آہنگی ہے!
آپ کی دعا وقت کے اندر ہوئی، اس دعا کی قبولیت کا ظہور بھی وقت کے اندر ہوا، آپ کی دعا واقعی آپ کی مشکل حل ہونے کا حقیقی سبب بنی (یعنی اگر آپ دعا نہ کرتے تو ازلی علم میں آپ کا دعا نہ کرنا ہوتا اور نتیجہ مختلف ہوتا)، اور اس پورے عمل میں خدا کی لا زمانیت اور اس کے کمالِ بے نیازی پر کوئی آنچ بھی نہیں آئی!
جب ہم مغربی فلسفے کی ان پیچیدہ بحثوں سے گزر کر اسلامی علمی و کلامی روایت اور قرآنِ حکیم کے بیان کردہ تصورِ خدا کی طرف آتے ہیں، تو دل بے ساختہ پکار اٹھتا ہے کہ جس مقام پر پہنچنے کے لیے انسانی فلسفے کو ہزاروں سال کی ٹھوکریں کھانا پڑیں، وحیِ الٰہی نے اس حقیقت کو چند کلمات میں کس قدر اعجازی بلاغت کے ساتھ بیان فرما دیا تھا۔
انسانی تاریخ میں خدا اور کائنات کے تعلق کو سمجھنے میں ہمیشہ دو انتہائیں رہی ہیں۔
ایک طرف ارسطو کا فلسفہ اور اٹھارہویں صدی کی مغربی ڈی ازم (Deism) تھی، جس نے خدا کی ماورائیت (Transcendence) کو تو مانا لیکن اسے کائنات سے اتنا الگ کر دیا کہ خدا محض ایک ایسا گھڑی ساز بن کر رہ گیا جس نے ایک بار کائنات کو دھکا دے کر چھوڑ دیا اور اب اسے دنیا کی خبروں، انسانوں کے دکھ درد اور کائنات کی تدبیر سے کوئی سروکار نہیں۔
دوسری انتہا ہمہ اوست یا حلول و اتحاد (Pantheism) کی تھی، جیسا کہ اسپینوزا اور بعض قدیم مشرقی فلسفوں نے اختیار کیا، جنہوں نے خدا اور کائنات کا ربط جوڑنے کے چکر میں خدا کی ماورائیت ہی کا انکار کر دیا اور کائنات ہی کو خدا یا خدا کا جسم قرار دے دیا۔
اسلام نے ان دونوں افراط و تفریط کو رد کر کے تنزیہ (پاک اور ماورا ہونے) اور قرب و احاطہ (ہر شے کے ساتھ ہونے اور اسے تھامے رکھنے) کا ایک ایسا عدیم النظیر امتزاج پیش کیا جس کی کوئی مثال انسانی فکر کی تاریخ میں نہیں ملتی۔
قرآنِ مجید کی سورۃ الشوریٰ کی آیت نمبر 11 کےصرف چھ الفاظ پر غور کیجیے:
(اس جیسی کوئی چیز نہیں ہے، اور وہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے) (القرآن، سورۃ الشوریٰ 42: 11)۔
اس ایک چھوٹی سی آیت کے دو حصے ہیں اور ان دونوں کی ترتیب میں علم الکلام کا پورا سمندر بند کر دیا گیا ہے۔
پہلا حصہ «لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ» اعلان کرتا ہے کہ اللہ کی ذات، صفات اور حقیقت کائنات کی کسی بھی مادی، مکانی، زمانی یا تخیلاتی شے کے مشابہ نہیں ہے؛ وہ زمان و مکان، جسم، حدود اور ابعاد سے کلیتاً ماورا ہے۔
اگر آیت یہاں ختم ہو جاتی تو انسان یہ گمان کر بیٹھتا کہ اتنی ماورا ہستی سے ہمارا کیا ربط ہو سکتا ہے؟
چنانچہ فوراً اسی سانس میں دوسرا حصہ فرمایا: «وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ» کہ اپنی اس کامل ماورائیت کے باوجود وہ تمہاری ہر آہ کو سنتا بھی ہے اور کائنات کے ہر ذرے کو دیکھتا بھی ہے!
اسی طرح سورۃ الحدید کی ابتدائی آیات میں اس فلسفیانہ عقدے کو یوں کھولا گیا:
(وہی اول ہے اور وہی آخر، اور وہی ظاہر ہے اور وہی باطن، اور وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے… اور وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں کہیں بھی تم ہو، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے) (القرآن، سورۃ الحدید 57: 3–4)۔
اور سورۃ ق میں انسان کے ساتھ خالق کے تعلق کی نزاکت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
(اور بلاشبہ ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور ہم جانتے ہیں جو وسوسے اس کا دل اس میں ڈالتا ہے، اور ہم اس سے اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں) (القرآن، سورۃ ق 50: 16)۔
اور پھر سورۃ الانعام میں بصارتوں کے ادراک سے ماورا ہونے کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:
(نگاہیں اس کا احاطہ نہیں کر سکتیں اور وہ تمام نگاہوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اور وہی نہایت لطیف اور باخبر ہے) (القرآن، سورۃ الانعام 6: 103)۔
اسلامی تاریخ کے جلیل القدر مفسر اور فلسفی امام فخر الدین رازی نے اپنی عظیم الشان تفسیر مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر) میں ان آیات کی شرح کرتے ہوئے وہ دقیق عقلی دلائل رقم کیے ہیں جو آج بھی جدید ترین فلسفیانہ اشکالات کے لیے حرفِ آخر کی حیثیت رکھتے ہیں۔
امام رازی سورۃ ق کی آیت «وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ» اور سورۃ الانعام میں لفظ «اللَّطِيفُ» کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ انسان کی شہ رگ اس کے اپنے جسم کا حصہ ہے، لیکن پھر بھی شہ رگ کے ایک ذرے اور دوسرے ذرے کے درمیان مکانی حجاب حائل ہوتا ہے؛ شہ رگ کا بیرونی حصہ اس کے اندرونی حصے سے بے خبر اور جدا ہے کیونکہ ہر مادی جسم اپنی مقدار اور مکانی حدود میں قید ہوتا ہے۔
لیکن باری تعالیٰ چوں کہ جسم، جوہر، عرض اور مکان کی قید سے پاک اور لطیفِ مطلق ہے، اس لیے اس کا قرب مسافت (فٹ یا انچ کے فاصلے) کا قرب نہیں ہے، بلکہ وہ ہستی اور وجود بخشنے، علم اور قدرت کے کامل احاطے کا قرب ہے۔
چوں کہ انسان کے جسم کے ہر ذرے اور اس کے دل کے ہر خیال کو عدم سے وجود میں لانے والا اور ہر لمحہ قائم رکھنے والا براہِ راست اللہ کا ارادہ ہے، اس لیے اللہ کی قدرت اور علم کا تعلق انسان کے ہر ذرے کی حقیقت سے اس ذرے کے پڑوسی ذرے سے بھی کہیں زیادہ گہرا اور بلا واسطہ ہے!
(Fakhr al-Din al-Razi, Mafatih al-Ghayb [Al-Tafsir al-Kabir], Dar Ihya al-Turath al-Arabi, 1999, Vol. 28, p. 129 & Vol. 29, pp. 445–448; Vol. 13, pp. 102–106)
اس مقام پر اسلامی علم الکلام کا سب سے کلیدی تصور ہمارے سامنے آتا ہے جو اس پوری بحث کی روح ہے، اور وہ ہے تصورِ قیومیت (Divine Sustenance / Continuous Creation)۔
الحادی اعتراض کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ وہ کائنات اور خدا کو دو ایسے الگ الگ خود مختار وجود فرض کر لیتا ہے جو اپنے اپنے پیروں پر کھڑے ہیں، اور پھر پوچھتا ہے کہ یہ پہلا وجود دوسرے وجود سے رابطہ کیسے کرتا ہے؟
یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی یہ فرض کر لے کہ ایک معمار نے اینٹوں اور سیمنٹ سے ایک گھر بنا دیا؛ اب اگر وہ معمار مر بھی جائے یا دوسرے ملک چلا جائے، تب بھی وہ گھر اپنی جگہ کھڑا رہے گا کیونکہ اینٹوں کا وجود معمار کا محتاج نہیں رہا، معمار نے تو صرف انہیں جوڑا تھا۔
فلسفے کی زبان میں معمار کو علتِ مُحدِثہ (Originating Cause) کہتے ہیں، لیکن وہ گھر کی بقا کی علت (Sustaining Cause / علتِ مُبقیہ) نہیں ہوتا۔ ملحدین اور ڈی ازم کے قائلین کائنات کو بھی ایسی ہی ایک عمارت سمجھتے ہیں جو ایک بار بن جانے کے بعد اب خود بخود قائم ہے، اور اب خدا کو اس میں مداخلت کرنے کے لیے باہر سے اندر آنا پڑتا ہے۔
جب کہ اسلامی تصورِ کائنات، جسے اشعری اور ماتریدی متکلمین مثلاً امام الحرمین الجوینی نے اپنی کتاب الارشاد میں، امام غزالی نے الاقتصاد فی الاعتقاد میں، اور علامہ سعد الدین تفتازانی نے شرح العقائد النسفیہ میں مدلل کیا ہے، اور جسے حکمائے اسلام نے اپنے انداز میں نکھارا ہے، یہ بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کائنات کے لیے صرف معمار کی طرح علتِ محدثہ نہیں ہے، بلکہ وہ الحی القیوم (زندہ اور ہر شے کو تھامے رکھنے والا) ہے
(Imam al-Haramayn al-Juwayni, Kitab al-Irshad ila Qawati’ al-Adilla fi Usul al-I’tiqad, Maktabat al-Khanji, 1950, pp. 17–27; Abu Hamid al-Ghazali, Al-Iqtisad fi al-I’tiqad, Dar Qutaybah, 2003, pp. 35–48)
کائنات اپنی ذات میں ممکن الوجود اور محتاجِ محض ہے؛ اس کے پاس وجود کی کوئی ذاتی ملکیت (Existential Inertia) نہیں ہے کہ وہ ایک سیکنڈ کے کروڑویں حصے (Planck Time) کے لیے بھی خدا کے تھامے بغیر خود بخود قائم رہ سکے!
کائنات کی مثال معمار اور عمارت کی نہیں، بلکہ سورج اور دھوپ کی، یا بجلی کے کرنٹ اور بلب کی روشنی کی، یا انسانی ذہن اور اس کے اندر ابھرنے والی خیالی تصویر کی ہے۔
جب تک آپ کے ذہن کا ارادہ اس تصویر کو سوچ رہا ہے، وہ تصویر قائم ہے؛ جس لمحے آپ کے ذہن نے توجہ ہٹائی، اس تصویر کو مٹانے کے لیے کسی ہتھوڑے کی ضرورت نہیں پڑے گی، وہ فوراً عدم میں چلی جائے گی۔
قرآنِ مجید نے کائنات کی اس لمحہ بہ لمحہ احتیاج کو سورۃ فاطر کی آیت 41 میں اس قدر واضح الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ کسی شک کی گنجائش ہی نہیں رہتی:
(بیشک اللہ ہی آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ وہ ٹل نہ جائیں، اور اگر وہ ٹل جائیں تو اللہ کے بعد کوئی بھی انہیں تھامنے والا نہیں ہے) (القرآن، سورۃ فاطر 35: 41)۔
(آسمانوں اور زمین میں جو کوئی بھی ہے سب اسی کے محتاج ہیں اور اسی سے مانگتے ہیں، ہر آن وہ ایک نئی شان میں ہے) (القرآن، سورۃ الرحمٰن 55: 29)۔
اب اس قرآنی اور کلامی بصیرت کی روشنی میں الحادی سوال کو دوبارہ دیکھیے۔
سوال یہ تھا کہ خدا ماورا ہو کر کائنات سے تعلق کیسے قائم کرتا ہے؟
جواب یہ ہے کہ کائنات کو خدا سے الگ کوئی مستقل وجود حاصل ہی کب ہے کہ خدا کو اس کے ساتھ الگ سے کوئی نیا تعلق جوڑنے یا باہر سے اس میں داخل ہونے کی ضرورت پیش آئے!
جب کائنات کا ہر ایٹم، ہر کوانٹم فیلڈ، خود وقت کا ہر لمحہ اور مکان کا ہر بعد، ہر آن عدم کے اندھیرے سے نکل کر خدا کی صفتِ قیومیت کے سہارے وجود کی روشنی میں کھڑا ہے، تو وہاں خالق اور مخلوق کے درمیان کوئی خلا یا پردہ ہے ہی نہیں جسے پار کرنے کے لیے کسی مادی پل کی تلاش کی جائے۔
خدا کا کائنات میں تصرف کرنا کسی اجنبی ملک میں فوج بھیجنے کی طرح نہیں ہے، بلکہ اپنے ہی قائم کردہ وجودی بہاؤ کی تجدید اور تدبیر کا نام ہے۔
یہاں بعض نقاد دو آخری شبہات پیش کر سکتے ہیں جن کا علمی دیانت کے ساتھ جائزہ لینا ضروری ہے۔
پہلا شبہ یہ کہ اگر کائنات اس طرح ہر لمحہ خدا کے ارادے سے قائم ہے اور خدا ہر شے کے ساتھ ہے، تو کیا اس سے وحدت الوجود کی وہ شکل یعنی پینتھی ازم (Pantheism / ہمہ اوست) لازم نہیں آتی جس میں خالق اور مخلوق ایک ہی شے بن جاتے ہیں؟
اس کا جواب اسلامی عقیدے میں بالکل دو ٹوک اور صاف ہے:
ہرگز نہیں!
کسی چیز کا اپنے وجود میں خالق کے ارادے کا مکمل محتاج ہونا اس بات کو لازم نہیں کرتا کہ وہ چیز خود خالق کا حصہ یا اس کی ذات کا جزو بن گئی ہے۔
جب ایک شاعر اپنے ذہن میں ایک غزل تخلیق کرتا ہے، تو اس غزل کا ایک ایک لفظ اپنے وجود کے لیے ہر لمحہ شاعر کے شعور کا محتاج ہے، لیکن وہ الفاظ شاعر کی ذات نہیں بن جاتے؛ شاعر شاعر رہتا ہے اور کلام اس کی مخلوق یا اثر رہتا ہے۔
اسلامی الہیات میں کائنات اللہ کی ذات کا حصہ نہیں ہے، بلکہ اللہ کے فعل اور اس کے امرِ کُن کا ظہور ہے۔
خالق اپنی ذات میں مخلوق سے کامل طور پر بے نیاز اور ماورا ہے، اور مخلوق اپنے وجود کے ہر ذرے میں خالق کی قدرت کی کامل طور پر محتاج ہے۔
دوسرا ممکنہ اعتراض یہ ہو سکتا ہے کہ آپ نے منطقی اور فلسفیانہ طور پر یہ تو ثابت کر دیا کہ لا مکاں اور لا زماں خالق کا مادی کائنات سے تعلق کسی عقلی تضاد کا شکار نہیں ہے، لیکن پھر بھی ہم اس تعلق کی اصل ماہیت اور کیفیت (How / Modality) کا اپنے حواس میں مشاہدہ کیوں نہیں کر سکتے کہ غیر مادی ارادہ مادی توانائی میں کیسے ڈھلتا ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ کسی تعلق کے وجود کی دلیل ہونا اور بات ہے، اور اس تعلق کی اندرونی کیفیت کا انسانی حواس کی گرفت میں آنا بالکل اور بات ہے۔
یہ اصول صرف الہیات تک محدود نہیں بلکہ خود جدید سائنس کی بنیاد میں شامل ہے۔
آج دنیا کا کوئی طبیعیات دان یہ نہیں بتا سکتا کہ کششِ ثقل کے ریاضیاتی اصول آخر مادے کو اپنی طرف ماننے پر کیسے مجبور کرتے ہیں، یا کوانٹم مکینکس میں مشاہدے سے موجی تفاعل (Wave function) کیسے سکڑ جاتا ہے، یا انسانی دماغ کے مادی خلیوں میں دوڑنے والا برقی کرنٹ اچانک گلاب کی خوشبو کے احساس، درد کی کسک یا محبت کے غیر مادی تجربے (Qualia) میں کیسے تبدیل ہو جاتا ہے!
لیکن کیا کیفیت معلوم نہ ہونے کی وجہ سے کوئی سائنس دان کششِ ثقل، کوانٹم مکینکس یا انسانی شعور کے وجود کا انکار کر دیتا ہے؟
ہرگز نہیں۔
اسلامی علمی روایت نے چودہ سو سال پہلے اسی علمی حد کو پہچانتے ہوئے بلا کیف (بغیر کیفیت کی کرید کے) کا زریں اصول وضع کیا تھا، جیسا کہ امام مالک رحمہ اللہ اور دیگر ائمہ سلف نے واضح فرمایا کہ ہم اللہ کی صفات اور اس کے افعال کی حقیقت کو دلیل سے جانتے ہیں، لیکن اس کی کیفیت کو اپنی مادی عقل کے سانچے میں ڈھالنے سے قاصر ہیں کیونکہ ہماری عقل نے کبھی غیر مادی ذات کا براہِ راست حسی مشاہدہ نہیں کیا۔
جب ہم اس طویل، ہمہ گیر اور کثیر الجہتی فکری سفر کے آخری موڑ پر کھڑے ہو کر پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں، تو گرد و غبار کے بادل چھٹ چکے ہوتے ہیں اور حقیقت کا سورج پوری آب و تاب کے ساتھ چمکتا نظر آتا ہے۔
ہم نے دیکھا کہ ملحدین کا یہ اعتراض کہ زمان و مکان سے ماورا خدا مادی کائنات کے ساتھ تعلق کیسے رکھ سکتا ہے، کسی سائنسی دریافت یا اعلیٰ منطق کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ یہ انسانی تخیل کی اس کمزوری کی پیداوار تھا جو ہر غیر مادی حقیقت کو بھی مادی ڈبوں، مکانی فاصلوں اور میکانیکی ٹکراؤ کے فرسودہ پیمانوں سے ناپنے کی ضد کرتی ہے۔
ہم پر یہ منکشف ہوا کہ جدید طبیعیات نے خود مادے کے ٹھوس پن اور زمان و مکان کے بنیادی ہونے کے بت توڑ دیے ہیں اور سائنس خود ایک ماورائے زمان و مکان حقیقت کی چوکھٹ پر دستک دے رہی ہے۔
ہم نے یہ بھی پرکھ لیا کہ انسانی شعور کا اپنے مادی جسم پر حکم چلانا اور ایک مصنف کا اپنے ناول کے زمان و مکان سے ماورا رہ کر اس کے ذرے ذرے پر حاوی ہونا اس بات کی زندہ گواہی ہے کہ ماورائیت دوری کا نہیں بلکہ کامل احاطے کا نام ہے۔
رات کا وہی پہر ہے اور میز کا لیمپ اب بھی جل رہا ہے۔
وہ نوجوان، جو کچھ دیر پہلے اپنے ہاتھ کی حرکت اور کائنات کی وسعت کو دیکھ کر اس الجھن کا شکار تھا کہ لا مکاں خدا مجھ خاکی انسان سے کیسے جڑ سکتا ہے، اب ایک گہرے فکری سکون کے ساتھ اپنے ہاتھ کو دیکھتا ہے۔
اسے اب سمجھ آ چکا ہے کہ اس کا خالق اس سے اس لیے دور نہیں کہ وہ آسمانوں کی کسی مادی چھت کے پیچھے قید ہے؛ بلکہ وہ تو اس لیے آنکھوں سے اوجھل ہے کہ وہ جگہ اور وقت کی ان دیواروں سے پاک ہے جو چیزوں کو ایک دوسرے سے جدا کرتی ہیں۔
اگر وہ مکان میں ہوتا تو کسی ایک سمت میں قید ہو جاتا، اور اگر وہ وقت کا پابند ہوتا تو ماضی اور مستقبل کے درمیان بے بس ہو جاتا۔
اس کا لا مکاں ہونا ہی اس بات کی ضمانت ہے کہ کائنات کا کوئی ذرہ اس کی آغوشِ قدرت سے باہر نہیں، اور اس کا لا زماں ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ انسان کی کوئی پکار اس کے حضور کبھی پرانی یا رائیگاں نہیں ہوتی۔
وہ کائنات کے اندر حلول کیے بغیر کائنات کی رگِ جاں کو تھامے ہوئے ہے، اور یہی وہ مقامِ معرفت ہے جہاں فلسفے کی تنگ نائیاں ختم ہوتی ہیں اور عقلِ سلیم بے اختیار پکار اٹھتی ہے کہ
"اے زمان و مکان کے خالق! تیری ماورائیت ہی تیرے قرب کی سب سے بڑی دلیل ہے، اور تیرا بے نیاز ہونا ہی اس کائنات کے قائم رہنے کا واحد سہارا ہے۔”