میں راضی دل اور شکر گزاری کے احساس کے ساتھ یہ آپ کے لیے لکھ رہی ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی ذات بے حد کریم ہے۔

میں راضی دل اور شکر گزاری کے احساس کے ساتھ یہ آپ کے لیے لکھ رہی ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی ذات بے حد کریم ہے۔

بندوں پر ہم پر بہت مہربان ہے یہ اس کی رحمت کا ایک انداز ہی
ہوتا ہے کہ مشکلات میں ہمیں وہ آسانی والا علاج عطا فرمادیا جائے۔

میں آپ کو آج حضرت عوف بن مالک الاشجعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا واقعہ بتانے والی ہوں جب وہ شدید معاشی تنگی میں مبتلا تھے اور اس کے ساتھ ان پر ایک اور مصیبت یہ آگئی کہ ان کے جوان بیٹے کو کفار نے قید کر لیا۔

مصیبت پر مصیبت آگئی۔ وہ بہت پریشان تھے۔ بیٹے کو آزاد کروانا ناممکن سا محسوس ہو رہا تھا۔ وہ کیسے فدیہ دیتے ؟ ان کے حالات بہت تنگ تھے۔

پھر وہ رحمت والے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اپنی پریشانی بیان کرنے کے لیے آئے۔

آپ اس وقت کن مسائل میں ہیں؟ اپنے ہر اس مسئلے کے متعلق سوچیے۔ آپ کو اللہ رب العزت کی طرف سے جواب دیا جا رہا ہے۔ پہلے ان آیات کو پڑھتے ہیں۔

آخری سورتیں مجھے بے حد پیاری لگتی ہیں، ان کو پڑھنے سے، سیکھنے سے ایمان کا لیول ایک الگ ہی طرح سے بڑھ جاتا ہے الحمد للہ ! سورہ طلاق کی آیات پڑھیے۔

وَمَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا (2) وَيَرْزُقُهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا (3)

ترجمہ ! جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے نجات کی صورت نکال دیتا ہے اور اس کو وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے وہ گمان بھی نہیں رکھتا اور جو اللہ پر توکل کرتا ہے تو وہی اس کو کافی ہے، بلا شبہ اللہ اپنا کام پورا کر کے رہنے والا ہے ، یقیناً اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک تقدیر مقرر کر رکھی ہے۔ سورہ طلاق آیات 2,3

کتنی پیاری آیات ہیں اور کتنی بڑی بڑی خوشخبریاں دی گئی ہیں جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اس کے لیے اس کی مشکلات سے نکلنے کا راستہ پیدا کر دیا جاتا ہے۔

اور جو اللہ سبحانہ و تعالی پر توکل کرتا ہے سبحان اللہ ! اس کے لیے تو اللہ تعالیٰ خود ہی کافی ہو جاتے ہیں۔

سبحان اللہ و بحمدہ۔ اللہ تعالیٰ بندے کو خود کافی ہو جائے تو اور چاہیے کیا ہوتا ہے؟ یا اللہ جی! ہم نے آپ پر بھروسہ رکھا، آپ ہر لمحے ہمارے لیے کافی ہیں ، آپ سب سے پیارے ہیں۔

اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھا جائے اور اللہ تعالی مدد نہ بھیجے ، دل پر سکینت کا نزول نہ فرمائے ایسا ممکن ہی نہیں۔

اچھا ہم اس واقعے کی طرف چلتے ہیں، جب پیارے عوف بن مالک رضی اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اپنا غم بیان کرنے کے لیے آئے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے آپ کو تین کام کرنے کے لیے بتائے ہیں۔

وہ تین کام بھلا کون سے ہیں؟

بہت آسان ، بہت خوبصورت وہ یہ ہیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ

اللہ تعالی سے ڈرو۔

صبر کرو اور لاحول ولا قوۃ الا باللہ کثرت سے پڑھو۔

وہ گھر گئے اور ان کے بیٹے کو بھی پیغام بھجوادیا گیا کہ وہ بھی قید میں اس کلمے کو کثرت سے پڑھیں۔

وہ اس ذکر کو کثرت سے پڑھتے رہے۔ ایک دن ان کے دروازے پر دستک ہوئی، جب وہ دروازے پر جاتے ہیں تو دروازہ کھولتے ہیں تو سامنے بھلا کون موجود ہوتا ہے ؟

ان کے بیٹے اور وہ اکیلے نہیں ہوتے بلکہ ان کے ساتھ کچھ جانور بھی ہوتے ہیں۔ والد بیٹے کو دیکھ کر خوش ہو جاتے ہیں، بیٹا اپنی رہائی کی کہانی سنانے لگتا ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ ” میں اس کلمے کو پڑھتا رہا، جس چیز سے ان کو باندھا گیا تھا وہ کھل گئی اور وہ وہاں سے بھاگ نکلے ، راستے میں ایک جگہ لکھا ہے کہ ان کو راستے میں بکریوں کے ریوڑ ملے تو وہ انہیں بھی ساتھ لے آئے۔

اور ایک جگہ لکھا ہے کہ انہیں راستے میں اونٹ ملے تو انہوں نے انہیں ہانکا تو وہ انہیں بھی ساتھ لے کر آگئے۔

پھر ان کے والد نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان جانوروں کے متعلق سوال کیا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ” یہ تمہارا مال ہے جو چاہو ان کے ساتھ کرو”
یہ واقعہ تفسیر ابن کثیر میں سورہ طلاق کی تفسیر سے نقل کیا گیا ہے۔

سبحان اللہ!آپ کی کیا مشکل ہے؟ کیا پریشانی ہے؟ رب سے اچھا گمان رکھ کر ، رب پر توکل کر کے آپ آج ہی سے اللہ تعالیٰ سے دعا کر کے آپ بھی اس ذکر یعنی لا حول ولا قوۃ الا باللہ کو پڑھنا شروع کر دیجیے۔

آپ کی مشکل آسان ہو گی اور اس کے آپ کے لیے بھی جانور بھیجے جائیں گے آپ کے لیے وہ بھیجا جائے گا جس کی آپ کو اس وقت شدید ضرورت ہو گی ان شاء اللہ تعالیٰ

اللہ تعالیٰ ہم سب کے تمام مسائل حل فرمائے آمین ثم آمین۔ اور ایک اور بات اسے آگے دوسروں کے ساتھ بھی شئیر کر دیجیے کہ جیسے آپ کو آپ کی اس آزمائش میں جواب بھیجا گیا ہے اُنہیں بھی تسلی اور حل مل جائے۔

آپ کو ایسی بہت ساری دعائیں اور میرے بہت سارے لکھے ہوئے ابواب فقہ القلوب جلد دوم میں بھی پڑھنے کو ملیں گے ان شاء اللہ تعالیٰ۔

اوکے جزاکم اللہ خیرا

اللہ کے عفو کی طالب
عائشہ ملک بنت یعقوب