ناسا کی بڑی کا میابی۔

امریکی خلائی ادارے ناسا نے ایک تاریخی سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ 17 اکتوبر 2026 کو ناسا نے اعلان کیا کہ اس نے ہمارے نظام شمسی سے باہر 6000 سیارے دریافت کر لیے ہیں۔ یہ سیارے، جنہیں ایگزوپلانیٹ کہا جاتا ہے، مختلف ستاروں کے گرد گھوم رہے ہیں۔ یہ انسانی تاریخ میں پہلی بار ہے کہ ہم اتنی بڑی تعداد میں دوسری دنیاؤں کو جان چکے ہیں۔

یہ دریافت ناسا کی ٹیس نامی دوربین سے ہوئی، جو آسمان میں ستاروں کی روشنی میں آنے والی معمولی تبدیلیوں کو نوٹ کرتی ہے۔ جب کوئی سیارہ اپنے ستارے کے سامنے سے گزرتا ہے تو ستارے کی روشنی تھوڑی دیر کے لیے مدھم ہو جاتی ہے۔ اسی تکنیک سے سائنسدان نئے سیارے دریافت کرتے ہیں۔ ان 6000 سیاروں میں 2035 نیپچون جیسے، 1984 مشتری جیسے بڑے گیس کے گولے، 1761 سپر ارتھ، اور 700 چٹانی سیارے شامل ہیں جو ہماری زمین جیسے ہیں۔

لیکن سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ناسا کے سائنسدانوں کے مطابق ابھی تک ہمیں اپنی زمین جیسا کوئی سیارہ نہیں ملا۔ ناسا کی ایگزوپلانیٹ پروگرام کی سربراہ ڈان جیلینو کا کہنا ہے کہ ہر نیا سیارہ ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ سیارے کیسے بنتے ہیں اور زمین جیسی دنیا کتنی عام ہو سکتی ہے۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ ہماری کہکشاں میں اربوں سیارے موجود ہیں، اور ان میں سے کچھ پر زندگی کے لیے موزوں حالات بھی ہو سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ 8000 سے زیادہ ممکنہ سیارے ابھی تصدیق کے منتظر ہیں۔ ناسا کی جیمز ویب دوربین اب ان سیاروں کی فضا کا تجزیہ کر رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ وہاں پانی یا زندگی کے آثار ہیں یا نہیں۔ سائنسدان پرامید ہیں کہ اگلے چند سالوں میں ہمیں پہلی بار کسی دوسرے سیارے پر زندگی کے آثار مل سکتے ہیں۔ کائنات کی وسعتوں میں ہم اکیلے ہیں یا نہیں، یہ سوال اب جواب کے پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہے۔