. کیا آپ بھی کسی کا دماغ پڑھ سکتے ہیں

. کیا آپ بھی کسی کا دماغ پڑھ سکتے ہیں

پائنیل گلینڈ کیسے کام کرتا ہے

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )آپ کے دماغ میں کون سے ایسا گلینڈ ہے جس کی پاور میں اضافہ کرنے سے مائنڈ ٹو مائنڈ لنک کی پاورز پیدا ہوتی ہیں اور یہ گلینڈ کیسے کام کرتا ہے۔

وہ کون سی ایکسرسائز ہیں جو براہ راست آپ کے دماغ کے اس گلینڈ کی ان لمٹیڈ پاورزمیں اضافہ کرتی ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے ہمارے دماغ میں ایک ایسا ہاورفل پینیل گلینڈ رکھا ہے جو جسم کو بہت سارے فوائد دینے کے ساتھ ساتھ مائنڈ ٹو مائنڈ لنک کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جو انسان اپنے اس ” پینیل گلینڈ ” کی پاورز کو ایکٹیو کر لے تو پھر وہ بغیر کسی واسطے کے پوری دنیا میں کسی بھی انسان سے ذہنی رابطہ کر کے نا صرف اس کے خیالات پڑھ سکتا ہے بلکہ اسے اپنی مرضی سے کنٹرول بھی کر سکتا ہے۔

پینل گلینڈ دماغ کے اندر چاول کے دانے کے سائز جتناہے اسے تیسری آنکھ بھی کہا جاتا ہے۔

پینیل گلینڈ کے دو حصے ہیں

piezo electric

transduce

پینل گلینڈ کے اندر چھوٹے چھوٹے کرسٹل ہوتے ہیں

جنہیں کیلسائٹ کرسٹل کہتے ہیں۔

ان کرسٹل کی یہ خصوصیت ہے کہ جب ان پر دباؤ پڑتا ہے تو یہ ایکٹو ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

اور اپنے اندر ایک الیکٹرک فیلڈ پیدا کر دیتے ہیں۔

اس الیکٹرک فیلڈ کی پاور سے انسان میں خیالات کو وصول کرنے اور انہیں منتقل کرنے صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے۔

اس کے بعد آپ کسی بھی شخص سے دماغی رابطہ کر سکتے ہیں اور اس کے خیالات پڑھ سکتے ہیں۔

پینیل گلینڈ کی پاور سے آئندہ پیش آنے والے واقعات کبھی کبھار خواب کی صورت میں یا ویسے ہی  تصور میں نظر آتے ہیں۔

اب بات کرتے ہیں دوسرے پوائنٹ کی

وہ کون سی ایکسرسائز ہیں جو براہ راست آپ کے دماغ کے پینیل  گلینڈ کی ان لمٹیڈ پاورزمیں اضافہ کرتی ہیں کہ آپ جب چاہیں پوری دنیا میں کہیں بھی کسی سے بھی رابطہ کر کے اس کےخیالات پڑھ سکتے ہیں۔

ان مشقوں میں شمع بینی ، نقطہ بینی ، آفتاب بینی ماہتاب بینی ، آئینہ بینی ، التسخیر ، سانس کی مشقیں ، تصورات کی مشقیں خیلات بھیجنے اور وصول کرنے کی مشقیں وغیرہ شامل ہیں

جب یہ مشقیں کسی ماہر استاد کی زیرنگرانی کی جاتی ہیں تو پینیل گلینڈ پر پریشر پڑتا ہے نتیجے کے طور پر پینل گلینڈ کے اندر موجود کرسٹلز ایکٹیویٹ ہونا شروع ہو جاتے ہیں اس سے نا صرف مائنڈ ٹو مائنڈ لنک کی پاور پیدا ہوتی ہیں بلکہ

انسان مجموعی طور پر ہر لحاظ سے بہتر ہوناشروع ہو جاتا ہے پھر چاہے نیند کا مسئلہ ہو یا کسی قسم کی کوئی بیماری ہو،جسم کا مدافعی سسٹم اتنا پاور فل ہو جاتا ہے کہ وہ ہر چیز پر کنٹرول کر لیتا ہے۔

اب تو سائنسدان اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں جن مشقوں کے نتیجے میں دماغ کا پینیل گلینڈ ایکٹیو ہوتا ہے اس پینیل گلینڈ کو  ایکٹیو کرنے کے لیے ایک ایسی مشین ایجاد کی جائے جس کے ذریعے سے پینیل گلینڈ کی قوت میں اضافہ کر دیا جائے۔ اس طرح اس مشین سے ہی انسان میں ٹیلی پیتھی کی قوتیں پیدا کر دی جائیں۔

ہماری ٹیم بھی اس سلسلے میں کام کر رہی ہے ہم ایک ایسا ہیلمٹ تیار کر رہے ہیں جس سے ٹیلی پیتھی کی صلاحیت جلد پیدا ہو گی ان شاءاللہ ۔۔۔ ابھی پائنیل گلینڈ کی ایکٹیویشن کے لیے ڈیوائس تیار ہو گئی ہے اس کے کامیاب استعمال کے بعد اب سیل کی جا رہی ہے

🧠 آپ کی رائے کیا ہے؟ کیا آپ پائنیل گلینڈ اور مائنڈ پاور کے بارے میں مزید سائنسی معلومات جاننا چاہتے ہیں؟ اگر آپ پائنیل گلینڈ ایکٹیویشن ڈیوائس خریدنا چاہتے ہوں تو بھی کمنٹ کیجیے

 کمنٹ میں ضرور بتائیں آپ کا ایک سوال اگلی پوسٹ کا موضوع بن سکتا ہے! 👇

#PinealGland #Telepathy #MindPower #BrainScience #personaldevelopment