نوحہ گری سے تسلیم و رضا تک: سیدہ خنساء (رضی اللہ عنہا) کے ایمانی و جذباتی سفر کی داستان
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )تاریخِ عالم میں سیدہ خنساء (رضی اللہ عنہا) کا نام پختہ عزم اور قلب و روح کے اس عظیم انقلاب کا روشن استعارہ ہے، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ جب کسی وجود میں ایمان کی تجلی اترتی ہے تو انسان غم و الم کے گہرے اندھیروں سے نکل کر کس طرح رضائے الٰہی کے اعلیٰ ترین درجات پر فائز ہو جاتا ہے۔
دورِ جاہلیت کے صدمات اور نوحہ گری دورِ جاہلیت کی بات کی جائے تو تماضر بنت عمرو (المعروف خنساء) اپنے کمالِ سخن، شعری لطافت اور رقیق القلبی کے سبب پورے جزیرہ نما عرب میں مشہور تھیں۔ تاہم، دائرہ اسلام میں داخل ہونے سے پیشتر ان کی حیات سنگین صدموں کی بھینٹ چڑھ چکی تھی۔ ان کے قلب پر سب سے کاری ضرب اس وقت لگی جب ان کے شفیق اور بہادر بھائی ‘صخر’ ایک جنگ میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ صخر محض ایک بھائی نہیں تھے، بلکہ حوادثِ زمانہ کے خلاف ان کی سب سے بڑی ڈھال تھے۔ اس سانحے نے خنساء کو اندر سے اس قدر بکھیر دیا کہ ان کے چشمۂ گریہ سے آنسوؤں کی لڑی مدّتوں نہ ٹوٹ سکی، یہاں تک کہ عربی ادب میں ان کا نام طویل ترین سوگ اور مرثیہ نگاری کی پہچان بن گیا۔ ان دنوں ان کے لبوں سے ادا ہونے والا ہر مصرعہ ہجر کی آگ میں تپا ہوا ہوتا تھا۔ صخر کی یاد میں انہوں نے جو درد بھرے اشعار کہے، ان کی چبھن آج بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔ ان کا یہ غم ایک انسان کا بالکل طبعی تقاضا تھا، لیکن یہ وہ تاریک سوگ تھا جس کے آگے نہ تو کوئی امید کی کرن تھی اور نہ ہی اخروی زندگی کی کوئی آس… کیونکہ یہ اس دور کی کہانی ہے جب ان کے سینے میں وحیِ الٰہی کی روشنی نہیں پہنچی تھی۔
نورِ ہدایت کی کرن اور قلب کا انقلاب جب سیدہ خنساء بارگاہِ نبوی ﷺ میں حاضر ہوئیں اور اسلام قبول کیا، تو ان کی سوچ اور نظریات میں ایک کایا پلٹ دینے والا انقلاب آ گیا۔ دینِ اسلام نے ان کے نسوانی جذبات یا ممتا کا گلا نہیں گھونٹا، بلکہ ان کی حساس طبیعت کو ایک روحانی اور الٰہی سمت بخش دی۔ اب ان کا غم رائیگاں نہیں تھا، بلکہ انہوں نے دنیا کے ہر نقصان کو اجرِ الٰہی سے اور فانی موت کو جنت کی دائمی زندگی سے منسوب کرنا سیکھ لیا تھا۔ یہ درحقیقت اسی فرمانِ مصطفیٰ ﷺ کی عملی تصویر تھی: "مومن کا معاملہ بھی کس قدر حیرت انگیز ہے، اس کے ہر حال میں اس کے لیے بھلائی پوشیدہ ہے اور یہ مقام مومن کے علاوہ کسی کو میسر نہیں۔ اگر اسے کوئی خوشی ملتی ہے تو وہ شکر بجا لاتا ہے جو اس کے لیے سراپا خیر ہے، اور اگر اس پر کوئی مصیبت ٹوٹتی ہے تو وہ صبر کا دامن تھامتا ہے، اور یہ بھی اس کے حق میں بہتر ہی ہوتا ہے۔” (صحیح مسلم)
جنگِ قادسیہ: کفر و اسلام کا ٹکراؤ اور ممتا کی عظیم آزمائش خلافتِ فاروقی (14 ہجری) کے دوران جب قادسیہ کے مقام پر حق و باطل کا فیصلہ کن معرکہ سجا، تو سیدہ خنساء کا کردار ایک نیا رخ اختیار کر گیا۔ وہ اپنے چاروں جوان سال بیٹوں کے روبرو زمانہ جاہلیت کی ایک بین کرتی ماں کی بجائے، دینِ اسلام کی ایک ناقابلِ تسخیر چٹان کے روپ میں کھڑی تھیں۔ میدانِ جنگ کی طرف روانہ کرتے وقت انہوں نے اپنے لختِ جگروں کو جو تاریخی نصیحت کی، وہ آبِ زر سے لکھے جانے کے قابل ہے:
"میرے نورِ نظر! تم نے کسی جبر کے بغیر خوشی سے دینِ حق کو گلے لگایا اور اپنی مرضی سے ہجرت کا راستہ منتخب کیا۔ اس خدائے واحد کی قسم جس کا کوئی شریک نہیں! تم سب ایک ہی ماں کی کوکھ اور ایک ہی باپ کے نطفے سے ہو۔ میں نے کبھی تمہارے خاندانی وقار پر حرف نہیں آنے دیا اور نہ ہی تمہارے ماموں کو کسی رسوائی کا سامنا کرنے دیا۔ یہ بات ذہن نشین کر لو کہ آخرت کا دائمی گھر اس مٹنے والی دنیا سے ہزار درجے بہتر اور اعلیٰ ہے۔”
اپنے بیٹوں کے سینوں میں شجاعت کی آگ بھڑکانے کے لیے انہوں نے قرآنِ مجید کی اس آیت کا حوالہ دیا: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ "اے ایمان والو! صبر کا دامن نہ چھوڑو، دشمن کے مقابلے میں ڈٹے رہو، اور (سرحدوں کی حفاظت کے لیے) مستعد رہو، اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم کامیابی سے ہمکنار ہو سکو۔” (آل عمران: 200)
ماں کے ان ولولہ انگیز کلمات کے ساتھ چاروں شیر دل بھائی معرکۂ قادسیہ میں اترے، دادِ شجاعت دی، اور ایک کے بعد ایک جامِ شہادت نوش کر گئے۔
فکرِ جاہلیت اور نورِ اسلام کا تقابل جب اس عظیم ماں کو یہ لرزہ خیز اطلاع ملی کہ ان کے جینے کا سہارا اور ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، چاروں بیٹے ایک ہی دن میں خالقِ حقیقی سے جا ملے ہیں، تو حقیقت میں یہ گھاؤ بھائی صخر کی موت سے کئی گنا زیادہ گہرا اور تکلیف دہ تھا۔ مگر اس کرب ناک لمحے میں وقت کی آنکھ نے ایمان کی طاقت کا حیرت انگیز معجزہ دیکھا۔ وہ عورت جو کبھی ایک بھائی کی موت پر سالہا سال تک نوحہ کناں رہی تھی، آج اپنے جگر کے چار ٹکڑے راہِ خدا میں کٹوا کر بھی صبر کا کوہِ گراں ثابت ہوئی۔ ان کے لبوں پر شکوے کا کوئی ایک حرف نہ آیا، کیونکہ اب ان کی لوحِ قلب پر رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان تحریر ہو چکا تھا: "اس شخص کا ہمارے طریقے سے کوئی تعلق نہیں جو (غم میں) اپنے گال پیٹے، اپنے گریبان پھاڑے اور دورِ جاہلیت کی طرح چیخ و پکار کرے۔” (صحیح بخاری)
انہوں نے انتہائی ضبط اور کامل تسلیم و رضا کے ساتھ رضائے الٰہی پر سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے یہ تاریخی کلمات ادا کیے: "میں اس پروردگار کی شکر گزار ہوں جس نے مجھے ان بچوں کی شہادت کا شرف اور عزت بخشی، اور میں اپنے رب کی ذات سے کامل یقین رکھتی ہوں کہ وہ مجھے اپنے سایۂ رحمت میں ان کے ساتھ دوبارہ اکٹھا کرے گا۔”
ان کے اس بے مثال اور پہاڑ جیسے صبر کو دیکھ کر خلیفہ دوم سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس قدر متاثر ہوئے کہ سیدہ خنساء کی تاحیات، بیت المال سے ان کے چاروں شہید بیٹوں کا مقررہ وظیفہ انہیں ادا کرتے رہے اور اکثر فرماتے: "یہ سرفروش نوجوان اسلام کا حقیقی فخر اور سرمایہ ہیں۔”
حاصلِ کلام سیدہ خنساء (رضی اللہ عنہا) کی حیات کا یہ درخشاں باب ہمیں جاہلیت کی سوچ اور اسلامی عقیدے کے درمیان موجود واضح لکیر دکھاتا ہے۔ یہ فرق اس بات میں نہیں کہ انسان پر غم آتا ہے یا نہیں، بلکہ اصل فرق مصیبت کے وقت دل کی ایمانی کیفیت کا ہے۔ دینِ اسلام انسان کے اندرونی جذبات کو مفلوج یا بے حس نہیں کرتا، بلکہ اسے خاکی رشتوں سے بالا تر ہو کر مقصدِ حیات کے لیے جینا سکھاتا ہے۔ یہ عقیدہ آنسوؤں کو ضائع ہونے سے بچا کر انہیں ‘صبرِ جمیل’ کا مقدس لبادہ پہنا دیتا ہے، دنیا کے عارضی گھاٹے کو آخرت کے منافع میں بدل دیتا ہے، اور موت کو فنا کی بجائے جنت میں ایک ابدی ملاپ کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔ یہ واقعہ محض ایک ماں کے دکھ کی کہانی نہیں، بلکہ اس عالمگیر حقیقت کا ثبوت ہے کہ جب کسی کا سینہ نورِ ایمان سے روشن ہو جاتا ہے، تو وہ شخص زمین کی پستیوں سے پرواز کر کے آسمان کی رفعتوں کا مکین بن جاتا ہے۔
حوالہ جات: الاستيعاب في معرفة الأصحاب الإصابة في تمييز الصحابة أسد الغابة في معرفة الصحابة الطبقات الكبرى تاريخ الرسل والملوك