ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ وفا اور محبت کی داستان ۔۔۔ انتخاب ۔۔۔ میاں عمران)مکہ مکرمہ کی پرہجوم گلیوں اور تجارتی قافلوں کے بیچ، تاریخ ایک ایسا انوکھا واقعہ اپنے سینے میں محفوظ کر رہی تھی جو رہتی دنیا تک یاد رکھا جانے والا تھا۔ یہ کہانی ایک ایسے کمسن غلام کی ہے جس کا اپنا خاندان چھوٹ گیا، مگر اسے ایک ایسی آغوشِ محبت نصیب ہوئی جس کی نظیر پوری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔
اس خوش نصیب بچے کا نام "زید بن حارثہ” تھا۔ وہ ایک معزز اور خاندانی عرب بچے تھے، لیکن قسمت اسے ایک کٹھن آزمائش کی طرف لے گئی۔ بچپن ہی میں انہیں زبردستی اغوا کر کے ان کے پیاروں سے چھین لیا گیا اور مختلف بازاروں میں بکتے بکتے ان کا یہ دردناک سفر مکہ مکرمہ میں آ کر رکا۔
یہاں غلاموں کے بازار میں حکیم بن حزام کی نظر اس بچے پر پڑی۔ زید کی شائستگی، ذہانت اور معصومیت نے انہیں اس قدر متاثر کیا کہ انہوں نے اسے خرید کر اپنی پھوپھی سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بطور ہدیہ پیش کر دیا۔
جب سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا نکاح نبی مہربان حضرت محمد ﷺ سے ہوا، تو انہوں نے یہ ہونہار بچہ آپ ﷺ کو تحفے میں دے دیا۔ اور عین اسی لمحے سے زید کی زندگی کے سب سے سنہرے باب کا آغاز ہوا۔
✨ رحمتِ عالم ﷺ کا سایہ عاطفت
اعلانِ نبوت سے قبل ہی جب زید محمد ﷺ کے زیرِ سایہ آئے، تو انہیں کسی آقا کی سختی یا محکومی کا احساس تک نہ ہوا۔ اس کے بجائے، انہیں آپ ﷺ کی ذات میں ایک شفیق باپ کی محبت، بے پناہ نرمی اور ایسا مثالی حسنِ سلوک ملا جس کا انہوں نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زید کے دل میں آپ ﷺ کی عقیدت و محبت اتنی گہری ہو گئی کہ وہ آپ ﷺ کے محبوب ترین انسان بن گئے۔
دوسری جانب، ان کے اصل خاندان کا برا حال تھا۔ بیٹے کی جدائی کی آگ انہیں اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھی۔ سالوں تک وہ مختلف قبیلوں اور بازاروں کی خاک چھانتے رہے۔ بالآخر، انہیں یہ اطلاع مل ہی گئی کہ ان کا لختِ جگر مکہ میں ایک ایسی ہستی کے پاس ہے جو پورے عرب میں ‘صادق اور امین’ کے لقب سے مشہور ہے۔
یہ سنتے ہی زید کے والد ‘حارثہ’ اور ان کے چچا نے فورا مکہ کا سفر اختیار کیا۔ وہ اپنے جگر گوشے کو آزاد کروانے کے لیے بھاری فدیہ بھی ساتھ لائے تھے اور برسوں کی جدائی کے بعد اسے سینے سے لگانے کے لیے بے تاب تھے۔
⚖️ ایک تاریخی اور فیصلہ کن لمحہ
وہ دونوں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے بیٹے کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر آپ ﷺ نے عدل و انصاف اور بے پایاں رحمت کی ایک ایسی مثال قائم کی جو ہمیشہ کے لیے امر ہو گئی۔ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ میں اس کا فیصلہ خود زید کی مرضی پر چھوڑتا ہوں۔
"اگر یہ تمہارے ساتھ جانا چاہے، تو میں بغیر کسی فدیے کے اسے خوشی سے بھیج دوں گا، لیکن اگر وہ میرے پاس ہی رکنا پسند کرے، تو میں اسے جانے پر مجبور نہیں کروں گا۔”
جب زید کو بلوایا گیا اور انہوں نے اپنے والد اور چچا کو دیکھا، تو ان کی آنکھیں چھلک پڑیں۔ طویل عرصے بعد باپ بیٹے کا یہ جذباتی ملاپ دیکھنے والوں کو بھی آبدیدہ کر گیا۔
پھر وہ لمحہ آیا جس نے تاریخ کا دھارا موڑ دیا۔ زید نے ایک نظر اپنے والد پر ڈالی اور دوسری نظر محمد ﷺ کے چہرہِ انور پر ڈالی۔ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد ان کے لبوں سے وہ تاریخی الفاظ ادا ہوئے جنہوں نے سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا:
"میں اس ہستی (محمد ﷺ) پر کسی دوسرے کو ہرگز ترجیح نہیں دے سکتا۔”
ان کے والد نے انتہائی صدمے اور حیرت کے عالم میں کہا:
"اے زید! کیا تم اپنے خاندان، وطن اور آزادی پر غلامی کو ترجیح دے رہے ہو؟!”
مگر زید تو نبی مکرم ﷺ کے اعلیٰ اخلاق اور محبت کے اس قدر اسیر ہو چکے تھے کہ ان کی دنیا ہی بدل چکی تھی۔ انہوں نے کامل یقین کے ساتھ جواب دیا:
"میں نے اس ہستی میں جو شفقت، حسنِ سلوک اور مہربانی دیکھی ہے، اس کے بعد میں انہیں چھوڑ کر دنیا کے کسی کونے میں نہیں جا سکتا۔”
🕊️ تبنیت (منہ بولا بیٹا) کا اعلان اور ابدی اعزاز
زید کی اس بے لوث محبت کو دیکھ کر نبی کریم ﷺ بے حد متاثر ہوئے۔ آپ ﷺ نے فوراً ان کا ہاتھ پکڑا اور صحنِ کعبہ میں قریش کے مجمع کے سامنے اعلان فرمایا کہ آج سے زید میرا بیٹا ہے، ہم ایک دوسرے کے وارث ہوں گے۔ اس کے بعد لوگ انہیں عزت و احترام سے "زید بن محمد” پکارنے لگے۔
سال گزرتے گئے اور اسلام کا نور پوری آب و تاب سے چمک اٹھا۔ پھر اللہ تعالیٰ کی جانب سے قرآن مجید میں یہ حکم نازل ہوا کہ منہ بولے بیٹوں کو ان کے حقیقی باپوں کی طرف ہی منسوب کیا جائے۔ یوں وہ دوبارہ اپنے پرانے نام "زید بن حارثہ” سے پکارے جانے لگے۔
نسبت اور نام تو بدل گیا، لیکن دلوں کی محبت میں رتی برابر فرق نہ آیا۔
وہ زندگی بھر رسول اللہ ﷺ کے چہیتے اور مقرب ترین صحابی رہے۔ بعد ازاں انہیں اسلامی لشکروں کے عظیم قائدین میں شمار کیا گیا۔ اور ان کے لیے سب سے بڑا اعزاز یہ ہے کہ وہ تاریخِ اسلام کے وہ واحد خوش نصیب صحابی ہیں جن کا نام اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں صراحتاً ذکر فرمایا ہے، جو تاقیامت تلاوت کیا جاتا رہے گا۔
🌹 اس واقعے کا حاصل
یہ وفا، عقیدت اور محبت کی ایک ایسی سچی داستان ہے جو بتاتی ہے کہ جب کوئی دل سچی رحمت اور حسنِ اخلاق کا مزہ چکھ لیتا ہے، تو وہ دنیا کی ہر آسائش پر "محبت” کو فوقیت دیتا ہے۔
اس خوبصورت تحریر کو دوسروں تک پہنچائیے تاکہ دنیا جان سکے کہ ہمارے رسول ﷺ کا برتاؤ نبوت سے قبل اور بعد از نبوت اپنے اردگرد کے لوگوں کے ساتھ کس قدر شفیق اور انسانیت نواز تھا، اور یہ بھی معلوم ہو سکے کہ اعلیٰ اخلاق کس طرح تاریخ کے لازوال کرداروں کو جنم دیتے ہیں۔ ❤️