وہ کوئی ساز بجانا نہیں جانتے تھے ماچس کی ڈبیا انگلی سے بجا کر لازوال دھنیں تخلیق کیں۔
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )وہ کوئی ساز بجانا نہیں جانتے تھے ماچس کی ڈبیا انگلی سے بجا کر لازوال دھنیں تخلیق کیں۔
ایم اے فلسفہ میں اول آئے ، گولڈ میڈل لینے گئے ہی نہیں۔
مقابلے کے امتحان میں پورے ہندوستان میں ٹاپ کیا، لیکن بھگت سنگھ جیسے انقلابیوں سے روابط کی وجہ سے نااہل قرار پائے
یہ نااہلی ہندوستان کی فلمی موسیقی کیلئے نعمتِ غیر مترقبہ ثابت ہوئی، اس سے فلمی موسیقی کو خواجہ خورشید انور ملے۔ جنہوں نےدل کا دیا جلایا، مجھ کو آواز دے تو کہاں ہے ، رم جھم رم جھم پڑے پھوار، جس دن سے پیا دل لے گئے ، آگئے گھر آگئے بلم پردیسی، سجن پردیسی ،چاند ہنسے دنیا بسے روئے میرا پیار، آبھی جا آبھی جا، او جانے والے رے ٹھہرو ذرا رک جاﺅ،۔چھن چھن ناچوں گی گن گن گاﺅں گی، سن ونجھلی دی مٹھڑی تان وے، زلفان دی ٹھنڈی ٹھنڈی چھاں ڈھولنا، او ونجھلی والڑیا جیسی دھنیں تخلیق کیں۔
خواجہ صاحب کے صاحبزادے خواجہ عرفان انور فرماتے ہیں کہ ساز بجانا کلاسیکی موسیقی کیلئے بالکل ضروری نہیں۔ ہماری موسیقی بنیادی طور پر ووکل ہے۔ خورشید انور لاہور ریڈیو اور منتخب محفلوں میں گاتے بھی رہے۔
خواجہ خورشید انور 21 مارچ 1912 کو میانوالی کے محلہ بلوخیل میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق موسیقی کے کسی گھرانے سے نہیں تھا ۔ ان کی علامہ اقبال سے بہت نزدیک کی رشتہ داری تھی۔ ان کے نانا، خان بہادر عطا محمد شیخ کی بیٹی علامہ کی اہلیہ تھیں۔ ان کی والدہ گجرات میں پیداھوئیں.علامہ اقبال کی پہلی اہلیہ کریم بی بی کی چھوٹی بہن تھیں.بلکہ علامہ نے ان کی والدہ فاطمہ بی بی کا رشتہ بصداصرار کروایا.ان کے والد فیروزالدین لاہور کے ایک کامیاب بیرسٹر تھے۔ ان کے والد کو صرف ایک شوق تھا اور وہ تھا کلاسیکل اور نیم کلاسیکل موسیقی سننا اور جمع کرنا۔ ان کے گھر میں ہزاروں کی تعداد میں ریکارڈ موجود تھے۔ گھر میں موسیقی کی بڑی بڑی محفلیں ہوا کرتی تھیں۔ جن میں استاد توکل حسین، استاد عبدالوحید خاں ،استاد عاشق علی خاں،استاد غلام علی خاں،فیروز نظامی،رفیق غزنوی جیسے اساتذہ شرکت کرتے تھے۔ انہی محفلوں سے خورشید انور کو موسیقی کا شوق پیدا ہوا اور انہوں نے استاد توکل حسین سے موسیقی کی تعلیم حاصل کی۔
خواجہ خورشید نے1935 میں گورنمنٹ کالج لاہور سے فلسفہ میں ماسٹرز کیا اور اول آئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خواجہ صاحب تقسیم انعامات کی تقریب میں قصداً نہیں گئے۔ انگریز وائس چانسلر نے جب گولڈ میڈل کے لیے نام پکارا۔ وہ موجود نہ پائے گئے۔ تو اس نے برجستہ کہا کہ جو طالب علم اپنا میڈل لینا بھول گیا ہے وہ حقیقی طور پر ایک فلسفی ہے۔ مگر خورشید انور کی منزل کوئی اور تھی۔ اس کو سُر اور ساز کا بادشاہ بننا تھا۔ عین اسی وقت لاہور میں ایک محفل موسیقی منعقد ہورہی تھی جس میں ہندوستان بھر کے نامور موسیقار اور گایک شرکت کررہے تھے۔ انھیں موسیقاروں میں اس طالب علم کے موسیقی کے استاد خان صاحب توکل حسین خان بھی شامل تھے۔ وہ طالب علم جلسہ تقسیم اسناد اور گولڈ میڈل تو چھوڑ سکتا تھا مگر اس محفل کو نہیں چھوڑ سکتا تھا۔
اس سے اگلے سال 1936 میں خواجہ خورشید انور نے اعلیٰ ملازمتوں( آئی سی ایس )کے لئے مقابلے کے امتحان میں پہلی پوزیشن حاصل کی لیکن انٹرویو میں ناکام قرار دئیے گئے چونکہ وہ انگریزون کے خلاف تحریک آزادی میں شریک رہے تھے اور انقلابیوں کو کالج لیبارٹری سے پکرک ایسڈ فراہم کرنے کے الزام میں قید بھی بھگت چکے تھے۔بی اے کا امتحان بھی جیل سے دیا تھا۔ حقیقت یہ تھی کہ وہ خود بھی اپنے مزاج کو سول سروس کے مزاج سے ہم آہنگ نہ پاتے تھے۔ وہ تحریری امتحان میں بھی صرف اپنے گھر والوں کے شدید اصرار کے باعث شریک ہوئے تھے۔
یہ ناکامی ان کی کامیابی کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔








