پلوٹو کی سطح پر ایک بہت بڑا میدان ہے جس پر ایک بھی گڑھا نہیں۔

پلوٹو کی سطح پر ایک بہت بڑا میدان ہے جس پر ایک بھی گڑھا نہیں۔

ہالینڈ(ڈیلی رووشنی نیوز انٹرنیشنل )سننے میں یہ معمولی بات لگتی ہے۔ مگر جب سائنسدانوں نے یہ پہلی بار دیکھا تو وہ الجھ گئے۔ نظامِ شمسی میں جو سطح اربوں سال سے خلا کے سامنے کھلی پڑی ہو، اس پر گڑھے ہی گڑھے ہوتے ہیں۔ ہمارا اپنا چاند دیکھ لیں۔

تو پلوٹو کا یہ میدان اتنا صاف کیسے رہ گیا؟

پلوٹو 1930 میں دریافت ہوا۔ امریکی ماہرِ فلکیات کلائیڈ ٹومبا نے تصویروں میں ایک ننھا سا نقطہ پکڑا جو رات بہ رات ذرا سا کھسک رہا تھا۔ اس کے بعد پچاسی سال تک پلوٹو بس یہی رہا: ایک دھندلا سا نقطہ، جس کی سطح کسی نے نہیں دیکھی تھی۔

پھر 2006 میں NASA نے New Horizons نامی خلائی گاڑی روانہ کی۔ ساڑھے نو سال اور تقریباً پانچ ارب کلومیٹر کے سفر کے بعد، 14 July 2015 کو یہ پلوٹو کے پاس سے گزری۔ سب سے قریب آ کر فاصلہ بارہ ہزار پانچ سو کلومیٹر رہ گیا، جو تقریباً زمین کی پوری چوڑائی جتنا ہے۔

اس دن گاڑی نے زمین سے بات نہیں کی۔ وہ پورا وقت تصویریں لینے اور ڈیٹا جمع کرنے میں لگی رہی، اور ٹیم کو گھنٹوں انتظار کرنا پڑا کہ گاڑی سلامت ہے یا نہیں۔ جب تصویریں آئیں تو پلوٹو پر ایک بڑا سا ہلکے رنگ کا دل بنا ہوا تھا۔

اس دل کو بعد میں ٹومبا کا نام دیا گیا۔ اور ایک چھوٹی سی بات جو مجھے آج بھی اچھی لگتی ہے: ٹومبا کی راکھ کا تھوڑا سا حصہ اسی گاڑی میں رکھ کر بھیجا گیا تھا۔ جس شخص نے پلوٹو کو نقطے کی صورت میں ڈھونڈا، وہ آخرکار اس کے پاس سے ہو کر گزرا۔

دل کا مغربی آدھا حصہ ایک ہموار میدان ہے جسے سپوتنک پلینیشیا کہتے ہیں۔ ایک سرے سے دوسرے سرے تک تقریباً ایک ہزار کلومیٹر، یعنی لاہور سے کراچی جتنا۔ اور یہی وہ میدان ہے جس پر کوئی گڑھا نہیں۔

اب سمجھتے ہیں کہ گڑھا نہ ہونا اتنی بڑی بات کیوں ہے۔

گاؤں کا ایک کچا صحن سوچیں۔ صبح جھاڑو لگتی ہے تو مٹی بالکل ہموار ہو جاتی ہے۔ پھر دن بھر لوگ آتے جاتے ہیں اور قدموں کے نشان بنتے رہتے ہیں۔ شام کو صحن دیکھ کر آپ بتا سکتے ہیں کہ جھاڑو کو کتنی دیر ہو گئی۔ جتنے زیادہ نشان، اتنا زیادہ وقت۔

خلا میں گڑھے یہی قدموں کے نشان ہیں۔ چھوٹی بڑی چٹانیں اربوں سال سے سیاروں اور چاندوں سے ٹکرا رہی ہیں۔ جو سطح جتنی پرانی ہو گی، اس پر اتنے ہی زیادہ گڑھے ہوں گے۔ یعنی گڑھے گن کر سطح کی عمر کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

پلوٹو کے کچھ علاقے گڑھوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ ان کی عمر تقریباً چار ارب سال لگائی گئی ہے۔ مگر سپوتنک پلینیشیا میں New Horizons کو کوئی گڑھا نہیں ملا، حالانکہ اس کی تیز ترین تصویروں میں چند سو میٹر کا گڑھا بھی نظر آ سکتا تھا۔ حساب لگایا گیا تو نتیجہ یہ نکلا کہ یہ سطح ایک کروڑ سال سے زیادہ پرانی نہیں ہو سکتی۔

ایک کروڑ سال بہت لگتا ہے۔ مگر اسے پیمانے پر رکھیں۔ اگر پلوٹو کی پوری عمر ایک دن کے برابر ہو، تو یہ سطح اس دن کے آخری تین منٹ میں بنی ہے۔

ایک منٹ رکیے۔ اصل بات صرف اتنی ہے: گڑھے وقت کی گھڑی ہیں۔ جہاں گڑھے نہیں، وہاں کی سطح نئی ہے۔

اور یہیں سے اصل مسئلہ شروع ہوتا ہے۔

پلوٹو چھوٹا ہے۔ ہمارے چاند سے بھی چھوٹا۔ سورج سے اتنا دور ہے کہ وہاں سورج آسمان میں بس ایک بہت روشن ستارہ لگتا ہے۔ درجہ حرارت منفی دو سو تیس ڈگری کے آس پاس رہتا ہے۔ اسی لیے بہت سے سائنسدانوں کا اندازہ تھا کہ ایسی دنیا کب کی ٹھنڈی ہو کر جم چکی ہو گی۔ اندر کی گرمی ختم، سطح ساکت، اور اوپر صرف گڑھے جمع ہوتے ہوئے۔

یہ اندازہ غلط نکلا۔ New Horizons کی ٹیم کے سربراہ ایلن اسٹرن نے اسے بڑی دریافت کہا کہ ایک چھوٹی سی دنیا اربوں سال بعد بھی اتنی متحرک ہو سکتی ہے۔

تو پہلا سوال یہ تھا کہ یہ میدان بنا کس چیز سے ہے؟ جواب حیران کن تھا۔ نائٹروجن کی برف سے۔

آپ کے اردگرد کی ہوا کا تقریباً اٹھہتر فیصد حصہ نائٹروجن ہے۔ یہی گیس جو آپ ابھی سانس کے ساتھ اندر لے رہے ہیں۔ پلوٹو کی سردی میں یہ گیس جم کر ٹھوس برف بن جاتی ہے، اور سپوتنک پلینیشیا اسی برف سے بھرا ایک بہت بڑا گڑھا نما طاس ہے، کئی کلومیٹر گہرا۔

پھر قریبی تصویروں میں ایک اور چیز دکھی۔ یہ میدان سپاٹ نہیں تھا۔ اس کی سطح بے ترتیب خانوں میں بٹی ہوئی تھی، جیسے سوکھے ہوئے تالاب کی پھٹی ہوئی مٹی۔ ہر خانہ دس سے چالیس کلومیٹر چوڑا، اور ہر خانے کے کنارے پر ایک ہلکی سی نالی۔ ان نالیوں میں جگہ جگہ برف کے ٹکڑے جمع تھے۔

جواب انہی خانوں میں چھپا تھا۔

June 2016 کو سائنسی جریدے Nature میں ولیم میک کنن اور ان کی ٹیم کا مقالہ چھپا۔ اسی شمارے میں Purdue یونیورسٹی کی ایک الگ ٹیم کا مقالہ بھی تھا۔ دونوں ٹیمیں کمپیوٹر ماڈلز کے ذریعے ایک ہی نتیجے پر پہنچیں۔

چولہے پر دال کی دیگچی یاد کریں۔ نیچے سے گرم ہوتی ہے تو گرم دال بیچ میں سے اوپر اٹھتی ہے۔ اوپر آ کر ٹھنڈی ہوتی ہے، اور کناروں سے واپس نیچے بیٹھ جاتی ہے۔ غور سے دیکھیں تو سطح پر یہی چکر چھوٹے چھوٹے خانوں کی شکل بنا دیتا ہے۔ گرمی سے چیز کا یوں گول گول گھومنا، اسے کنویکشن (حمل) کہتے ہیں۔

سپوتنک پلینیشیا میں یہی ہو رہا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ وہاں دال نہیں، ٹھوس برف ہے۔ نائٹروجن کی برف ٹھوس ہو کر بھی بہت آہستہ بہہ سکتی ہے، جیسے پہاڑوں پر گلیشیئر کھسکتا ہے۔ نیچے پلوٹو کے اندر سے بہت ہلکی سی گرمی آتی ہے۔ ہر خانے کے بیچ سے برف اوپر اٹھتی ہے، پھیلتی ہے، اور کناروں پر جا کر واپس نیچے دب جاتی ہے۔

رفتار؟ سال میں چند سینٹی میٹر۔ تقریباً اتنی جتنی رفتار سے آپ کے ناخن بڑھتے ہیں۔

مگر اتنی سست رفتار بھی کافی ہے۔ اندازہ ہے کہ ہر خانے کی سطح تقریباً پانچ لاکھ سال میں پوری کی پوری نئی ہو جاتی ہے۔ کوئی چٹان آ کر گڑھا بناتی ہے تو یہ گڑھا آہستہ آہستہ کنارے کی طرف سرکتا ہے اور نیچے نگل لیا جاتا ہے۔ کنارے پر جمع وہ برف کے ٹکڑے بھی اسی کی گواہی ہیں۔ پانی کی برف نائٹروجن کی برف سے ہلکی ہے، اس لیے وہ ٹکڑے تیرتے ہوئے برفانی تودوں کی طرح بہہ کر کناروں پر آ لگتے ہیں۔

تو پلوٹو کا دل جوان اس لیے نہیں کہ وہ حال ہی میں بنا۔ وہ جوان اس لیے ہے کہ اسے پرانا ہونے ہی نہیں دیا جاتا۔ صحن میں کوئی مسلسل جھاڑو لگا رہا ہے۔

یہ وضاحت ابھی براہِ راست ناپی نہیں گئی، کیونکہ کسی نے برف کو حرکت کرتے دیکھا نہیں۔ مگر خانوں کی شکل، ان کا سائز، گڑھوں کا نہ ہونا اور کناروں پر تیرتے ٹکڑے، سب ایک ہی طرف اشارہ کرتے ہیں، اور دو الگ ٹیمیں ایک ہی نتیجے پر پہنچیں۔ شواہد مضبوط ہیں۔ ایک سوال البتہ اب بھی کھلا ہے: اتنی چھوٹی دنیا کے اندر یہ گرمی چار ارب سال تک باقی کیسے رہی؟ اس کا پورا جواب ابھی کسی کے پاس نہیں۔

مجھے اس کہانی میں سب سے زیادہ جو بات حیران کرتی ہے وہ اس حرکت کی خاموشی ہے۔ اگر آپ اپنی پوری زندگی وہاں کسی خانے کے کنارے بیٹھے رہیں، تو زمین آپ کے سامنے بس چند میٹر سرکے گی، اور آپ کو کبھی محسوس بھی نہیں ہو گا کہ کچھ ہل رہا ہے۔ ہم نے ایک دور، چھوٹی اور ٹھٹھری ہوئی دنیا کو مردہ سمجھ لیا تھا، کیونکہ دور سے وہ ایک ساکت نقطہ تھی۔ قریب جا کر پتا چلا کہ وہ اپنی ہی رفتار سے سانس لے رہی تھی۔

اس وقت بھی، جب آپ یہ پڑھ رہے ہیں، پلوٹو کے دل میں برف ناخن کی رفتار سے اوپر اٹھ رہی ہے۔

اور کون جانے، کتنی ایسی دنیائیں ہوں گی جنہیں ہم ابھی صرف اس لیے مردہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم نے انہیں قریب سے دیکھا نہیں؟

🔭 ماخذ: New Horizons مشن (NASA)، 2015 LORRI کیمرہ؛ McKinnon et al.، Nature، 2016

اگر آپ کو خلاء اور فلکیات کی ایسی باتیں پسند ہیں جو آسان زبان میں بتائی جائیں تو ستاروں سے آگے کو ابھی فالو کریں۔

ہر روز ایک نئی حیرت آپ کا انتظار کر رہی ہے۔