ڈاکٹر افضل رضوی کی تصنیف در برگ لالہ و گل کی تقریب رونمائی کراچی میں منعقد ہوئی
پاکستان (ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔رپورٹ و تصاویر ۔۔۔محسن نقی، معاون کامران مغل), مورخہ دو اکتوبر دو ہزار چھبیس کو محبان بھوپال فورم کی بانی و چیئرپرسن محترمہ شگفتہ فرحت اور ناظم تقریب جناب اویس ادیب انصاری نے اُردو لغت بورڈ گلشن اقبال کراچی کے تعاون سے آسٹریلیا میں مقیم پاکستانی نثاد جناب ڈاکٹر افضل رضوی، ( ماہرِ اقبالیات، ماہرِ تعلیم، شاعر، ادیب، محقق، مصنف), کی کتاب ” در برگ لالہ و گل” جلد سوم، کی تقریب رونمائی منعقد کی، جس کی صدارت پروفیسر سحر انصاری صاحب نے کی، مہمان خصوصی جناب ڈاکٹر معین الدین عقیل نے کی، جن مقررین نے ڈاکٹر افضل رضوی کی شخصیت اور ان کی علمی و ادبی خدمات پر اظہارِ خیال کیا ان میں محترمہ پروفیسر ڈاکٹر نزہت انیس، محترمہ سیما ناز، محترمہ شگفتہ فرحت، پروفیسر ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی، جناب سید ناصر علی، شامل تھے ۔
تقریب کی نظامت کے فرائض معروف سینیئر نیوز کاسٹر، علمی و ادبی شخصیت محترمہ ڈاکٹر فرحانہ اویس نے بخوبی انجام دیئے، علم و ادب کی اعلیٰ نظامت کار نے اپنی شائستہ گفتگو و وسیع مطالعے اور دلنشیں انداز بیان سے محفل کو وقار اور وقعت عطا کی، ان کی نظامت میں الفاظ صرف ادا نہیں ہوتے تھے بلکہ تہذیب، علم اور فکر کی خوشبو لیئے سامعین کے دلوں میں اُترتے جاتے تھے، ہر جملہ برجستگی کا آئینہ دار، ہر تعارف ادب کا نمونہ اور ہر انداز ایسا پر کشش تھا کہ محفل آغاز سے اختتام تک اپنے سحر میں ڈوبی رہی ۔
تقریب کے آغاز میں جناب قاری سید طاہر جمال تھانوی نے تلاوت، محترمہ راحیلہ فیاضی نے حمد اور محترمہ ثنا علی تاج نے نعت پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ۔
خوبصورت تقریب سجانے والے، ناظم تقریب جناب اویس ادیب انصاری نے خطبہء استقبالیہ پیش کیا، انہوں نے تمام مہمانوں اور حاضرین کا تقریب میں بھرپور شرکت کرنے پر بہت بہت شکریہ ادا کیا، اس کے بعد انہوں نے کتاب ” در برگ لالہ و گل” کے خالق جناب ڈاکٹر افضل رضوی کو ان کی علمی و ادبی خدمات پر زبردست خراجِ تحسین پیش کیا، ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر افضل رضوی کا قلم علم و آگہی کا چراغ اور فکر و بصیرت کا استعارہ ہے، بطور محقق، ماہرِ اقبالیات، حقائق کی تہ تک رسائی رکھتے ہیں، بطور نقاد، جمالیات اور معنویت کے نئے اُفق روشن کرتے ہیں اور بطور نثر نگار لفظوں کو ایسی لطافت عطا کرتے ہیں کہ تحریر دل و دماغ پر نقش ہو جاتی ہے، ان کی شخصیت علم، ادب اور صحافت کے سنگم پر ایستادہ ایک ایسی معتبر آواز ہے جو اپنے عہد کے فکری مباحث کو وقار، توازن اور دانش مندی کے ساتھ آگے بڑھاتی ہے، ان کے قلم کی روشنی ہمیشہ نسل انسانی کے ذہنوں کو منور کرتی رہے گی اور ان کا نام ادب و دانش کی تاریخ میں عزت و احترام کے ساتھ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، میں ان کو کتاب ” در برگ لالہ و گل” جلد سوم کی اشاعت پر دل کی گہرائیوں سے بہت بہت مبارک باد پیش کرتا ہوں ۔
ان کے بعد نظامت کار محترمہ ڈاکٹر فرحانہ اویس نے ڈاکٹر افضل رضوی کا تعارف پیش کیا:
ڈاکٹر افضل رضوی، پی ایچ ڈی، آسٹریلیا میں مقیم ممتاز محقق، شاعر، دانشور اور سماجی رہنما ہیں، جن کا علمی و ادبی کام کلاسیکی فکری روایت کو عصر حاضر کے عالمی تقاضوں سے ملاتا ہے، یہ پاکستان، آسٹریلیا لٹریری فورم (پالف), انکارپوریٹڈ کے بانی و چیئرمین اور موجودہ صدر ہیں، جو آسٹریلیا میں اُردو زبان، ادب اور بین الثقافتی مکالمے کے فروغ کے لیئے سرگرم ایک مؤثر ادبی و ثقافتی ادارہ ہے ۔
پچیس برس سے زائد عرصے پر محیط بین الاقوامی ادبی و علمی کانفرنسوں میں فعال شرکت کے ساتھ ڈاکٹر افضل رضوی نے اقبالیات، فلسفہ، جدید تعلیم، انسانی وقار عام، نوجوانوں کی فکری تربیت اور کثیر الثقافتی معاشروں میں اُردو سمیت ایشیائی زبانوں کی ترقی جیسے موضوعات پر تحقیقی مقالات پیش کیئے اور شائع کیئے ہیں، ان کی تحقیق بالخصوص علامہ اقبال کے فکری نظام کی عصری معنویت پر مرکوز ہے، جس میں یہ اخلاقی انتشار اور سماجی تبدیلی کے اس دور میں علامہ اقبال کے پیغام کی اہمیت کو اجاگر کر رہے ہیں ۔
ڈاکٹر افضل رضوی ” در برگ لالہ و گل” : کلام اقبال میں مطالعہ نباتات ” کے مصنف ہیں، جس کی تیسری جلد آپ کے ہاتھوں میں ہے، ” پروفیسر ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی: شخصیت، فن اور ادبی خدمات ” بھی ان کی اہم تصانیف میں شامل ہے، اس کے علاوہ اقبال کی عصری معنویت، تعلیم، فلسطین اور عالمی انسانی وقار جیسے موضوعات پر تحقیقی مقالات اور تجزیاتی مضامین تحریر کر چکے ہیں، علمی خدمات کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر افضل رضوی ایک صاحب طرز غزل گو شاعر بھی ہیں، ان کی شاعری میں محبت، تصوف، سماجی انصاف، فراق، روحانی جستجو اور جدید دنیا کے اخلاقی چیلنجز جیسے موضوعات نمایاں ہیں ۔
تعلیم و تربیت کے میدان میں ان کی نمایاں خدمات میں پالف آسٹریلیا اُردو اسکول کا قیام اور کامیاب انتظام شامل ہے، جو آسٹریلیا میں نئی نسل میں اُردو زبان کے فروغ اور بقا کے لیئے ایک مؤثر ادارہ بن چکا ہے ۔
علم، ادب اور سماجی قیادت کے ذریعے ڈاکٹر افضل رضوی فکری احیا، اخلاقی شعور، بین الثقافتی ہم آہنگی اور اُردو زبان وادب کے عالمی فروغ کے لیئے مسلسل کوشاں ہیں ۔
اس کے بعد اُردو لغت بورڈ گلشن اقبال کراچی کے سابق مدیر اعلیٰ جناب شاہد ضمیر نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ڈاکٹر افضل رضوی کی کتاب ” در برگ لالہ و گل” اقبالیات کے موضوع پر ایک منفرد اور قابل قدر تحقیقی کاوش ہے، مصنف نے اقبال کے کلام میں ” لالہ و گل” کی علامتوں کو نہایت خوبصورتی، تحقیق اور فکری گہرائی کے ساتھ پیش کیا ہے، یہ کتاب اقبال کے شعری اور فکری جہان کو سمجھنے میں قارئین کے لیئے ایک مفید رہنما ثابت ہو گی،ڈاکٹر افضل رضوی کی اس علمی و ادبی کاوش پر انہیں دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ یہ کتاب اہل علم و ادب میں قدرو منزلت حاصل کرے گی ۔
مقررین کا اظہارِ خیال:
پروفیسر ڈاکٹر نزہت انیس نے فرمایا کہ ڈاکٹر افضل رضوی نے نہ صرف اقبال کی شاعری میں ان نباتات کو چنا جو مختلف مواقع پر علامہ اقبال نے اپنے فلسفہ، اللہ کی اپنے بندوں کو عطا کردہ اشیاء پر فخر اور شکر ادا کرنے کی تلقین اور شاعرانہ تشبیہات اور استعارات سے اپنے کلام کو حسین بنانے کے لیئے استعمال کیا بلکہ ان کے استعمال کی وجوہ پر سیر حاصل بحث بھی کی ہے، نیز نہایت سلیس انداز میں فکر اقبال کو اپنے قاری تک پہنچانے کی کوشش کی ہے، ان کی یہ کتاب اقبال شناسوں میں ایک خوبصورت اضافہ ہے، میں ان کو بہت بہت مبارک باد پیش کرتی ہوں ۔
محترمہ سیما ناز نے فرمایا کہ ڈاکٹر افضل رضوی کو اقبالیات پر بھی عبور حاصل ہے، انہوں نے دوسروں کے لیئے بھی راستے کھولے ہیں،ڈاکٹر افضل رضوی زیادہ تر وقت بیرون ملک گذارا، وہاں انہوں نے اُردو ادب پر بہت کام کیا ہے، انہیں اقبال سے خاص لگاؤ تھا، چھوٹی عمر میں ہی شکوہ اور جواب شکوہ زبانی یاد ہو گئی تھی، ہم اقبالیات پر عمل پیرا ہو کر ترقی کر سکتے ہیں ۔
پروفیسر ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی نے فرمایا کہ ڈاکٹر افضل رضوی ماہرِ تعلیم ہونے کے ساتھ ساتھ اقبال شناس بھی ہیں، یہ اقبال پر متعدد تصانیف کی اشاعت کے بعد خود کو بجا طور پر اقبال شناس ہونے کا علمی ثبوت فراہم کر چکے ہیں، کلام اقبال میں مظاہر فطرت اور مطالعہ نباتات میں تحقیق و جستجو مصنف کا خاصہ رہی ہے، ڈاکٹر افضل رضوی کے شوق فراواں کا ثبوت اقبال پر ان کی تصانیف سے صاف ظاہر ہے، انہوں نے علم نباتیات کے حسن کے اظہار میں اقبال کے اشعار کو موضوعاتی ترتیب میں یکجا کر کے اپنی تصنیف کی تینوں جلدوں کو بہت ہی منفرد اور معلوماتی بنایا ہے، میرا گمان ہے کہ اس موضوع پر ڈاکٹر افضل رضوی اپنی تحقیق کو جاری و ساری رکھیں گے، میں ان کو بہت بہت مبارک باد پیش کرتا ہوں ۔
جناب سید ناصر علی نے فرمایا کہ ڈاکٹر افضل رضوی سے قلبی تعلق، ذہنی وابستگی اور ادبی رشتہ اپنی جگہ لیکن اس سے بڑھ کر ان کے مزاج اور عمل میں پیہم جستجو، تحقیق کی لگن اور تجزیہ کی صلاحیت سے خالق کائنات نے انہیں مرصع کر رکھا ہے، ڈاکٹر افضل رضوی کے یہ اوصاف عام نہیں خال خال لوگوں ہی میں دیکھنے کو ملتے ہیں، انہوں نے ودیعت کردہ اور اکتسابی صلاحیتوں سے کام لیا تو نام کمایا اور دنیائے علم و ادب میں تسلیم کیئے جانے کے ساتھ افضل ہو گئے، ڈاکٹر افضل رضوی اور ان کا نام اور کام ” در برگ لالہ و گل” کے ذریعے سامنے آیا ہے، انہوں نے اقبال کو شاعر کے روپ میں نباتات شناس کے طور پر تلاش کر لیا، ان کا کلام اقبال میں مطالعہ نباتات ایک منفرد اور تحقیقی و تجرباتی کام ہے جس کی پہلے مثال نہیں ملتی، کلام اقبال کے مختلف پہلوؤں پر ہر دور میں تحقیق کی گئی، کی جا رہی ہے اور آئندہ بھی کی جاتی رہے گی لیکن ڈاکٹر افضل رضوی نے علامہ اقبال کے کلام میں نباتات کے تکرار کے ساتھ ذکر کی نشاندہی کے ساتھ ان کو اشعار میں لانے کی وجہ، ان نباتات کے خواص، استعمال و افادیت کا کوئی پہلو اُجاگر کرنے میں تشنہ نہیں چھوڑا، میری نظر میں یہ اتنا اچھوتا کام ہے کہ جامعات اور ادب کے تحقیقی ادارے ڈاکٹر افضل رضوی کے کام کو پرکھیں، تولیں اور اس طرزِ تحقیق کو سند افتخار سے متف کرنے کے بارے میں سوچیں، میری اس ذاتی رائے کو پزیرائی ملتی ہے یا نہیں، میرا مسئلہ نہیں، میرا کام نشاندہی کرنا ہے کہ اچھے اور مستند کام کی کس طرح پزیرائی کی جائے، مرحوم پروفیسر ڈاکٹر فرید الدین بقائ مرحوم، بانی چانسلر بقائ میڈیکل یونیورسٹی کی نظر انتخاب نے اپنا کام کر دیا، اللہ نے انہیں اتنی ہی زندگی دی تھی،سائنسی اور طبی علوم سے وابستہ یونیورسٹی نے علامہ اقبال کا حق اپنی حد تک ادا کر دیا ہے، اب علوم و فنون اور لسانیت و شعرو و ادب پر کام کرنے والے اداروں اور جامعات کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئیے،میں ڈاکٹر افضل رضوی کے لیئے دل کی گہرائیوں سے صحت و ترقی کے لیئے دعا گو ہوں اللہ انہیں سلامت رکھے اور مزید کامیابیوں سے نوازے آمین ۔
جناب ڈاکٹر معین الدین عقیل نے فرمایا کہ علامہ اقبال اس عالم فانی میں آنے اور جانے کے بعد سے اب تک، ایک تسلسل سے کسی نہ کسی بہانے، اور اپنی فکر و حکمت، شاعری اور قومیت و سیاست کے کسی نہ کسی حوالے اور عنوان سے موضوع بنتے ہی رہتے ہیں، کہ بالخصوص جنوبی ایشیاء کے علمی و ادبی حلقوں اور ان کے اصحاب علم و فضل کی توجہ سے کبھی دور نہیں رہتے بلکہ کسی نہ کسی چھوٹی بڑی سطح کا موضوع بھی ضرور بنتے رہتے ہیں، اس لازمے میں یہ مزید حیران کن ہے کہ کوئی صاحب علم و دانش، بمثل ڈاکٹر افضل رضوی، جنوبی ایشیا سے بھی دور دراز خطے یعنی آسٹریلیا میں رہتے ہوئے وہاں کے معاشرے و ماحول میں بھی اقبال کو اپنے مخصوص و منفرد موضوع ” در برگ لالہ و گل” کے ضمن میں موضوع مطالعہ بنائے اور بالخصوص نباتات کی حد تک تلاش و جستجو کا کلی حق ادا کر دے کہ یہ عمل اس قدر وسعت بھی اختیار کر لے کہ اب تیسری ضغیم جلد کا اہتمام بھی کرنا پڑ جائے، جو اب ہمارے ہاتھوں میں اور پیش نظر ہے، جو اگر دیکھا جائے تو دراصل ان موضوعات کا تعین و مطالعہ ہے جو اس طرح تخصصی طور پر اور اس تسلسل کے ساتھ اب تک کسی اور ماہرِ اقبالیات کے حاصلات میں نظر نہیں آیا ہے، یعنی فکر اقبال کا کون سا پہلو ہے یا عنوان و موضوع کہ اب تک اقبال کے کسی مطالعے میں نظر نہیں آیا لیکن جو عنوانات یا موضوعات ” در برگ لالہ وگل” میں ہیں وہ اپنی مثالی کدو کاوش اور انتہائی گہری تلاش و جستجو کا نتیجہ نظر آتے ہیں، اور اس مطالعے سے پہلے کیا کسی نے کہیں دیکھے ہیں؟ ڈاکٹر افضل رضوی کا بے حد کرم و احسان کہ یہ دراصل مطالعات اقبال کا ایسا خلا پر کر رہے ہیں جو شاید کوئی اور اس گہرائی اور عرق ریزی سے پر نہ کر سکتا بلکہ لگتا ہے اس کا خیال بھی کسی کے ذہن میں شاید نہ آتا ہو، میں ان کی مزید کامیابیوں کے لیئے دعا گو ہوں ۔
میزبان محبان بھوپال فورم کی چیئرپرسن محترمہ شگفتہ فرحت نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ڈاکٹر افضل رضوی نے اپنی کتاب ” در برگ لالہ و گل” میں اپنے وسیع مطالعے اور تحقیقی ذوق کا عمدہ اظہار کیا ہے یہ کتاب اقبال شناسوں کے ساتھ ساتھ عام ادب دوست قارئین کے لیئے بھی دلچسپی کا باعث ہے، ڈاکٹر افضل رضوی نے ” گل و لالہ” کی علامتوں کے ذریعے اقبال کے پیغام عشق، عمل اور خودی کو سمجھنے کی راہ دکھائی ہے، ہمیں خوشی ہے کہ اس بہترین کتاب کی تقریب رونمائی محبان بھوپال فورم کے پلیٹ فارم کی طرف سے ہو رہی ہے، میں ڈاکٹر افضل رضوی کو ان کی کتاب کی اشاعت پر بہت بہت مبارک باد پیش کرتی ہوں ۔
ان کے بعد کتاب ” در برگ لالہ و گل” کے خالق جناب ڈاکٹر افضل رضوی، نے بھرپور تالیوں کی گونج میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے سب سے پہلے محبان بھوپال فورم کی چیئرپرسن محترمہ شگفتہ فرحت اور ناظم تقریب جناب اویس ادیب انصاری کا ان کی کتاب کی تقریب رونمائی منعقد کرنے پر بہت بہت شکریہ ادا کیا، اور اُردو لغت بورڈ کراچی کے بھرپور تعاون پر اپنی دلی مسرت کا اظہار کیا، ساتھ ساتھ انہوں نے تمام مہمانوں اور حاضرین کا تقریب میں بھرپور شرکت کرنے پر دل کی گہرائیوں سے بہت بہت شکریہ ادا کیا، مزید فرمایا کہ جہاں تک نباتات کے استعمال کا تعلق ہے تو کلام اقبال کے بنظر غائر مطالعے سے یہ بات تو واضح ہو چکی ہے کہ علامہ اقبال نے نباتات کا استعمال بے مقصد نہیں ہوا، لیکن ساتھ ساتھ یہ بات بھی اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کہ انہیں فطرت اور مناظر فطرت سے گہرائی شناسائی تھی، اس نظریے کی تقویت کے لیئے ان کا نینسی آرنلڈ کو لکھا گیا مکتوب کافی ہے، علامہ اقبال نے کئی مقامات پر اپنے شعری مجموعہ ہائے کلام میں عشق کی تقابلانہ گفتگو پیش کی ہے اور عشق کو عقل پر فوقیت دی ہے اور یہ بات ہم کسی اور مقام پر تفصیل بیان کر چکے ہیں، لیکن یہاں اختصار کے ساتھ بس اِتنا ہی کہنا چاہوں گا کہ عقل انسان کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ یہی اس کا کمال ہے اور عشق خطرات کو بالائے طاق رکھ کر آگ میں بھی کودنے سے دریغ نہیں کرتا، اسرار میں علامہ اقبال نے پیر رومی اور شمس تبریز کی گفتگو کو مکالماتی انداز میں رقم کر کے عقل و فلسفہ پر عشق حقیقی کو مقدم قرار دیا ہے اور پھر رموز بے خودی میں اللہ کی وحدانیت پر ایمان کامل کے حامل کی خصوصیت یہ بتائی ہے کہ اس کی ایک آہ سے امکانات کے خرمن جل جاتے ہیں یعنی اس کی دعاؤں اور آہوں میں اس قدر اثر ہوتا ہے کہ اس کی قبولیت میں لمحہ بھی نہیں لگتا، مزید فرمایا کہ جلد اول اور دوم کی اشاعت کے بعد جلد سوم پر جن صاحبان علم و دانش نے اظہارِ خیال کیا ان کا میں دل کی گہرائیوں سے ممنون و متشکر ہوں، ” در برگ لالہ و گل” کی اس تیسری اور آخری جلد میں کوئی پچاس سے زائد نباتات پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے اور علامہ اقبال کے مکاتیب اور کلام سے مثالیں پیش کر کے مؤقف کو بیان کیا گیا ہے، میں نے یہ کام ایک خدمت تصور کر کے کیا ہے اور یہ یقین ہے کہ مستقبل میں یہ اقبالیات کے طالب علموں کے لیئے سود مند ہو گا،آخر میں انہوں نے ایک بار پھر میزبان، مہمانوں اور حاضرین کا بہت بہت شکریہ ادا کیا ۔
صدر محفل جناب پروفیسر سحر انصاری نے بھرپور تالیوں کی گونج میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے فرمایا کہ ڈاکٹر افضل رضوی نے بڑی محنت سے علامہ اقبال پر کام کیا ہے، علامہ اقبال ایک ہمہ جہت اور امکانات کے شاعر تھے، علامہ اقبال پر ہزاروں کتابیں لکھی جا چکی ہیں اس کے باوجود عنوانات ختم نہیں ہو رہے، ڈاکٹر افضل رضوی کے حصے میں یہ نئی دنیا آئ جو کہ نباتات ہے اس پر انہوں نے خوب کام کیا ہے، ان کی یہ بہت اہم کتاب ہے جس پر انہیں مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔
تقریب کے اختتام پر معروف علمی و ادبی و سماجی شخصیت جناب ندیم ہاشمی نے تمام مہمانوں اور حاضرین کا تقریب میں بھرپور شرکت کرنے پر بہت بہت شکریہ ادا کیا اور تمام حاضرین کو ریفریشمنٹ کی دعوت دی ۔
تقریب میں اہل علم و ادب، شعرائے کرام اور سخن شناسوں نے بھرپور شرکت کی، تقریب نے بزم ادب کی فضا کو اس طرح معطر کیئے رکھا کہ سخن بھی تھا، فکر بھی تھی اور ذوق سماعت بھی،محبان بھوپال فورم کی ایک اور شاندار اور یادگار تقریب کو حاضرین نے بہت پسند کیا، اور اب تقریب کی رپورٹنگ کے دوران لی گئیں تصاویر پیش خدمت ہیں امید ہے آپ کو پسند آئیں گی، آپکی رائے کا منتظر رہوں گا آپکا اور صرف آپکا ہی محسن نقی (رپورٹ و تصاویر محسن نقی، معاون کامران مغل, 02-10-2026)
![]()























