ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )کراچی کے ایک فلیٹ میں تہتر سالہ خاتون چار دن سے بے ہوش پڑی تھیں۔ دروازہ توڑا گیا تو وہ زندہ تھیں، مگر ان کا کوئی سہارا نہیں تھا۔ ایک پڑوسن نے انہیں اپنے گھر میں جگہ دی، پھر یہی گھر بے سہارا بزرگ ماؤں کی پناہ گاہ بن گیا!
2007 میں کراچی کے علاقے کلفٹن میں تین تلوار کے قریب واقع ایک اپارٹمنٹ کے رہائشیوں کو اپنی تہتر سالہ پڑوسن کی فکر ہونے لگی۔ فاطمہ نامی یہ بزرگ خاتون اکیلی رہتی تھیں۔ وہ تقسیمِ ہند کے بعد اپنی والدہ کے ساتھ ہندوستان سے پاکستان آئی تھیں، شادی نہیں کی تھی اور والدہ کے انتقال کے بعد تنہا زندگی گزار رہی تھیں۔ جب کئی دن تک کسی نے انہیں نہیں دیکھا تو پڑوسیوں کو تشویش ہوئی اور پولیس کو بلایا گیا۔
دروازہ کھولا گیا تو اندر ایک تکلیف دہ منظر تھا۔ فاطمہ غسل خانے میں گری ہوئی تھیں۔ ان کے کولہے کی ہڈی ٹوٹ چکی تھی اور وہ چار دن سے وہیں بے بسی کی حالت میں پڑی تھیں۔ نہ اٹھ سکتی تھیں، نہ کسی کو مدد کے لیے بلا سکتی تھیں۔ خوش قسمتی سے وہ زندہ تھیں، لیکن انہیں فوری علاج اور مستقل دیکھ بھال کی ضرورت تھی۔
پڑوسی سوچ رہے تھے کہ فاطمہ کو کسی فلاحی ادارے یا اولڈ ہوم میں منتقل کردیا جائے۔ مگر بزرگ خاتون ایسا نہیں چاہتی تھیں۔ انہیں صرف ایک ایسی جگہ چاہیے تھی جہاں کوئی اپنا سمجھ کر ان کی دیکھ بھال کرے۔ اسی عمارت میں رہنے والی فرزانہ شعیب ان سے پہلے ہی واقف تھیں۔ انہوں نے فاطمہ کی حالت دیکھی تو فیصلہ کیا کہ انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گی۔
فرزانہ انہیں پی این ایس شفا اسپتال لے گئیں، جہاں ان کی سرجری ہوئی۔ علاج کے بعد فاطمہ کو اپنے گھر لے آئیں۔ اب اس بزرگ خاتون کے لیے دوا، خوراک، آرام اور روزمرہ ضروریات کا انتظام فرزانہ کے گھر میں ہونے لگا۔ تقریباً ایک سال بعد فاطمہ دوبارہ چلنے پھرنے کے قابل ہوئیں، مگر وہ اپنی پرانی تنہائی کی زندگی میں واپس نہیں جانا چاہتی تھیں۔ فرزانہ اور ان کے خاندان نے انہیں اپنے ساتھ رہنے دیا۔
یہاں سے ایک غیرمعمولی سلسلہ شروع ہوا۔ کچھ عرصے بعد دو اور خواتین نے فرزانہ سے رابطہ کیا جنہیں رہائش اور دیکھ بھال کی ضرورت تھی۔ فرزانہ کو احساس ہوا کہ کراچی میں ایسی بہت سی بزرگ خواتین ہیں جن کے پاس مکان تو کبھی رہا ہوگا، مگر بڑھاپے میں انہیں اپنا سمجھ کر سنبھالنے والا کوئی نہیں۔ کچھ کے بچے بیرونِ ملک رہتے تھے، کچھ کے رشتے دار موجود نہیں تھے اور بعض زندگی کے مشکل حالات کے باعث بے سہارا ہوگئی تھیں۔
فرزانہ نے اپنے بیٹوں سے مشورہ کیا اور بزرگ خواتین کے لیے باقاعدہ پناہ گاہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ ابتدا میں محدود وسائل کے ساتھ یہ کام گھر ہی سے شروع ہوا، پھر 2011 میں بنتِ فاطمہ اولڈ ہوم کے نام سے ادارہ رجسٹرڈ ہوگیا۔ اس کا نام اسی بزرگ خاتون کے نام پر رکھا گیا جن کی مدد سے یہ سفر شروع ہوا تھا۔ فاطمہ نے خود اس ادارے کے افتتاح میں شرکت کی، مگر 2012 میں ان کا انتقال ہوگیا۔
ادارے کے کام میں فرزانہ کا خاندان بھی شریک ہوگیا۔ ان کے بیٹے اسد، بہو عمارہ اور گھر کے دوسرے افراد بزرگ خواتین کی دیکھ بھال کرنے لگے۔ کسی کو وقت پر دوا دینی ہوتی، کسی کو اسپتال لے جانا پڑتا، کسی کو کھانے میں پرہیز کی ضرورت ہوتی اور کسی کو صرف اتنا چاہیے ہوتا کہ کوئی اس کے پاس بیٹھ کر بات کرلے۔
2015 کی ایک رپورٹ کے مطابق فرزانہ کے کراچی والے گھر کے دس کمروں میں پینتیس بزرگ خواتین رہ رہی تھیں۔ صبح ناشتے اور دواؤں سے دن شروع ہوتا، پھر خواتین آپس میں وقت گزارتیں، پرانی یادیں سناتیں اور شام کی چائے پر ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھتیں۔ اس گھر میں موجود ننھی بچی حاجرہ کو بعض بزرگ خواتین اپنی پوتی سمجھتی تھیں۔
ایک بزرگ خاتون حلیمہ وہاں اس وقت آئیں جب مکان مالک نے انہیں گھر خالی کرنے کو کہا۔ ایک اور خاتون نزہت نے بتایا کہ انہیں اس گھر میں رہ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ اپنے خاندان کے ساتھ ہیں۔ فرزانہ کی کوشش یہی تھی کہ ان خواتین کو صرف رہائش نہیں، بلکہ اپنائیت بھی ملے۔
وقت کے ساتھ بنتِ فاطمہ کا کام کراچی سے آگے اسلام آباد اور لاہور تک پھیل گیا۔ ادارے کی شائع کردہ معلومات کے مطابق مختلف اوقات میں مجموعی طور پر دو سو سے زیادہ بزرگ خواتین کو اس کی پناہ گاہوں میں جگہ اور دیکھ بھال فراہم کی جاچکی ہے۔
فرزانہ شعیب کی کہانی کا سب سے خوبصورت پہلو یہ ہے کہ انہوں نے اپنی پڑوسن کی مدد کرکے یہ نہیں سمجھا کہ ان کی ذمہ داری ختم ہوگئی۔ وہ ایک ایسی بزرگ خاتون کو گھر لے آئیں جس کا اپنا کوئی سہارا نہیں تھا، پھر دوسری خواتین کے لیے بھی دروازہ کھول دیا۔ ہماری زندگی میں کبھی کبھی کسی بوڑھے انسان کو دوا سے زیادہ کسی اپنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ فاطمہ کو زندگی کے آخری برسوں میں ایک خاندان ملا، اور ان کے نام سے قائم ہونے والے گھر میں بہت سی دوسری ماؤں کی تنہائی بھی کم ہونے لگی۔